ایک کسان نے بنائی پانی سے پانی کھینچنے والی ٹربائن، نہ بجلی کی ضرورت نہ ڈیزل کی

0

’منگل ٹربائن ‘ کرے آب پاشی کی ہرضرورت پوری ...

’لمکابک آف ورلڈ ریکارڈ‘ میں نام درج ...

50ہزارسے 5لاکھ روپئے تک آتی ہے لاگت ...

کیاآپ تسلیم کریں گے کہ تقریباً 24فیصد قابل ِ کاشت زمین بنجر ہے۔جہاں آب پاشی کا انتظام ہوجائے تو ملک اناج کے معاملے میں خود کفیل بن سکتاہے۔کچھ ایسی ہی سوچ کے تحت اترپردیش کے للت پورضلع میں رہنے والے کسان منگل سنگھ نے ایسی ٹربائن ایجادکی ہے جو ندی یانالے سے پانی کو لفٹ کرکے دورکہیں بھی بھیجنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔خاص بات یہ ہے کہ اس ٹربائن کو چلانے کے لئے نہ بجلی کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ ہی ڈیزل کی۔اس طرح کاشت کار کو کھیتی کے لئے پانی مل جاتاہے تو دوسری طرف ماحولیات کا تحفظ بھی ہوتاہے۔

کیسے بنائی ’منگل ٹربائن ‘

منگل سنگھ کا کہناہے ،

’’میری تعلیم صرف ہائر سیکنڈری تک ہوئی ہے کیوں کہ اس سے آگے پڑھائی کے لئے مجھے 20 کلو میٹر دورجاناپڑتاتھا۔لہٰذا پڑھائی چھوڑ کر اپنے چاروں بھائیوں کے ساتھ کھیتی کے کام میں جٹ گیا۔‘‘

وہ بتاتے ہیں کہ ایک دن سنچائی کے لئے استعمال ہونے والی 15ہارس پاورکی موٹر خراب ہوگئی جو دوبارہ نہیں چل سکی۔اس کے بعد انھوں نے نئی موٹر کے لون کے لئے بینکوں کے کئی چکر لگائے لیکن ان کو کامیابی ہاتھ نہیں لگی۔تب انھوں نے تھک ہار کر فیصلہ کیاکہ وہ خود ہی ایساکچھ کریں گے جو دوسروں کےلئے بھی مثال بن جائے۔بس پھر کیاتھا،بچپن کے دنوں میں رہٹ کے آس پاس یہ کافی کھیل کھیلتے تھے ۔اسی کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان کو خیال آیا کہ کیوں نہ کوئی ایسی چیز تیارکی جائے جس سے آپ پاشی ہوسکے۔اتناہی نہیں اس دوران انھوں نے ٹربائن کے بارے میں بھی تھوڑابہت سن رکھاتھاجس میں پانی کے ذریعے بجلی بنتی ہے ۔اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے انھوں نے ایک واٹر وہیل بنایااور پانی کھینچنے والے پمپ کو چلانے میں کامیابی حاصل کی۔

کیسے کام کرتی ہے ’منگل ٹربائن ‘

’منگل ٹربائن ‘ بہتے ہوئے پانی کی دھاراسے چلتی ہے ۔ضرورت کے مطابق چھوٹے یا بڑے وہیل کو گیئر باکس سے جوڑدیاجاتاہے۔اس کے بعد یہ انجن موٹر کی طرح تیز اسپیڈ میں چکر بناتاہے ۔اس طرح یہ بغیر انجن ،بغیر موٹر ،بغیر ڈیزل ،بغیر بجلی کے پائپوں کے ذریعے پانی کہیں بھی لے جایاجاسکتاہے اور پینے کے لئے بھی پانی پمپ کرسکتے ہیں۔وہیں کسان گیئر باکس کی شافٹ کے دوسرے سرے پر پُلّی لگاکرکٹی مشین ،آٹاچکی ، گناپیرائی یاکوئی دوسراکام کرسکتے ہیں یاجنریٹرجوڑ کر بجلی بنا سکتے ہیں۔

’منگل ٹربائن ‘ کی حصول یابیاں

اپنی اس حصول یابی کے بعد انھوں نے سب سے پہلے اس کی نمائش للت پورکے ضلع مجسٹریٹ کے سامنے کی اور اس کے بعد سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف ایگری کلچر انجینئرنگ ،بھوپال میں اپنی بنائی مشین کی نمائش کی تاکہ سائنس داں ان کی اس مشین سے متعلق معلومات حاصل کرسکیں ۔اتناہی نہیں ان کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے اپنے گاؤں کے پاس کی تقریباً سوہیکٹیئر بنجر زمین پرجہاں کبھی بکریاں چراکرتی تھیں اس کو اپنی اس تکنیک کے ذریعے سنچائی کرکے سرسبز وشاداب بنادیا۔منگل سنگھ کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے اپریل 2013میں اتراکھنڈ کے گھنسیالی علاقے سے 5کلو میٹر دورایک گاؤں میں اس تکنیک کا استعمال کیا۔جس کا فائد ہ لوگ پینے کے پانی کے لئے اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ جہاں پہلے لوگوں کو پانی لینے کے لئے 120میڑ نیچے آنا پڑتاتھا وہیں اب ان کو پانی پہاڑ پر ہی مل رہاہے۔

’منگل ٹربائن ‘ کی لاگت

اس تکنیک کی خاص بات یہ ہے کہ بہت کم پانی میں بھی کام کرتاہے لیکن ا س کے لئے ضروری ہے کہ یہ پانی مسلسل چلتے رہناچاہئے۔اتناہی نہیں اس تکنیک کو مقامی سطح پر تیار کیاجاسکتاہے ۔اس کے لئے کسی بڑے سازوسامان کی ضرورت نہیں پڑتی ۔منگل سنگھ کا کہناہے کہ ان کی بنائی ’منگل ٹربائن ‘ کی لاگت 50ہزار روپئے سے شروع ہوکر 5لاکھ روپئے تک پڑتی ہے اور یہ انحصارکرتاہے مشین کے ڈیزائن پر۔ان کے اس کارنامے پر سال 2013میں ان کا نام ’لمکا بک آف ریکارد‘میں بھی درج ہوچکاہے۔منگل سنگھ کا دعویٰ ہے کہ ’منگل ٹربائن ‘ آج نہ صرف اترپردیش بلکہ اتراکھنڈ اور مدھیہ پردیش کےکچھ علاقوں میں بھی استعمال ہورہی ہے۔اس مشین کے کافی اچھے نتائج دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

قلمکار : ہریش بشٹ

مترجم : محمد وصی اللہ حسینی

Writer : Harish Bisht

Translation by : Mohd.Wasiullah Husaini

Related Stories