خود اعتمادی کی حیرت انگیز مثال .... مسکان دیوتا

0

مسکان دیوتا ایک ایسی لڑکی ہے جس کی ولادت صرف 32 ہفتے میں ہی ہوئی تھی اور اس وجہ سے مادر شکم میں اس کے جسم کی مکمل طور پرنشونما بھی نہیں ہو پائی تھی۔ پیدائش کے وقت مسکان کا وزن صرف 1۔2 کلو گرام تھا جو بہت کم تھا۔ مسکان کے پھیپھڑے بھی پیدائش کے وقت مکمل طور پر تیار نہیں ہوئے تھے اور دل میں تین سوراخ بھی تھے۔

انہی تمام حالٓات کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹروں نے مسکان کےوالدین کو 100 دنوں تک انتظار کرنے کو کہا اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ عام طور پر اس صورت حال میں پیدا ہوئے بچوں کے لئے ابتداع کے سو گھنٹے ان کی زندگی کے فیصلہ کن لمحات ہوتے ہیں۔

6 اکتوبر سن 1999 میں پیدا ہونے والی مسکان آج 16 سال کی ہو چکی ہے اور بہت سے لوگوں کے لئے ایک مثال بھی ہے۔ مسکان کی زندگی کے سفر پر نظر ڈالیں تو یہ جہاں متاثر کن ہے وہیں حیران بھی کرتی ہے۔ مسکان کی ماں جیمینی دیوتا بتاتی ہیں کہ جب انہوں نے ننھی مسکان کو پہلی بار دیکھا تو انہیں مسکان کی آنکھوں میں ایک امید دکھائی دی۔ وہ بہت خوبصورت تھی اور اس کی آنکھوں میں جینے کی چاہ نظر آ رہی تھی۔ میں اس کو چھونا چاہتی تھی، لیکن وہ اتنی کمزور اور نازک تھی کہ ڈاکٹروں نے اسے پیدا ہوتے ہی انکیوبیٹر میں رکھ دیا تھا۔ اور ہمیں کہ دیا گیا تھا کہ سو گھنٹے انتظار کریں تبھی بچی کی حالت کے بارے میں کچھ کہا جا سکتا ہے۔ اب ہمارے پاس خدا سے اس سلامتی کے لئے دعا کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔ ڈاکٹروں کی محنت اور خدا کی رحمت سے یہ سو گھنٹے گزرے اور وہ صحیح سلامت گھر آ گئی۔ ڈاکٹر نے گھر آتے وقت ہمیں کئی طرح کی مشورہ دیے کہ ہم کو اس بچی کی بہت زیادہ دیکھ بھال کرنی ہوگی۔ ہم نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

مسکان کے جسم کا بایان حصہ دایان حصے کے مقابلے زیادہ مضبوط تھا، یہ بھی تشویش کا موضوع تھا۔ لیکن آہستہ آہستہ مسکان ٹھیک ہونے لگی اور آج ہمیں اپنی بیٹی پر فخر ہے ڈاکٹروں نے مسکان کے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ نیوزی لینڈ شفٹ کر جائیں تاکہ مسکان کا صحیح علاج ہو سکے۔ ساتھ ہی وہاں کا معاشرہ زیادہ کھلا ہے۔

مسکان کے والدین سن 2004 میں نیوزی لینڈ چلے گئے۔ صرف ساڑھے چار سال کی مسکان کے لئے نیوزی لینڈ میں خود کو اڈجسٹ کرنا اتنا آسان نہیں تھا۔ ابتدائی دور میں مسکان چیزوں کو سمجھنے میں معمول سے تھوڑا زیادہ وقت لیتی تھی۔ اس وجہ اسے باقی بچوں کے ساتھ گھلنے- ملنے میں تھوڑا دقت آ رہی تھی۔ لیکن یہ صورت حال ایک مختصر عرسے کے لئے ہی تھی پھر مسکان نےچیزوں کو سمجھنا شروع کر دیا۔ آج مسکان ایک مصنف، ایک ریڈیو جاکی اور ایک اثردار اسپیکر ہے۔ انہوں نے اپنی قوۃ ارادی سے تمام رکاوٹوں کو دور کیا۔ نیوزی لینڈ کے ایک پبلک اسپتال میں مسکان کے سیدھے پیر کی کرکٹیو سرجری ہوئی۔ مسکان چشمہ پہنتی ہے اور تھوڑا آہستہ آہستہ چلتی ہے۔

