یومیہ صرف 300روپئے میں سارے ہندوستان کا سفر کیسے کیا جا سکتا ہے!

0

ہر کسی کو سفر کرنا پسند ہوتا ہے ۔بعض لوگ چھٹیوں میں سفر کو ترجیح دیتے ہیں اور بعض لوگ ہفتہ کے ختم پر سفر کرنا چاہتے ہیں ۔بعض لوگ ایک دن زیادہ چھٹی لیتے ہیں جبکہ میری طرح کے لوگ سفر کے لئے اپنی نوکری تک چھوڑدیتے ہیں ۔ کئی ایسے لوگ ہیں جو ایڈوینچر کی خواہش رکھتے ہیں لیکن انہیں اس کا موقع نہیں ملتاکیونکہ انہیں یہ بتایا جاتاہے کہ سفر کرنا کافی مہنگا ہوتا ہے ۔ سن رائز۔ فرام۔ دی۔کاپئیل‘ کا یہ پوسٹ ان کے لئے ہے جو یہ سوچتے ہیں کہ کم خرچ میں سفر نہیں کیا جاسکتااور ان کے لئے بھی جو یہ سوچتے ہیں کہ ان کے پاس پیسہ تو ہے لیکن رکاوٹوں سے بچنے اور اس کے ذریعہ ایڈوینچر لانے کے لئے وہ کم بجٹ میں سفر کرنا چاہتے ہیں ۔میں ان دو زمروں کے درمیان کہیں فٹ ہوتا ہوں ۔میں نے جولائی میں اپنی ملازمت کو خیر باد کہہ دیا اور ہندوستان میں سفر کرنا شروع کیا ۔ میں نے حساب کیا کہ کتنی رقم میرے پاس ہے تو مجھے پتہ چلا کہ صرف 300روپئے ہیں جو پانچ ڈالر سے بھی کم ہوتے ہیں ۔ ایک سال تک سڑک پر سفر کرنے کے لئے یومیہ مجھے خرچ کرنے کے لئے جو رقم چاہئے کیا وہ یہ رقم ہے ؟بہرحال مجھے سفر کرتے ہوئے 120دن ہوگئے ہیں اور میں یہ سیکھ چکا ہوں کہ اس کے لئے کیا کیا جاتا ہے ۔اپنے بجٹ میں یہ کام کرنے کے لئے میں نے کیا کچھ کیا آئیے ان تمام نسخوں اور کرتب سے آپ کو بھی واقف کرواتا ہوں۔ آیا آپ غیر یقینی طور پر کسی ساحل کی زینت بڑھا رہے ہوں یا رک ‘ رک کر سفر کررہے ہوں یہ آپ کے لئے کارآمد ہوسکتے ہیں ۔ہر حال آپ اپنی سہولت کے لئے میرے مشوروں کو استعمال و اختیار کرسکتے ہیں ۔

اس سے قبل کے آپ آگے بڑھیں اور میرے مشوروں کو پڑھیں ممکنہ حد تک سخت گیر ہونے کے لئے تیار ہوجائیے ۔ جب آپ کے پاس پیسہ نہیں ہے تو کچھ کرنے کے لئے آپ کو مستحکم قوت ارادی اور داخلی تحریک کی ضرورت ہوتی ہے ۔طویل سفر کے لئے آپ کے پاس دوصورتیں ہوں گی ۔ ایک بیگانی کاروں میں خیراتی سیاحت یعنی لفٹ مانگ کر سفر کرنا یا ٹرین کے ذریعہ سفر کو ترجیح دینا۔سرکاری بسوں کے ذریعہ سفر کی تجویز میں ہرگز پیش نہیں کروں گا ۔اگر آپ ہندوستان میں ہیں تو آپ کو دنیا کا سب سے پیچیدہ اور بڑا ریلوئے سسٹم مل جائے گا جو مفت میں سفر کرنے کے برابر سستا ہے ۔بیشک میں ٹرین کے بغیر ریزرویشن والے جنرل کوچس کی بات کررہا ہوں ۔ان کوچس میں بھیڑ بھاڑ کو لیکر آپ پریشان مت ہوئیے بلکہ اس ہجوم سے دم گھٹنے والے ماحول میں مزید سفر کرنے کی تحریک حاصل کیجئے۔ان کوچس میں مناسب طور پر کھڑے ہونے کی تک جگہ نہیں ہوتی لیکن آپ کوچھ گھنٹوں تک ٹہرنا پڑسکتاہے۔بدبودار ٹائلٹس کے قریب بیٹھنا پڑسکتا ہے۔یقین کیجئے جب ٹرین کی رفتار دھیمی ہوتی ہے تو بد بوہزار گنا زیادہ ہوجاتی ہے ۔لیکن آپ کے پاس کوئی چارہ بھی تو نہیں ہوتا۔ لیکن یہ یاد رکھئے کہ دوسری طرف خوبصورت منزل مقصود آپ کا انتظار کررہی ہے ۔میں نے یہ تحریک ساتھی پاسنجروں سے حاصل کی جن میں بیشتر ایسے ہی کوچس میں ہمیشہ سفر کرتے ہیں ۔ان کے لئے یہ اسی طری معمول کی بات ہے جس طرح ہم ہوائی جہاز میں سفر کرتے ہیں ۔ان پاسنجرس میں چھوٹے بچے ‘ حاملہ خواتین‘ ضعیف جوڑے بھی شامل ہوتے ہیں جو عارضہ تنفس اور دیگر تکلیف دہ امراض میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ آپ انہیں اس ماحول میں بھی بالکل نارمل پائیں گے ۔لہذا میرا یہ خیال ہے کہ اگر وہ ایسا کرسکتے ہیں۔ کیوں نہ کریں‘تو سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا ۔

