میتھیو کی 'میجک بس' نے سنواری فٹپاتھی بچوں کی زندگی

0

ہندوستان میں آج بھی بہت سے بچے ایسے ہیں، جن کے پاس رہنے کو گھر نہیں ہے۔ ان کی زندگی سڑکوں پر یا پھرفٹپاتھوں پر گزرتی ہے۔ اکثر یہ بچے استحصال کا شکار ہوتے ہیں۔ روٹی کپڑے کے لئے در در بھٹکتے ہیں۔ فٹپاتھی بچوں کے علاوہ سلم بستیوں میں رہنے والے بچوں کی بھی حالت کافی خراب ہے۔ غربت کی وجہ سے یہ نہ اسکول جا پاتے ہیں اور نہ ہی تعلیم حاصل پاتے ہیں۔ ایسے ہی غریب اور ضرورت مند بچوں کی مدد کرنے، انھین پڑھا لكھا كراچھے کام کرنے کے قابل بنانے کے مقصد سے ایک شخص نے مثالی منصوبہ بنآیا-

 ملک بھر میں حکومتوں کے لئے بھی اچھا نمونہ ہے۔ کئی غیر سرکاری تنظیمین بھی اسی منصوبہ بندی کے ذریعہ غریب بچوں کو تعلیم دے کر انہیں قابل بنا رہی ہیں۔ یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جس میں بچوں کو کھیل کھیل میں ہی تعلیم دی جاتی ہے۔ یعنی تفریح اور تعلیم ساتھ ساتھ ۔ اس منصوبہ کو ملک بھر میں عمل میں لانے کے مقصد سے اس منصوبہ ساز نے بڑی ہی موٹی اور تگڑی رقم والی اپنی ملازمت چھوڑ دی اور غریب بچوں کی ترقی لئے وقف ہو گئے۔ لوگ اس شخص کو میتھیواسپیسی کے نام سے جانتے ہیں۔

میتھیواسپیسی آج اپنے اسی پروگرام کی وجہ سے دنیا بھر میں جانے جانے لگے ہیں اور اپنے نام بہت اعزازات اور ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں۔ میتھیواسپیسی 1986 میں پہلی بار ہندوستان آئے تھے۔ کولکتہ میں انہوں نے 'دی سسٹرس آف چیریٹی' کے لئے بطور رضاکار کام کیا۔ تبھی سے ان کا دل سماجی خدمات میں لگ گیا تھا۔ گریجویشن کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد میتھیو کوملازمت مل گئی۔ انہوں نے برطانیہ میں کئی اہم عہدوں پر کام کیا۔ ان قابلیت اور دلچسپی کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان کی کمپنی نے انہیں ہندوستان بھیجا۔ وہ کاکس اور کنگز نام کی کمپنی کے سی او او بن کر ہندوستان آئے۔ اس وقت میتھیو کی عمرمحض 29 سال تھی۔ یعنی وہ جوش سے بھرے نوجوان افسر تھے۔ ان دنوں برطانوی کمپنی کاکس اور کنگز ہندوستان میں بھی سب سے بڑی ٹریول ایجنسی تھی۔ نوجوانی میتھیو کو بڑی ذمہ داری سونپی گئی تھی، جسے انہوں نے بخوبی نبھایا۔

