'ہمارا ساہس' منجانب خواتین برائے خواتین

0

صرف دس ماہ پہلے کی بات ہے۔ تمنا بھاٹی نے ایک ادارہ شروع کیا تھا۔ اس کانام ہے، 'ہمارا ساہس' ‘ خواتین کے لئے ، خواتین کی طرف سے،... صنف نازک جانب سے چلایا جانے والایہ ادارہ ایک منفرد کوشش ہے۔ گھریلو اور پیشہ ور خواتین کے زیرانتظام اس انٹرپرائزکا واحد نصب العین معاشرہ کی محروم اور غریب خواتین اور بچوں کی ترقی اور ان کی اقتصادی خوشحالی کے لئے ایک ذریعہ کے طور پر کام کرنا تھا۔ تمنا بھاٹی کہتی ہیں"بحیثیت خاتون، ہم خواتین کی اہم ضروریات، ان کے سامنے موجود چیلنجوں، ان کے حدود اور ان کی جدوجہدکو بہتر سمجھتی ہیں۔ فطری بات ہے کہ اپنے کام میں ہم اپنے اس شعورکا مکمل استعمال کرتے ہیں۔

تمنا جوایک بچے کی ماں ہیں، اپنی زندگی کے بارے میں بتاتی ہیں،"میں ایک تربیت یافتہ فیشن ڈیزائنر ہوں، شادی کے بعد میں جودھپور آ گئی تھی، جہاں ہمارا گھر رتندا میں تھا۔ میں نے دیکھا کہ میرے آس پاس پڑوس میں رہنے والی خواتین انتہائی کسم پرسی کی حالت میں زندگی گزار رہی ہیں۔ بہت سی خواتین کی بچپن ہی میں شادی ہوئی تھی اور چھوٹی سی عمر میں ہی وہ ماں بن چکی تھیں۔ ان میں سے کچھ اسکول اور کالج کی پڑھائی چھوڑ کر چھوٹی سی عمر میں کولہو کے بیل کی طرح گھر یلو کام میں مشغول ہوچکی تھیں۔

"میں ان خواتین کے لئے کچھ کرنا چاہتی تھی۔ میں دنیا کی رنگینیاں اور اس کی خوبصورتی دیکھ چکی تھی اور چاہتی تھی کہ ان کا تھوڑا بہت تجربہ انہیں بھی حاصل ہو۔ خوش قسمتی سے مجھے سسرال میں سازگار ماحول ملا کیونکہ میرے شوہر اور ساس‘ سسر روشن خیال اورسمجھدار لوگ ہیں۔ لہذا انہوں نے میرے جذبات واحساسات کی قدر کی اور میری حوصلہ افزائی کی کہ معاشرے میں تبدیلی لانے والے اس کام کو میں آزادانہ طور پرانجام دوں۔'' تمنا پہلے بھی ایک این جی او کے ساتھ 10 سال کام کر چکی ہیں، لیکن اس دوران انہوں نے اپنی مکمل توجہ راجستھان کے جودھپور علاقے پر مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس طرح ‘ہمارا ساہس’ کے نام سے ایک ادارہ وجود میں آگیا۔ اس نے اپنا سماجی کام رتندا، جودھپور سے شروع کیا۔ یہ مقام بنیادی طور پر مٹی کے برتن بنانے والے کمہاروں سے آباد ہے اور تمام لوگ انتہائی غربت اور تکلیف میں زندگی گزار رہے تھے۔ اس معاشرہ کے زیادہ تر مرد شرابی تھے اور اکثر خواتین اور بچوں کے ساتھ مار پیٹ اور گالی گلوچ کیا کرتے تھے۔ یہاں کی خواتین کے پاس بنیادی طور یہی کام رہتا تھا کہ کس طرح مردوں کے زیادتی سے بچے رہیں، لیکن مصیبت یہ تھی کہ وہ نہ تو اپنے حقوق کے تئیں بیدار تھیں اور نہ ہی ان کے پاس اتنی جرات اور اعتماد تھا کہ مردوں کے سامنے منہ بھی کھول سکیں۔

