واجد خان .. پیٹنٹ اور گنیز ریکارڈ رکھنے کے باوجود غیرمعروف آرٹسٹ

0


اسکولی تعلیم اَدھوری چھوڑنے کے بعد بڑے خوابوں کی تکمیل کے لئے برسہا برس مسلسل محنت کرتے ہوئے عالمی شہرت حاصل کرنے والے نوجوان کی کہانی!

اکثر بچوں کو بارش کے پانی میں کھیلنے کے لئے کاغذی کشتیاں بنانے کا مشغلہ پسند ہوتا ہے۔ مگر واجد خان نے زیادہ بڑا خواب دیکھا۔ انھوں نے ایک چھوٹا جہاز بنایا جو پانی پر چل سکے۔ انھوں نے 14 سال کی عمر میں دنیا کی سب سے چھوٹی الیکٹرک آئرن ایجاد کی، جسے بعد میں گنیز بُک آف ورلڈ ریکارڈز میں جگہ ملی۔ آج اس 34 سالہ آرٹسٹ کے نام پر (آئرن) نیل آرٹ پینٹنگ کا پیٹنٹ ہے، اُن کا نام عالمی ریکارڈز کی پانچ کتابوں شامل ہے اور وہ 200 ایجادات کا حامل نوجوان ہے۔

واجد خان اور اُن کا اسٹون پورٹریٹ
واجد خان اور اُن کا اسٹون پورٹریٹ

دنیا بھر کے زیادہ تر فنکاروں اور موجدوں کی طرح واجد خان کی شروعات بھی سادہ رہی۔ لیکن ان میں سے متعدد کے برخلاف وہ خود اپنے وطن میں زیادہ تر ’غیرمعروف‘ رہے ہیں۔ ضلع مندساور سے 11 کیلومیٹر کے فاصلے پر سونگیری نامی چھوٹے گا¶ں کی پیدائش اور پرورش کے حامل واجد نے اپنے بچپن کا زیادہ تر عرصہ اپنے اسکولی دور کے معمولی درجات کے سبب احساس کمتری میں گزارا۔ پھر بھی جو کچھ بھی شئے اُن کے ہاتھوں میں آتی، اسے لے کر وہ اپنے منفرد تجربات کرتے رہے۔ انھوں نے پانچویں جماعت میں اسکول چھوڑ دیا اور پھر آخرکار اپنا گھر بھی چھوڑا۔

فن کے ساتھ عملی آزمائش

واجد بتاتے ہیں کہ اُن کی زندگی کے نہایت فیصلہ کن موقعوں میں سے وہ رہا جب اُن کی والدہ نے انھیں 1,300 روپئے کی رقم دی اور انھیں چیلنج کیا کہ گھر چھوڑ کر اپنے مشغلہ کو پروان چڑھائیں۔ ”وہی واحد فرد تھیں جن کو یقین رہا کہ میں کچھ غیرمعمولی کارنامہ کرسکتا ہوں۔“ اُن کی حقیقی جدوجہد تب شروع ہوئی جب انھیں اپنے تجربات جاری رکھتے ہوئے 16 سالہ لڑکے کی حیثیت سے اپنی گزربسر کے لئے کمائی بھی کرنا تھا۔ اُس دور میں وہ ٹکنیکل روبوٹس کی طرف راغب ہوئے۔ انھیں اپنے دوستوں کے تعاون سے ایک موقع مل گیا کہ وہ این آئی ایف انسٹی ٹیوٹ آف احمدآباد کے لئے کام کرنے لگے۔

واجد خان کا آٹو پارٹس والا آرٹ ورک
واجد خان کا آٹو پارٹس والا آرٹ ورک

واجد کا کہنا ہے :

”میں نے 1998ءمیں تھرماکول لیا۔ آخرکار میں نے (آئرن) کیلوں کو استعمال کرتے ہوئے پورٹریٹس بنانے کا تجربہ شروع کردیا۔ میں مزید سیکھنے اور تجربہ بڑھانے کی خاطر 2004ءمیں اندور آیا۔ اب میں اندور اور ممبئی دونوں جگہ قدم جما چکا ہوں۔“

آخرکار 2005ءمیں واجد نے مہاتما گاندھی کا آئرن نیل پورٹریٹ مکمل کرلیا۔ یہ پورٹریٹ تین سالہ پُراستقلال محنت کے بعد 1.25 لاکھ آئرن نیلس کے ساتھ تخلیق کیا گیا۔ اُسی سال واجد نے کینویس پر ایکریلک رنگوں کو استعمال کرتے ہوئے وہ تخلیق کیا جو شاید دنیا کی اولین 3D پینٹنگ ہے۔ پھر بھی انھیں پہچان بہت بعد میں ملی جب اُن کا پہلا پورٹریٹ 2010ءمیں 20 لاکھ روپئے میں فروخت ہوا۔ ”میں نے گاندھی جی کے پورٹریٹ کے لئے بولی 50 لاکھ روپئے ہونے کے باوجود اسے کبھی نہیں بیچا۔ یہ ہمیشہ میرے دل سے قریب ترین رہے گا۔

