اناؤ ضلع کےسبھی اہم انتظامی عہدوں پر ہیں خواتین

یوپی کے اس ضلع میںعورتوں کی خودمختاری  کی انوکھی مثال 

0

مرداساس معاشرے نے عورتوں کو وہ عزت تاخیر سے دی جس کی وہ کافی پہلے سے ہی حقداررہی ہے۔ لیکن اب وہ وقت آگیا ہے جس صرف یوم خواتین کے بہانے یاصرف ظاہر داری کے لئے نہیں بلکہ تبدیلی کی ہواکو صحیح معنوں میں صحیح راستہ دینا ہوگا۔ کئی بارحکومتوں کے قدم کولوگ صرف دکھاوا قرار دیتے ہیں یاپھر ان قدموں کے دوراس نتائج کااندازہ نہیں لگاپاتے۔ خواتین تفویض اختیارات کے تئیں سرکاروں کی غفلت کئی باردکھائی پڑتی رہی ہے لیکن جو کہانی ہم آپ کوبتانے جارہی ہیں اس سے ضرورآپ کو اپنے خاتون ہونے کا فرق اوربڑھ جائے گا۔

یوپی کا ایک پسماندہ سمجھاجانے والا ضلع اناؤ، ہندوستان میں اس وقت اکیلاایساضلع بن گیا ہے جہاں اس وقت سبھی اہم انتظامی عہدوں پر خواتین افسران کی تعیناتی کی گئی ہے۔ پھر خواہ وہ ڈی ایم ہویا ایس ایس پی، ضلع ترقیات افسرہویا آرٹی او۔ سی ایم او ہو میونسپل بورڈ کی ای ایم او سبھی مناصب پر خواتین حکام فائز ہیں۔ اس کے علاوہ ضلع کی خاتون اول ضلع پنچایت چیئر پرسن بھی خاتون ہی منتخب کی گئی ہے۔ اور سب سے زیادہ فخر کی بات یہ ہے کہ ان سبھی خواتین نے اپنے فرائض کو بحسن وخوبی انجام دیا ہے۔ ملک کی ترقی میں قدم سے قدم ملاکر آگے بڑھنے والی خواتین کسی کی ماں ہیں توکسی کی بہو اور بیٹی۔ وہ بھر سے لے کر دفتر تک اپنی ذمہ داریاں بڑے اچھے طریقے سے نبھارہی ہیں۔ یوپی کا ضلع اناؤ ملک کے نقشے پر اپنی انھیں خصوصیات کے لئے پورے ملک میں موضوع بحث بناہواہے کہ حکومت نے انتظامی عملے میں اعلیٰ مناصب پر صرف عورتوں کی تقرری کی ہے۔

ضلع مجسٹریٹ سومیااگروال 2008بیچ کی آئی اے ایس افسر ہیں۔جب کہ چیف ڈپولپمنٹ افسرآئی اے ایس سندیپ کورکھ بنایا گیا ہے۔ضلع کی پولیس کپتان آئی پی ایس نیہاپانڈے نے حال ہی میں کمان سنبھالی ہے اوروہ ضلع کی ترقی سے لے کر نظم ونسق کے ہر پہلو پر کام کررہی ہیں بلکہ ضلع میں قانون کی حکمرانی قائم کی جاسکے اور اناؤکانام بلاوجہ کسی مجرمانہ واردات میں شامل نہ کیا جائے۔

چیف ترقیات افسر کے منصب پر گپتایادو کی تعیناتی کی گئی ہے اور ان کے مطابق ضلع کی صحت سے متعلق پریشانی کاہرممکن حل نکالنے کی ان کی کوشش جاری ہے۔ اسسٹنٹ ڈوپژنل ٹرانسپورٹ افسرمالاباجپئی اور ایس ڈی ایم جسپریٹ کو رضلع کی ترقی میں شانہ سے شانہ ملاکر چل رہی ہیں۔ اس کے علاوہ ضلع کی پہلی شہری ضلع پنچایت چیئرپرسن سنیگتا سینگراور ضلع پروگرام افسرشیریں مسعود سمیت اناؤ نگر پالیکا کی ایگزیکٹیو افسرروبی گپتاضلع کی ترقی میں اہم کرداراداکرکے خواتین تفویض اختیارات کاپرچم لہرارہی ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ اونچے عہدوں پر تعینات ان افسران کے ساتھ ہی ایس ڈی ایم حسن گنج ارچنادویدی سمیت منڈی سکرٹری جیوتی چودھری بھی خواتین تفویض اختیارات کی نظیر پیش کررہی ہیں۔ خواتین افسران کے مطابق ضلع میں نسواں حکام کی ایک پوری ٹیم ہونے سے کام کرنے میں بیحدآسانی ہوتی ہے۔ ان خواتین افسران کے مطابق ان لوگوں سے لڑکیوں کو یکساں حقوق دیئے جانے کی اپیل بھی کی ہے

