سافٹ بینک کے بانی ماسایوشی سن کی اسٹارٹپس سےمتعلق14اہم باتیں

0

دہلی کے وگیان بھون میں اسٹارٹپ انڈیااجلاس میں شامل ممتاز سرمایہ کار ، سافٹ بینک کے بانی اور سی ای او ماسایوشی سن نے اسٹارٹ اپس سے متعلق کچھ اہم باتیں رکھیں ۔ ’فاسٹرنگ د اسپرٹ آف انوویشن ‘ سیشن میں سن کی کہی گئیں کچھ باتیں ۔

1۔ آنتر پرینیور میں کیادیکھتے ہیں ۔

’جب کبھی میں سرمایہ کاری کرتاہوں ۔ میں آنتر پرینیورکی آنکھوں میں دیکھتاہوں ۔ میں اس علاقے کو دیکھتاہوں جہاں وہ چیلنج دے رہے ہیں ۔ کیاوہ انوکھا ہے،کیاان میں جنون ہے۔ کیاان کے پاس عظیم ٹیم ہے ؟ کیابازاربڑھنے والا ہے ؟یہ اہم باتیں سن نے کہیں جنھوں نے حالیہ برسوں میں اسنیپ ڈیل ،انموبی،ہاؤسنگ اور اویو جیسی کمپنیوں کا ساتھ دیاہے۔ ان سے ایک سوال کیاگیاکہ انھوں نے اسنیپ ڈیل کے شریک بانی کنال بہل اور اویو کے رتیش اگروال میں کیادیکھا۔ سن نے کہا، ’’ان کی آنکھوں میں چمک تھی۔ ‘‘

2۔ کیاہندوستان اب بھی ان کے لئے 10ارب ڈالر کا بازارہے ؟

سن نے اپنے گذشتہ دورے پر کہاتھاکہ وہ ہندوستان میں آئندہ ایک دہائی میں 10ارب امریکی ڈالر کا سرمایہ لگائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ اگر وہ اپنی اسکیم کو رسکیل کریں گے تو وہ اوپر کی ہی طرف جائے گی۔ گذشتہ سال سافٹ بینک نے ہندوستانی کمپنیوں میں دو ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ جب ان سے پوچھاگیاکہ انھیں ہندوستان میں کیا دلچسپ لگتاہے ۔ سن نے کہا،

ہندوستان کے لوگ اسمارٹ ہیں ،80کروڑ نوجوان آبادی ہے ،آئی ٹی ،سن شائن انگریزی بولنے والے ہیں ۔ ہندوستان دنیاکا سب سے بڑاجمہوری ملک ہے،اس لئے میں کہتاہوں کہ 21ویں صدی ہندوستان کے نام رہنے والی ہے۔

3۔ ہندوستانی اسٹارٹ اپس منافع کب دیں گے ؟

سن کہتے ہیں کہ اسٹارٹ اپ کے لئے ابتدائی پانچ سے دس سال تک منافع سب سے اہم معیارنہیں ہوسکتاہے۔ وہ کہتے ہیں :

’’پہلے گاہک تحویل،بیوپارماڈل ،صارفین کا اطمینان اور سب سے اہم بزنس ماڈل ہے جس کو فروغ دیناچاہئے ۔ جب آپ کے پاس مناسب رفتاراور ایکٹیو یوزربیس ہوجائے تب آپ منافع کے بارے میں سوچیں ۔ ‘‘ سن کہتے ہیں کہ کمپنیوں کو بے وقوفی کے ساتھ پیسے نہیں جلانے چاہئے ۔ سن سے ایک سوال کیاگیاکہ کون سی کمپنیاں بے وقوفی کے ساتھ پیسے نہیں جلا رہی ہیں تو انھوں نے کہا ، ’’جن کمپنیوں میں ہم نے سرمایہ کاری کی ہے ،وہ چالاکی کے ساتھ خرچ کررہی ہیں ۔ ‘‘

4۔ اسٹارٹ اپس کے ساتھ اسپیڈ ڈیٹنگ

جب انھوں نے سال 2000میں علی بابا میں سرمایہ لگایاتو ان کے پاس اتنی بڑی ٹیم نہیں تھی جو کہ کمپنی کے پس منظر کی جانچ کرے۔ وہ کہتے ہیں ، ’’وہ سوجھ بوجھ سے کیاگیاتھا۔ ‘‘ اب معاملہ ویسانہیں ہے۔ جذبات اور سوجھ بوجھ ہی آخرکارمعنی رکھتے ہیں ۔

5۔ سرمایہ کاری کے نقطہ نظر میں تبدیلی

سافٹ بینک پہلے انموبی جیسی کمپنیوں پر توجہ مرکوز کررہاتھاجو کہ عالمی بازار کو ہدف بنارہاتھا۔ جو اب ہندوستانی اسٹارٹ اپ میں سرمایہ کاری کررہاہے اور ہندوستانی بازار پر توجہ دے رہاہے۔ سن کے مطابق ، ’’وقت آگیاہے،پلیٹ فارم آگیاہے۔ ہندوستانی معیشت بہت بڑی ہونے جارہی ہے۔ جس طرح سے چین نے گذشتہ دس برسوں میں کیاہے ۔ ہندوستان رفتارکے معاملے میں بہت عظیم ہوسکتاہے۔ ‘‘

