کسانوں کے لئے نئی فصل بیما اسکیم کو منظوری

0

ملک میں مسلسل دو سال سے خشک سالی کی وجہ سے کسان پریشان حال ہیں۔ مختلف ریاستوں میں کسانوں کی خودکشیوں کے واقعات لگاتار جاری ہیں۔ ملک مانسون کی بارش میں کمی کی وجہ سے مسلسل دوسرے سال خشک سالی کا سامنا کرہے اور حکومت چاہتی ہے کہ انشورنس کے دائرے میں کچھ اور فصلوں کو شامل کیا جائے تاکہ کسانوں کو مانسون کی غیر یقینی صورتحال سے بچایا جا سکے۔

ان حالات کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت نے ایک نئی فصل انشورنس اسکیم کو منظوری دے دی ہے۔ اس کے تحت کسانوں کو اناج اور تلهن فصلوں کی انشورنس کے تحفظ کے لئے زیادہ سے زیادہ دو فیصد اورباغبانی اور کپاس کی فصلوں کے لئے زیادہ سے زیادہ پانچ فیصد تک پریمیم رکھا گیا ہے۔

یہ اسکیم پردھان منتری فصل بیما یوجنا - اس سال خریف سیشن سے لاگو ہو گی۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں کابینہ کی میٹنگ میں اس کی منظوری دی گئی۔ نئی منصوبہ بندی موجودہ قومی زراعت انشورنس کی منصوبہ بندی (این اےائی ايس) کی جگہ لے گی۔

ذرائع نے کہا کہ کابینہ نے نئی فصل انشورنس کی منصوبہ بندی پر زراعت کی وزارت کی تجویز کو منظوری دے دی ہے۔ کابینہ نے اناج اور تلهن فصلوں کے لئے 1.5 سے دو فیصد تک اورباغبانی اور کپاس کی فصلوں کی انشورنس کے لئے پانچ فیصد تک پریمیم رکھے جانے کو منظوری دے دی ہے۔

کسانوں کے لئے ربیع کے اناج اور تلهن فصلوں کے لئے 1.5 فیصد پریمیم جبکہ خریف کے اناج اور تلهن کے لئے دو فیصد پریمیم دینا ہوگا۔باغبانی اور کپاس کی فصل کے لئے دونوں سیشن موسم میں پانچ فیصد تک پریمیم طے کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعظم فصل بیما یوجنا/ کی منصوبہ بندی سے فصل انشورنس تحفظ کا دائرہ کل 19.44 کروڑ ہیکٹر فصل علاقے کے 50 فیصد تک پہنچ جائے گی، جو فی الحال اس 25 سے 27 فیصد رقبے تک ہی ہے۔ اس سے اس کی منصوبہ بندی پر اخراجات بڑھ قریب9,500 کروڑ روپے تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔

نئی اسکیم میں پریمیم پر کوئی حد نہیں ہوگی اور بیمہ رقم میں بھی کمی نہیں کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی ممکنہ دعوے کے 25 فیصد کے برابر رقم براہ راست کسانوں کے اکاؤنٹ میں داخل کی جائے گی اور پوری ریاست کے لئے ایک انشورنس کمپنی ہوگی۔ ساتھ ہی یہی کمپنی مقامی خطرہ کے لئے زراعت پر نقصان اور کٹائی کے بعد نقصان کا اندازہ بھی کرے گی۔

ہندوستانی زراعت انشورنس کمپنی بھارتیہ کرشی بیما کمپنی لمیٹڈ کے ساتھ خانگی انشورنس کمپنیاں اس منصوبہ کے نفاذ میں تعآون کرریں گی۔ حکومت شروع میں ہی پریمیم سبسڈی دے گی۔