چلتے رہنے کا نام ہے ۔۔۔ میری چینئی !!!

0


(سیلاب کا شکار چینئی میں مصیبت میں پھنسے افراد کی مدد کو پہنچی یور اسٹوری تمل کی ایڈیٹر اندوجا رگھوناتھن کی آپ بیتی)


آخر کار! اب جب میرے گھر کے باہر کی سڑک پر بھرا ہوا زیادہ تر پانی ہٹ چکا ہے، بجلی دوبارہ آ گئی ہے اور میرا انٹرنیٹ کنکشن وقفے وقفےسے رک کر ہی سہی، لیکن دوبارہ کام کر رہا ہے، آج میری زندگی واپس ٹریک پر لوٹتی نظرآ رہی ہے۔ گزشتہ پورے ہفتے کے دوران جب دوسرے تمام نیٹ ورک ساتھ چھوڑ چکے تھے ایسے میں صرف میرا موبائل فون کام کر رہا تھا بی ایس این ایل کا کنکشن کام کر رہا تھا۔ میرا موبائل ڈیٹا بھی کام کر رہا تھا اور میں اپنے کچھ رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ رابطہ قائم کرپا رہی تھی۔

تو میں اپنی اگنی پریکشا، معاف کیجئے گا، پورے شہر کے سامنے منہ پسارے کھڑی مصیبت کے پہلے دن سے اپنی بات شروع کرتی ہوں۔ یہ سب 1 دسمبر کو اس وقت شروع ہوا جب پچھلی بار کی طرح ہی ایک بار پھر بادلوں کا قہر اس علاقے پر ٹوٹ پڑا اور وہ سڑکیں پانی میں ڈوب گئیں۔ پچھلی بار صورتحال اتنی بگڈی نہیں تھی ہم لوگ پانی میں ڈوبی سڑکوں کے پر گڈھوں اور نالوں سے بچتے بچاتے روز مرہ کی ضروریات کی اشیاء کی خریداری کے لئے باہر نکل رہے تھے۔ اصل میں چینئی شہر کے اہم علاقوں میں سے ایک رہنے کی وجہ سے میں خوش قسمت تھی کہ بدھ کی رات تک تو میں اس مسلسل بارش کے اثرات سے دور رہنے میں کامیاب رہی۔ میں روزمرہ کی طرح tamil.yourstory.com کے لئے کہانیوں کی ایڈیٹینگ کے اپنے کام میں مشغول تھی لیکن اپنے موبائل ڈیٹا کے ہاٹسپاٹ کو لیپٹاپ پر بہت آہستہ استعمال کر پا رہی تھی۔

دو دسمبر کو چہارشمبے کا دن تھا اور میں اپنا رورمررہ کا کام کاج نبٹاكر ٹی وی پر خبریں تلاش کر رہی تھی اور مختلف اسٹوڈیو کے نیوز سے معلوم کر رہی تھیِ کہ کس طرح لوگوں نے تلابو اور جھیلوں پر اپنے گھر بنا لئے ہیں، جس کی وجہ سے بھاری بارش سے جمع ہوا پانی اب شہر سے باہر نہیں نکل پا رہا ہے۔ گھر میں بھی اسی موضوع پ بحث ر چل رہی تھی۔ مینں اس بحث کا حصہ بنتے ہوئے میں نے بھی کچھ تبصرہ کرتے ہوئے اپنی بات رکھنے کوشش کی کہ لوگ اپنے لئے نیا مکان یا پلاٹ خریدتے وقت اس بات کا خیال نہیں رکھتے ہیں۔۔۔ آخر کار دن بھر کی تھکان سے چور میں نیند کے آغوش میں کھو گئی۔

اگلی صبح کے قریب 6 بجے ہوں گے ۔۔۔ اچانک اپنے والد کو چلانے، سڑک سے گزر رہے پولیس کے کچھ گاڑیوں کا شور اور میری پڑوسن کے زور زور سے '' پانی پانی '' چلانے میری نیند ٹوٹ گئی۔ میں نے دل ہی دل یہ سوچا کہ رات بھر ہوئی بارش کی وجہ سے سڑک پر کچھ پانی بھر گیا ہو گا اور میں یہ سوچ رہی تھی کہ یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے، جس پر اتنا شور مچایا جائے کہ میری نیند خراب ہو! تبھی میرے کانوں میں اپنے والد کی آواز آئی، '' ہمارے گھر میں پانی بھر گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تبھی جھٹکے سے اٹھی اور بھاگ کر مین گیٹ تک پہنچی اور سڑکوں پر پانی کا تیز بہاو دیکھا۔ '' دنیا کے کون سے کونے سے اتنا پانی یہاں آ گیا۔ اس وقت تو بارش بھی نہیں ہو رہی ہے۔ اور کیا ہو رہا ہے، اس سے غافل میں سڑک پر دیکھنے والوں کی بھیڑ میں شامل ہو گئی اور اپنی طرف آتے ہوئے اور آہستہ آہستہ بڑھتے ہوئے پانی کے بہاؤ کو دیکھنے لگی۔ ہم سب لوگوں نے مل کر اپنے گھروں کے اہم دروازوں پر ریت کے بھرے ہوئے تھیلے رکھے تاکہ ہم پانی کو اندر گھسنے سے روک سکیں۔ یہ سب گھنٹوں تک چلتا رہا اسی دوران پورے علاقے کی برقی گل ہو گئی اور ساتھ ہی فون کے سگنل بھی غائب یو گئے۔