اس ماحول میں تبدیلی لانے کے مقصد سے ‘ہمارا ساہس’ نے یہیں سے اپنا کام شروع کیا۔ تو قع کے مطابق ان کے مشن کو تصور سے زیادہ کامیابی حاصل ہوئی ہے اور آج ان میں سے زیادہ تر تربیت خواتین کو سرکاری اداروں نے اپنے یہاں ملازمت پر رکھ لیا ہے۔ اس لئے اب تنظیم نے جودھپور کے جالور گیٹ علاقہ میں اپنا کام شروع کیا ہے۔

"ہم اکثر میری کوم کی مثال سامنے رکھتے ہیں، مصیبت کے بعد بھی جب اس نے اتنا کچھ حاصل کیا ہے تو ہمارے لئے تو یہ کام بہت آسان ہونا چاہئے."

‘ہمارا ساہس’ ایک منفرد پہل

‘ہمارا ساہس’ کی موجد، تمنا بھاٹی ایک فیشن ڈیزائنر ہیں۔ اپنی زندگی کے اس مثبت پہلو کو وہ اس انٹرپرائز کے ساتھ بخوبی جوڑ دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے، ''ان خواتین کے محروم اور مظلوم ہونے کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ انہوں نے آج تک گھر سے باہر کی دنیا نہیں دیکھی ہے۔ یہ خواتین پیشہ ورانہ تربیت یافتہ نہیں ہیں کہ اپنا کوئی کام کر سکیں، خاص طور پر ان حالات میں جہاں کوئی کام شروع کرنے کے لئے مالی طور پر آزاد ہونا انتہائی ضروری ہے۔ وہ کیا کریں؟ گھر چھوڑ کر کہیں جا نہیں سکتیں اور یہی وجہ ہے کہ انہیں گھر میں رہ کر ہر طرح کے ظلم و ستم برداشت کرنے پڑتے ہیں۔’ہمارا ساہس’ میں ہم خواتین کوکڑھائی، بنائی، سلائی اور کئی طرح کی دستکاری کے ہنر سکھاتے ہوئے انہیں خود کفیل بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ادارہ انہیں پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرتا ہے اور اقتصادی طور پر خود کفیل ہونے میں مددگار بنتا ہے۔ اس طرح میری فیشن ڈیزائن کی ڈگری کا بھی بہترین استعمال ہورہا ہے۔ "یہ تفصیل بتاتے ہوئے تمنا کے چہرے پر اطمینان کی مسکراہٹ واضح دکھائی دیتی ہے۔

‘ہمارا ساہس’ کا ہدف غربت اور فاقہ کشی سے دوچار ہر عورت کو اتنا مضبوط بنا دینا ہے کہ وہ معاشی طور پرخود کفیل ہوسکے اور عزت اور اعتماد کے ساتھ زندگی گزار سکے۔

درپیش چیلینج:

معاشی خوشحالی اور آزادی فراہم کرنے کے مقصد سے پیشہ ورانہ تربیت اور وسائل مہیا کرانے کے علاوہ ‘ہمارا ساہس’ کے سامنے اور بھی کئی سنگین چیلنج درپیش ہیں۔ ان کے اور بھی بہت سے اہداف ہیں۔ وہ لڑکیوں کے جنین قتل، چھوت چھات، ناخواندگی، جہیز کارواج اور بچوں کی شادی ختم کرنے کی سمت میں بھی کام کرنا چاہتے ہیں۔ "تبدیلی کے خیال کو نوجوان اور معمر لوگ زیادہ بہتر طریقے سے قبول کرتے ہیں جبکہ ادھیڑ عمر کے لوگوں کو یہ باتیں سمجھانا مشکل ہوتا ہے۔" اس ستم ظریفی پر تمنا افسوس کا اظہار کرتی ہیں۔

ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے ‘ہمارا ساہس’ ادارہ کی طرف سے کئی سطحوں پر کام کرنے کے طریقہ کار اپنائے جاتے ہیں۔ تمنا کہتی ہیں "ہم سب سے پہلے جنسی عدم مساوات کے مسئلہ سے نمٹنے کی کوشش کرتے ہیں، جو ہمارے معاشرہ میں گہرائی تک اثراندازہے اور جو دوسرے بہت سارے سماجی مسائل کی جڑ بھی ہے۔ یہ کام بنیادی طور پر ہمارے تعلیمی پروگراموں کے ذریعہ انجام دیا جاتا ہے، جہاں ہم بچوں کو تعلیم دیتے ہیں۔''

رضاکاروں اور کچھ پیشہ ورانہ ساتھیوں کی مدد سے ‘ہمارا ساہس’ بچوں کو بنیادی تعلیم فراہم کرنے کا کام کرتا ہے۔ اس طرح وہ خواتین کوپیشہ وارانہ کورس مکمل کرنے اور انہیں اپنے ہنر کو بہتر بنانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ تمنانے وا ضح کیا کہ تعلیم بچوں کے نرم اور معصوم ذہنوں کو دنیا کے وسیع تر تناظر میں سوچنے سمجھنے میں اور اس کے مطابق اس کے ساتھ تال میل پیداکرنے میں بھی مددگار ہوتی ہے۔ وہ مواقع حاصل کرنے، اپنے پیروں پرکھڑے ہونے اور سب کے ساتھ عزت اور وقار کے ساتھ پیش آنے کا سبق بھی وہاں سیکھتے ہیں۔

''محروم اور غریب طبقات کی خواتین کو گزربسر کے اسباب مہیا کرانے کے علاوا خواتین کو بااختیار بنانے کا پروگرام ‘ان میں قیادت کی صلاحیت، خوداعتمادی اور فیصلہ لینے کی صلاحیت کو فرغ دیتا ہے۔ سلائی، دستکاری، کڑھائی۔بنائی وغیرہ سکھانے والے ہمارے کورس بہت سے لوگوں کو غربت اور فاقہ کشی کی زندگی سے نجات دلانے میں کامیاب ثابت ہوئے ہیں۔ اس طرح یہ خواتین نہ صرف خود کفیل بنی ہیں بلکہ اپنے انٹرپرائز شروع کرتے ہوئے دوسروں کے لئے ایک مثال بھی بن گئی ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ پہلے سے زیادہ خوش ہیں، اعتماد اور خود داری سے بھرپور انسان بننے میں کامیاب ہوئی ہیں۔" تمنا نے بڑے فخر و اطمنان کے ساتھ ان خیالات کا اظہار کیا۔

انہوں نے مزید بتایا، "فنڈس کا مسئلہ ہمارے سامنے ایک اور اہم چیلنج ہے۔ مالی مدد فراہم کرنے والے سرکاری محکموں کے اپنے سخت اصول، قاعدے اور قانون ہوتے ہیں اور ساری کاروائی ہو جانے کے بعد بھی امداد کے حصول میں کافی وقت لگ جاتا ہے۔ فی الحال تو ہم مقامی عطیہ دہندگان، اور رضاکاروں کی مدد سے اپنا کام آسانی سے چلا پا رہے ہیں اور کوئی سرکاری مالی مدد نہیں لیتے! "راجستھان میں ‘ہمارا ساہس’ واحد این جی او ہے، جو مکمل طور پر خواتین کی طرف سے چلائی جا رہا ہے۔

آخر میں تمنا بھاٹی نے اپنی اس دلی خواہش کا اظہار کیا، "میں ایسا معاشرہ دیکھنا چاہتی ہوں، جو خواتین کے ساتھ برابری اور احترام کا رویہ اختیا کرتا ہو۔ میں ان خوبصورت خواتین کوتفکرات سے بے نیاز، پرعتماد اور خود کفیل دیکھنا چاہتی ہوں۔ خواتین اتنی مضبوط ہو جائیں کہ اپنے پیروں پر کھڑی ہوں اوراپنی حفاظت خود کر یں.اسی صورت میں وہ خود کفیل ہو سکیں گی، دوسروں کا احترام حاصل کر سکیں گی اور معاشرہ میں وہ بلند مقام حاصل کر سکیں گی، جس کی وہ مستحق ہیں. "

اس امید کے ساتھ تمنا نے اپنی بات پوری کی۔