امریکہ سے واپس آنے کے بعد ایک شخص نے غریب بچوں کے لئے بنایا 'سلم ساکر'

0

کسی بھی مضبوط معاشرے کی بنیاد وہاں کے بچے اور نوجوان ہوتے ہیں، اس لئے کہا جاتا ہے کہ اگر بچوں کی بنیاد مضبوط ہوگی تو ان کی آگے کی زندگی بھی خوشحال ہوگی اور ملک بھی ترقی کرے گا، لیکن ہمارے معاشرے میں کئی بچے بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہے۔ ایسے بچے جو بنیادی طور پر سلم آبادی میں رہتے ہیں اور تاعمر اپنے خاندان کی پرورش میں ہی لگے رہتے ہیں۔ ایسے ہی بچوں کی ترقی اور انہیں سماج کے مرکزی دھارے سے جوڑنے کا کام کر رہے ہیں ناگپور کے رہنے والے ابھیجیت واتسے۔

ابھیجیت واتسے پی ایچ ڈی رسرچر ہیں، انہوں نے يورسٹوری کو بتایا،

"میں دو سال امریکہ میں رہنے کے بعد سال 2005 میں ہندوستان واپس چلا آیا، کیونکہ وہاں پر کام کرتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ میری زندگی کا مقصد اپنے لئے ہی کام کرنا نہیں ہے بلکہ دوسرے غریب اور لاچار لوگوں کے لئے کام کرنا ہی میرا مقصد ہے۔ "

بھارت واپس لوٹنے کے بعد وہ ایک این جی او کے ساتھ جڑ گئے۔ یہ این جی او پہلے ہی سلم ایریا میں رہنے والے بچوں کو فٹبال کے ٹریننگ دینے کا کام کرتا تھا اور اس کا واحد مرکز ناگپور میں ہی تھا۔ یہاں سے کھیلنے والے کچھ بچوں کو اچھا کھیلنے کی وجہ سے سرکاری نوکری مل جاتی تھی۔

ابھیجیت نے اس این جی او سے جڑنے کے بعد اس کی توسیع کے بارے میں سوچا۔ انہوں طے کیا وہ 'سلم ساکر' کو ملک کے دوسرے حصوں میں بھی لے جائیں گے۔ اس کے لئے انہوں نے کئی فٹبال کلبوں سے بھی بات کی اور کئی کلبوں کو انہوں نے اپنے ساتھ جوڑ کر ناگپور، امراوتی، اكولا وغیرہ جگہوں کے ساتھ تامل ناڈو میں چنئی اور کوامبیٹور تو مغربی بنگال میں کولکتہ، مالدہ اور ہاوڑہ کے علاوہ ہریانہ میں سونی پت میں سینٹر کھولے ۔ ممبئی میں انہوں نے ابھی صرف آغاز ہی کیا ہے اور یہاں کئی سینٹر قائم کرنے میں لگے ہیں۔ ابھیجیت بتاتے ہیں کہ ہاوڑہ میں کچی آبادی علاقوں میں رہنے والے ان بچوں کو ورلڈ کلاس پچ میں جدید سہولیات کے ساتھ ٹریننگ دی جاتی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ اسٹیڈیم سلم ایریا میں ہی بنا ہوا ہے۔