یوراسٹوری سے بات کرتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ سومیااگروال نے کہا:

’’یہ اچھی بات ہے کہ اناؤ ضلع کے سبھی اہم عہدوں پر خواتین افسران پوسٹیڈ ہیں۔ اس سے ترقیاتی کام کامیابی سے ہورہے ہیں۔ ہمارے سامنے صرف ایک چیلنج ہے کہ عورتوں کو کام کرنے کا اچھا موقع دینا ہوتاہے کیوںکہ انھیں گھریلوذمہ داریاں بھی نبھانی ہوتی ہیں۔‘‘

جب کہ ایس ڈی ایم جسپریت کورنے یوراسٹوری کو بتایا:

’’یہ بڑااتفاق ہے کہ ضلع کے سبھی بڑے عہدوں پر خواتین افسران کی تعیناتی کی گئی ہے۔ ہم یہ پیغام دینا چاہیں گے کہ حکومت کے اس قدم سے ضلع میں ترقیاتی کاموں کی رفتار پہلے سے زیادہ تیز ہوگی کیوں کہ ہمارے سبھی م حکموں کے درمیان زیر دست تال میل ہے۔‘‘

اناؤ ضلع کی آٹی اومالاباجپئی نے یوراسٹوری سے بات کرتے ہوئے اپنے خیالات ظاہر گئے اور کہاکہ ’’عورتیں ذہنی اعتبار سے زیادہ مضبوط ہوتی ہیں۔ مردوں کے مقابلے میں وہ زیادہ ذمہ داری اٹھانے کی اہل ہوتی ہیں۔ لیکن ساتھ ہی انھوںنے کہا کہ میرے مردساتھیوں کو اس کاغلط مطلب نہیں نکالناچاہئے۔ میں اناؤ ضلع کے روشن مستقبل کی تمنا کرتی ہوں وراہمیشہ اسی منشا سے اپنے کام انجام دیتی ہوں۔‘‘

سبھی اہم عہدوں پر عورتوں کے ہوتے ہوئے صرف پولیس کپتان کے عہدے پرکسی عورت کی تعیناتی ہونا باقی تھاکہ ابھی حال ہی میں یوپی سرکارنے یہ کمی بھی پوری کردی اور اس منصب پر آئی پی ایس نیہاپانڈے کو فائز کردیا گیا۔ یوراسٹورسے بات کرتے ہوئے ضلع کی پولیس کپتان نیہاپانڈے نے سبھی خواتین افسران والے ضلع میں اپنی تعیناتی کواپنی خوش قسمتی بتایا اور یوم خواتین پرعورتوں کے مکمل تحفظ کایقین دلایا تاکہ عورتوں کو کسی بھی طریقے کے مظالم سے نجات دلائی جاسکے اور انھیں طاقتور بنایاجاسکے۔

................

قلمکار : روبی سنگھ

مترجم : محمد وصی اللہ حسینی

Writer : Ruby Singh

Translation by : Mohd.Wasiullah Husaini

جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

یہ کہانیاں بھی ضرور پڑھیں۔

آٹھویں کے بعد نہ پڑھنے کے ملال نے شیلا کو کچھ کرنے پر کیا مجبور، آج بنجارہ سماج کی عورتوں کو بنارہی ہیں خود کفیل

وہ صبح کبھی تو آئے گی...خواتین کی باوقارزندگی کے لئے کوشاں ’ہم سفر‘