غریب خواتین کا مستقبل سنوارنے میں مصروف دودوست

0

نمرتا بھامر اور رادھکا مجمدار نے رکھی جمپ اسٹارٹ اسکل فاؤنڈیشن کی بنیادیں ۔۔۔

غریب گھریلو خواتین کو فنی مہارت کی ٹریننگ ۔۔۔

زیادہ سے زیادہ خواتین کو اقتصادی طور پر خود کفیل بنانا فاؤنڈیشن کا مقصد

نمرتا بھامر پیشے سے فوڈ ٹیکنولجسٹ ہیں۔ انہوں نے انگلینڈ اور بھارت کی کئی فوڈ کمپنیوں میں تقریبا آٹھ سال تک اونچے عہدوں پر کام کیا۔ جس کی وجہ سے وہ بہت سیکٹر کو بہت قریب سے دیکھ پائیں۔ نمرتا کے ذہن میں ہمیشہ یہ بات چلتی رہتی تھی کہ ہمارے ملک کی تمام خواتین خود کفیل بن۔ خواتین کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلائے۔ ان کے پاس کوئی نہ کوئی ہنر ضرور ہو تاکہ ضرورت پڑنے پر وہ اس کا استعمال کر پیسے کما سکیں۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہندوستان میں زیادہ ترخواتین پڑھی لکھی نہیں ہیں، جس کی وجہ سے وہ اقتصادی طور پر خود کفیل بھی نہیں ہیں۔ زیادہ تر خواتین گرهنی ہیں۔ ساتھ ہی غربت بھی ہندوستان میں زیادہ ہے اور آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ نمرتا کا خیال ہے کہ ہندوستانی خواتین میں ہنر کی کمی نہیں ہے۔ صرف اس ہنر کو تراشنے کی ضرورت ہے۔ ایک دن انہوں نے اپنی دوست رادھکا مجمدار کو بتایا کہ وہ گھریلو خواتین کے لئے کچھ کرنا چاہتی ہیں۔ رادھکا نے بھی ان کی اس بات پر دلچسپی ظاہر کی اور ان کے ساتھ کام کرنے کا فیصلہ کیا۔

رادھکا کو تعلیم کے میدان میں 11 سال کا طویل تجربہ ہے۔ وہ اسکول میں پرنسپل بھی رہ چکی ہیں اور اس دوران انہوں نے کافی تجربہ حاصل کیا۔ رادھکا کو معلوم ہے کہ ایڈمنسٹریشن اور مینجمنٹ کو کس قسم ہینڈل کیا جاتا ہے۔ پھر نمرتا اور رادھکا نے جمپ اسٹارٹ اسکل فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی۔ اس کا اہم مقصد غریب عورتوں کو ہنر سکھانا، انہیں روزگار دلانا اور خود کفیل بنانا ہے۔

نمرتا اور رادھکا مانتی ہیں کہ ایک عورت کو اقتصادی طور پر خود کفیل ہونا اس کے خاندان کو تو فائدہ پہنچاتا ہی ہے ساتھ ہی خوتین میں اعتماد بھی پیدا کرتا ہے۔ کہیں نہ کہیں یہ خاندان کے ساتھ ساتھ سماج اور ملک کے لئے بھی اچھا اشارہ ہے۔

یہ پروگرام 18 سال سے 50 سال تک کی خواتین کے لئے ہے۔ اس پروگرام کا حصہ بننے کے لئے خواتین کو کم از کم 10 ویں جماعت کا امتحان کامیاب ہونا ضروری ہے۔ جمپ اسٹارٹ میں زیادہ تروہی خواتین آتی ہیں جو غریب ہیں یا پھر وہ سماج اور خاندان کی جانب سے نظراندازکی گئی ہیں۔ کچھ طلاق شدہ خواتین بھی ہیں تو کچھ بیوہ اور اکیلی زندگی جی رہی خواتین بھی ان کے پاس آتی ہیں۔

جمپ اسٹارٹ فاؤنڈیشن بہت سیکٹر میں یہ جاننے کی کوشش کرتا ہے کہ انہیں اپنی انڈسٹری میں کس قسم کے لوگوں کی ضرورت ہے۔ ان کی ضرورت کو جان کر ہی تربیتی پروگرام کا مود تیار کیا گیا ہے۔ تاکہ اس کے بعد خواتین کو اچھا روزگار مل سکے۔

ابھی جمپ اسٹارٹ فاؤنڈیشن کے پاس دو کلاس روم ہیں۔ ایک کمپیوٹر لیب ہے اور نو ٹرینر ہیں۔ ایک کورس کی مدت تقریبا 18 ہفتے ہے اور ان كورس کے لئے رجسٹریشن فیس 500 روپے ہے۔ یہاں انگریزی بولنا، کمپیوٹر اسکل، شخصی ترقی اور گرومنگ، قیادت کی صلاحیت اور سوپرواذری ہنر کو نکھارا جاتا ہے۔ كورس کے ذریعے خواتین بطور رسیپسنسٹ، پرسنل اسسٹنٹ، سیكٹريی ایڈمن- ، اکاؤنٹ ایکزيكيوٹیو، كسٹمر سروس ایکزيكيوٹیو ، اسٹور سوپروائزر، اسٹورمینیجر وغیرہ کے عہدے کے لئے خود کو تیار کر پاتی ہیں۔

اس کے علاوہ خواتین کو قانونی حقوق، صحت سے متعلق معلومات اور خو د کی حفاظت کے لئے بھی تیار کرتے ہیں۔ فی الحال فاونڈیشن گرانٹ کی رقم سے ہی اپنے پروگرام چلا رہا ہے۔ لیکن مستقبل میں کمپنیوں سے ٹائی اپ کرنے کا منصوبہ ہےاور کام کی توسیع کے لئے سرمایہ کاروں کی تلاش بھی جاری ہے ۔ ایک بیچ کو چلانے میں انہیں تقریبا سوا لاکھ روپے خرچ آتا ہے۔

جمپ اسٹارٹ نے بڈودرا میں بہت سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے انٹرپرائز کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔ اب تک ان کی طرف سے تیار کی گئی خواتین میں اوسطا 90 سے 95 فیصد خواتین کو روزگار مل رہا ہے۔

نمرتا بتاتی ہیں کہ جمپ اسٹارٹ کو اس وقت صرف پیسہ جمع کرنے میں ہی دقت آ رہی ہے۔ باقی تمام کام بہت صحیح طور پر چل رہے ہیں۔ جمپ اسٹارٹ اب گجرات کی دیگر جگہوں پر بھی اپنی پہنچ بنانا چاہتا ہے۔ نمرتا بتاتی ہیں کہ ہم ون اسٹاپ سليوشن بنانا چاہتے ہیں تاکہ کوئی عورت ہمارے پاس آئے اور اس ٹریننگ کے بعد روزگار مل جائے۔

تحریر- سنگدھا سنہا

مترجم- زلیخا نظیر