ستّرسالہ خاتون نے راجستھان کےقحط زدہ گاؤوں میں بکھیر دی ہریالی...

میں روحانیت سے وابستہ ایک عام خاتون تھی ۔ نوّے کی دہائی میں جب راجستھان میں سوکھا پڑا تو وہاں کے قحط زدہ کسانوں کی تصاویر میں نے ٹی وی پر دیکھی تھیں ۔ اُن تصاویر نے مجھے اندر تک ہلا کر رکھ دیا ۔ اس سے مجھے ان کے لئے کام کرنے کی ترغیب ملی

0

اُن کا رجحان روحانیت کی جانب تھا، لیکن ایک واقعے نے انہیں اتنا مضطرب کر دیا کہ اُن کی توجہ خدمتِ خلق کی طرف مبذول ہوگئی۔ وہ ایک ایسے عظیم کارِ خیر میں لگ گئیں کہ کل تک جو علاقہ پانی کی ایک ایک بوند کے لئے ترستا تھا، آج وہاں بارہ مہینے پانی دستیاب رہتا ہے ۔ ارادوں سے مضبوط اور حوصلے کی بلند 70 سالہ خاتون ’املاروئیا‘ بھلے ہی ممبئی میں رہتی ہیں لیکن انہوں نے اپنے کام کی بدولت راجستھان جیسے خشک سالی سے دوچار علاقے کی تصویر بدل دی ہے ۔ انہوں نے روایتی پانی ذخیرہ کی تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے پانی کے دو سو حوض بنوائے جہاں پر 1 کروڑ لیٹر پانی جمع ہوتا ہے ۔ اتنا ہی نہیں انہوں نے راجستھان کے علاوہ دیگر کئی ریاستوں میں ایسے متاثرہ مقامات پر دو سو سے زیادہ ایسے چیک ڈیم بنوائے جو کبھی پانی کے لئے ترستے تھے ۔ آج وہاں نہ صرف ہریالی ہے بلکہ آس پاس کے کنویں بھی سال بھر پانی سے لبالب بھرے رہتے ہیں ۔

ملک کی 60 فیصد سے زیادہ کھیتی بارش پر منحصر ہے ۔ بارش کی وجہ سے جہاں ہر سال کچھ علاقوں میں سیلاب آتا ہے، وہیں کچھ علاقوں میں پانی کا قحط پڑتا ہے ۔ آزادی کے بعد اتنے برسوں کے دوران اس مسئلہ سے نمٹنے کے لئے حکومت نے کئی اسکیمیں بنائیں، اس کے باوجود حالات میں خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی ہے ۔ لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو منصوبوں کو حقیقت میں تبدیل کرنا جانتے ہیں اور انہی میں سے ایک خاتون ہیں ’املاروئیا‘، جن کے شوہر کا خاندان راجستھان میں رام گڑھ ضلع کے شیکھاوٹی گاؤں میں رہتا تھا ۔ وہ بتاتی ہیں کہ :

’’میں روحانیت سے وابستہ ایک عام خاتون تھی ۔ نوّے کی دہائی میں جب راجستھان میں سوکھا پڑا تو وہاں کے قحط زدہ کسانوں کی تصاویر میں نے ٹی وی پر دیکھی تھیں ۔ اُن تصاویر نے مجھے اندر تک ہلا کر رکھ دیا ۔ اس سے مجھے ان کے لئے کام کرنے کی ترغیب ملی۔‘‘

حالانکہ اُس دوران علاقے کے لوگوں کو خشک سالی سے راحت دِلانے کے لئے’املا‘ کے خسر نے لوگوں کو پانی کے ٹینکر کے ذریعے پانی پہنچایا اور کھانا مہیا کرایا ۔ لیکن ’املاروئیا‘نے محسوس کیا کہ اِس مسئلے کا یہ حل دیرپا نہیں ہے ۔ تب انہوں نے فیصلہ کیاکہ انہیں کچھ ایسا کچھ کرنا چاہئے جس سےکہ یہاں کے لوگوں کی زندگی مخالف حالات میں بھی معمول کے مطابق رہے۔

