''اختراع اختراع اور اختراع '' اسٹیو جابس کا جنون

0

'' زیادہ تر لوگوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے سے مجھے ان کی روح نظر آتی ہے' لیکن جب میں تمہاری آنکھوں میں دیکھتا ہوں تو مجھے گہرا کنوواں' ایک خالی گڑھا اور ایک بالکل مردہ علاقہ دکھائی دیتا ہے'' ۔ کیا آپ یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ جملے کس نے اورکس کے لئے کہے تھے ۔ ایک بار اندازہ لگا کر دیکھئے! میںیقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ آپ اس کا صحعح جواب نہیں دے سکتے ۔ وہ ایپل کی سی ای او جان اسکلی Scully کی بیوی تھیں جنہیں اسٹیو جابس بڑی دھوم دھام سے کمپنی میں لائے تھے ۔ اسکلی کو اس بات کا یقین تھا کہ کمپنی میں جابس کی موجودگی کمپنی کی ترقی کے لئے رکاوٹ ہے اور آخر کار وہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اس موضوع پر اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب رہے اور جابس کو ملازمت چھوڑدینے کے لئے کہہ دیا گیا ۔

اسکلی اور جابس دونوں ہی اندر سے ٹوٹ چکے تھے اور دونوں ہی بورڈ میٹنگ کے بعد خوب روئے تھے۔ اسکلی نے اپنی فتح کے باوجود استعفی دینے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔ ان کی بیوی جابس کے طرز عمل سے پریشان تھیں کیونکہ انہوں نے اسکلی کو ہٹانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ۔ ایسے میں انہوں نے جابس کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا ۔ انہوں نے جابس سے پارکنگ میں ملاقات کی اور جابس ان سے آنکھیں نہیں ملا پا رہے تھے ۔ انہوں نے ان سے نظریں ملانے کے لئے کہتے ہوئے کہا: '' جب میں آپ سے بات کر رہی ہوں تو کیا آپ مجھ سے نظریں ملاتے ہوئے بات نہیں کر سکتے؟ '' آخر کار انہوں نے ایسا کیا اور پھر میں اسکلی کی بیوی سے جابس نے یہ لفظ کہے۔

کوئی بھلا یہ کہہ سکتا ہے کہ بلندیوں تک پہنچنے والے جابس ایک سفاک ' بے رحم' غیر مہذب 'غیر مقبول اورقابل نفرت شخص تھے ۔ شاید ان کے بارے میں یہ سب کچھ بالکل سچ ہے ۔ وہ ساتھ کام کرنے کے لئے سب سے مشکل افراد میں سے ایک تھے ۔ وہ کسی بھی پراڈکٹ کے جائزے کے وقت چاہے وہ اکیلے میں ہو یا پھر کسی محفل میں جن الفاظ کا استعمال کرتے تھے وہ قابل برداشت نہیں ہوتے تھے۔ وہ اپنے ساتھیوں کے لیے بھی بہترین افراد میں سے نہیں تھے ۔ ٹینا ریڈس کے بارے میں جابس نے یہ قبول کیا ہے کہ وہ پہلی خاتون تھیں جن کے ساتھ انہیں حقیقت میں محبت ہوئی تھی' اور جن کے سامنے انہوں نے شادی کی پیشکش کی تھی لیکن ٹینا نے ٹھکرا دیا تھا ۔ ٹینا نے کہا' '' میں ا سٹیو جابس کے لئے ایک اچھی بیوی ثابت نہیں ہو سکتی ۔ لہٰذامیں ان سے شادی کی پیشکش ہرگز قبول نہیں کر سکتی تھی ۔ وہ اس قدر ترش رو تھے کہ ذاتی بات چیت میں بھی میں ان کی سختی کو برداشت نہیں کر پاتی تھی ۔ اگرچہ میں انہیں چوٹ پہنچانا نہیں چاہتی تھی لیکن اس کے باوجود میں ان کے ساتھ کھڑے ہو کر انہیں دوسرے لوگوں کو چوٹ پہنچاتے ہوئے بھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی ۔ یہ ایک بہت دردناک تجربہ تھا ۔ '' ٹینا کو اس بات کا یقین تھا کہ ا سٹیو '' نفسیاتی بیماری '' (Narcissistic Personality Disorder) میں مبتلا تھے ۔

