یتیم اور غریب بچوں کی دنیا سنوارنے 'اڈان ایک میٹھا سپنا'

0

گڑگاؤں کی کمزور طبقے کے بچوں کو آرٹ میں تربیت دے کر خود کفیل بنانے میں کی جا رہی ہے مدد

پیرس میں فائن آرٹس میں رسمی تربیت کے بعد آیا بچوں کو تربیت دینے کا خیال

'اڈان ایک میٹھا سپنا' کے ذریعے ہزاروں بچوں کو آرٹ کی تربیت

مختلف آرٹ کی نمائش کے علاوہ سکندرپور میٹرو اسٹیشن پر تربیتیافتہ بچوں سے کی جا سکتی ہے ملاقات

'اڈان ایک میٹھا سپنا' کی بانی شکھا اگروال اب گڑگاؤں کے باشندوں کے درمیان کوئی انجانا چہرہ نہیں ہے اور خاص طور پروہ بچوں کے درمیان انتہائی مقبول ہیں۔ سال 2012 سے بچوں کو آرٹ کی تربیت دینے اور 'ویژول آرٹ' کے تئیں شعور بیدار کرنے میں مصروف ہیں۔ شکھا کا خیال ہے کہ معاشرے میں کمزوروں کی مدد کرنے کے لئے صرف پیسوں سے ہی مدد کرنا ضروری نہیں ہے۔ ہم بچوں کو آرٹ کے ذریعے خود کفیل بنا کر بھی اپنا بہترین کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اور وہ ایسا کر بھی رہی ہیں۔

'اڈان' کے ذریعے شکھا اور ان کے ساتھی اب تک بہت سے غریب بچوں کو آرٹ میں ماہر بنا کر انہیں ان کے پیروں پر کھڑا کرنے میں مدد کر چکی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ مختلف اسکولوں میں آرٹ کی خاص جماعتوں کا انعقاد کرتے ہوے 10 ہزار سے بھی زائد بچوں کو آرٹ کی طرف راغب کر چکی ہیں۔ شکھا کہتی ہیں کہ فن کو لے کر ہمارے ملک میں شعور انتہائی کم ہے اور ہم اپنے بچوں کو ریاضی، انگریزی اور ہندی کے چکر میں پھنسا دیتے ہیں۔ ایسے 'ویژول آرٹ' کا نمبر تو کافی بعد میں آتا ہے۔ '' ہمارا مقصد بچوں کو ان کی تخلیقی صلاحیت کا استعمال کرتے ہوئے اسکولوں کی كاپی کتابوں سے باہر کی رنگوں سے بھری ہوئی دنیا سے روبرو کرنے میں مدد کرنا ہے۔ آرٹ کا تعلق تخلیق سے ہے اور اس کے ذریعہ ایک الگ نظریہ سے دنیا کو دیکھا جا سکتا ہے۔ میری نظروں میں فن کے بغیر دنیا کا کوئی مول نہیں ہے اور میں اس کے ذریعے سے بچوں کو ان کی مرضی سے وہ سب کچھ کرنے کی آزادی دیتی ہوں جو ان کے دل میں ہے۔''

شکھا مزید کہتی ہیں، '' ہمارے اسکولوں میں آرٹ کو ایک بالکل ہی مختلف طریقے سے سکھایا جاتا ہے۔ اسکولوں میں بچوں کو آڑی-ترچھی لکیریں کھینچ کر رنگ بھرنا سكھاكر یہ مان لیا جاتا ہے کہ ہمنے انہیں آرٹ سکھا دیا ۔ اصل میں آرٹ اخترائی سوچ کا استعمال کرتے ہوئے کچھ مختلف کرنے کا نام ہے۔ ہم بچوں کو ان کی اخترائی سوچ کا استعمال کرتے ہوئے کسی بھی چیز کو بنانے کے لئے حوصلہ افزائی کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی ہر ممکن مدد کرتے ہیں۔''

چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی سے سائنس میں گریجویشن اور بی ایڈ کی تعلیم حاصل کرنے والی شکھا نے شروع میں آرٹ کو ایک شوق کے طور پر اپنایا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے پیرس کے ایک آرٹ اسکول سے فائن آرٹس میں رسمی کورس کیا اور اس کے بعد فن اور زندگی کے تئیں ان کا نظریہ ہی بدل گیا۔ شکھا کہتی ہیں، '' پیرس سے آرٹ کی باریکیاں سیکھنے کے بعد ہندوستان واپس آکر میں نے اسکول کے بچوں کو آرٹ کی تربیت دینا شروع کیا۔ کچھ عرسہ بعد مجھے محسوس ہوا کہ میں اپنے اس ہنر کے ذریعے کمزور طبقے کے بچوں کو خود کفیل بنانے میں مدد کر سکتی ہوں۔ میں نے سال 2012 میں 'اڈان ایک میٹھا سپنا' قائم کی اور غریب بچوں کو فاین آرٹس کی تربیت دینا شروع کیا۔''

سب سے زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ فن کو کس طرح مفید اور روزگار کے قابل بنایا جائے۔ اصل بات یہ ہے کہ فائن آرٹس کو متابادل روذگار کی شکل دینے پر توجہ مبزول کرنے کی ضرورت ہے۔

