چیتن آہوجا موبائل ایپس کی برق رفتاری کےلئے 40 سال قدیم IP پروٹوکل کو بدلنے کوشاں

0

لوگ دو قسم کے ہوتے ہیں .... ایک وہ جو اپنی زندگی کے ابتدائی مرحلے میں ہی سمجھ لیتے ہیں کہ اُن کو کیا کرنا ہے اور دیگر اپنی ساری زندگی میں اپنے مقصد کے متلاشی رہتے ہیں۔ اگر آپ پہلی قسم کو دیکھیں اور اس کا کچھ گہرائی سے جائزہ لیں تو آپ کو چیتن آہوجا کا معاملہ ملتا ہے۔ وہ ایک ہونہار طالب علم رہے اور ان کو بخوبی اندازہ تھا کہ انہیں آگے چل کر کیا کرنا ہے۔ انہوں نے ’کمپیوٹیشنل کیمسٹری‘ میں پی ایچ ڈی شروع کی اور کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز مکمل کئے۔

یہ دراصل تکنیکیات یا فنیات کے ماہر کی کہانی ہے، جو موبائل ایپس کے لئے کام کرنے والی نٹ ورکنگ کی روایت کو تبدیل کرنے کے مشن پر ہیں۔

شرارتی لڑکا جس سے تمام پڑوسی خائف تھے

چیتن تعلیم میں دلچسپی رکھنے والا مثالی بچہ رہا جو دہلی میں 1970-80ءکے دہوں میں پروان چڑھا، جس نے اپنے پڑوس اور اسکول میں کئی گوشوں کو تذبذب میں مبتلا رکھا تھا۔ وہی تھا جس کے ہاتھوں کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ جاتے اور وہ سوالات کے جواب بھی دیا کرتا تھا، لہٰذا ٹیچروں کو اس کے معاملے سے نمٹنے میں بڑی دِقت پیش آیا کرتی تھی۔ وہ ’شرما جی‘ کا ایسا بیٹا تھا کہ کئی لوگ اُس کی تقلید کے لئے اپنے بچوں کو تاکید کرنے میں جوکھم محسوس کرتے تھے۔ چیتن کی ماں کو اُس کی پیدائش کے بعد اپنی نوکری چھوڑ دینی پڑی، جب کہ اُس کے والد نے دہلی کے ایک اسٹور میں سیلز جاب بس شروع ہی کیا تھا اور بعد میں انہوں نے اپنا ذاتی گارمنٹ مینوفیکچرنگ بزنس شروع کیا۔

1970ءکے دہے کا بچہ ہونے کے ناطے چیتن کو اپنی ابتدائی عمر میں کمپیوٹرز کے تعلق سے کچھ زیادہ جانکاری نہ تھی۔ یہ مشین سے تو وہ موسم گرما کی ایک کمپیوٹر کلاس میں واقف ہوا۔ مضامین کے انتخاب کے مرحلے میں چیتن کو دیگر مضمونوں سے خوف نے کمپیوٹر سائنس کو منتخب کرلینے کی ترغیب دی، جو تب نیا نیا متعارف کرایا گیا تھا۔ اپنی زندگی کے بہت ابتداءمیں ہی اس کا سامنا کچھ ایسی چیز سے ہوگیا جس کے تعلق سے اسے یقین ہوچلا کہ اپنی بقیہ زندگی وہ اسے کریئر کے طور پر آگے بڑھانے جارہا ہے۔ مگر یہ اتنا آسان نہیں تھا۔

چیتن اپنے اسکولی دنوں کے دوران۔
چیتن اپنے اسکولی دنوں کے دوران۔

آئی آئی ٹی کا منتشر ذہن فارغ التحصیل اور مزید الجھن زدہ پوسٹ گرائجویٹ

چیتن کو 1989ءمیں آئی آئی ٹی بمبے میں داخلہ مل گیا لیکن کمپیوٹر سائنس کا مضمون نہ ملا۔ اس کی بجائے اُس نے کیمیا (کیمسٹری) میں ماسٹرز کی تکمیل کی۔ کوڈنگ سے اپنی پسندیدگی کے اظہار کے طور پر اُس نے اپنے ماسٹرز پراجکٹ کو کمپیوٹیشنل کیمسٹری کے ایک پروگرام میں تبدیل کیا، جس کے لئے عددی طریقے میں quantum model simulation کو بروئے کار لایا گیا۔ یہ کمپیوٹر پروگرام کو FORTRAN میں لکھا گیا، جو تب سائنٹفک پروگرامنگ کے لئے عمومی طور پر استعمال کی جانے والی کمپیوٹر لینگویج تھی۔