آج کل میں ایسے ہی لوگوں پر مشتمل گروپ کا حصہ ہوں اور جب بھی مجھے طویل سفر کرنا ہوتا ہے تو میں اسٹیشن جاتاہوں اور جنرل ڈبہ کا ٹکٹ خریدتا ہوں اور ٹرین کا انتظار کرتاہوں۔دوسروں کی طرح ہردن مجھے آئی آر سی ٹی سی کو بد دعا دینے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔کسی ہائی وے پر موٹر وہیکل کو اپنے طرف آتا دیکھ کر ہاتھ کے انگو ٹھے کو اوپر نیچے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔اس کام کے لئے چند منٹ لگیں گے لیکن آپ کو پورے دن کے لئے سواری مل جائے گی ۔(اگر آپ انگوٹھا باہر نکالیں اور اسے اوپر نیچے نہ ہلائیں تو وہ یہ سمجھ نہیں پائیں گے کہ آیا آپ ان کی وہیکلز کے ڈیزائن کی تعریف کررہے ہیں یا ان کی ڈرائیونگ کے اسٹائیل کی ستائش یا پھر مفت سواری کرنا چاہتے ہیں )۔بہر حال میرا یقین کیجئے کہ جب آپ ایسا کریں گے تو یہ آپ کی سب سے بہترین سواری ہوگی اور یقینی طور پر ٹرین کے سفر سے زیادہ بہتر تجربہ ہوگا ۔

بیگانی کاروں میں خیراتی سیاحت کا کوئی راز پوشیدہ نہیں ہے ۔ اپنی صلاحیتوں کا استعمال کیجئے اور بے شرم ہوجائے۔اگر آپ میری طرح خوش نصیب ہیں تو آپ سی کلاس مرسیڈیز بنس میں بھی سفر کرسکتے ہیں ۔سفر کے دوران آپ ٹرک چلانے والوں کو دوست بناسکتے ہیں اور ان کی زندگیوں کے بارے میں جان سکتے ہیں ۔بیگانی کاروں میں خیراتی سیاحت یعنی لفٹ مانگ کر سفر کرنا دنیا بھر میں بجٹ پر نظر رکھنے والوں کا سب سے پسندیدہ طریقہ ہے ۔

