’’میرا مقصد دنیا کے اُس آخری انسان تک کو تعلیم دینا ہے، جو پڑھنا چاہتا ہے‘‘

0

انسان کی زندگی کاسفر شطرنج کے کھیل کی طرح ہی ہوتا ہے ۔ ہر قدم پر اس کو اپنی’چال‘ کا 'حساب رکھنا پڑتا ہے ۔ مثلاً زندگی کے کھیل میں مقدر کا سکندر وہی بنتا ہے جس کی’چال ‘ میں ایک خیال (آئیڈیا) ہوتا ہے ۔ اسی سال مشہورِزمانہ ’فوربس ‘میگزین کی، 30 سال سے کم عمر کے دنیا کے بااثر نوجوانوں کی فہرست میں شامل ہونے والے سماجی کاروباری’ ڈیکس ٹیریٹی ‘ گلوبل کے بانی اور چیف ایگزیکیوٹیو آفیسر (سی ای او)’شرد ساگر‘ کی غیر متوقع اورقابلِ فخر کامیابی اس بات کی تصدیق بھی کرتی ہے ۔ یہ ایک خیال (آئیڈیا) ہی تھا جس نے ’ ڈیکس ٹیریٹی ‘ گلوبل کی بنیاد رکھی تھی۔ خیال تھا سب کوتعلیم یافتہ بنانے کا، اُن لوگوں تک تعلیم کے مواقع پہنچانے کا جو کسی نہ کسی وجہ سے 'ضروری تعلیم سے محروم رہےجا رہے تھے ۔ آپ نے ملک میں کئی طرح کی تعلیمی مہمات کے بارے میں سنا ہو گا۔’شرد‘ ملک ہی نہیں، پوری دنیا کو تعلیم یافتہ بنانے کے 'مشن میں لگے ہوئے ہیں ۔ اُن کی اس مہم کو آپ’ 'عالمی تعلیمی پروگرام‘ بھی کہہ سکتے ہیں ۔

بڑے خواب دیکھنے کی شروعات

’شرد ساگر‘ کی زندگی کا سفر اپنے آپ میں قابلِ تحریک و ترغیب ہے ۔’شرد‘ ریاست ’بہار‘ کے ایک چھوٹے سے شہر تعلق رکھتے ہیں ۔’شرد‘نے ’يوراسٹوری ‘کو بتایا،

’’آپ کہہ سکتے ہیں کہ میَں نے محدود وسائل کے ساتھ خوابوں کی وہ اُڑان بھری ہے جو لاکھوں لوگوں کے خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرنے میں ایک فیصلہ کن کردار نبھائے گی۔ میرا مقصد دنیا کے اُس آخری انسان تک کو تعلیم سے ' طاقتور بنانا ہے جو پڑھنا توچاہتے ہیں لیکن محدود یا ناکافی وسائل کےسبب آگے نہیں بڑھ پا رہے ہیں ۔ میَں نے دیکھا ہے کہ کس طرح میرے ماں باپ کو تاعمر پہلے اپنی تعلیم کے لئے، پھر میری تعلیم کے لئے جدوجہد کرنا پڑی تھی۔ ‘‘

’شرد‘نے’ يوراسٹوری ‘کو بتایا،

’’ ڈیکس ٹیریٹی ‘ گلوبل ایک ایسی دنیا تعمیر کرنا چاہتا ہے، جہاں تعلیم کے سلسلے میں حقیقی طور پر جمہوری عمل ہو سکے، جہاں ہر ایک طالب علم بچّہ اپنے تعلیمی سفر میں بغیر کسی رکاوٹ کے آگے بڑھ سکے، سرپرستوں یاوالدین کو اپنے بچّوں کو اسکول بھیجنے اور بھوکا رہنے میں سے کسی ایک متبادل کے انتخاب کے لئے مجبور نہ ہونا پڑے ۔‘‘