’املاروئیا‘کے مطابق،

’’مجھے نہیں پتہ تھا کہ کیا کرنا ہے لیکن میں نے اِس تعلق سے کافی ریسرچ کی، تب مجھے کچھ ایسے این جی او کے بارے میں پتہ چلا جو اِس علاقے میں کامیابی سے کام کر رہے ہیں ۔ اُن کے کام کو میں نے اپنی بنیاد بنا کر کام شروع کیا ۔ یہ کام میں نے اپنے آبائی گاؤں شیکھاوٹی سے ہی شروع کیا ۔ یہ ’تھر‘ ریگستان کے قریب ایک ہموارجگہ پر ہے جہاں پر بارش کے پانی کو مٹّی جذب کر لیتی ہے ۔ لہٰذا میَں نے یہاں پر پانی کے حوض بنانے کا فیصلہ کیا، جو کہ پانی ذخیرہ کرنے کا روایتی طریقہ ہے ۔‘‘

اِس طرح ’املاروئیا‘ نے علاقے کے لوگوں کی مدد سے سال 2000 میں شیکھاوٹی اور اس کے آس پاس کے علاقے میں کسانوں کے کھیتوں میں 200 حوض نما تالاب بنائے ۔ ہر تالاب میں 16 ہزار لیٹر سے لے کر 50 ہزار لیٹر تک پانی جمع ہوتا ہے اور یہ ہوتا ہے صرف دو تین گھنٹے بارش میں۔ خاص بات یہ ہے کہ ان تالابوں میں پورے سال پینے کا پانی موجود رہتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان تالابوں کی بدولت یہاں کے لوگ 1 کروڑ لیٹر پانی جمع کرتے ہیں۔ اس سے ان کسانوں کو بہت فائدہ ہوا جو دن بھر کھیتوں میں کام کرتے تھے ۔ ساتھ ہی وہ عورتیں جو دُور دراز پانی لینے کے جاتی تھیں انہیں بھی گھر کے آس پاس پانی ملنے لگا ۔ اس سے وہ مویشی پالنے کا کام کرنےلگیں اور اس طرح دودھ، دہی، ماوا وغیرہ فروخت کرنے سے اُن کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا۔

اسی طرح ’املا‘کو جب راجستھان میں کسانوں کی خود کشی کے بارے میں پتہ چلا تو انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ اس علاقے کی پیاس بجھانے کے لئے چیک ڈیم بنائے جائیں ۔ اس کے لئے انہوں نے راجستھان کے’ نیم کا تھانہ‘ علاقے کومنتخب کیا، کیونکہ یہ پہاڑی کے نیچے ایک جگہ تھی اور چیک ڈیم ایسی ہی جگہ پر بنائےجا سکتے تھے جہاں پر اونچائي سے بارش کا پانی جمع ہو کر نیچے کی طرف بہتا ہو ۔ آج اُن کے بنائے چیک ڈیم سے 2 گھنٹے کی بارش سے وہ لبالب بھر جاتے ہیں ۔ اس سے زمین کی آبی سطح بھی بڑھ جاتی ہے ۔ پہلے جن كنوؤں کی آبی سطح 80 فٹ تک نیچے چلی جاتی تھا، اب اُن کی آبی سطح بلندہو کر 30 فٹ تک آ جاتی ہے ۔چیک ڈیم بننے کے بعد اس علاقے میں جو کسان سال میں صرف’ خریف‘ کی ہی فصل اُگا پاتے تھے وہ اب’ ربیع‘ کی فصل بھی اُگانے لگے ہیں ۔ ساتھ ہی کئی ایسے علاقے ہیں جہاں پر پانی زیادہ ہے وہاں پر کسان اب سبزیاں بھی اُگانے لگے ہیں ۔ کسانوں کے پاس اب سنچائی کی سہولت ہونے کے سبب اُن کی پیداوار بھی بڑھی ہے جس سے وہ اناج فروخت کرنے لگے ہیں ۔ اتنا ہی نہیں، اب کسانوں میں مویشی پالنے کا رجحان بھی بڑھنے لگا ہے ۔