مقامی طور پر کسی علاقہ میں چند دن گذارنے کے لئے سفر کرنا آسان ہے ۔ہندوستان میں بیشتر بائیک چلانے والے آپ کو دیکھ کر آپ کے لئے رک جائیں گے ۔کاریں زیادہ نہیں رکتیں لیکن آپ یقینی طور پر اس کے لئے بھی کوشش کرسکتے ہیں ۔آپ کو چھ تا آٹھ کلو میٹر کے دائرہ میں چلنا بھی ضروری ہے کیونکہ آپ کو صحت مند بھی رہنا ہے ۔ آپ کے پاس پیسہ نہیں تو چہل قدمی ضروری ہے کیونکہ چہل قدمی کرنے کے چند ماہ بعد چہل قدمی کرنا آپ کوپسند آجائے گا اور آپ خود کم فاصلہ کی مفت سواری کو انکار کردیں گے ۔ہائی وے کے کسی دھابہ پر ڈنر کرنے کیلئے آپ کو تعلقات کے اثرات اور ان کی طاقت کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔آپ کو بے انتہا ملنسار‘ یار باش اور کچھ حد تک مسخرا ہونا ‘مہرباں ہونا اور بہت ہی بے شرم ہونا بھی ضروری ہے ۔اناپرست ہونے کی ضرورت نہیں ‘ حسد جلن بھی نہیں ہونی چاہئے اور نہ ہی طاقتور رائے یا انقلابی خیالات رکھنے کی ضرورت ہے۔ آپ کو کچھ سیکھنے کی خواہش رکھنا ہوگا ۔چند ماہ بعد یہ طریقہ کار حقیقت میں آپ کو مزید بہتر اور پر سکون شخص بنادے گا ۔آپ کو اپنے تمام رشتہ داروں اور ان دوستوں سے بات چیت کرنے کی ضرورت ہوگی جن کو عرصہ قبل آپ بھول گئے تھے ۔ ان سے بھی بات چیت کرنا پڑے گا جن کو آپ بالکل پسند نہیں کرتے۔ایسے لوگ جن کے پاس نہ اخلاق ہیں نہ اقدار لیکن وہ آپ کے لئے قیمتی وسیلہ ہوسکتے ہیں ۔ایسے لوگوں سے رابطہ برقرار رکھنے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اگر آپ ان کے مقام پر دو راتیں گذارنا چاہتے ہیں تو ان سے یہ سوال کیجئے۔ آپ کو یہ دیکھ کر انتہائی حیرت ہوگی کہ جن لوگوں کو آپ بیکار سمجھتے تھے وہ آپ کی مدد کے لئے آگے آئیں گے جبکہ کئی خود ساختہ قریبی دوست آپ کی اس درخواست کو ٹھکرا بھی دیں گے ۔

علاوہ ازیں آشرم ‘ مندروں‘ خانقاہوں ‘ بس ٹرمنلس‘ ریلوئے اسٹیشنوں‘ روڈ ڈیوائیڈرس‘ پارکس یاکسی دوسرے مقام پر جہاں آپ کو پیسہ ادا نہ کرنا پڑے یہ کام احمقانہ اور بیکار لگے گا لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے ۔ کسی بھی ڈرامہ کا سب سے مشکل حصہ اس کا آغازہوتاہے ۔ آپ جیسے ہی پہلا قدم اٹھائیں گے دوسرا قدم یقینی طور پر خود بہ خود اٹھ جائے گا ۔اگر آپ 30سال قبل سفر کرنے کا منصوبہ تیار کئے تھے تو اس وقت پانی ہر جگہ مفت دستیاب ہوتا تھا ۔لیکن اب آپ ایسے دور میں زندگی گذاررہے ہیں جہاں انسانوں نے پانی جیسی بنیادی ضرورت کو تجارت بنادیا ہے جو زندگی کی بقاء کے لئے نہایت ضروری ہے ۔لیکن آپ پریشان مت ہوئے ۔آپ اس دور میں بھی پانی پر اپنا پیسہ بچا سکتے ہیں ۔ ہمیشہ اپنے ساتھ پانی کا ایک بوتل رکھئے۔سڑکوں کے کنارے دکھائی دینے والے نلوں یا ان دھابوں سے بوتل میں پانی بھر لیجئے جہاں آپ نے کھا نا کھا یا ہے ۔اس دوران جو بات یاد رکھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ اپنے ساتھ پانی کا بوتل رکھنے کے ساتھ ساتھ آنکھیں بھی کھلی رکھیئے۔ بس آپ کیلئے ہرجگہ پانی وافر مقدار میں دستیاب ہوگا۔اگر آپ دیہاتوں سے گذررہے ہیں تو پانی کے لئے گھروں کے دروازے کھٹکھٹاناچاہئے۔ اس معاملہ میں اب تک کسی نے مجھے انکار نہیں کیا ہے ۔ہندوستان میں ہرجگہ قابل دسترس قیمتوں پر مقامی فوڈ اسٹالس مل جائیں گے ۔یہ بات مت بھولئے کہ ہندوستان لاکھوں غریب افراد کا مسکن ہے اور وہ لوگ یومیہ 100روپئے سے بھی کم آمدنی پر زندگی گذاررہے ہیں ۔وہ آپ کے لئے محرک ہیں ۔بس جائیے اور مقامی دھابوں پر کھا نا کھائیے۔ اپنے پیٹ اور میدے کو لیکر پریشان مت ہوئیے۔ہمارا ذہن ہی سب کچھ ہے اس کو فٹ رکھئے تو سب کچھ خود بہ خود ٹھیک ہوجائے گا ۔اپنے میزبان کے گھر پر کھانا کھائیے لیکن پکوان کرنے میں اس کی مدد کیجئے۔مندروں ‘ گرجا گھروں اور آشرموں میں کھائیے۔ وافر مقدار میں پانی کا استعمال کیجئے اور برابر ورزش کیجئے‘ آپ ہرگز بیمار نہیں پڑیں گے ۔پیسہ بچانے کیلئے مقامی طور پر ملنے والی الکوہل کا ہرگز استعمال نہ کیجئے۔اس سے آپ کی موت بھی ہوسکتی ہے ۔کئی مقامات پر زہریلی شراب مل رہی ہے جس کے استعمال کے بعد بعض لوگوں کی موت تک واقع ہورہی ہے۔تو پھر آپ کس طرح اپنی پیاس بجھائیں گے جب آپ کے پاس پیسے بھی نہیں ہیں ۔آپ انتظار کیجئے ۔انتظار کسی کی پیش کش کا ۔ آپ کے میزبان کی جانب سے پیش کش کا یا کسی ٹرک والے کی پیش کش کا( پنجاب میں ایسے کئی آفرس ملتے ہیں )۔ آپ کو ایسے اچھے دوست بنانے ہونگے جو پیتے ہیں۔لوگ کسی فقیر کو ایک پیسہ یا کسی ضرور ت مند کو دس روپئے نہیں دیں گے لیکن وہ آپ کو شراب ضرور پلائیں گے ۔یہ صورتحال آپ کے لئے کام آئے گی۔ ہائی ویز اور سڑکوں کے کنارے دھابوں پر آپ کی ایسے لوگوں سے ملاقات ہوگی ۔

