ذینڈیسک : مسائل سے ہار نہ مان کر پایا نئی منزلوں کا پتہ

انگنت مشکلوں سے گزر کر ہزارو گاہکوں تک پہنچنے کا فن

0

ذینڈیسک سافٹویئر بنانے والی سر فہرست کمپنی ہے، جس کا استعمال نہ صرف کاروباری ستح کی سافٹویئر سروس (ساس سوٹ Saas suit) میں ہوتا ہے، بلکہ ہیلپ ڈیسک، ٹکٹوں کی فروخت، ایشو ٹریاکنگ اور گاہكوں کی خدمات کے لئے کیا جاتا ہے۔ آج اس کمپنی نے دنیا بھر میں 81 ہزار سے زاید گاہک بنائے ہیں۔ دنیا کے 12 شہروں میں کمپنی کے 1500 سے زائد ملازمين کام کر رہے ہیں۔ یور اسٹوری کے ٹیكسپارک 2016 میں زین ڈیسک کے بانیوں میں سے ایک مارٹن پرائمڈل نے اپنے تجربات کی بنیاد  پر اظہار خیال کیا۔

حالانکہ آج ذینڈیسک دنیا کی مانی ہوئی کمپنیوں میں سے ایک ہے، لیکن اس کا سفر اتنا آسان نہیں رہا ہے، بلکہ کمپنی نے دنیا کے سامنے اپنی ایک مثال قائم کی ہے، جس سے لوگ تحریک و ترغیب حاصل کرتے ہیں۔ اس کے بانی الیکزینڈر ایگاشپور، مارٹن پراِئمڈل اور مائکل شوین نے مل کر اس کمپنی کی شروعات کی تھی، اس وقت حالات کافی ناسازگار تھے، شروعات کافی مایوس کن تھی۔ اس لئے اپنی کمپنی کے علاوہ وہ پارٹ ٹائم مشیر کے طور پر دوسری کمپنیوں میں کام کرتے تھے۔ حالانکہ ماہرین مانتے تھے کہ ان کے پروڈکٹ میں کچھ نیا نہیں ہے، لیکن ذینڈیسک کے بانیوں نے ابتدائی دنوں کے ان مسائل پر ایک دن جیت حاصل کر ہی لی۔ اپنا ہیڈ کوارٹر انہوں نے سلیکان ویلی میں منتقل کر دیا اور پھر نئے نَئے تجربے کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔

مارٹن بتاتے ہیں کہ 1999 میں انہوں نے اپنی نئی کمپنی کے بارے میں اس وقت سونچا جب وہ ڈینمارک میں بائو ٹیکنالوجی کا مطالعہ کر رہے تھَے، وہ سوچ رہے تھے کہ ایک سال کی چھٹی لے کر کچھ اور سیکھیں۔ اس وقت ان کے پاس اپنا کمپیوٹر تھا۔ کام شروع کیا اور دلچپسی بڑھتی گئی٫ آخرکار طے کیا کہ اسی شعبے میں کام کریں گے۔ اس وقت جو کام شروع ہوا آج ذینڈیسک کی شکل میں موجود ہے اور مارٹن اس کے سی ای او ہیں۔

مارٹن کے مطابق مائکل اور الیکزینڈر کے ساتھ ملکر انہوں نے بازار میں آن لائن ڈمانڈ کمپیٹر سروس کرنے کا فیصلہ کیا تو ان کا یہ تجربہ کافی کارآمد ثابت ہوا٫ کمپیوٹر سروس کو آسان بنانے کی پہل کے تحت انہوں نے کئی سافٹویئر تیار کئے، لیکن یہ کام شروعاتی دنوں میں کافی مشکل تھا۔ سال 2000 میں آخرکار وہ اس میں کامیاب ہو ہی گئے۔ تینوں بانی دوسری کمپنیوں میں پارٹ ٹائم کام کرتے ہوئے اپنی کمپنی کے سافٹویئر بنانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے۔ ان کی محنت رنگ لاتی رہی اور پھر لوگوں نے ان کے کام کو سراہنا شوروع کیا۔ سال 2007 میں انہوں نے فیصلہ کیا کہ اب وہ پورا وقت اپنی کمپنی کو ہی دیں گے۔ حالانکہ اس وقت بھی SaaS suite بنانے والی کئی کمپنیاں تھی اور ڈینمارک میں اس وقت سرمایا کاری بھی کساد بازاری کا شکار تھی۔ ایسے میں تینوں بانیان کمپنی نے اپنے خاندانوں کا رخ کیا اور کچھ سرمایا حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔

حالات کچھ سدھر رہے تھے کہ اچانک ان کے دو سرمایادار جیسن کلاکنس اور مائک ایرنگٹن نے ذینڈیسک کو معمولی کمپنی سمجھتے ہوئے ٹیک کرنچ ٹیک 50 پروگرام کا حصہ بننے سے انکار کر دیا۔ مارٹن نے کہا حالانکہ یہ ایک مشکل گھڑی تھی،لیکن وہ ہر مشکل کے لئے تیار تھے۔ مارٹن نے یور اسٹوری کا ہی حوالہ دیتے ہوئے ہی کہا کہ ٹیک 30 کے وقت یوراسٹوری کے ساتھ بھی ایسا ہوا لیکن کمپنی آگے بڑھتی رہی۔

مارٹن بتاتے ہیں کہ 2009 میں انہوں نے 5 لاکھ ڈالر کی سرمایاکاری حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی اور ساڑھے 85 ملین ڈالر کی آمندنی کرنے میں کامیاب رہے۔ پھر تو ان کی کمپنی کے ساتھ آنے والوں کی تعداد بڑھتہ رہی۔

2004 میں ذینڈیسک نے آئی پی او بازار میں داخلہ لیا۔ ان کے اس قدم کو بازار میں اچھا رد عمل ملا۔ انہیں ہندوستان میں بھی اپنی کمپنی کو ملی حوصلہ افزائی سے کافی خوشی ہوئی۔ اب انہوں نے سوچ لیا ہے کہ ہندوستان میں بھی کمپنی کا دفتر کھولا جائَے۔ کچھ اسٹارٹپس کے ساتھ اپنی مفت خدمات کی پیشکش بھی ذینڈیسک نے کی ہے۔ اس کے لئے اس پتے پر تفصیل حاصل کی جا سکتی ہے۔

www.zendesk.com/startups/

تحریر ہرشت مالیہ

Related Stories