وہ بتاتے ہیں کہ انہی مقاصد کی تکمیل کے لئے ’ ڈیکس ٹیریٹی ‘ گلوبل نے اپنی اقتصادی مدد پالیسی تشکیل دی ہے، جو کہتی ہے

’’اگر آپ تعلیم کے لئے رقم ادا کر سکتے ہیں، تو کیجئے، یا پھر ’ ڈیکس ٹیریٹی ‘ گلوبل آپ کے لئے رقم ادا کرے گی ۔‘‘

’شرد‘بتاتے ہیں کہ ’ ڈیکس ٹیریٹی ‘ گلوبل کے قیام کے پسِ پشت اُن کی ایک دِلی منشا تھی، جس کے تحت وہ اس پلیٹ فارم سے اِس بات کا یقین کرنا چاہتے تھے کہ کسی بھی سرپرست یا والدین کو اپنے بچّوں کی تعلیم یا تعلیم سے متعلق مواقع کے لئےایسے حالات سے نہ گزرنا پڑے جس سے اُن کے والدین کو گزرنا پڑا تھا ۔ وہ کہتے ہیں کہ سبھی کو بغیر کسی اقتصادی اور سماجی پابندی کے تعلیم سے منسلک تمام امکانات کے مواقع ملنے چاہئیے۔

’ ڈیکس ٹیریٹی ‘گلوبل کا قیام

’شرد‘نے’ ڈیکس ٹیریٹی ‘ گلوبل 2008 میں قائم کی تھی ۔ جب وہ ہائی اسکول میں تھے ۔ گزشتہ 8 سالوں میں ’ ڈیکس ٹیریٹی ‘ گلوبل نے لوگوں کو تعلیمی مواقع فراہم کر کےانہیں قابل بنانے کا کام کیا ہے ۔’ ڈیکس ٹیریٹی ‘ گلوبل کا مشن دنیا کے ہر بچّےکو مناسب تعلیم کے مواقع فراہم کروانا ہے ۔’ ڈیکس ٹیریٹی ‘ گلوبل نے اپنے جدید تعلیمی پلیٹ فارمس کے ذریعے اب تک تقریباً 1.2 ملین انسانوں کا مستقبل سنوارا ہے ۔ مستقبل کے منصوبوں پرگفتگوکرتے ہوئے ’شرد‘ بتاتے ہیں کہ انہیں امید ہے کہ آنے والے برسوں میں ’ڈیکس ٹیریٹی ‘ گلوبل کی رسائی ہر’ سارک‘ ملک سے گزرتے ہوئے200 ملین کے اعداد و شمار سے تجاوز کر جائے گی ۔ اِسی پالیسی کے تحت ہی ’ڈیکس ٹیریٹی ‘ گلوبل نے 10 ملین ڈالر کی اِسکالرشپ اور فیس معافی فراہم کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ

’’ہم اپنے پلیٹ فارمس کو مغربی افریقہ اور لاطینی امریکہ تک پہنچانا چاہتے ہیں، کیونکہ ’ ڈیکس ٹیریٹی ‘ گلوبل کا واحد مقصد دنیا کے ہر بچّے کو تعلیم کے مناسب مواقع فراہم کرانا ہے، اِس سے فرق نہیں پڑتا کہ وہ دنیا کے کس کونے میں ہیں، کہاں رہتے ہیں اور اُن کےسرپرست کیا کماتے ہیں۔‘‘

محض 16 سال کی عمر میں’ ڈیکس ٹیریٹی ‘ گلوبل کی شروعات کرنے والے’شرد‘ بتاتے ہیں کہ اُن کے لئے اتنی چھوٹی عمر میں ’ڈیکس ٹیریٹی ‘ گلوبل کی ٹیم بنانا آسان نہیں تھا ۔ وہ بتاتے ہیں کہ اُن کے لئے ہائی اسکول کی تعلیم حاصل کرتے ہوئے ’ ڈیکس ٹیریٹی ‘ گلوبل میں لوگوں کی بھرتی کرنا اور ایسےپیشہ ورافراد کو سنبھالنا اتنا آسان نہیں تھاجن کی عمر اُن سے 10 سے 15 سال زیادہ تھی۔’شرد‘کہتے ہیں،