چیتن آئی آئی ٹی ۔ بی ہاسٹل کے بیرونی گوشہ میں ۔
چیتن آئی آئی ٹی ۔ بی ہاسٹل کے بیرونی گوشہ میں ۔

مشیگن اسٹیٹ یونیورسٹی میں کمپیوٹیشنل کیمسٹری میں اپنی پی ایچ ڈی کی شروعات کے بعد چیتن کی رسائی ایس جی آئی (سلیکان گرافکس اِنکارپوریشن) کے ڈاٹا کی تجزیاتی اہلیتوں والے ہائی پرفارمنس کمپیوٹرز تک ہوگئی۔ اسے ان لوگوں سے ملنے کا بھی موقع دیا گیا جن کو معلوم تھا کہ کمپیوٹرز کو کس طرح استعمال کیا جائے۔ اُس نے کمپیوٹر سائنس کی کلاسیس میں شرکت شروع کردی اور جلد ہی کمپیوٹر سائنس میں کسی زیرتکمیل گرائجویٹ کے لئے درکار تمام قابلیتیں حاصل کرلئے۔ اس شعبہ میں اُس کی مسلسل موجودگی کو دیکھتے ہوئے پروفیسرز نے اسے ماسٹرز کے لئے داخلہ لینے کا مشورہ دیا۔ جلد ہی اسے کمپیوٹر سائنس میں مکمل وقتی ماسٹرز پروگرام میں داخلہ دے دیا گیا۔

چونکہ IBM بہت فرسودہ ہے کہ جاری رکھا جاسکے ....

چیتن مشیگن اسٹیٹ یونیورسٹی میں اپنے پوسٹ گرائجویشن کے دنوں کے دوران۔
چیتن مشیگن اسٹیٹ یونیورسٹی میں اپنے پوسٹ گرائجویشن کے دنوں کے دوران۔

چیتن 2001ءمیں ’آئی بی ایم‘ میں شامل ہوئے اور ایک پراجکٹ پر کام کئے جس کا تعلق distributed storage product سے رہا، جس کی کبھی کوئی کھیپ برآمد نہ ہوئی۔ اُن کی ٹیم نے NFS سَرور کے لئے distributed locking scheme کا ڈیزائن ترتیب دیا اور اس پر عمل درآمد کیا۔ پھر 11 ماہ کی مدت میں جب یہ کمپنی بڑے پیمانے پر ملازمین کو کام سے علاحدہ رکھنے کے مرحلے سے گزر رہی تھی، چیتن وہاں سے روانگی کے لئے پہلے سے ہی تیار تھے۔ وہ Panasas میں شامل ہوگئے اور اس کمپنی میں چار سال گزارے۔ انہوں نے بڑے پیمانے پر ہائی پرفارمنس distributed file system اور اس کے مختلف نوعیت والے پہلو¶ں پر کام کیا، جن میں transaction logging ، kernel software اور بہت وسیع کلسٹر پر ڈاٹا کی تقسیم۔

چیتن نے Riverbed میں اپنی اگلی ذمہ داری میں اپنی زندگی کا نٹ ورکنگ والا مرحلہ شروع کیا۔ انہوں نے اپنی ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے ایک اسٹوریج پراڈکٹ کے لئے سَرور کلسٹرنگ سافٹ ویئر ترتیب دیا اور عمل میں لایا اور اس کے ساتھ CIFS (کامن انٹرنٹ فائل سسٹم؛ وہ معیاری طریقہ جس کے ذریعے کمپیوٹر کے استعمال کنندگان فائلوں کا تبادلہ کارپوریٹ انٹرانٹس اور انٹرنٹ پر کرتے ہیں) کی ڈیزائننگ اور اس پر عمل درآمد بھی WAN لنکس پر ہائی پرفارمنس فائل ٹرانسفر پروٹوکل کے لئے انجام دی۔