کچھ گھنٹوں کے بعد پانی کچھ کم ہوا اور کچھ گھروں کی برقی لوٹ آئی اور خوش قسمتی سے میرا گھر بھی ان میں سے ایک تھا۔ پانی کے اس بہاؤ کی وجہ جاننے کی بے چینی میں نے ٹی وی چلایا تو پتہ چلا کہ ذخائر کے کھلنے کی وجہ سے یہ پانی قریبی ندی سے آ رہا ہے۔ ہمنے کبھی خواب میں بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ جس علاقے میں ہم رہتے ہیں، وہاں بھی ساحلی علاقوں کی طرح پانی بھر سکتا ہے۔ اب ہم سب مصیبت میں تھے۔ سڑکوں پر بھرے پانی کے نتیجے میں پورا چینئی ٹھپ ہو گیا تھا اور باہر نکلنے پر ہمنے دوسرے علاقوں میں بہت سے گھروں کے سامنے 5 سے 10 فٹ تک پانی بھرا ہوا دیکھا۔ گراؤنڈ فلور کے فرش پر بنے زیادہ تر گھر پانی کے اندر تھے اور ان کی کار اور موٹر سائیکلیں بہہ گئی تھیں۔ اصل میں اب میں نے کم سے کم نقصان نے کے لئے خدا کا شکریہ ادا کیا اور محفوظ ہونے کے احساس کے ساتھ میں خود کو گھرپر ہی روکے رکھنے سے انکار نہیں کر سکی۔

جمعرات کو جب میرے موبائل کا ڈیٹا واپس کام کرنے لگا اور میں نے اپنے فیس بک اور ٹویٹر کے اکاؤنٹ دیکھے تو ان پر سینکڑوں ڈسٹریس کال، بیرون ملک رہنے والے سینکڑوں فکر مند بیٹوں اور بیٹیوں کے پیغام اور مجھ تازہ صورتحال کے بارے میں معلومات لینے کے لئے پوسٹ بھرے ہوئے تھے۔ چونکہ ارد گرد کے علاقوں میں موبائل اب بھی کام نہیں کر رہے تھے اور وہ لوگ اپنے والدین اور قریبی رشتہ داروں کا حال چال جاننا چاہتے تھے۔ اس سب حالات سے روبرو ہونے کے بعد میں نے اپنے وهاٹس ایپ کے ذریعے اپنے کچھ دوستوں اور پرانے ساتھیوں سے رابطہ کیا تاکہ ہم سے رابطہ سے محروم ہر شخص کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں۔ ہمارا پورا دن مسلسل فون كالس کے ذریعے لوگوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور اپنا پیغام دنیا بھر میں پھیلے ان بہی خواہوں تک پہنچانے میں گزر گیا۔ کافی لوگوں سے رابطہ قائم ہو گیا تھا، لیکن کچھ لوگوں سے اب بھی رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا، کیونکہ بہت سے لوگ اب بھی 10 فٹ پانی کے پیچھے تھے اور سڑکیں بند تھیں۔ ایک دن کے بعد میں آنے والے دنوں سے بے خبر بستر پر لیٹ گئی۔