’’سرپرستوں یا والدین سے ٹیچرتک، حکومت سے لے کر مقامی اور عالمی اداروں تک، آج کے دور میں بھلاکون ایک ہائی اسکول کے طالب علم کی بات سنتا ہے، لیکن اگر آپ اپنے ’کام‘ پر مکمل یقین رکھتے ہیں، تو آپ لوگوں کو اپنے نظریے یا 'وِژن پر یقین دِلانے میں کامیاب رہتے ہیں ۔‘‘

’ڈیکس ٹیریٹی ‘ گلوبل کی توسیع

’ڈیکس ٹیریٹی ‘ گلوبل نے 2012 میں’ ڈیکس‘ اسکول کی بنیاد رکھی، جو جنوبی ایشیا کااپنی طرز کا پہلا ایسا اسکول ہے جہاں ہائی اسکول کے طالب علموں کو 'قیادت اور انٹرپرنرشپ کی تعلیم و تربیت دی جاتی ہے ۔ جنوبی ایشیا کی الگ الگ جگہوں سے، تقریباً 120 طالب علم یہاں سے گریجویشن کرکے آج دنیا میں بڑے بڑے کام کر رہے ہیں ۔ یہاں کے بچّوں نے’یو این ینگ بریوری‘ ایوارڈ سے لے کر امریکن یونیورسٹیوں کی اسکالر شپ تک حاصل کی ہیں۔’ ڈیکس‘ اسكول سے نکلے بچّے آج کامیاب’اسٹارٹپ‘ چلا رہے ہیں ۔اُن میں سے کئی اپنے ممالک کے’ يواین ای پی‘امبیسڈر(سفیر) ہیں ۔ گزشتہ آٹھ برسوں میں’ڈیکس ٹیریٹی ‘ گلوبل ناسا، یونی سیف، يواین ای پی ،یو ایس کاؤنسلیٹ جنرل، نجی بینکوں، مستند یونیورسٹیوں اور میڈیا گھرانوں کے ساتھ کام کر چکی ہے ۔ اتنا ہی نہیں، 2015 میں ’ڈیکس ٹیریٹی ‘ گلوبل نے ’بالی ووڈ ‘ کی اداکارہ کاجل اگروال کو اپنا '’گڈوِل امبیسڈر‘ بنایا، جس سے ہر ضرورت مند بچّے تک ضروری تعلیمی مواقع پہنچائے جا سکیں۔

اسٹارٹپس کو مشورہ

نوجوان کاروباریوں کو پیغام دیتے ہوئے ’شرد‘کہتے ہیں کہ اصل میں ایک 'کاروباری’مسائل حل کرنے والا‘ ہوتا ہے ۔ وہ کہتے ہیں،

’’چاہے کوئی بھی بزنس (اسٹارٹپ) ہو، اس میں فائدہ ہو یا نہ ہو، اگر وہ دنیا کا کوئی ایسا مسئلہ حل کرتا ہے جو اس دنیا کو مزید بہتر اور امیر بناتا ہے، تو مان لیجیے کہ آپ صحیح راستے پر ہیں ۔ آپ چاہے ٹیکنالوجی سے منسلک کمپنی (اسٹارٹپ) چلاتے ہیں یا پھر کفایتی شرح کی خدمات والا طب و صحت سے منسلک اسٹارٹپ، اگر آپ کی کمپنی کا 'مقصد اور ’وِژن‘ لوگوں یعنی ملازمین کی ٹیم کو باندھے رکھتا ہے، تو آپ ایک کاروباری کی حیثیت سے ضرور کامیاب ہوتے ہیں ۔ چیزوں کو محض کرنے کے لئے مت کیجئے ۔ اسٹارٹپ کے آغاز میں آپ لوگوں کی زیادہ نہ سنیں، ناکامی کے بارے میں زیادہ نہ سوچیں۔ اگر آپ میں قابلیت اور جنونی قیادت کی صلاحیت ہے، تو ایسا کوئی مشن نہیں جسے آپ پورا نہیں کر سکتے ۔‘‘

