چار دوستوں نے ملک میں پہلی بار گرام پنچایت کوبنایا مفت وائی فائی زون

0

وزیر اعظم کے ڈیجیٹل انڈیا سے ملی ترغیب

ملک بھر میں ڈیجیٹل انڈیا مہم کے تحت جو کام مرکز کی مودی حکومت کر رہی ' اس سے نوجوانوں میں کافی جوش و خروش پیدا ہو گیاہے ۔ نوجوانوں کی مسلسل کوشش ہے کہ اپنی قابلیت سے اس مشن کا حصہ بنیں ۔ اسی سے ترغیب حاصل کرتے ہوئے مدھیہ پردیش کے چار نوجوانوں نے حیرت انگیز کام کیا ہے ۔ نوجوان انجینئر شکیل انجم' تشار بھرتھرے' بھانو یادو اور ابھیشیک بھرتھرے نے ملک کی پہلی مفت وائی فائی گرام پنچایت زون بنایا ہے ۔ خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے بغیر سرکاری مدد کے اپنی جیب سے پیسے لگا کر اس کام کو انجام دیا ۔

چاروں نوجوانوں نے باہمی رضامندی سے راجگڈھ ضلع کے شیوناتھ پور گاؤں اور اس کی پنچایت باوڑی کھیڑا جاگیر کو مفت وائرلیس ٹیکنالوجی سے وائی فائی گاؤں بنانے کا منصوبہ بنایا ۔ اس گاؤں کومنتخب اس لئے کیا گیا کیونکہ باوڑی کھیڑا بلند ی پرواقع ہے اور وائی فائی زون کے لئے بالکل موزوں ہے ۔ گاؤں میں بجلی کی باقاعدہ سپلائی نہ ہونے کی وجہ سے یہاں 200 ایمپر کا پاور اینورٹر بھی نصب کیا گیا ہے تاکہ گاؤں اور گرام پنچایت میں 24 گھنٹے بجلی کی فراہمی نہ ہونے کی حالت میں بھی اینورٹر سے وائی فائی چلتا رہے اور گرام پنچایت کے لوگوں کو اس کا فائدہ بغیر خلل کے ملتا رہے ۔

راجگڈھ کے ان چار نوجوان IT انجینئرس نے ڈیجیٹل انڈیا کو گاؤں کی سطح پر کامیابی سے آپریشن کی کوشش کرنے کی منصوبہ بندی 6 ماہ پہلے کی تھی ۔ اس سمت میں انہوں نے کوششیں شروع کردی ۔ ان کوششوں سے مدھیہ پردیش میں مفت وائی وائی زون کی سہلوت سے آراستہ پہلا گاؤں شیوناتھ پور آج لوگوں کے سامنے بہترین مثال بن گیا ہے اور شہرت کی بلندی پرپہنچ گیا ہے۔

اس پراجکٹ کی منصوبہ بندی کے لئے صرف1 لاکھ 90 ہزار روپے خرچ ہوئے۔ گاؤں میں سب سے پہلے تقریباً 80 فٹ بلند لوہے کا ٹاور لگایاگیا ۔ ایئر ٹیل کا سرور اور اسی کمپنی سے لیز لائین حاصل کی گئی ۔ اس کے بعد تقریباً 90 ہزار روپے کی لاگت سے ایکسس پوائنٹ' ایکسٹینشن اور ٹاور تیار ہوا ۔ ایک پاور بیم اور 200 ایمپر پاور اینورٹر لگایا گیا ۔

اس کامیابی پر ان چاروں دوستوں میں سے ایک شکیل انجم نے یور اسٹوری کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے اپنے تجربات بیان کئے ۔

یور اسٹوری : شکیل انجم ! کس طرح مفت وائی فائی گرام پنچایت بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی؟

شکیل انجم : شروع میں ایک گاؤں کو مفت وائی فائی کرنے کے بعد ہم نے طے کیا کہ اب اس سے بڑا کام کیا جائے اور کیوں نہ ایک پوری پنچایت کو مفت وائی فائی زون میں تبدیل کیا جائے ۔ اس کے لئے ہم چاروں نے اپنی کوشش شروع کر دی ۔ خود اپنی طرف سے پیسے جوڑ جوڑ کر کام جاری رکھا ۔ اس کو پورا کرنے میں کم و بیش دو لاکھ روپے خرچ ہوئے ۔ آخر کار اس انوکھے کام میں ہمیں کامیابی مل ہی گئی ۔ اس کے لئے شیو ناتھ پور کو بیس اسٹیشن بنا کر باوڑی کھیڑہ کوجوڑ دیا ۔ اس کے لئے 5.8 اور 2.4 فریکوینسی کا آلہ استعمال کیا جا رہاہے۔

یوراسٹوری : آپ چاروں کے ذہن میں یہ خیال کہاں سے آیا؟

شکیل انجم : ہم لوگ وزیر اعظم نریندر مودی کے ڈیجیٹل انڈیا کی مہم سے جڑنا چاہتے تھے ۔ انہی کی مہم سے ترغیب حاصل کی ۔ ملک کو مفت وائی فائی کرنے کی سمت میں ہم لوگ بھی اپنی کچھ نہ کچھ خدمات فراہم کرنا چاہتے تھے۔ ظاہر ہے کوشش کرنے پر کامیابی ضرور ملتی ہے لہٰذا اس کا مثبت نتیجہ برآمد ہوا۔

یوراسٹوری: اس پروجیکٹ کے لئے آپ لوگوں کے دماغ میں کبھی یہ نہیں آیا کہ کسی اور سے مالی مددحاصل کی جائے؟ خود کے پیسے لگانے کے پیچھے کیا سوچ تھی؟ حکومت سے کوئی مدد لینے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی؟

شکیل انجم : دیکھئے' اگر ہم کسی سے پیسے کی مدد مانگتے تو نہ جانے لوگ ہمارے بارے میں کیا سوچتے ۔ اس لئے ہم نے طے کیا کہ بغیر کسی کی مدد کے اپنی جیب سے پیسے لگا کر اس کام کو انجام دیں گے۔ آج ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ مکمل پروجیکٹ ہم چار دوستوں کا ہے ۔ اب آگے اس کام کو بڑھانے کے لئے حکومت کی مدد درکار ہے۔ ہمارے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے ہماری کامیابی پر ٹویٹر پر خوشی ظاہر کی ہے۔

یوراسٹوری : آپ چاروں دوستوں کے اس کرشمہ پر گاؤں والوں کاکیا ردعمل ہے؟ ان کے لئے یہ کوئی انوکھی چیز ہے یا وہ اس کا استعمال جانتے ہیں؟

شکیل انجم: گاؤں کے لوگوں کا ہم شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ انہوں نے ہمارا بھرپور ساتھ دیا ۔ ہم لوگوں نے گاؤں والوں کو انٹرنیٹ کی تربیت دی ہے ۔ اس کے لئے ہم نے ایک این جی او کی مدد بھی لی ہے۔ اب یہ دیکھ کر اچھا لگتا ہے کہ لوگ اینڈرائڈ فون خرید کر فیس بک' گوگل جیسی خصوصیات کا فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔ اپنے اس کارنامہ پرہمیں بڑی مسرت ہوتی ہے ۔

قلمکار:نیرج سنگھ

مترجم: شفیع قادری