وہ بتاتے ہیں ، ”میں نے سیکھا کہ نٹ ورک کی پوشیدگی کسی استعمال کنندہ (یوزر) کی معقول کارکردگی پر کس قدر اثرانداز ہوتی ہے۔ فائل سسٹم اور نٹ ورکنگ پروٹوکلس میں میری دلچسپی میں روز افزوں اضافہ ہوتا گیا۔ میں نے CPU (سنٹرل پراسسنگ یونٹ) کی پرفارمنس پر اثرانداز ہونے والے رسمی طریقوں (پروٹوکلس) پر کام کرنا شروع کیا۔''

’ کامیاب وار ‘ کا لمحہ

چیتن نے Admob سے اپنی وابستگی کے دوران شاید ہی کوئی کوڈ بنائے اور اُن کے رول میں Admob کے انفراسٹرکچر پرفارمنس اور ’لینکس کرنل اسکڈیولر ڈیولپمنٹ‘ پر کام کرنا شامل رہا۔ اس ٹیم کو بنیادی طور پر ایسے مسائل کا سامنا ہوا کہ 10 بڑے سسٹمس تک سارے نظام کی اِخفائیت کو (موبائل والے پہلو کے اعتبار سے) سنبھال نہیں پارہے تھے۔ یہی ’کامیاب وار‘ کا لمحہ ثابت ہوا، اور نٹ ورکنگ کی اِخفائیت اور موبائل نے مشکل تر بنایا۔ چیتن نے جان لیا کہ موبائل (ڈیوائس یعنی مشین یا آلہ) کی صورت میں یہ مسئلہ کبھی نہ رکنے والے disconnection اور reconnection کا ہے۔

وہ کہتے ہیں، ”اگرچہ یہ سست نٹ ورک کے طور پر پیش آتا ہے، لیکن یہ مسئلہ کام چالو رہنے کے دوران مسلسل بے ربطی (ڈِس کنکشن) سے متعلق ہے۔ (کام چالو رہنے کے دوران) کسی نئے IP address کا تعین اس کو بڑھا دیتا ہے۔

چیتن نے تب فیصلہ کرلیا کہ اس معمے کو حل کرنے کے لئے خود اپنا وینچر شروع کیا جائے۔

’ پیاکٹ زوم‘ ( PacketZoom) وجود میں آیا

’ پیاکٹ زوم‘ کا خیال چیتن کے ذہن میں اُن کے Riverbed والے دِنوں سے ہی جاگزیں تھا۔ ’ریوربیڈ ‘ کے اُن کے تجربے نے وہ تمام مسائل کے تعلق سے اُن کی آنکھیں کھول دیئے تھے جن کا اس پراڈکٹ کو استعمال کنندگان تک مختلف ذرائع سے پہنچانے میں ہوا کرتا تھا۔

وہ کہتے ہیں، ”مجھے یہ پسند نہیں آیا کہ پراڈکٹ کے چھوٹے سے پُرزہ کو مارکیٹ میں لانے کے لئے پوری ٹیم کو جس طرح جُٹ جانا پڑتا تھا۔ ایک سال تک PocketZoom میں بس دو انجینئرز کام کرتے رہے، جنھوں نے ایسا پراڈکٹ پیش کیا، جس میں نیا پروٹوکل شامل ہوا اور ڈاٹا کی سرویس امریکا، ایشیا، لاطینی امریکا اور یورپ سے پیش کی جاتی رہی۔ چیتن ’پاکٹ زوم‘ کے پس پردہ ٹکنالوجی کی وضاحت یوں کرتے ہیں:

ہم یہ کام مرحلہ بہ مرحلہ کرتے ہیں جس میں ایک وقت میں ایک ٹرانسفر سے نمٹنے والے سادہ MVP ماڈل کی تعمیل ہوتی ہے۔ ہم یہ کالس (ڈاٹا کی خاطر) ہمارے کوڈ میں کرتے ہیں، جو اِن کو اخذ کرکے ہمارے پروٹوکل سے گزارتے ہیں۔ اور app developer طے کرسکتا ہے کہ ’پاکٹ زوم‘ سے کون سے URLs گزریں گے اور کون سے نہیں۔