کامیابیاں

’شرد‘کی بڑی اور خاص کامیابیوں میں اُن کا امریکہ کی ’مِشی گن اسٹیٹ‘ یونیورسٹی کے انٹرپرینر کورس (نصاب) میں شامل ہونا ہے ۔ شاید ہی کوئی نوجوان کاروباری اِس سے پہلے کسی یونیورسٹی کے نصاب کا حصّہ بنا ہے ۔’شرد‘ کو چوتھے ’ گلوبل اِکنامِک لیڈرس سمِٹ کا بھی مخصوص وی آئی پی دعوت نامہ ملا تھا ۔ انہیں اقوام متحدہ کا ’ورلڈ سمِٹ یوتھ ایوارڈ ‘ملا ہے ۔ وہ ہندوستان کی نمائندگی، بنگلہ دیش، ہندوستان، جنوبی کوریا اور سری لنکا میں ہوئے ’یو این سمِٹ‘ میں کر چکے ہیں ۔

’شرد‘اتنی کم عمر میں ہی کئی عالمی اداروں کی طرف سےانعامات و اعزازات حاصل کرچکے ہیں ۔ اسی سال جنوری میں، ’فوربس‘ کی،متاثر کن نوجوانوں کی 30 سال سے کم عمر والوں کی فہرست میں’شرد‘ شامل تھے ۔ اس فہرست میں ’شرد‘ کے علاوہ’ فیس بک‘ کے بانی مارک زکربرگ، نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی، انسٹاگرام کے بانی ’کیون سسٹروم ‘جیسے بڑے نام شامل تھے ۔ برطانیہ کی میگزین ’رچ ٹوپیا‘ کی جاری کردہ، دنیا کے 100 باصلاحیت نوجوان کاروباریوں کی فہرست میں،’شرد‘ 9 ویں مقام پر تھے ۔’ راک فیلر‘ فاؤنڈیشن کی 100 '’نیكسٹ سنچری انّو ویٹرس‘کی فہرست میں بھی ’شرد‘شامل تھے ۔ جون 2015 میں، تائیوان حکومت نے بھی ان کے کام اور کارناموں کی تعریف کی ۔ تائیوان کے وزیر نے (اٹلی) میلان میں سوشل انٹرپرائز ورلڈ فورم میں خطاب کرتے ہوئےسماجی انٹرپرائز کےخالق مانے جانے والے’ بل ڈرائی ٹون‘ کے ساتھ ’شرد‘ کا نام لیا ۔

’ڈیکس ٹیریٹی ‘ کی آفیشل ویب سائٹ: www.dexglobal.org

’شرد ساگر‘ کا آفیشل فیس بک پیج : www.facebook.com/sharadsagarofficial

’فوربس ‘کی 30 سال سے کم عمر والوں کی فہرست:

http://www.forbes.com/30-under-30-2016/social-entrepreneurs/

دنیا کے 100 طاقتور نوجوان کاروباریوں کی فہرست:

http://richtopia.com/people/young-entrepreneurs

قلمکار : روہِت شریواستو ؍ مترجم : انور مِرزا

Writer : Rohit Srivastava / Translation by : Anwar Mirza

جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے

’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

یہ دلچسپ کہانیاں بھی آپ کو ضرور پسند آئیں گی۔

تعلیمی عدم مساوات دُور کرنے میں مصروف ’سیما كامبلے‘

تعلیم کو آسان اور دِلچسپ بناتا ہے ’پرورش دی میوزیم اسکول‘


Related Stories