“ وہ تاحال کئی نامور ہستیوں جیسے مدر ٹریسا، یسوع مسیح، دھیروبھائی امبانی و دیگر کے آئرن نیل پورٹریٹس بناچکے ہیں۔ وہ ایک خاص تختہ (اِمپورٹیڈ شیٹ) استعمال کرتے ہیں جس پر پنسل سے بنیادی خطوط بناتے ہیں تاکہ پورٹریٹ کے شروعاتی اور اختتامی نکتوں کی نشاندہی ہوجائے۔ ”میں کبھی شیٹ پر پہلے سے کوئی پورٹریٹ نہیں بناتا۔ میرے ذہن میں تصویر موجود ہوتی ہے اور میں اُسی کے مطابق آگے بڑھتا جاتا ہوں۔“

لیکن انھوں نے خود کو محض آئرن نیلس تک محدود نہیں رکھا ہے۔ واجد نے ناکارہ آٹو پارٹس، طبی سازوسامان اور سیاہ پتھروں سے غیرمعمولی لینڈسکیپ (وسیع زمینی منظر) اور پورٹریٹ (عکسی تصویر) نوعیت کا آرٹ بنایا ہے۔ انھوں نے ’لڑکیوں کو بچا¶‘ کی مہم کے تحت طبی سامان کو استعمال کرتے ہوئے ایک ننھی روتی لڑکی کے انسانی ہنر کو تخلیق کیا۔ مگر بلاشبہ اُن کے بلٹ آرٹ ورکس سب سے زیادہ توجہ حاصل کرتے ہیں۔

واجد خان کا بلٹ آرٹ ورک
واجد خان کا بلٹ آرٹ ورک

واجد کا کہنا ہے کہ بلٹ (گولی) تشدد کی علامت ہے اور گاندھی جی نے ہمیں عدم تشدد کا درس دیا۔ عدم تشدد کا پیام دینے کے لئے اُن کا پورٹریٹ بلٹس کو استعمال کرتے ہوئے بنانے سے بہتر کوئی طریقہ نہیں ہوسکتا ہے تاکہ تضاد ظاہر ہوسکے۔ دلچسپ چیز ہے کہ واجد کے تمام پورٹریٹس میں سیاہ غالب رنگ ہے کیونکہ وہ سیاہ پن کو سب سے طاقتور رنگ مانتے ہیں۔

فنکار کی بہبود کے لئے پہچان کا استعمال

واجد نے اپنے آئرن نیل آرٹ کے لئے 2009ءمیں پیٹنٹ حاصل کرلیا۔ گنیز کے علاوہ اُن کا نام گولڈن بک آف ورلڈ ریکارڈز، لمکا بک آف ورلڈ ریکارڈز، انڈیا بک آف ورلڈ ریکارڈ اور ایشیا بک آف ورلڈ ریکارڈز میں شامل کیا گیا ہے۔ وہ اپنے 140 ایجادات اور آرٹس ورکس کے پیٹنٹس کے لئے درخواست دے رہے ہیں۔ واجد کو 8 مارچ 2015ءکو آئی آئی ایم اندور میں لیکچر دینے کے لئے مدعو کیا گیا، جہاں انھوں نے مینجمنٹ میں اختراعیت کے موضوع پر اظہار خیال کیا۔

آرٹسٹ واجد خان
آرٹسٹ واجد خان

واجد کا کہنا ہے:

” میں جانتا ہوں شہرت اور دولت ہمیشہ کے لئے نہیں ہوتے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ دوسروں کے لئے جیو، نہ کہ خود کے لئے۔ لہٰذا، میں جسمانی طور پر معذور اور نادار لوگوں کی آرٹ کے ذریعے مدد کی کوشش کررہا ہوں۔ میں خوش قسمت ہوں کہ میری شریک حیات مریم کو آرٹ سے مساوی طور پر رغبت ہے اور ہم دونوں ممبئی اور اندور جیسے شہروں کے اسکولس اور دیہی علاقوں میں ورک شاپس منعقد کرتے ہیں تاکہ فنکاروں کو شناخت کریں اور انھیں سکھائیں۔“

واجد خان کو قطر میں منعقد شدنی 2022ءفیفا ورلڈ کپ کے لئے ایک منفرد مجسمہ کا خاکہ تیار کرنے کی ذمہ داری تفویض کی گئی ہے۔ ”میں میری پہچان کو دنیا بھر میں جدوجہد سے دوچار فنکاروں اور موجدوں کو پہچان دلانے میں مدد کے لئے استعمال کرنا چاہتا ہوں۔ میں کوئی این جی او شروع کرنے کا خواہاں نہیں ہوں۔ میں آرٹسٹوں کی مدد اور انھیں خودمکتفی بنانے میں خاموشی سے کام کرنے کو ترجیح دیتا ہوں۔“

واجد جن کا آرٹ ورک کسی آنے والے ہالی ووڈ وینچر میں شامل ہوسکتا ہے، اپنے آرٹ سے تجربات اور سکھانے کا عمل جاری رکھنے کے خواہش مند ہیں۔ 2016ءمیں وہ آکسفورڈ یونیورسٹی، لندن میں لیکچر دینے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

ویب سائٹ: http://wajidkhanartist.com/index.php

ملاحظہ کیجئے کہ کس طرح واجد خان غیرمعمولی آرٹ کی تخلیق کرتے ہیں :

https://youtu.be/eyTU5qzdGYQ

قلمکار : مکتی مسیح

مترجم : عرفان جابری

Writer : Mukti Masih

Translator : Irfan Jabri

Related Stories