آہستہ آہستہ انہوں نے کچھ دوسرے لوگوں کو رضاکاروں اور ساتھیوں کے طور پر اپنے ساتھ شامل کیا اور اب وہ غریب بچوں کو آرٹ کے علاوہ گرافک ڈیزائن، کرافٹ، فیشن ڈیزائن اور ویسٹ مےٹيريل سے پینٹنگ تیار کرنے میں ماہر کر رہی ہیں۔ شکھا بتاتی ہے، ''ہمارا مقصد ان بچوں کو آرٹ کے ذریعے اس قابل بنانا ہے کہ مستقبل میں یہ اسی کے سہارے اپنی زندگی گزار سکیں۔ ہم خاص طور پرلڑکیوں کو خود کفیل بنانا چاہتے ہیں اور آرٹ خود کفیل ہونے کا ایک بہت ہی بہترین ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ فی الحال ہم 8 غیر سرکاری تنظیموں اور ذہنی طور پر معذور ہبچوں کو سنبھالنے والے ایک یتیم خانے کے ساتھ بھی کام کر رہے ہیں۔ ''

معذور بچوں کے ساتھ کام کرنا کافی مشکل ہے اور اس کے بارے میں بات کرتے ہوئے وہ جذباتی ہو جاتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، '' ایک تو وہ بچے یتیم ہیں اور اوپر سے ان کا ذہنی توازن بھی ٹھیک نہیں ہے۔ ہم اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہفتے میں 2 دن ان بچوں کو سکھانے کے لئے جاتے ہیں اور آپ یقین مانيے وہ بچے بڑی بیتابی سے ہمارا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ چونکہ ان بچوں کا بیرونی دنیا سے رابطہ نہیں ہوتا اس لیے وہ ہم کو دیکھتے ہی خوش ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں ان بچوں کو آرٹ کی تعلیم دیتے ہوئے، جو سکون ملتا ہے وہ اور کسی کام میں نہیں ملتا۔''

بچوں کو خود کفیل بنانے کے لئے یہ خاتون طالب علموں کو فائن آرٹس سے متعلق ایک یونیورسٹی سےمراسلات کے ذریعے ڈگری بھی دلوانے کا کام کرتی ہیں۔ شکھا بتاتی ہے ہم ہر سال فن میں ماہر ہونے والے طلباء و طالبات کو پریاگ موسیقی کونسل سے ڈگری حاصل کرنے کے لئے امتحان دلواتے ہیں۔ اس طرح سے ہمارے سیکھے ہوئے بچے کچھ وقت بعد فن کے میدان میں سندیافتہ بن جاتے ہیں جس سے انہیں آگے چل کر روزگار ملنے میں بہت آسانی ہوگی۔''

اب تک شکھا اس کام کو اپنے افراد خاندان اور دوستون کے تعاون سے جاری رکھے ہوئے ہیں' اس کے علاوہ کچھ رضاکار بھی ان کی مدد کرنے کا کام کرتے ہیں۔ ساتھ ہی وہ ان بچوں کی طرف سے تیار کئے گئے فن کے نمونے، پینٹنگس کی نمائش منعقد کرکے بھی کچھ آمدنی حاصل کی جاتی ہے۔ شکھا کہتی ہیں۔ ' کچھ این جی او ضرور ہمارا ساتھ دینے کے لئے آگے آئے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز کئی بار ان بچوں کے لیے کینوس، رنگ وغیرہ کے طور پر مدد کرتا ہے۔ اب تک ہم ان بچوں کی طرف سے تیار کئے گئے تصاویر کی دو نمائش منعقد کر چکے ہیں جسے لوگوں نے سراہا ہے۔ ''

پہلے تو شکھا اکیلی تھیں، لیکن اب ان کی طرف سے سکھائے گئے 6 بچے اس کام میں اتنے ماہر ہو چکے ہیں کہ اب وہ بھی ان کے ساتھ بچوں کو تربیت دینے میں مدد کر رہے ہیں۔ شکھا بتاتی ہیں، '' بچے اس کام میں اتنی مہارت حاصل کر چکے ہیں کہ اب وہ میرے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر دوسرے بچوں کو سکھانے کا کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے کچھ بچے وال پینٹنگ کا کام بھی کامیابی کے ساتھ کر رہے ہیں اور یہ ان کے لئے ذریعہ معاش بن چکا ہے۔۔ نمائش کے علاوہ کچھ دن پہلے ہم نے سکندرپورکے ریپڈ میٹرو اسٹیشن پر سرسبز و شاداب گڑگاؤں کے موضوع پر لوگوں کو مسلسل قدم بڑھانے کے لئے حوصلہ افزائی کی۔ اس کے لئے ایک پوسٹرتیار کیا۔ اس مہم کے تحت بچوں نے ایک صاف، صحت مند اور آلودگی سے پاک شہر تیار کرنے کا خواب کی شکل میں دیوار پر پینٹنگ کی۔ ''

شکھا اور ان کے ساتھی ' اڈان ' کے ذریعے ان بچوں کو نہ صرف فن کی تفصیلات سے واقف کروا رہے ہیں بلکہ انہیں آنے والے زندگی میں اس ہنر کو استعمال میں لانے کے لئے بھی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ بچے اپنے پیروں پر بھی کھڑے ہو پا رہے ہیں اور ان میں معاشرے کو لے کر شعور بھی بیدار ہو رہا ہے۔