اگلے دن میری نیند کھلی تو میرا 'انباكس' کئی ایمرجینسی اطلعات سے بھرا ہوا تھا۔ خاص طور سے ایک حاملہ خاتون کو ڈاکٹر کی ضرورت ، طبی ہنگامی صورت حال کے انتظار میں بزرگ خاتون، دودھ کے انتظار میں نوزائیدہ اور ایسی ہی لامحدود مختلف قسم کے ڈسٹریس میسیج تھے۔ فیس بک اور ٹویٹر کے ذریعے تیار کی ہوئی کچھ رضاکار ٹیموں نے ان پیغامات کو آگے بڑھایا اور انہوں راحت کے کام میں لوگوں کی مدد کی۔ میں نے بھی اس کام میں اپنا تعاون کیا۔ لیکن ایک وقت مجھے یہ احساس ہوا کہ صرف گھر پر بیٹھ کر میں مطمئن نہیں ہو پاوںگی اور میں نے خود گھر سے نکل کر لوگوں تک پہنچنے اور انہیں ان کے اہل خانہ تک پہنچانے کے کام میں مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔ اپنے ایک دوست کے ساتھ نکلی اور میں کئی ایسے گھروں تک پہنچنے میں کامیاب رہی جہاں مجھے بزرگ خوتین ملیں، جومدد کی طلبگار تھیں، لوگ بغیر پانی اور بجلی کے پھنسے ہوئے تھے اور گھٹنوں تک پانی جمع ہونے کی وجہ سے باہر کی دنیا سے بالکل کٹے ہوئے تھے۔ ہم نے انہیں پانی اور ضروری اشیاء دستیاب کروانے کے علاوہ ان کے لئے ادویات کی خریداری کے لئے ڈاكٹرو کے نسخے بھی دیے۔ اس طرح کے لمحات میں ان بزرگوں کا جذباتی ہونا لازمی تھا۔ ان لوگوں کی آنکھوں میں آنسو تھے اور وہ بتا رہے تھے کہ پورے پانچ دن کے بعد انہیں کوئی دوسری انسانی شکل نظر آ ئی ہے۔ اس کے علاوہ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے اہل خانہ تک پہنچانے کے لئے تصویر كھچواتے وقت بھی بہت خوش دکھائی دے رہے تھے۔ انہوں نے ہمیں اس سے بھی برے حالات سے گزر رہے ان پڑوسیوں تک پہنچنے کے لئے کہا۔ کچھ تو لاغر اور اکیلی خواتین تھیں، جنہیں مدد کی بہت ضرورت تھی۔ ہم ان کی مدد کر بہت خوش تھے اور ان میں سے کچھ کو ہم نے محفوظ مقامات تک پہنچایا۔

پھر میں نے اس مہم کو کچھ اور دن جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور لوگوں کو ان کے قریبی رشتےداروں سے رابطہ میں لانے کی ٹھانی۔ میں ہفتہ اور اتوار کو مکمل طور پر سڑکوں پر ہی رہی اور اور اپنے دوستوں کی مدد سے پینے کا پانی، بسکٹ، دودھ کے پیکٹ سمیت کئی چیزیں ضرورت مندوں تک پہنچائیں۔ اصل میں میں ایسے وقت میں فوری طور پر سامنے آنے والے دوستوں کی بہت شکرگزار ہوں۔ اب ہماری ٹیم بڑھ کر چار ہو چکی تھی اور ہم دو کاروں کے ساتھ ایک اولڑ ایج ہوم پہنچے جہاں، رہنے والے تمام لوگ 80 سال سے زیادہ عمر کے تھے اور جب ہم نے انہیں ضروری چیزیں دیں تو ہمارا شکریہ ادا کرتے وقت ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ میرے پاس اس لمحے کو بیان کرنے کے لئے الفاظ نہیں ہیں۔ واپس لوٹتے وقت ہمیں سیلاب سے تباہ ہو چکا وہ علاقے دیکھیے جہاں کے لوگ کھانے کی تلاش میں سڑکوں پر پھنسے ہوئے تھے۔ ہم نے ایک دوست کی طرف سے بھجوائَے کھانے کے 200 پیكیٹ اس علاقے میں تقسیم کئے۔

اب چینئی کو بڑے پیمانے پر مدد حاصل ہو رہی تھی اور ضرورت کے سامانوں کو پہنچانے کے لئے رضاکار بھی سامنے آ رہے ہیں۔ اب لوگوں کو انسانیت کی طاقت کا احساس ہو گیا ہے۔ میں نے دیکھا کہ لوگ پڑوسیوں کی مدد کر رہے ہیں اوپر کی منزلوں میں رہنے والے لوگ گراؤنڈ فلور پر رہنے والوں کو اپنے پاس پناہ دے رہے ہیں، مندروں، مساجد اور گرجا گھروں کے دروازے سب کے لئے کھلے ہیں، لوگ نے بالکل انجان افراد کو بھی کھانا کھلا رہے ہیں۔

میں اپنا کام دوبارہ شروع کر پائی ہوں اور مجھے اس بات کا بے حد فخر ہے کہ میں ایک ایسی کمپنی کی رکن ہوں جنہوں نے میری حالت کو سمجھا۔ سمجھنے کے لئے آپ کا شکریہ اور مجھے اپنے چینئی کے لئے کچھ کرنے کا موقع دینے کا شکریہ!