میتھیو کی زندگی میں ایک بہت بڑی تبدیلی اس وقت آئی جب وہ ہندوستان کی رگبی ٹیم کے لئے کھیلا کرتے تھے۔ میتھیو کو کھیل میں دلچسپی تھی اور رگبی ان کا پسندیدہ کھیل تھا۔ دلچسپی اتنی زیادہ تھی کہ میتھیو نے اپنی مہارت سے رگبی کی نیشنل ٹیم میں جگہ بنا لی۔ وہ دیگر کھلاڑیوں کے ساتھ ممبئی کے مشہور فیشن سٹریٹ کے سامنے والے میدان میں پریکٹس کیا کرتے تھے۔ پریکٹس کر رہے کھلاڑیوں کا کھیل دیکھنے کے لئے ارد گرد کے بچے وہاں جمع ہو جاتے۔ ان بچوں میں زیادہ تر بچے فٹپاتھی بچے ہوتے، جن کے رہنے کے لیے کوئی مستقل ٹھکانہ یا پکے مکان نہیں تھے۔ ان کی زندگی فٹ پاتھوں پر ہی گزررہی تھی- یہ فٹپاتھی بچے ہردن رگبی ٹیم کی پریکٹس دیکھنے آتے۔ انہیں کھلاڑیوں کا کھیل دیکھنے میں بہت مزہ آتا۔ یہ بچے اکثر کھلاڑیوں کی حوصلہ افذائی کرتے۔ کچھ تالیاں بجاتے تو کچھ سیٹیاں۔ بچوں کا جوش دیکھ کر کھلاڑیوں کا بھی جوش بڑھتا گیا۔ میتھیو بھی ان بچوں کی حوصلہ افزائی سے اچھوتے نہیں تھے۔ بچوں کا جوش دیکھ کر میتھیو انہیں اپنے ساتھ کھیلنے کے لئے بلانے لگے۔ آہستہ آہستہ بچے بھی اب رگبی کھیلنے لگے تھے۔ بچوں کو رگبی کھیلنے میں بہت مزہ آنے لگا تھا۔ وہ وقت پر میدان آجاتے اور خوب رگبی کھیلتے۔ بچے میتھیو کو بہت پسند کرنے لگے۔ وجہ صاف تھی میتھیو نے بچوں کو رگبی کھیلنے کا موقع دیا تھا۔ وہ اب صرف ناظرین نہیں رہ گئے تھے، وہ بھی کھلاڑی بن گئے تھے۔ سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر زندگی گزر بسر کرنے والوں کو ہسنے کھیلنے کا اس سنہری موقع ملا تھا۔

ان سب کے درمیان میتھیو نے ایک بہت ہی اہم اور دلچسپ بات پرغور کیا۔ میتھیو نے دیکھا کہ رگبی کھیلنے کے آغاز کے بعد بچوں کے برتاؤ میں ایک مثبت تبدیلی آئی۔ بچوں میں اب نظم و ضبط تھا بچے اب ایک دوسرے سے اچھی طرح برتاؤ کر رہے تھے۔ پہلے آپس میں بہت گالی گلوچ کیا کرتے تھے۔ برتاؤ بھی عجیب سا تھا، لیکن آہستہ آہستہ، کھیل کے میدان میں کھیلتے کھیلتے وہ بدیلتے جا رہے تھے۔ وہ نیشنل ٹیم کے کھلاڑیوں سے بہت کچھ اچھا سیکھ چکے تھے۔ اس تبدیلی نے میتھیو کے ذہن میں ایک انقلابی خیال نے جنم دیا۔

میتھیو نے ہفتے کے آخر میں چھٹیوں کے دن ایک بس کرایہ پر لینا شروع کی۔ اس بس میں وہ بہت سارے کھلونے، مٹھائیاں اور دوسرے ایسے سامان لیتے جو بچوں کو بہت پسند آتے۔ اس بس کو لے کر میتھیو دھاراوی اور دوسری سلم بستیوں میں جاتے اور بچوں میں یہ ساما ن تقسیم کرتے۔ میتھیو کچھ غریب اور فٹپاتھی بچوں کو اپنے بس میں پکنک پر بھی لے جاتے۔ بچے بھی پکنک کا خوب مزہ لیتے۔

ایک وقت کی روٹی، اچھا لباس، کھلونے کے لئے ترستے بچوں کے لئے میتھیو کی بس کا بے صبری سے انتظار رہتا۔ اس بس سروس کی وجہ سے میتھیو غریب اور فٹپاتھی بچوں کے ہیرو بن گئے تھے۔ یہی بس آگے چل کر 'جادو کی بس' نام کے بڑے اہم پروگرام کی بنیاد بنی۔

کچھ دنوں کے بعد میتھیو کو یہ احساس ہوا کہ ہفتے میں ایک دن جب وہ بس لے کر بچوں کے درمیان جاتے ہیں تبھی بچے خوش رہتے ہیں۔ باقی سارے دن ان کی زندگی ایک سی ہوتی ہے۔ روٹی کے لئے ان کی در در بھٹکنا پڑتا ہے۔ رات کو سونے کے لئے ان کے پاس کوئی مکان نہیں ہوتا۔ کھیلنے کے لئے کھلونے نہیں ہوتے۔ گزر بسر سڑک یا فٹپاتھ پر ہی کرنی پڑتی ہے۔ کئی بار تو یہ بچے شرارتی عناصر اور بدمعاشوں کے ہاتھوں استحصال کا شکار بھی ہوتے ہیں۔

