اسٹارٹپ کی دنیا میں دھمال مچا رہی ہیں باپ بیٹی کی جوڑیاں

0

کبھی آپ نے سوچا کہ کسی لڑکی کا اپنے والد سے رشتہ ایک محدود دائرے میں اس لئے ہوتا ہے کیونکہ ایک باپ کے لئے اس کی بیٹی اس وقت تک چھوٹی بچی رہتی ہے، جب تک اس کی شادی نہیں ہو جاتی۔ وہیں دوسری جانب والد سے بیٹے کے رشتوں کے بارے میں ایسا نہیں سوچا جاتا۔ عام خیال کے مطابق باپ بیٹی کا رشتہ ایک ذمہ داری والا ہوتا ہے، جہاں پر برابر کی شریک کی بات نہیں ہوتی، لیکن وقت بدل رہا ہے، اب باپ بیٹی کی جوڑیاں کامیاب کاروباری اتحاد میں بھی بدل رہا ہے۔ ہم آپ کو ایسے ہی تین باپ بیٹی کی جوڑيوں کے بارے میں بتانے جا رہے ہیں جو کامیابی کے ساتھ کاروبار کر رہے ہیں۔

مل کر بڑھائے قدم

مائلس (Myles) کی بانی ساکشی وج اور كارذون رینٹ Carzonrent پرائیویٹ لمیٹڈ کے صدر اور مینجنگ ڈائریکٹر راجیو وج

31 سال کی ساکشی وج نے دہلی یونیورسٹی سے معاشیات کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد ایس پی جین مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ سے ایم بی اے کی تعلیم مکمل کی۔ انترپرینيور بننے اور باپ کے ساتھ شمولیت سے پہلے وہ مالی مشیر کے طور پر ایک فرم کے ساتھ کام کر چکی ہیں۔ ان کے والد Carzonrent نام سے کرایہ پر کار دینے کا کاروبار کرتے ہیں۔ اکیلی بیٹی ہونے کی وجہ سے ساکشی کا کافی حد تک جھکاؤ اپنے والد کے کاروبار پر تھا، لیکن ان کا اس طرف رجحان تب بڑھا، جب ان کے سامنے والد کی کمپنی کو ایک برانڈ کے طور پر قائم کرنے کا چیلنج آیا۔ گواہ نے جب یہ کام کرنا شروع کیا تو وہ ٹرانسپورٹ کے شعبے کو لے کر خاصی پرجوش تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے Carzonrent کا ایک ذیلی ادارہ Myles قائم کیا۔ جو کار مالکان کے ساتھ آنے والی روایتی پریشانیوں کا حل کرتا تھا۔

ساکشی نے باپ کے ساتھ کاروباری شراکت دار بننے کا فیصلہ باہمی بات چیت میں کیا۔

"والد کی نگرانی میں میں نے کاروبار کی باریکیاں سيكھی۔ میں چیزوں کو جلد سیکھتی گئی۔ والد کے ہدایات پر میں نے ہر چیز سیکھی۔ ہم دونوں کے تعلقات بہت ہی منطقی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ہر موضوع پر سنجیدگی سے بات چیت کرتے ہیں۔ میرے والد نے ہر وقت مجھے اس بات کے موقع دیا کہ میں نئی چیزیں سيكھوں اور ان کو جاری رکھوں۔ وہ نہ صرف ایک اچھے دوست ہیں، بلکہ میرے مینٹور بھی ہیں۔ "

Carzonrent انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ عام لوگوں کو کرایہ پر کار لینے کے لئے مختلف طرح کے اختیارات مہیا کرتا ہے۔ ملک بھر میں کمپنی کے بیڑے میں 6500 کاریں ہیں۔

تبدیلی کی لہر پر سوار ہونا کیسا لگتا ہے؟

عام تاثر ہوتا ہے کہ باپ کا کاروبار بیٹا سنبھالتا ہے، لیکن ساکشی اس بات کو لے کر پریشان نہیں ہوتی۔ وقت کے ساتھ چیزیں بدل رہی ہیں۔ ان کا خیال ہے، "آپ کا کام ہی بولتا ہے، تو آپ کو کسی سے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔"