مسکان کے دل میں جو تین سوراخ تھے وہ اب وقت کے ساتھ ساتھ خود ہی بھر چکے ہیں۔ جب مسکان 6 سال کی تھی تب ان کے بھائی امن کی پیدائش ہوئی۔ بھائی کی پیدائش نے مسکان کی زندگی میں ایک نیا جوش بھر دیا۔ وہ بہت خوش ہوئی اور مسکان نے ایک بڑی بہن کی طرح اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا شروع کیا وہ امن کے ساتھ کھیلتی اور امن کی ہر چھوٹی بڑی چیز کا خیال رکھتی۔ ان سب چھوٹی چھوٹی باتوں نے مسکان مین نیا اعتماد پیدا کیا۔ آج مسکان ایک مصنف ہیں۔ انہوں نے اپنی پہلی مختصر کہانی 'مائی فرینڈ گنیشا' لکھی۔ اس کہانی کو منسٹری آف ایجوکیشن نیوزی لینڈ کی طرف سے منتخب کیا گیا۔

مسکان نے اپنی سوانح عمری ' آی ڈریم تحریر کی ۔ اور آج ان کی سوانح عمری ویسلی گرلز ہائی اسکول کے نصاب کا حصہ ہے۔ مسکان بھی اسی اسکول میں پڑھتی ہے۔ مسکان بتاتی ہے کہ ان کے بہت کم دوست تھے جس کی وجہ سے انہوں نے لکھنا شروع کیا۔ کڈ ٹاکس میں وہ بتا چکی ہے کہ کس طرح انسان اپنے اندر ہمت کے بل بوتے نا مساعد حالات کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ حال ہی میں انہوں نے فیسٹول آف فیوچر میں بھی بطور مقرر حصہ لیا۔

وہ بتاتی ہیں کہ ان کے ساتھ جو بھی مشکل حالات آئے وہ ایک ان کے بھلے کے لئے تھے ۔ انہیں دوست بنانے میں دقت ہوتی تھی اور وہ خود کو اکیلا محسوس کرتی تھی۔ اس صورت حال نے انہیں لکھنے کی طرف مائل کیا ۔ مسکان اپنے قلم کے زریعہ اپنے ذہن کو ہلکا کرتی ہے ۔ ان کے دماغ میں جو بھی خیال آتا ہے وہ اسے خوبصورت الفاظ میں پرو کر کاغذ پر تحریر کر لیتی ہے ۔ ان کی تحریروں سے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور اسی وجہ سے انہیں بطو ر آر جے ریڈیو ترانہ میں بھی کام کرنے کا موقع ملا۔ ریڈیو ترانہ نیوزی لینڈ کا ایک مشہور ریڈیو اسٹیشن ہے اور مسکان وہاں بچوں کا ایک پروگرام کی میزبانی کرتی ہے ۔ یہ کام وہ 12 سال کی عمر سے کر رہی ہے۔

بڑی ہوکر مسکان ایک سائنسدان بننا چاہتی ہے۔ مسکان 11 ویں کلاس میں پڑھتی ہے انگریزی، ہسپانوی اور کیمسٹری ان کے محبوب مضامین ہیں۔ ان کا بھائی امن ان کا بہت اچھا دوست ہے۔ دونوں والدین کے گھر میں نہ ہونے کی صورت میں گھر کا خیال رکھتے ہیں۔ مسکان کو پکوان کرنا بھی بہت پسند ہے خاص طور پر بیکنگ میتھڈ سے بننے والی چیزیں بنانا انہیں بہت اچھا لگتا ہے۔