موبائیل فون اور انٹر نٹ کے اخراجات اور ان کو مفت حاصل کرنے کے لئے آپ کا خوش قسمت ہونا ضروری ہے۔مجھ پر دوستوں کی مہربانی ہے جو میرے لئے یہ سب کچھ کرتے ہیں ۔آپ کو یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ مدد معمولی نہیں ہے ۔ آپ کو اس کے لئے بڑے وعدے کرنے پڑتے ہیں ۔ آپ کو وہ سب کچھ بتانا پڑے گا جو آپ کرسکتے ہیں ۔آپ کی کہانیاں ‘ آپ کا اچھا وقت‘ آپ کب کمانا شروع کریں گے اور آپ کی دولت وغیرہ۔ آپ کو یقینی طور پر ایسے دوستوں کا خیال رکھنا ہوگا ۔دیگر چیزوں میں کئی باتیں شامل ہیں لیکن اوپر بتائی گئیں تمام باتوں کا اگر آپ خیال رکھیں گے تو سمجھئے کہ آپ ہر چیز کا خیال کرسکتے ہیں ۔اپنی کہانی پر بھروسہ رکھئے۔جب ہمارے پاس پیسہ کم ہے تو ہمیں کسی اور چیز سے زیادہ دوست رکھنے کی ضرورت ہوگی ۔ہم ان سے مختلف لوگوں سے متعلق ایک چیز ضرور سکھیں گے کہ وہ سب ایک جیسے ہیں ۔ان سے محبت جتانے پر ان کی آنکھیں چمک اٹھتی ہیں اور خوف میں ان کے اوسان خطا ہوجاتے ہیں ۔ہر چیز غیر فطرتی ہوجاتی ہے ۔اس وقت ہمیں یہ اندازہ ہوتاہے کہ اپنے قبضہ و ملکیت کے بغیر ہم کون ہیں ؟اس وقت ہمیں یہ جاننے کے بجائے کہ ہمارا کیا ہے ‘خود کا محاسبہ کرنا پڑتا ہے ۔کم بجٹ میں سفر کے دوران ہم یہ سب کچھ سیکھتے ہیں ۔یہ حالات ہمیں مختلف طریقوں سے تبدیل کرتے ہیں جن کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ جب بھی آپ سفر کے بعد یا ٹراویلس کے ذریعہ کمانا شروع کریں گے تو اس وقت ان اہم باتوں کو مت بھولنا جو اس راہ میں سیکھے ہیں ۔ان لوگوں کو یاد رکھنا جنہوں نے آپ کی مدد کی ہے ۔ ان لوگوں کو بھی یاد رکھنا جن کی مدد کا کوئی بدل آپادا نہیں کرسکتے کیونکہ مدد سے زیادہ اس وقت کی اہمیت ہوتی ہے جب آپ کی مدد کی گئی ۔لہذا زندگی میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کی مدد کیجئے ۔ زمین سے جڑے رہئے اور اپنی اوقات مت بھولئے۔ آپ کے آگے ایک حیرت انگیز و شاندار زندگی ہے ۔

قلمکار:مہمان مصنف

مترجم: اکبر خاں