اس کے باوجود وہ ایک باصلاحیت شخص تھے ۔ کوئی بھی غیر معمولی ذہن کا حامل باصلاحیت شخص کبھی بھی ایک عام شخص کی طرح زندگی گزارنا نہیں چاہتا ۔ جابس کے علاوہ اور کون سڑکوں پر چاروں طرف ننگے پاؤں گھوم سکتا تھا ۔ آخری دنوں میں بھی وہ سخت ترین محنت اور ثقیل غذا کھانے کی عادت نہیں چھوڑ پا رہے تھے۔ اس دوران وہ صرف پھل اور سبزیاں پر زندہ تھے ۔ کبھی کبھی تو وہ کئی ہفتوں تک بغیر غذا کے ہی رہتے تھے۔ وہ ہمیشہ اپنی گاڑی کو معذور افراد کے لئے مخصوص جگہ پر کھڑی کرتے تھے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ان کی پہلی ہی ملازمت میں انہیں ان کے جسم سے آنے والی بدبو کی وجہ سے دن کی ڈیوٹی سے ہٹا کررات کی شفٹ میں بھیج دیا گیا تھا کیونکہ انہوں نے کئی دنوں تک نہانے سے انکار کر دیا تھا ' انہیں ڈیوڈرینٹ سے بھی نفرت تھی ۔ جابس کئی ماہ تک امن اور سکون کی تلاش میں ہندوستان کی تنگ گلیوں میں بھٹکتے رہے ۔ ان کی سوانح عمری لکھنے والے والٹر آئی سیکسن کے الفاظ میں انہوں نے فیصلہ کیا کہ' '' وہ خدا کی عبادت سے کوئی لینا دینا نہیں رکھنا چاہتے تھے اور اس کے بعد وہ دوبارہ کبھی چرچ نہیں گئے۔ بستر مرگ پربھی انہوں نے آئی سیکسن سے کہا: '' اب بھی میں خدا پر یقین کرنے کے معاملے میں شک وشبہ میں مبتلا ہوں''۔

وہ آخر وقت تک ایک بات پر بالکل مطمئن تھے کہ وہ دنیا کو تبدیل کرنے کے لئے ہی پیدا ہوئے ہیں اور وہ ایسا کرکے رہیں گے۔ وہ ایک ایسے سی ای او ہیں جنہوں نے اپنی زندگی میں کبھی بھی بل گیٹس کی طرح منافع کی پرواہ نہیں کی ۔ بل گیٹس کے لئے ان کے دل میں احترام کا احساس نہیں کے برابر تھا ' کیونکہ انہیں لگتا تھا کہ گیٹس نے اپنی زندگی صرف دولت جمع کرنے میں ضائع کی ۔ ایسا نہیں ہے کہ جابس غریب تھے۔ وہ بھی بل گیٹس کی طرح ہی دولتمند تھے لیکن کاروبار کے تعلق سے ان کی سوچ بہت انقلابی تھی ۔ انہوں نے ایسے مصنوعات کی تیاری کی' جن کے سبب دنیا ہی بدل گئی ۔ باب ڈائلان ان کے رہنما تھے ۔ وہ ان پر مکمل یقین کرتے تھے ۔ '' اگر آپ پیدائش سے ہی مصروف نہیں ہیں توگویاآپ مرنے کے لئے مصروف ہیں''- جب جابس کا سامنا اپنے ساتھیوں سے ہوا اور انہوں نے ان سے کہا کہ کیا وہ ایسے مصنوعات کی تیاری جاری رکھیں گے جو ان کے اپنے برانڈ کو ہی کمزور کرتے رہیں گے ؟ تو انہوں نے جواب دیا '' اگر آپ خود پر تنقید نہیں کریں گے تو کوئی اور کرے گا ۔ جابس کے روبار کا اصول تھا--- '' کبھی بھی خود پر تنقید سے مت ڈرو ''

اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ' آئی پاڈ' کے ذریعہ موسیقی کی صنعت کو ہمیشہ کے لئے تبدیل کرنے کے بعد انہوں نے آئی فون اور آئی پیڈ روشناس کروایا اور انٹرنیٹ کی صنعت میں ایک نیا انقلاب برپا کر دیا ۔ انہوں نے سال 1997 میں ایپل کو اس وقت سنبھالا جب وہ دیوالیہ ہونے کے دہانے پر تھا اور سال 2010 تک وہ آمدنی کے معاملے میں دو دہائیوں تک راج کرنے والی مائکروسافٹ جیسی کمپنی کے ساتھ مقابلہ میں تھے۔ اور آج ایپل تاریخ کا سب سے قیمتی برانڈ ہے۔ آئی سیکسن کا کہنا ہے کہ اب سے سینکڑوں سال کے بعد جب اس صدی کا ذکر کیا جائے گا توجابس کا شمار ایڈسن اور فورڈ کے ساتھ کیا جائے گا ۔ ان کی کامیابی کا راز نئی مصنوعات تیار کرنے کا جنون اور ہمیشہ دوسروں سے آگے کی سوچ ہے۔ انوینشن‘انوینشن ‘انوینشن یعنی اختراع اختراع اور اختراع ہمیشہ اور ہر وقت ان کا ایک ہی وظیفہ تھا۔