’املاروئیا‘ بڑے فخر سے بتاتی ہیں کہ جن علاقوں میں وہ کام کر رہی ہیں وہاں پر نہ صرف شہر جانے والے لوگوں کی نقل مکانی کا سلسلہ ختم ہوا ہے بلکہ جو لوگ اپنے گاؤں چھوڑ گئے تھے، وہ اب واپس آنے لگے ہیں ۔ اتنا ہی نہیں خواتین اب گھر میں رہ کر ہی کام کرتی ہیں اور یہاں کے بچّوں نے اسکول جانا شروع کر دیا ہے ۔ یہ ’املاروئیا‘ کی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ وہ اب تک راجستھان کے علاوہ مہاراشٹر، بہار، یوپی اور ہریانہ جیسی ریاستوں میں 216 چیک ڈیم بنوا چکی ہیں ۔ ’املاروئیا‘ کے مطابق یہ چیک ڈیم کے بننے سے سینکڑوں گاؤں کے لاکھوں لوگوں کو فائدہ پہنچا ہے۔

آبکاری کے اپنے کام کو صحیح طرح سے تشکیل دینےکے لئے ’املاروئیا‘کا’آکار چیریٹیبل ٹرسٹ‘ کے نام سے اپنا ایک ادارہ ہے۔ اِس کی مدد سے گاؤں والے کسی نئی جگہ پر چیک ڈیم بنانے کے لئے اخراجات کا 30 سے ​​40 فیصد تک دیتے ہیں جبکہ باقی رقم یہ ٹرسٹ دیتا ہے ۔ اس سے ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ گاؤں والے اس چیک ڈیم کو اپنا سمجھتے ہیں اور بارش سے پہلے چیک ڈیم کی جانچ پرکھ کرتے ہیں۔ اگر اس چیک ڈیم میں کوئی ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے تو اسے ٹھیک کرتے ہیں ۔ ’املاروئیا‘ کی 9 ارکان کی ایک چھوٹی سی ٹیم ہے جو یہ سارے کام دیکھتی ہے ۔ خاص بات یہ ہے کہ ’ املا‘ کی اس کوشش سے علاقے کے لوگوں کی آمدنی تقریباً 5 سو کروڑ روپے کے آس پاس پہنچ گئی ہے ۔

اپنی فنڈنگ کے بارے میں ’املاروئیا‘کہتی ہیں کہ انہیں حکومت کی جانب سے اب تک کسی قسم کی کوئی مدد نہیں ملی ہے ۔ چیک ڈیم اور پانی کے حوض یا تالاب بنانے کے لئے انہوں نے خود اپنا اور اپنے دوستوں، رشتہ داروں کا پیسہ لیا ہے ۔ ساتھ ہی اس میں گاؤں والوں نے بھی اقتصادی طور پراپنی شرکت ادا کی ہے ۔ ’املاروئیا‘ کے مطابق وہ اب تک 8 کروڑ روپے خرچ کر چکی ہیں ۔اس کے علاوہ گاؤں والوں نے 2.80 کروڑ روپے لگائے ہیں ۔ اسی سال اُن کو اس کام کے لئے 10 لاکھ روپے آسٹریلین ہائی کمیشن سے بھی ملے ہیں ۔ اب وہ چاہتی ہیں ملک کے دوسرے حصّوں میں بھی ایسے چیک ڈیم بنائے جائیں، تاکہ خشک سالی سے پریشان کسانوں کو ریلیف مل سکے ۔

ویب سائٹ:

http://aakarcharitabletrust.weebly.com/

قلمکار : گیتا بِشٹ

مترجم : انور مِرزا

Writer : Geeta Bisht

Translation by : Anwar Mirza

جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والی ایسی ہی حوصلہ مند خواتین کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے

’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

یہ دلچسپ کہانیاں بھی آپ کو ضرور پسند آئیں گی۔

پیرالائسیس اٹیک اور بریسٹ کینسرسے لڑ کر سائیکلنگ چیمپئن بنی ’لزرينا‘

اِس اسکول میں مُفت تعلیم کے ساتھ لڑکیوں کو دیئے جاتے ہیں 10 روپے روز ...


Related Stories