میتھیو نے طئے کیا کہ کچھ ایسا کیا جائے جس سے ان بچوں کے مسئلہ کا مستقل حل نکل آئے۔ یہ بچے بھی تعلیم حاصل کر آگے بڑہیں۔ اچھی ملازمت کریں، اچھے گھر میں رہیں۔ مختلف کارپوریٹ کمپنیوں میں اپنے دوستوں کی مدد سے میتھیو نے فٹپاتھ اورسلم بستیوں میں رہنے والے کچھ بچوں کو ان کمپنیوں کے دفتروں میں ملازمتیں دلوائی۔ ان بچوں میں نظم و ضبط، آداب اور کام کی مہارت کی کمی کی وجہ سے وہ زیادہ دن تک ان کمپنیوں میں نہیں ٹک پائے۔

اس تلخ تجربے نے میتھیو کو ایک نیا سبق پڑھایا۔ میتھیو نے اب نئے سرے سے فٹ پاتھ اور سلم بستیوں میں رہنے والے بچوں کی ترقی کے لئے کام کرنے کی فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنے پرانے تجربے کی بنیاد پر بچوں کی تعلیم کے لئے کھیل کود کا سہارا لینے کا فیصلہ لیا۔

1999میں میتھیو نے اپنے این جی او 'جادو بس' کو باضابطہ طور پر متعارف کرایا۔

2001 میں میتھیو نے بچوں کی خدمت کے اپنے کام کو تیزی سے آگے بڑھانے کے لئے اپنا کا کام چھوڑ دیا اور اپنے منصوبے 'جادو بس' پرمکمل توجہ دینا شروع کیا۔

میتھیو نے سب سے پہلے یہ یقینی بنایا کہ سرکاری اسکولوں میں داخلہ لینے والے بچے ہرحال میں اسکول جائیں اور کسی صورت اپنی تعلیم درمیان میں نہ چھوڑیں۔ اس کے لئے انہوں نے سرکاری اسکولوں کے نصاب میں کھیل کود کو کافی توجہ دی۔ میتھیو نے بچوں کے لئے 'تعلیم قیادت کمائی' کی مضبوط بنانے والے کورس تیار کیے۔ ان کا نعرہ تھا "ایک وقت میں ایک کام"۔ بچوں کی بہتر زندگی کے لئے ان میں تعلیم کا شعور بیدار کرنے کے علاوہ انہیں ہنرسیکھنے، کام کے موقع دینے کی کوشش کی- وہ چاہتے تھےکہ بچے اتنا پڑھ لکھ اور سیکھ لیں کہ انہیں ایک اچھی ملازمت مل جائے اور وہ پوری طرح خود انحصار بنے تاکہ انہیں معاشرے میں عزت ملے۔

کوشش کامیاب ہوئی۔ میتھیو کے بنایا کورس اب اسکولوں کے لئے کامیابی کا ضا من تھا۔

جادو اسکول پروگرام کی وجہ سے 9 5.7٪ بچوں کی اسکولوں میں حاضری 80 فیصد سے زیادہ ہے۔

9 8٪ بالغ لڈكياں اسکول کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔

'جادو بس' پروگرام کی وجہ سے ہے ہی ایک وقت فٹ پاتھ اور سلم بستیوں میں رہنے والے ہزاروں بچے آج بڑے ہوکر اچھی اچھی ملازمتین حاصل کر رہے ہیں۔

'جادو بس' پروگرام ملک کی 19 ریاستوں میں لاگو ہے اور اب تک قریب 3 لاکھ بچے فائدہ حاصل کر چکے ہیں۔

'جادو بس' کی کامیابی میں بڑا ہاتھ ان رضاکار نوجوانوں کا ہے جو مسلسل محنت کرتے رہتے ہیں۔

ملک میں آج کئی ریاستوں میں حکومتیں غریب اور ضرورت مند بچوں کی مدد کے لئے جادو بس کا ہی سہارا لے رہی ہے۔ 'جادو بس' پروگرام کی مدد کرنے لے لئے بہت بڑی کارپوریٹ کمپنیاں آگے آئی ہیں

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem