ملئے ودھو گوئل سے، جنہوں نے طبی ڈپریشن سے لڑ کر حاصل کی ایک خوشحال زندگی

 "ہم ہمیشہ چیزوں کو اس طرح سے کہنے کے قابل نہیں ہوتے، جس طرح وہ ہوتی ہیں، ہمیشہ ہی شخص کو ایک ماہر کی رہنمائی کی مدد لینی چاہئے۔ جب بھی خود کو ایک گہرے بھںور میں جاتے ہوئے محسوس کیا، میں نے ہر وقت اپنے خیالات پر روک لگانا سیکھا۔ زندگی کی کامیابی کی كنجي یہ ہے کہ پرسکون رہیں اور اپنے آپ کو یہ یاد دلاتے رہیں کہ دنیا یہیں پر ختم نہیں ہوگی، کچھ نہیں ہوا ہے۔ میں ابھی تک یہ نہیں سمجھ پائی، لیکن یہ سچ ہے۔ "

0

اس وقت آپ کیا کریں گے جب آپ کی زندگی کا سب سے بڑا چیلنج، آپ کی اپنی زندگی کو اپنے آپ سے ہی ہارنے سے بچانے کی کوشش کرنا ہو؟ اس وقت آپ اپنا پہلا قدم کس طرح بڑھائیں گے، جب آپ کو یہ معلوم ہو کہ اگر اب مدد نہیں ملی تو زندگی کا وجود ختم ہو جائے گا۔

ایک کامیاب کاروباری، عمدہ ڈریس ڈیزائنر اور جانوروں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنے والی ودھو گوئل کو نہیں پتہ تھا کہ انہیں طبی ڈپریشن یا کلینکل ڈپریشن یا اوسی ڈی (آبسیسو كمپلسیو ڈسارڈر) ہے۔ ودھو بتاتی ہیں، "میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں کسی طرح کی پیشہ ورانہ مدد نہیں لوں گی، میں اپنی اس تیزی سے بدلتی ہوئی حالت کے بارے میں خود نہیں جانتی تھی، میں اپنے گھروالوں کو بھی نہیں بتانا چاہتی تھی کہ میں کس طرح کی جدوجہد سے گزر رہی ہوں، میں نے یہ امید بھی چھوڑ دی تھی کہ میں کبھی بھی ایک کامیاب پیشہ ورانہ زندگی جی پاوںگی۔ مجھے اپنے ہی گھر میں چھپے ہوئے تقریباً ایک سال ہو گیا تھا، میں نے ہر ایک سے پیچھا چھڑانا چاہتی تھی، اور کئی بار آپ کی زندگی کا اختتام کرنے کی کوشش کر چکی تھی۔ دنوں میں ہوئے نقصان کے بارے میں سوچتے ہوئے بدن میں آج بھی جھرجھری آ جاتی ہے۔ "

سال 2013 میں، ودھو نے اپنی زندگی کو پھر سے ڈگر پر لانے کا آغاز کیا، اور اس کے لئے انہوں نے ایک نہیں بلکہ دو طرح سے کام کیا۔ ان کا کہنا ہے، "علاج کی شروعات کرنے میں کبھی بھی کوئی تاخیر نہیں ہوتی، جب تک تھوڑی سی بھی کسر باقی رہے آپ کو شکست نہیں ماننی چاہئے، چاہے آپ کو آپ کے گھر کے باہر ہی مدد ڈھوڈھنی کیوں نہ پڑے۔"

ودھو ابھی تک کلینکل ڈپریشن کی دوا لے رہی ہیں، لیکن اب وہ ایک بہتر زندگی کی جانب گامزن ہیں۔ وہ کلینکل ڈپریشن سے جدوجہد کے بارے میں بتاتی ہیں اور امید کرتی ہیں کہ جو لوگ اس طرح کے مسئلے سے دوچار ہیں، ان کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ ان کی طرح اپنی خاموشی توڑیں اور آواز اٹھائیں اور مدد طلب کریں۔