ایک دوسرے سے سیکھا بہت کچھ

بھیروی مدھوسودن، آئیڈیا كلٹویٹر، اور اے مدھوسودن، چیف پھارمر، بیک ٹو بیسكس (Back2Basics)

پنسلوانیا یونیورسٹی میں بین الاقوامی اسٹڈیز اور کاروبار میں ہنٹسمین پروگرام کی سابق طالب علم اور وارٹن اسکول آف بزنس کی ڈگری حاصل کرنے والی بھیروی مدھوسودن نے کئی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے مینیجمنٹ اور اسٹریٹجک مشیر کے طور پر کام کیا۔ جب وہ ہندوستان آئی تو اس سے پہلے وہ فرینکفرٹ میں ایک پرائیویٹ ایکوئٹی فرم میں کام کر رہی تھیں۔ اس وقت ملک میں انترپرینيورشپ کا آغاز ہو رہا تھا۔ ان کے والد نے ارگینك مصنوعات سے منسلک کاروبار شروع ہی کیا تھا۔ یہ زراعت کا اپنے آپ میں پہلا انٹرپرائز تھا۔ اس ابتدائی سطح میں Back2Basics نے اپنی زیادہ تر توجہ صرف بی 2 بی کی جانب لگائی۔ اس سے اس کے منافع پر اثر پڑا۔ تب بھیروی نے دیکھا کہ ان کے والد پریشانی میں ہیں تو انہوں نے طے کیا کہ ایسے وقت میں وہ اپنے والد کا ساتھ دیں گی اور وہ ان کے چھوٹے سے پروجیکٹ کے ساتھ جڑ گئیں۔ اس کے بعد انہوں نے کاروبار میں مالی استحکام لانے کیلئے کام کرنا شروع کر دیا۔ بھیروی نے ایک خاص طرح کا الگورتھم تیار کیا، جس سے کہ نئے فیصلے لینے میں مدد ملے۔ اس طرح حیرت انگیز طریقے سے جو کمپنی نقصان کی طرف جا رہی تھی وہ منافع میں بدل گئی اور 16 دنوں کے اندر ہی کمپنی کا منافع 54 فیصد تک پہنچ گیا۔

بھیروی اس سے پہلے جونیئر سطح پر کام کر رہی تھیں۔ جہاں پر سینئر تجزیہ رپورٹ پیش کرتے تھے، جن کو انہوں نے بڑی محنت سے تیار کیا ہوتا تھا۔ اس طرح وہ بھیری کے کام کا کریڈٹ خود حاصل کر لیتے تھے۔ یہ جاننے کے باوجود ان کو اپنا یہ کام دلچسپ لگتا تھا۔

جب انہوں نے اپنے باپ کی مدد کرنے کے بارے میں سوچا تو ان کی کیا رائے تھی؟

"انہوں نے مجھے خبردار کیا اور کہا کہ وہ مجھے برداشت کرنے کے قابل نہیں ہیں۔"

باوجود اس کے، بھیروی کے لئے اپنے والد کے ساتھ کام کرنا ایک بہتر تجربہ تھا۔ 23 سال کی بھیروی کا کہنا ہے،

"میں اور میرے والد کی سوچ ایک جیسی ہے، تاہم میں اپنی ماں کے بے حد قریب ہوں، لیکن کسی مسئلہ سے نمٹنے میں میں اور میرے والد ایک ہی انداز میں کام کرنا پسند کرتے ہیں۔ اب تک میں نے جو بھی فیصلے کئے اس میں انہوں نے میرا پورا ساتھ دیا ہے۔ میرے لئے باپ کے ساتھ کام کرنا ہزاروں پروفیسروں کے ساتھ کام کرنے کے برابر ہے۔ "

آج باپ بیٹی کی یہ جوڑی کامیابی سے کاروبار کر رہی ہے۔ وہیں دوسری طرف بھیروي کا خیال ہے کہ خاندان کے کسی رکن کے ساتھ کاروبار کرنا ہر دن نئے چیلنج سے کم بھی نہیں ہے۔ ان کا دعوی ہے کہ "زیادہ تر لوگ یہ مانتے ہیں کہ کسی بھی باپ کے کاروبار میں ان کی بیٹی صرف ایک حصہ بھر ہے جو شروع میں میرے لئے کافی بڑا جھٹکا تھا، باوجود اس کے آج بھی میں ایسے حالات کا سامنا کرتی ہوں۔"

