صحت بخش آرگنک ترکاریوں کے لیے جدوجہد کرنے والے ناگارجنا

0

کیمکلز اور پریسٹیسائڈس کے غیر مناسب استعمال سے ہماری غذا نہایت زہریلی ہوتی جا رہی ہے۔ ہم کتنی غذا اور کتنا زہر کھارہے ہیں اس کا ہم اندازہ بھی نہیں لگاسکتے ہیں۔ ہماری غذا بعض دفعہ خاموش قاتل بن جاتی ہے۔ دواخانوں میں بڑے پیمانے پر لوگ شریک ہورہے ہیں۔ صحت کی خرابی کی وجہ سے وقت اور پیسہ بھی خراب ہورہاہے۔ صحت بخش اور فرحت بخش غذا خاص طور پر ترکاریاں آج کل کہاں ملتی ہے، ایسے میں اگر کوئی ہمیں یہ کہے کہ آپ کو ہم (نامیاتی) ترکاریاں آپ کے گھر پر ہی اگاکر دیں گے تو نہایت خوشی کی بات ہوگی۔ یہ کام کررہے ہیں ناگارجنا ۔

ایجوکیشن میں ایم بی اے کرنے والے ناگارجنا نے تعلیم تو مینجمنٹ کی حاصل کی ہے لیکن انھیں اگریکلچر میں کافی دلچسپی ہے۔ گذشتہ 10 سالوں سے وہ گرینری میں تجربہ رکھتے ہیں۔ ان کے والد جنگیا بھی کافی تجربہ رکھتے ہیں۔ 25 ایکر پر فارم ہاﺅس بھی ہے۔ لیمرویلیج میں انھوں نے گاﺅں کی خوبصورت فضاءمیں گرین ویلی بنائی ہیں۔

ناگارجنا نے آرگنک فوڈ کے بارے میں بتایا'

”زیادہ مقدار میں ترکاریوں کی پیداوار کے لیے کیمکلز کا استعمال کیا جاتا ہے اور جراثیم وغیرہ سے حفاظت کے لیے ان پر پسٹیسائیڈ چھڑکا جاتاہے۔ ان کے اثرات ترکاریوں میں پائے جاتے ہیں جو ہمارے جسم میں جاکر نقصان پہنچاتے ہیں۔ بعض لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمارے یہاں آرگنک فوڈ ملتے ہیں لیکن ان کی کوئی گیارنٹی نہیں ہوتی۔ اسی لیے ہم گاہک کے گھرپر ہی ترکاریاں اُگا کر اسے یہ یقین دلاتے ہیں کہ خطرناک کیمکل اس میں ملے ہوئے نہیں ہے“۔

بڑھتی ہوئی مہنگائی کی مار ہر جگہ نظر آتی ہے۔ بازاروں میں ترکاریوں کی قیمتیں اکثر آسمان سے باتیں کرتی ہیں۔ مہنگائی کی مار کے ساتھ یہ بھی خدشہ رہتاہے کہ ہم جو سبزیاں گھر لارہے ہیں اس میں کس قدر زہریلے مادے ملے ہوئے ہیں۔ مہنگائی سے بچنے کے لئے اور تازہ ترکاری کھانے کے لئے گھر کے خالی حصہ میں یا چھت پر کھلی جگہ میں آسانی سے یہ ترکاری کا پلانٹ لگا سکتے ہیں۔ ناگرجنا نے بتایا

” آپ کے گھر میں صرف 2 کار جتنی جگہ ہو تب بھی آپ باغبانی کرسکتے ہیں۔ باغبانی کے لےے تھوڑی جگہ میں چھوٹے چھوٹے پودے ہم فراہم کرتے ہیں ان کے بیج وغیرہ بھی دیتے ہیں ان کی مدد سے آپ جب چاہے تازہ ترکاریاں کھا سکتے ہیں۔ اس کے دو فائدے ہوں گے ایک تو آپ کو تازہ ترکاریاں ملیں گی اور گھر میں ہریالی رہنے سے گھر کسی خوبصورت باغ کی طرح نظر آئے گا۔ 5 افراد کی فیملی کے لےے یہ اسکیم بہترین ہے“۔

اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ گھر میں جب کوئی باغبانی کرتا ہے تو کچھ دن بعد اس کی دلچسپی کم ہوجاتی ہے اور فصلیں تباہ ہوجاتی ہیں۔ اسی لیے ناگرجنا نے ایک اسکیم تیار کی ہے جس میں بیج، کھاد اور پودے وغیرہ ان کی کمپنی دیکھے گی۔ گھر والوں کو صرف ان کی ہدایات پر توجہ دینی چاہےے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں،

”بازار سے خریدے گئے بینج اور کھاد وغیرہ کے مناسب استعمال سے اکثر لوگ واقف نہیں ہوتے ہین۔ اس بناءپر وہ غلطیاں کرجاتے ہیں جس کے نتیجہ میں وہ یا تو مناسب مقدار فصل اگا نہیں پاتے یا پھر ان کی فصل تباہ و برباد ہوجاتی ہے۔ ان سب سے بچنے کے لیے ہم نے اسکیم بنائی ہے کہ بینج کھاد وغیرہ ہم دےں گے اور اس کی نگرانی بھی کریں۔ وقتاً فوقتاً اس کی نگرانی کے ساتھ گاہک کو یہ بھی بتائیں گے کہ کب فصل کاٹنی ہے اور کتنی کاٹنی ہے“۔

اس مہنگائی کے دور میں چھوٹی فیملی کو بھی مہینہ بھر کثیر رقم خرچ کر کے ترکاریاں خریدنی پڑتی ہے۔ اس اسکیم کی قیمت کے بارے میں دریافت کرنے پر انھوں نے بتایا، ”گھر میں تیار ترکاریں اور اس کی مکمل طمانت کے ساتھ سال بھر کے لیے ہم صرف 9000 روپے ہی لیتے ہیں۔“

ترکاریوں کی کئی قسمیں اگائی جاتی ہیں۔ ان ترکاریوں میں الگ الگ طرح پودے اور بیلیں ہیں۔ اس بارے میں جب ناگارجنا سے پوچھا گیا تو انھوں نے بتایا، ”ہمارے پاس 30 قسم کی ترکاریوں کا چارٹ ہے۔ ان میں سے کوئی بھی 20 ترکاریوں کا آپ انتخاب کرسکتے ہیں۔ ان 20 ترکاریوں میں سے الگ الگ وقت میں ان کی کٹوائی ہوتی ہے۔ جیسے ٹماٹر کے اگر آپ نے 10 پودے لئے ہوں تو آپ ہر ہفتہ 1.5 کلو ٹماٹر توڑ سکتے ہیں۔ اسی طرح مہینہ میں 6 کلو اور سال بھر میں تقریباً40 کلو ٹماٹر حاصل کرسکتے ہیں۔ اسی طرح سیم کی پھلی، مشروم، کدو، بھینڈی، کریلا، میتھی، پالک وغیرہ کی فصلیں ضرورت کے مطابق اگائی جاسکتی ہیں“۔

ناگارجنا نے بتایا کہ انھوں نے تلنگانہ پیوپلز پلازا ، نکلس روڈ میں منعقد شدنی آل انڈیا ہارٹی کلچر شو میں بھی اپنا اسٹال لگایا ہے جہاں پر اس سے متعلق مزید معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔

صحت بخش، لذیذ اور خوش رنگ ترکاریوں کو دیکھ کر یقینا آپ کو دل خوش ہوجائے گا۔ اس کی قیمت بھی کم ہے۔ اگر ہر کوئی ترکاریوں کے تعلق سے سنجیدہ کوششیں کریں اور اپنے گھروں کی خالی جگہوں کو استعمال کرتے ہوئے ترکاریوں کے پودے لگوائے تو نہ صرف اس سے تازہ ترکاریاں حاصل ہوگی جو کہ صحت کے لیے مفید ہے بلکہ ماحولیات کو بھی اس سے کافی فائدہ پہنچے گا۔

Related Stories