بچوں کو فٹبال کے ساتھ ساتھ بنیادی تعلیم اور لائف اسکل کی بھی ٹریننگ دی جاتی ہے تاکہ آگے چل کر یہ بچے اپنے لئے روزگار بھی ڈھونڈ سکے۔ انہوں نے کچھ اسکولوں کے ساتھ ٹائی اپ کیا ہوا ہے اور وہاں پر یہ لوگ بچوں کو ان ہی پريڈ میں ریاضی، انگریزی، اور لائف اسکل کی تعلیم کھیل-کھیل میں دیتے ہیں۔ تاکہ بچے ریاضی جیسے موضوع کو بھی آسانی سے سمجھ سکیں۔ اس کام میں اسکول والے ان کی مدد کرتے ہیں کے ساتھ ہی بچے بھی ذہن لگا کر اس کو سیکھتے ہیں۔ ان سینٹر میں لڑکے اور لڑکیوں دونوں کو ہی یکساں طور پر ٹریننگ دی جاتی ہے۔ سلم ساکر کا وقت علاقے کے حساب سے طے کیا جاتا ہے کیونکہ وہاں رہے والے زیادہ تر بچے دن میں کام بھی کرتے ہیں اس لئے وہاں پر صبح 6 بجے سے ساڑھے آٹھ بجے تک اور شام کو ساڑھے چار بجے سے 6 بجے تک بچوں کو فٹبال کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔ سینٹر میں آنے والے بچو کی اوسط عمر 8 سال سے 18 سال تک ہے۔ اس وقت ان کے سینٹر میں تقریبا 35 فیصد لڑکیاں ٹریننگ لے رہی ہیں۔

ابھیجیت بتاتے ہیں،

"اب تک تقریبا 80 ہزار بچے ہمارے یہاں سے ٹریننگ حاصل کر چکے ہیں۔ اس وقت قریب 9 ہزار بچے ہمارے یہاں پر رجسٹرڈ ہیں۔ اس میں بھی سب سے زیادہ بچے ناگپور اور آس پاس کے شہروں کے ہیں۔ "

ابھیجیت کا کہنا ہے کہ ان کہ سکھائے ہوئے بچے آج ملک کے مختلف کلبوں کی جانب سے کھیل رہے ہیں اور کچھ بچے تو اسٹیٹ لیول پر بھی کھیل رہے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر بھی اس سینٹر کے بچے اپنا اور اپنے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔ ابھیجیت بڑے ہی فخر سے بتاتے ہیں،

"ہر سال مختلف ممالک میں ہونے والے 'هوملیس ورلڈ کپ' میں ہمارے سینٹر سے نکلنے والے بچے ہی حصہ لیتے ہیں اور پورے بھارت میں صرف ہماری تنظیم ہی ان بچوں کو منتخب کرتی ہے۔"

ابھیجیت کہتے ہیں کہ فٹبال مکمل طور پر روزگار والا کھیل نہیں ہے پھر بھی ہمارے یہاں سے نکلنے والے 20 فیصد بچے بہت سے کلب اور اسکولوں میں کوچ کا کام کر رہے ہیں اور کچھ نے کھیل سے منسلک کاروبار شروع کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ یہ لوگ 4 ذہین لڑکوں کو کوچ کا اور 2 لڑکیوں کو نرسنگ کی تربیت دلا رہے ہیں۔

فنڈنگ کے بارے میں ابھیجیت کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو کھلاڑیوں کے کھانے، رہنے اور ملک بیرون ملک آنے جانے کا انتظام خود ہی کرنا ہوتا ہے۔ اس کے لئے یہ مختلف جگہوں سے پیسہ جٹاتے ہیں۔ 'سلم ساکر' کو ہر سال فیفا کے ذریعے "فٹبال فار هوپ پروگرام" کے تحت فنڈنگ ملتی ہے۔ اس کے علاوہ انہیں لوکل لیول پر بھی عطیہ وغیرہ کے ذریعے فنڈنگ ملتی ہے۔ کچھ لوگ انہیں جوتے اور کپڑے بھی دیتے ہیں۔ گزشتہ سال شیورلے نے کولکتہ میں فٹبال پچ اور کھیل کے دوسرے سامانوں کو اسپانسر کیا تھا۔ اسی طرح چنئی میں گنیشا سے ان پروگرام کو چلانے میں مدد ملتی ہے۔ اب ان کا منصوبہ ملک کے دوسرے حصوں میں توسیع کرنے کا ہے، تاکہ دوسرے سلم ایریا میں رہنے والے بچے بھی اپنی ترقی ان کے ذریعے کر سکیں۔