انترپرینيور خاتون کے طور پر ان کو بھی انہی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو کسی دوسرے انترپرینيور کو کرنی پڑتی ہیں، لیکن بھیروی جدوجہد اور کاروباری مہارت کی وجہ سے ان چیلنجوں کا حل نکال ہی لیتی ہے۔ اس میں ان کے والد کا بھی کافی ساتھ ہوتا ہے۔

Back2Basics بنگلور کی منفرد کمپنی ہے، جو مقامی سطح پر لوگوں کو ان کے دروازے تک ارگےینك فوڈ پہنچانے کا کام کرتی ہے۔ کمپنی کی خاصیت ہے کہ یہ تقریبا 200 ایکڑ علاقے میں کیمیکل فری زراعت کرتی ہے، جہاں پر 90 سے زیادہ موسمی اقسام کی پیداوار کی جاتی ہے۔ ان میں پھل، سبزی، اناج اور اگذاٹك شامل ہے۔ ان کے صارفین میں بڑی تعداد میں کارپوریٹ، ریٹیل چین سے وابستہ لوگوں کے ساتھ عام لوگ بھی ہیں، جن کو کمپنی ارگینك مصنوعات سپلائی کرتی ہے۔

دونوں بنے ایک دوسرے کی طاقت

موڈسپیس Modspace.in کے بانی درش پال اور شریک بانی پلوی پی

انترپرینيور درش پال بہت کاروباروں میں اپنا ہاتھ آزما چکے ہیں، لیکن سال 2015 میں اپنی بیٹی کے ساتھ مل کر شروع کی گئی آن لائن فرنیچر کمپنی Modspace.in ان کے لئے خاص ہے۔ 33 سال کی ان کی بیٹی پلوی نے معاشیات اور مواصلات میں بوسٹن کے ٹفٹس یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کرنے کے بعد انترپرینيورشپ کے میدان میں قدم رکھا۔ درش کے مطابق "میری بیٹی کے پاس تجزیاتی سوچ تو تھی ہی ساتھ ہی اسے انٹرنیٹ کے ذریعہ کس طرح زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے اچھی طرح معلوم ہے اور میں اس کی اس بات کے لئے تعریف کرتا ہوں۔"

اتنا ہی نہیں درش پال بتاتے ہیں، "میں اپنی بیٹی کی ناکام ہونے پر بھی حوصلہ افزائی کرتا ہوں، کیونکہ ناکام ہوئے بغیر آپ کو کچھ نیا نہیں سیکھ سکتے۔ ساتھ ہی میں اس بات کا خیال رکھتا ہوں کہ وہ اپنے اوپر کام کا زیادہ دباؤ نہ لے۔ میرا بیٹا بھی میرے ساتھ کام کرتا ہے، لیکن میری بیٹی ہی ہے جسے میں پیار سے 'جان' بلاتا ہوں۔ چھٹی کے وقت ہم لوگ کافی گھومتے پھرتے ہیں، ہم دونوں مختلف کھیلوں کو دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ کیونکہ ہم دونوں کو باہر گھومنا اچھا لگتا ہے۔ واقعی یہ خوشی کی بات ہے کہ زیادہ سے زیادہ بیٹیاں اپنے باپ کے کاروبار سے منسلک رہی ہیں اور مجھے امید ہے کہ یہ رجحان آگے بھی بنا رہے گا۔ "

Modspace.in جدید ٹیکنالوجی سے تیار فرنیچر بیچنے والی کمپنی ہے۔ یہ اپنے گاہکوں کو نئے ڈیزائن کے فرنیچر ان کے اپنے بجٹ کے مطابق فراہم کرتی ہے۔ یہ کچن، wardrobes اور گھر میں استعمال ہونے والا لکڑی کا سامان بیچتی ہے۔

اس طرح نئے کاروباری شراکت سے ملک میں باپ بیٹی کے کاروباری تعلقات نے ایک طویل سفر طے کیا ہے۔

تحریر – پرتیکشا نائک

ترجمہ- ایف ایم سلیم

Related Stories