6۔ دنیا سے مقابلہ کرتی ہندوستانی اسٹارٹپس

سن کہتے ہیں کہ ای ۔ کامرس جیسے شعبے میں مقامی حوالہ بہت اہم ہوجاتاہے ۔ وہ کہتے ہیں ، ’’مقامی تاجروں کے پاس بہت بڑاموقع ہے۔ چھوٹے سے ملک کے چھوٹے بازار میں بھلے ہی صنعت کار باصلاحیت ہیں اور اس کی اہلیتیں ہیں تو کئی بار عالمی کھلاڑی سے لڑائی بہت چھوٹی ہوجاتی ہے۔ چین اور ہندوستان کے پاس بہت بڑاگھریلو بازار اور مواقع ہیں اس لڑائی کو لڑنے کے لئے‘‘۔

7۔ 2000سے کیسے الگ

سن کہتے ہیں کہ انھیں پورایقین ہے کہ یہ شروعات ہے۔ خاص طور سے ہندوستان کے لئے یہ بگ بینگ کا آغاز ہونے والاہے۔

8۔ مصنوعی دماغ انسانی دماغ کو عبور کرجائے گا

سن نے تسلیم کیاکہ وہ پیش گوئی کرنے میں اچھے ہیں اور 30سال بعد چیزیں کیسی ہوں گی یہ وہ بتاسکتے ہیں ۔ وہ یاد کرتے ہیں کہ کیسے انھوں نے 30 سال پہلے پیش گوئی کی تھی کہ سبھی کے پاس پرسنل کمیوٹر یا پھر پی سی جیسی ڈیوائس ہوگی۔ وہ کہتے ہیں ، ’’آنے والے برسوں میں ،میں دیکھتاہوں کہ کئی معنوں میں مصنوعی دماغ انسانی دماغ سے بہتر ہوجائے گا۔ شماریات کے لئے دس لاکھ گنا تیز ہوگا، دس لاکھ گنا اسٹوریج کی سہولت ہوگی اور مصنوعی دماغ کے ذریعے مکالمہ دس لاکھ گناتیز ہوگا۔ جب ایساہوگا ،بزنس ماڈل ،لائف اسٹائل اور تکنیک بہت الگ ہوگی۔ ‘‘ وہ کہتے ہیں کہ تجارت کو کمپیوٹنگ کی طاقت کا استعمال کرناچاہئے ۔

9۔ حکومت کا کردار

سن کہتے ہیں کہ اگر حکومت کو لائسنس دینا ہوگاتو وہ رکاوٹ بن جائے گا۔ سبھی روکاوٹوں کو ہٹانے میں سرکار کا اہم کردار ہوناچاہئے۔ دوسراکرداربنیادی ڈھانچے پر توجہ دینے کا ہونا چاہئے ۔ خاص طور سے ہندوستان کے لئے۔ سن کے مطابق سرکارکو موبائل براڈ بینڈ اور بجلی کی موجودگی پر توجہ دینی چاہئے۔

10۔ ہندوستانی ای ۔ کامرس کا آئی پی او

سن کا خیال ہے کہ ہندوستانی ای ۔ کامرس کا آئی پی او آئندہ پانچ سے دس برسوں کے اندر آئے گا۔ انھوں نے کہا کہ وہ ہندوستانی ای ۔ کامرس میں پیسہ لگاتے رہیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ آئی پی او کے لئے جلد بازی کی ضرورت نہیں ۔

11۔ امیر ہونا کیسالگتاہے

سن یاد کرتے ہیں کہ کیسے وہ سال 2000میں تین دن کے لئے بل گیٹس سے بڑے امیر تھے۔ آئندہ سال شیئر کے دام 99فیصد گرگئے ۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف جوش ہی اس طرح کی ناکامیوں سے نکلنے میں مدد کرسکتاہے۔

12۔ سافٹ بینک کا وژن

’’ہمارانظریہ نمبر ایک دماغ اور علم دہندہ بننے کا ہے۔ یہ نہیں بدلے گا۔ ‘‘ انھوں نے کہا کہ دماغ اورعلم کے ذریعے چلنے والا اطلاعاتی انقلاب صنعتی انقلاب سے 100گنازائد بڑاہوگا۔

13۔ ناکامی کے ساتھ مقابلہ کرتے صنعت کار

سن کے مطابق جہاز کے کپتان کو پہلے دن سے ہی یہ دماغ میں رکھنا ہوگاکہ جہاز میں خطرے کے وقت آخری شخص وہی ہوگا۔ سن کے مطابق ، ’’جب کبھی خطرہ یا پھر بحران ہوتاہے تو صنعت کار کو اس بات کی ذمہ داری کا احسا س ہونا چاہئے کہ وہی اس جہاز کو بچائے گا۔ ‘‘ اور یہی لوگوں کو آپ کے پیچھے آنے کے لئے راغب کرے گا۔

14 ۔ ہندوستان میں سب سے بڑاجوکھم

سن کہتے ہیں کہ ہندوستانی اسٹارٹ اپس بڑے بڑے چیک ملتفت کررہے ہیں ۔ صنعت کار کئی بار یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ بغیر ڈیلیوری کئے ہی امیر بن گئے ہیں ۔ سن کے مطابق م، ’’انھیں یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ صرف اس لئے کہ سرمایہ کار بڑے بڑے چیک لکھ رہے ہیں تو وہ بڑی مچھلی بن گئے ہیں ۔ ‘‘

قلمکار : ایس ابراہیم

مترجم : محمد وصی اللہ حسینی

Writer : S.Ibrahim

Translation by : Mohd.Wasiullah Husaini