ایسے وقت میں جب مکمل انڈسٹری ایک اوپن نظام کے بارے میں بات کر رہی تھی اور مائکروسافٹ اپنے ونڈوز آپریٹنگ سسٹم کو دوسری کمپنیوں کے ساتھ لائسنس کرکے منافع کما رہا تھا' جابس ہارڈ ویئر سے سافٹ ویئر کے درمیان اینڈ۔ٹو۔اینڈ انٹیگریشن میں یقین کرتے تھے۔ جابس مکمل طور ایک جدت پسند انسان تھے۔ ان کے لئے مصنوعات کی تعمیر سائنس کے ساتھ آرٹ کی بھی ایک شکل تھی - ان کے لئے ایک پراڈکٹ کی تخلیق و پیداوار پکاسو کی طرح ایک پینٹنگ تیار کرنے کے مماثل تھا ۔ پیچیدگیوں پر فتح پانا ان کا ایک شوق تھا ۔ آئی فون اور آئی پیڈ استعمال کرنے کے لئے سب سے زیادہ آسان ٹیکنالوجی ہونے کے ساتھ سب سے صارف دوست بھی ہے۔

موجودہ دور کے جدید کاروبار میں سیلز کے کام سے وابستہ لوگ سب سے زیادہ اہم مانے جاتے ہیں ۔ وہ صنعتی دنیا پر راج کرتے ہیں۔ جابس اسے لوگوں سے نفرت کرتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے: '' جب سیلز کے کام سے وابستہ لوگ کمپنی کو چلانے لگیں تو مصنوعات سے وابستہ لوگ بے معنی ہو جاتے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر ختم ہو جاتے ہیں ۔ مائکروسافٹ اور آئی بی ایم کے زوال کے لئے ایسے ہی سیلز سے وابستہ لوگوں کووہ ذمہ دار قرار دیتے تھے۔ انہوں نے جمود کے خلاف اپنی آواز اٹھائی اور پوری صنعتی دنیا میں ایک نیا رجحان پیدا کرنے کی کوشش کی ۔ وہ اکثر کہتے :'' صارفین کو وہ چیز دو جس کی انہیں طلب ہے''۔ جابس ' فورڈ کی طرح بصیرت رکھنے والے صنعت کارتھے۔ جابس اپنے آپ میں ایک بہترین سیلسمین تھے۔ وہ یہ کہتے تھے کہ '' لوگوں کو اس وقت تک یہ پتہ نہیں ہوتا کہ انہیں کیا چاہیے جب تک کہ آپ انہیں نہیں بتاتے''۔ مکینٹوش سے آئی پیڈ تک ہر پراڈکٹ جو انہوں نے تیار کیا اسے انہوں نے ایک جادوگر کی طرح فروخت کیا ۔ وہ مارکیٹ میں ہلچل مچا دیتے تھے۔ یہ سیلسمین بہت مختلف اور منفرد تھا ۔ ان کا نام سٹیو جابس تھا ۔ بالکل جنونی اور پاگل ۔ جو لوگ یہ سوچتے ہیں کہ وہ دنیا کو تبدیل کر سکتے ہیں آخر کار وہ ایسا کرنے میں کامیاب بھی ہوتے ہیں ۔'' اس پس منظر میں میں اسکلی کی بیوی سے اختلاف کا اظہار کرتا ہوں ۔ جابس ان عام لوگوں میں سے نہیں تھے جنہیں وہ نشانہ بنا رہی تھیں ۔ وہ سٹیو تھے' سٹیو جابس ۔ ایک ایسا شخص جو بغیرپلک جھپکائے اپنے ساتھیوں کی آنکھوں میں آنکھ ملاکر دیکھتے ہی ان کی صلاحیتوں کا اندازہ لگالیتا ۔ ایک ایسا شخص جس کو خوب سے خوب تر کی جستجو تھی بلکہ جو ہر و قت کمال کی تلاش میں سرگرداں رہتا ۔

(یہ مضمون بنیادی طور: انگریزی میں لکھا گیا ہے اور مصنف ہیں سینئر صحافی اور عام آدمی پارٹی کے قومی لیڈر اشوتوش)

مترجم:شفیع قادری