چیتن کی کوششیں کسی ’ایپ‘ (app) کی رفتار کو بڑھانے کی سمت میں رہی ہیں۔ اُن کا ماننا ہے کہ کسی استعمال کنندہ کے لئے موبائل سے استفادہ متعلقہ ڈیوائس کی ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل وحرکت اور Wi-Fi سے 2G/3G کنکشن بدلنے کی وجہ سے غیرمسلسل بے ربطی کے سبب اوسط سے کمتر ہوجاتا ہے۔ اگر کوئی ’یوزر‘ (استعمال کنندہ) بے جان نٹ ورک کے علاقے سے گزرتا ہے تو ڈاٹا ٹرانسفر کا موجودہ آئی پی پروٹوکل ایسی صورت ِ حال سے بنیادی طور پر نہیں نمٹ سکتا ہے۔

چیتن اپنے دورہ¿ ہندوستان کے دوران PacketZoom سے متعلق بات کرتے ہوئے۔
چیتن اپنے دورہ¿ ہندوستان کے دوران PacketZoom سے متعلق بات کرتے ہوئے۔

یہ مسئلہ کس طرح فیصلہ کن ہے؟

ڈاٹا کی منتقلی میں تسلسل کی اہمیت لاجسٹکس (انصرامی تنظیم) اور آپریشنس (اقدامات) کے لئے بڑھ جاتی ہے۔ چیتن یوں وضاحت کرتے ہیں:

وہ لوگ جو فیلڈ (قطعہ زمین) میں کام کاج کی انجام دہی کے لئے موجود ہوتے ہیں، وہ ’ہوم نٹ ورک‘ سے جڑے رہتے ہیں اور کارکردگی کے بارے میں موقف سے واقف کراتے ہیں۔ یہ کام بے دم منزلوں سے گزرتے وقت مشکل ہوجاتا ہے۔ ہمیں نٹ ورکنگ سے متعلق ہماری سوچ میں تبدیلی لانی پڑے گی۔ نٹ ورکنگ TCP پروٹوکل مفروضوں کا اصل نظریہ دو منفرد IP addresses کے درمیان ترتیب پاتا ہے (یہ سوچتے ہوئے کہ آئی پی اَڈریس آپ کا اختتامی مقام مشین ڈیوائس ہے) ۔ مگر اب ڈیوائس TCP/IP (Transmission Control Protocol / Internet Protocol ) سیشن وقفے وقفے سے بدلتا رہتا ہے۔

’پاکٹ زوم‘ میں کسی سیشن کی تشریح منفرد سیشن ID سے کی جاتی ہے اور آئی پی اڈریس عارضی ہے۔ سادہ زبان میں کہیں تو ہم سیشن آئی ڈیز کو سل فون نمبر کی مانند سوچ سکتے ہیں جو مختلف نٹ ورکس (آئی پی اڈریسیس) سے گزرتا ہے۔

موجودہ طور پر ’پاکٹ زوم‘ کے ذریعے دنیا بھر میں زائد از 100 ملین درخواستوں کی تکمیل ہورہی ہے جس کے تحت کئی ملین ’اِنسٹال‘ ہوچکے۔ اسے ماہانہ ایک بلین درخواستیں وصول ہوتی ہیں۔ یہ کمپنی کا فروغ سلیکان ویلی کے موبائل سیڈ اکسیلریٹر ۔ ٹینڈم میں ہوا اور اسے فنڈ ’فرسٹ را¶نڈ کیاپٹل اینڈ بیس لائن وینچرز‘ نے فراہم کئے۔

ٹکنالوجی ہی زندگی

چیتن کے لئے ٹکنالوجی (فنّیات) ہی زندگی ہے۔ اُن کا کہنا ہے: ٹکنالوجی مسئلہ کی حل کنندہ ہے۔ ہر وہ چیز جو سب انسان زندگی کو کسی طرح بہتر بنانے کے لئے کرتے ہیں وہی ٹکنالوجی ہے۔

چیتن حصولِ علم کے معاملے میں بہت کچھ کرچکے ہیں، جس میں بعض دقیق مشقتیں شامل ہیں۔ وہ سافٹ ویئر انجینئرز کے ساتھ حسب ذیل اہم نکات کا تبادلہ کررہے ہیں:

.1 نوکریوں کے متلاشی لوگ یہ اندازہ نہیں لگاتے ہیں کہ پراڈکٹ کو کس طرح پیش کیا جائے۔ حقیقی معنی میں سافٹ ویئر انجینئرنگ زیادہ تر ڈیزائن اور فیلڈ سے اُبھرنے والے مسائل کا استدلال حل پیش کرنا ہوتا ہے۔ صرف معمولی حصہ ہی کوڈنگ (coding) سے متعلق ہوتا ہے۔ اس لئے ہمیشہ آپ کسی معاملے میں اپنے تمام اقدامات کا پورا فائدہ فیلڈ سے اُبھرنے والے مسئلہ (bug/crash) کی یکسوئی کے لئے مرکوز رکھیں۔

.2 کمپیوٹر کے پروگرام یا نظام میں کوئی گڑبڑ کو دور کرنا یعنی ’ڈی بگنگ‘ (debugging) کا کام کوڈ بنانے سے کم از کم دوگنا مشکل ہوتا ہے۔ لہٰذا آپ کوڈ بناتے ہوئے نصف حد تک ضرور چوکنا ہونے چاہئیں، ورنہ آپ یہ کام نہیں کرپائیں گے۔

.3 بہت سارا کام یا پیداواریت محض انجینئرز کی انفرادی لیاقت کا نتیجہ نہیں ہوتا ہے۔ گوگل (Google) ٹکنالوجی کی دیگر بڑی کمپنیوں میں اچھی مثال ہے جہاں اجتماعی کام (ٹیم ورک) کے لئے زبردست ماحول پیدا کیا گیا ہے۔

.4 کسی پلیٹ فام کا استحکام، کام کاج اور اس کے رابطے اس کی تیز سے تیزتر بڑھوتری کے لئے استعمال کنندگان کی تعداد سے کہیں زیادہ اہم ہوتے ہیں۔

.5 دوسروں سے اُسی طرح کا برتا¶ رکھیں جس طرح دیگر سے اپنے لئے برتا¶ چاہتے ہیں۔

.6 جب منظرعام پر آجائیں تو ہمیشہ مادی اشیاءاور رقم کے مقابل دوستوں، خاندان، رفقاءجیسے لوگوں کو اولین ترجیح دیا کریں۔

چیتن کا ماننا ہے کہ ہم نٹ ورکنگ اور موبائل سے غلط طور پر نمٹ رہے ہیں۔ PacketZoom کے ذریعے وہ نٹ ورکنگ کا موجودہ انداز بدلنے کوشاں ہیں۔ اُن کا کہنا ہے:

اب IoT یعنی Internet of Things کا وجود ہے۔ ہم چھوٹے چھوٹے ڈیوائس کے لئے بھاری بھر کم (آئی پی پروٹوکل) کا اطلاق نہیں کرسکتے ہیں۔ جیسے جیسے ان ڈیوائس کی تعداد بڑھتی جائے، ہمیں سمجھ آئے گا کہ پُرانے پروٹوکلس کی ڈیزائننگ اس کے لئے نہیں ہوئی۔


قلمکار : الوک سونی

مترجم : عرفان جابری

Writer : Alok Soni

Translator: Irfan Jabri

A humble person, 45, who wished during teenage to become a Cricketer, then did my Science graduation to become an Engineer like my father, and then tried to be an Indian Administrative Officer (IAS). But, perhaps, I was destined to be a professional Journalist as I could consciously acquire the relevant knowledge by completing my Bachelor of Communication and Journalism (BCJ) from Osmania University, and practicing journalism for the last two decades courtesy my mother tongue, Urdu Language. A satisfied person by the grace of almighty Allah. منکسرالمزاج شخص (۴۵ سال) جس نے کم عمری میں یہی تمنا کی کہ کرکٹر بن جائے، پھر سائنس گرائجویشن کرتے ہوئے سوچا کہ والد کی طرح انجینئر بنوں، اور پھر ان؛ین اڈمنسٹریٹیو آفیسر (آئی اے ایس) بننے کی سعی بھی کی۔ لیکن شاید، قدرت نے پیشہ ور صحافی بنانا بہتر سمجھا۔ چنانچہ میں عثمانیہ یونیورسٹی سے بیچلر آف کمیونکیشن اینڈ جرنلز (بی سی جے) کی تکمیل کے ذریعے متعلقہ ضروری علم حاصل کرپایا اور مادری زبان اُردو کی مرہون منت دو دہوں سے عملی زندگی میں ہوں۔ اللہ تبارک وتعالی کا فضل ہے کہ مطمئن شخص ہوں۔

Related Stories

Stories by IRFAN JABRI