ودھو کی پیدائش ہریانہ کے ایک چھوٹے سے قصبے جگادھری کے ایک تاجر خاندان میں ہوئی۔ ودھوکہتی ہیں، "وہاں لڑکے کاروبار کو آگے بڑھانے اور لڑکی اپنے لئے اچھا دولہا کی تلاش کرنے کے لئے بڑی ہوتی تھی۔" اس وقت اچھے اسکولوں کی کمی ہونے کی وجہ سے انہوں نے زندگی کا ایک اہم حصہ، اپنے گھر سے دور اجمیر کے میو گرلس کالج میں بسر کیا، جہاں پر انہوں نے 1996 میں چوتھی کلاس میں داخلہ لیا تھا۔ بعد میں انہوں نے 2009 میں گجرات کے نفٹ، گاندھی نگر سے ڈیزائن میں گریجویشن مکمل کیا۔

وہ کئی الگ الگ شہروں میں رہی اور کئی کمپنیوں جیسے جلی، ٹائٹن، آمرپالی وغیرہ کے ساتھ کام کیا۔ اس کے بعد وہ مئی 2103 میں بینگلور چلی گئی وہاں انہوں نے بلوسٹون ڈاٹ کام کے ساتھ اگست 2014 تک کام کیا۔

ایک وقت ایسا تھا کہ ودھو نے زندگی سے ہار مان لی تھی، اور کئی بار خودکشی کی کوشش کرنے کے بعد انہیں لگا کہ ان کی یہ حالت ایک کڑوا سچ ہے اور اسے جاننا بہت ضروری ہے۔

"میں نے نزدیکی کونسلنگ سنٹر کی آن لائن معلومات حاصل کی اور مشاورت لینے کا فیصلہ کیا۔ ایک نفسیاتی (مشیر) کے ساتھ کچھ سیشن کرنے کے بعد، وہ میری حالت کی سنگینی کا اندازہ کرنے کے قابل ہو پائے۔ کلینکل ڈپریشن اور اوسی ڈی کی بہتر تشخیص کی گئی، اس کے بعد باقاعدگی سے دوا اور طبی سیشن ہوا۔ اس نے میری اور میرے ارد گرد کے لوگو کی بہتر طور پر دیکھ بھال کرنے میں مدد کی۔ "

تجارت میں قدم

ودھو کا پہلا قدم تھا، هوم راگا ڈاٹ ڈاٹ کام، ایک پریمیم ریئل اسٹیٹ کمپنی، جو بڑے پیمانے پر پراپرٹی مینجمنٹ ، تارکین وطن کو رہائش سے متعلق مشورہ دینا، دوبارہ فروخت وغیرہ کام کرتی تھی۔ ان کے اور ان کے شوہر کو یہ احساس ہونے لگا تھا کہ ان کی کمپنی کے لئے ایماندار اور منظم لوگوں کی ضرورت ہے۔ ستمبر 2014 میں ہوم راگا کی بنیاد ڈالنے کا کام شروع ہو گیا، اور کمپنی اکتوبر 2014 میں متحرک ہو گئی۔

"کمپنی کی بنیاد ڈالنے کے لئے ایک تصوراتی، بہترین ویب سائٹ کی تعمیر، اندرونی طریقہ کار کو منظم کرنا، کمپنی کی ساخت تیار کرنا، مارکیٹنگ چینل کی تلاش، یہ سب میرے لئے بالکل نیا تھا، لیکن میں نے سیکھا ، تلاش کی اور مطالعہ کیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ سب کچھ کسوٹی پر کھرا اترے۔ "

مگر، کچھ ایسے بھی دن تھے جب بستر سے باہر نکلنا بھی ایک بہت مشکل کام تھا۔ کچھ دنوں تک، وہ بہت اداس تھی کہ کوئی بھی کام نہیں ہوتا تھا، لیکن پھر انہوں نے کافی جوش و جذبے اور محنت سے کام کیا۔ "ہمیشہ صرف ایک ہی بات دماغ میں چلتی تھی، وہ تھی ہر طرح سے اپنے شوہر کی مدد کرنا، جنہیں ابھی تک مجھ پر مکمل اعتماد تھا، اور یہ میرے لئے شروع کرنے اور آگے بڑھنے کا سب سے بڑا پہلو تھا۔ ایک وقت ایسا تھا جب میرا اعتماد اور خود کو سمجھنے کی صلاحیت بالکل ختم ہو گئی تھی، لیکن میرے شوہر کو میری صلاحیت پر پختہ یقین تھا، جس کی وجہ سے مجھے ہمیشہ امید کی کرن دکھائی دی۔ "

اگرچہ کلینکل ڈپریشن کی وجہ سے ودھوکو لوگوں سے بات چیت کرنے میں پریشانی ہوتی تھی، ان کے شوہر ہمیشہ ان کا چہرہ بن کر سامنے آئے اور انہوں پردے کے پیچھے پوری لگن کے ساتھ کام کیا۔

ان کی دوسری شروعات جنوری 2016 میں ہوئی۔ انہوں نے جوے'س کا افتتاح کیا، جسے کافی اچھی حوصلہ افزائی ملی۔ جوے'س ودھو کے پالے ہوئے ایک بلی کے بچے کو ایک خراج تحسین تھی، جس کی موت ہو چکی تھی۔ جوے'س کی مصنوعات پالتو جانوروں کی ضرورت کی اشیاء مہیا کراتے ہیں۔ وہ خود ایسے پروڈکٹ ڈیزائن کرتی ہیں۔

یہ ایک ہائبرڈ تجارت کے طور پر چل رہا ہے، جہاں کچھ مصنوعات تجارتی طور پر فروخت کئے جاتے ہیں اور کچھ بغیر کسی منافع کے فروخت کر دئے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے، "یہ ماڈل توازن کی طرح ہیں جس کی تلاش میں نے اپنی زندگی میں کر رہی ہوں۔

آج ان کے پاس 4 کتے اور 12 بلیاں ہیں، جنہیں انہوں نے اپنے بچوں کی طرح پالا ہے۔ ودھو بتاتی ہیں کہ ان کے پالتو جانوروں کی فکر نے ان کی زندگی میں اہم کردار نبھایا۔ خاص کر تب جب وہ برے وقت سے گزر رہی تھی، تب تب ان جانوروں سے نئی امید پیدا ہوئی، نیا جوش ملا۔

کوئی بھی شخص جو کلینکل ڈپریشن میں مبتلا ہے اکیلے اس کا سامنا نہیں کر سکتا۔ ودھو کہتی ہیں، "لوگوں کے لئے کہنا آسان ہے کہ،" خوش رہنا سیکھو، مثبت رہنا سیکھو، تمہاری خوشی تمہارے ہاتھو میں ہے۔، لیکن جو بھی کلینکل ڈپریشن کے اس کڑوی سچائی کے ساتھ جی رہا ہے، اسے اتنی آسانی سے کچھ سكھايا نہیں جا سکتا ہے۔ "بہت سے عوامل ودھو کے حق میں تھے۔ پیشہ ورانہ مدد اور خاندانی امداد کے علاوہ، انہوں نے خاندان، دوستوں، جاننے والوں سے کھل کر بات کی جس سے ان کا بوجھ کافی ہلکا ہو گیا۔

"دوسروں کو اپنی اس حالت کے بارے میں بتا پانا، خاص طور پر جن سے آپ بات چیت مسلسل ہوتی رہتی ہے، یہ آپ کے اور ان کے لئے بہت ضروری ہے۔ آپ نے پہلے ہی ایک مشکل حالت سے دو چار ہیں، دوسروں سے چھپانے کے اس دباؤ سے خود کو مفت کرتی ہوں (جبکہ یہ کرنا منع ہے) "، ودھو یہ بھی مانتی ہیں کہ بوجھ ناقابل یقین طور پر کام کرتا ہے۔

