كٹھات برادری کی تاریخ میں پہلی بار کسی لڑکی نے کی ملازمت

راجستھان کی ایک برادری کی بیٹی سوشیلانے رچی تاریخ اور بنی سب انسپکٹر

0

کسی ایک شخص کی کہانی صرف اس کی کہانی نہیں ہوتی، بلکہ اس کے ساتھ اس کا ماحول، سماج، رسم و رواج سب سمٹ کر آتے ہیں۔ ایک ایسی ہی کہانی راجستھان کے احمد کٹھات کی بیٹی سوشیلا کٹھات کی کہانی میں چھپی ہے۔

سوشیلا كٹھات
سوشیلا كٹھات

سوشیلا لوگوں میں سے نہیں ہے، جو بنے بنائے راستے پر چلنے میں سکون پاتے ہیں۔ بلکہ یہ دوسری طرح کے خصوصیات کی حامل ہے۔کچھ لوگ بنے بنائے راستوں پر نہیں چلتے، چونکہ انہیں اس بات کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ لیک پر چلنا آسان تو ہے، پر نیا نہیں، بھیڑ کے ساتھ چلنا خود کے وجود کو کھو دینے جیسا ہے۔ لہذا ایسے لوگ اپنی راہ خود بناتے ہیں۔ ظاہر ہے راستہ بنانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ معاشرے کے لوگ طعنے بھی مارتے ہیں، بات بات پر پریشان بھی کرتے ہیں، لیکن جب جیت ہوتی ہے تو پھر اس کا سب لوہابھی ماننے لگتے ہیں۔ اگر لیک سے ہٹنے کی جرأت کسی عورت نے کی ہے تب تو سمجھ لیجئے مسئلہ اور مشکل ہے۔ پر جو کامیابی ملتی ہے وہ بھی کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔ ایسی ہی ایک مثال سوشیلا كٹھات کی ہے۔

29 سال کی سوشیلا كٹھات کی شادی محض 5 سال کی عمر میں ہو گئی تھی، مگر ہوش سنبھالتے ہی سوشیلا نے پہلی جنگ اپنی برادری کے اندر لڑی وہ بھی اپنی شادی کو ختم کرنے کے لئے۔ تب پوری برادری نے سوشیلا کے خاندان سے منہ موڑ لیا تھا، لیکن سوشیلا اب پورے معاشرے کی رول ماڈل بن گئی ہیں۔ پہلی بار كٹھات برادری کی کوئی لڑکی سرکاری نوکری میں گئی ہے۔ رکشہ چلانے والے احمد كٹھات کی بیٹی سوشیلا كٹھات اپنی برادری کی پہلی ملازمت کرنے والی خاتون بنیں اور اب راجستھان پولیس میں سب انسپکٹر ہیں۔

راجستھان میں 12 لاکھ کی آبادی والی كٹھات برادری میں کبھی کسی لڑکی کا تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملتا تھا۔ راجستھان کے اجمیر، پالی اور بھلواڑا ضلع میں پہلے كٹھات برادری کے لوگ اسلام کو مانتے ہیں، لیکن تمام رسم و رواج ہندو مذہب کی طرح ہی کرتے ہیں، لیکن مانتے ہیں ۔ نعش کو جلاتے سے لے کر ہندو مذہب کے تمام تہوار مناتے ہیں، مگر نماز بھی پڑھتے ہیں۔ یہ اپنی لڑکیوں کی شادی بچپن میں ہی کر دیتے ہیں، لہذا کوئی لڑکی کبھی اسکول نہیں جاتی۔ لیکن اسی كٹھات برادری کے لاسڑيا گاؤں کی سوشیلا نے سسرال جانے کے بجائے قریبی شہر بياور کے اسکول میں پڑھنے جانے کا فیصلہ کیا۔ سوشیلا کہتی ہے،

"ہم سات بہنیں ہیں اور ماں چاہتی تھیں کہ ہم سب پڑھے۔ لیکن یہ سب آسان نہیں تھا۔ میں پہلی ایسی تھی جو اپنے گاؤں اور برادری سے اسکول جانا شروع کیا تھا"

سوشیلا راجستھان پولیس اکیڈمی سے 14 ماہ کی پولیس ٹریننگ کر پروبیشن پر پولیس سب انسپکٹر بن گئی ہیں۔ سوشیلا کی اس کامیابی کو دیکھنے کے لئے ماں اس دنیا میں نہیں رہیں۔ 6 ماہ پہلے ہی ماں چل بسی، لیکن والد اس خوشی کو بانٹنے کے لئے بیٹی کی پاسنگ پریڈ کے دن ٹریکٹر کرایہ پر لے کر پورے گاؤں کو پولیس اکیڈمی لے کر آئے۔

گاؤں والوں کے ساتھ پولیس اکیڈمی میں
گاؤں والوں کے ساتھ پولیس اکیڈمی میں


لاسڑيا میں كٹھات برادری کے 350 گھر ہیں اور قریب 3000 کی آبادی ہے۔ والد احمد كٹھات دہلی میں رکشہ چلاتے تھے اور ماں گاؤں میں کھیتوں میں کام کرتی تھی۔ لیکن دونوں اپنی پوری کمائی جمع کر بیٹی کی پڑھائی میں لگاتے رہے۔ والد احمد كٹھات کہتے ہیں،

"سوشیلا کی اس کامیابی نے كٹھات برادری کی قسمت بدل دیا ہے اب لساڑيا گاؤں کی تمام لڑکیاں اسکول میں پڑھنے جانے لگی ہے۔ میں گاؤں کے لوگوں کو دکھانا چاہتا تھا کہ تعلیم کیا کر سکتی ہے۔"

سوشیلا کی تین اور بہنیں بھی اب نوکری کرنے لگی ہیں اور دیگر بھی تیاری کر رہی ہیں۔ اپنی بہنوں کو یاد کرتے ہوئے سوشیلا کی آنکھیں بھر آتی ہیں کہ کس طرح سے اکیلی لڑکی کے لئےپڑھںے کے لئے پہلے پاس کے گاؤں جانا پڑتا تھا اور پھر بعد میں اعلی تعلیم کے لئے شہر بياور جانا پڑا تھا۔ لیکن اسے اس کی ماں کا ساتھ ہمیشہ ملا۔

سوشیلا اپنی برادری کی پہلی لڑکی ہیں جنہوں نے شہر جا کر گریجویشن اور پوسٹ گریجویشنکی تعلیم مکمل کی۔ پھر ایم فل اور یو جی سی نیٹ بھی کامیاب کیا۔ سوشیلا کا مقصد ہے کہ معاشرے سےبچپن کی شادی کے رواج کو ختم کیا جائے۔ سوشیلا کہتی ہیں،

"میری کوشش یہی رہے گی کہ کوئی بھی باپ اپنی بیٹی کی شادی بچپن میں نہیں کرے۔ اگر یہ روایت مٹ گئی تو معاشرے کی لڑکیاں کامیابی کی بلندیاں حاصل کریں گی۔"

سوشیلا کو پہلی پوسٹنگ واڑہ کے تھانہ میں ملی ہے جہاں كٹھات معاشرے کے بہت سے گاؤں ہے۔ لہذا یہ اس کا آغاز یہیں سے کرنا چاہتی ہے۔

......................

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

FACE BOOK

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

 اردو یور اسٹوری ڈاٹ کوم 

--------------------

قلمکار: رمپی کمار

مترجم : زلیخا نظیر