کلینکل ڈپریشن کا علاج ہونے کے باوجود کئی بار ودھو کو تنہائی کی ضرورت پڑتی ہے اور یہ بہتر محسوس کرنے کے لئے بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا، "کبھی کبھی، جب مجھے طبیت میں ناساز محسوس ہوتی ہے، تب میں خود کو اپنے سونے کے کمرے میں چھپا لیتی ہوں اور دل کھول کر روتی ہوں۔ میں ایسا اس لئے کرتی ہوں کیونکہ ہم اینٹ اور پتھر سے نہیں بنے ہیں۔ ہم دل اور پٹھوں سے بنے ہیں- ہم ایک لمحے کے لئے کمزور پڑ جاتے ہیں، لیکن دوسرے ہی لمحے مضبوط ہو جاتے ہیں۔ لہذا، کمزور لمحات میں خود کی دیکھ بھال کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ وہ بھی دن تھے، جب میں دیر سے کام شروع کرتی تھی کیونکہ مجھے بستر سے باہر آنے کے لئے جدوجہد کرنا پڑتا تھا۔ کئی بار تو ایسا ہوا کہ میں فون بھی ریسیو نہیں کرتی تھی، کیونکہ مجھے لگتا تھا میں بات نهيں کر پاوں گی۔ ایسے بھی دن تھے، جب میں آدھے دن تک خود کو جذباتی اور ذہنی طور پر کمزور محسوس کرتی تھی۔ میں نے ان حالات میں خود سے ہارنا نہیں سیکھا تھا۔ میں نے آرام کیا، میں روئی، میں سوئی، جب بھی ضرورت پڑی میں نے لوگوں کو نظر انداز کیا۔ اور یہ حیرت انگیز تھا کہ کس طرح میرے دماغ نے وقت وقت پر یہ سب کرنے میں میری مدد کی۔ "

ہر وقت مثبت بنے رہنا کرشمے کی طرح ہوتا ہے، ودھو کے مطابق ڈپریشن کے حالات میں، جہاں آپ کو آپ کے خاندان اور دوستو کی مدد ملتی ہیں، وہیں ایک ماہر کا ساتھ ہونا سب سے ضروری بات ہے جو ہر امتحان میں آپ کی مدد کرتا ہے۔

ودھوبتاتی ہیں، "ہم ہمیشہ چیزوں کو اس طرح سے کہنے کے قابل نہیں ہوتے، جس طرح وہ ہوتی ہیں، ہمیشہ ہی شخص کو ایک ماہر کی رہنمائی کی مدد لینی چاہئے۔ جب بھی خود کو ایک گہرے بھںور میں جاتے ہوئے محسوس کیا، میں نے ہر وقت اپنے خیالات پر روک لگانا سیکھا۔ زندگی کی کامیابی کی كنجي یہ ہے کہ پرسکون رہیں اور اپنے آپ کو یہ یاد دلاتے رہیں کہ دنیا یہیں پر ختم نہیں ہوگی، کچھ نہیں ہوا ہے۔ میں ابھی تک یہ نہیں سمجھ پائی، لیکن یہ سچ ہے۔ "

حالانکہ وہ مانتی ہیں کہ کچھ اس طرح کے لوگ ہیں جو چاہتے ہیں کہ آپ لکھنا بند کر دیں اور ضروری مشورہ نہ دیں۔

"وہ کھلے طور پر آپ کو آپ کی ذاتی زندگی کے بارے میں بتانے سے دوری رکھتے ہیں۔ آپ کی آواز کو بند کر دیتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ میری طرح بہت سے لوگ، اپنی کاروباری زندگی کے مختلف مراحل میں ہیں۔ اگر وہ اپنے آپ کو اس مقام پر پاتے ہیں کہ وہ ہار مان لیں، تو میں ان سے یہ درخواست کرتی ہوں کہ وہ ایسا نہ کریں۔ وہ ایک بار اور کوشش کریں، وہ یہ یاد رکھیں کہ ایسے بہت سے لوگ ہیں، جو خاموشی سے ان حالات کو جھیل رہے ہیں۔ انہیں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ وہ اکیلے نہیں ہیں اور انہیں اس کے بارے میں بات کرنی چاہئے۔ اس کے بارے میں دوسروں کو بتانا صحیح ہے، خاص طور پر ان کو، جن سے اکثر آپ کی بات چیت ہوتی ہے۔ "

ودھو کے مطابق، مالک، مینیجر،کاروباءی،تاجر، ملازم ایسے لوگوں کی طبی ڈپریشن، اوسی ڈی جیسی ذہنی حالت سے دو چار رہے لوگوں کی بن بتائے مدد کر سکتے ہیں۔ ودھو کا خیال ہے کہ، اب لوگوں کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ "ذہنی خرابی کی شکایت کسی شخص کی صلاحیت کی عکاسی نہیں ہے، اور وہ مہربانی کر کے کسی ساتھی، ملازم، دوست یا خاندان کے شخص کی حالک کا فیصلہ خود نہ کریں۔"

تحریر - تنوي دوبے

ترجمہ- ایف ایم سلیم 

Related Stories