رقص کے ذریعہ ٹریفک پر کنٹرول کرنے والا’ دبنگ‘ پولیس اہلکاررنجیت سنگھ

0

قدیم اندور شہر میں شام کے 7بجے کا وقت ہے ‘ ٹریفک پولیس ہیڈکوارٹرس اپنی امتیازی خصوصیت کے برخلاف خاموش ہے لیکن چند واکی ٹاکی کی آوازیں شور پیدا کررہی ہیں ۔ گرما کے طویل دن سے موسم کا مزاج خشک ہے یہاں تک کہ شام کے وقت ٹھنڈی ہوائیں بھی نہیں چل رہی ہیں ۔ٹریفک پولیس اسٹیشن کے غیر معمولی دورہ کے موقع پر میں نے نیاجوش وجذبہ دیکھا ۔ ایک ایسے شہر میں جہاں میں آسانی سے گاڑی نہیں چلاسکتا وہاں کسی اسٹار کے ساتھ رعب جماکر چل رہا تھا ۔میں نے انہیں پہلے کبھی نہیں دیکھا لیکن شہر میں خاندان کے افراد سے ان کی کہانیاں سنی تھیں۔اپنے مخصوص انداز کے لئے شہرت رکھنے والے اس ٹریفک پولیس اہلکار کا نام کوئی نہیں جانتا لیکن سب کو یہ پتہ ہے کہ وہ ایسا پولیس اہلکار نہیں جس کے ساتھ کوئی گڑبڑ کی جاسکے ۔وہ فلمی کردار کی طرح ہے ۔ وہ سنگھم ہے ۔وہ ’بنگ‘پولیس اہلکار ہے جو ٹریفک کو اپنے مخصوص رقص والے انداز سے کنٹرول کرتاہے۔

اگر آپ کسی دن اندور شہر میں ہائیکورٹ ٹریفک جنکشن سے گذررہے ہوں تو آپ دیکھیں گے کہ ہجوم کے اوقات میں وہ مائیکل جیکسن کے انداز میں ڈانس کے ذریعہ بے ہنگم ٹریفک کو کنٹرول کرر ہے ہیں ۔ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے منفرد انداز کے باعث لوگوں نے انہیں کئی نام دیئے ہیں اور شاید ملک میں کہیں بھی اس سطح کے چند ہی پولیس ملازمین ہونگے جنہیں اس طرح شہرت حاصل ہوئی ہوگی ۔اس پولیس اہلکار کا اصل نام ’رنجیت سنگھ‘ ہے جس کو کئی نام دیئے گئے ہیں ۔ہندوستان جیسے ملک میں جہاں ٹریفک پولیس اہلکار کو انتہائی بیدلی سے عزت دی جاتی ہے وہاں رنجیت سنگھ نے دکھایا کہ کوئی بھی شخص اپنے کام سے ہی پہچانا جاتاہے۔رنجیت سنگھ نے بتا یا کہ وہ صد فیصد اپنے کام پر توجہ دیتے ہیں اور اس بات کی انہیں کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی کرنے والا کون ہے ۔یہاں تک کہ انہوں نے ایس پی کو بھی روک دیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ان کے والد بھی ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو وہ انہیں بھی روک دیں گے ۔بھلے ہی گھر پر ان سے دو‘چار باتیں سنی ہی کیوں نہ پڑیں۔بحث اس بات پر نہیں کہ آیا وہ جاذب نظر یا پر کشش شخصیت ہیں بلکہ ان کے حس مزاح اور جوش و جذبہ نے انہیں ہر دلعزیز بنادیاہے۔

رنجیت سنگھ نے ہندی زبان میں آسانی کے ساتھ اپنے شخصی حالات اور دیگر باتوں کا ذکر کیا تاہم بات چیت کے دوران اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لئے وہ انگریزی بھی بولنے لگتے ہیں ۔مختلف اداروں کی جانب سے انہیں بات چیت کیلئے طلب بھی کیا گیا اور شہر کے محکمہ پولیس کے ساتھ ساتھ کئی خانگی تنظیموں نے رنجیت سنگھ کو کئی ایوارڈز بھی عطا کئے ہیں ۔ رنجیت سنگھ نے بتا یا کہ جب وہ پولیس فورس سے وابستہ ہوکر ڈیوٹی انجام دینے کے لئے پہلی مرتبہ سڑک پر پہنچے تو شد ید گرما کا دن تھا اور درجہ حرارت45ڈگری سلسیس تھا ۔ اگرچہ شام میں ہلکی بارش بھی ہوئی تھی ۔رنجیب سنگھ کو پہلے پہل دیکھ کر لوگوں کا کہنا تھا کہ ’’ نیا جوش ہے ‘ تین ’ چار مہینوں میں ٹھنڈا ہوجائے گا‘‘لیکن رنجیت کا کہنا ہے کہ نوسال گذرگئے لیکن آج بھی وہ اسی جوش اور جذبہ کے ساتھ فرائض انجام دے رہے ہیں ۔

ابتداء میں جب رنجیت سنگھ نے ٹریفک پر کنٹرول کے لئے اپنے مخصوص انداز میں رقص کیا تو لوگوں نے سمجھا کہ وہ پاگل ہیں لیکن جلد ہی ان کو یہ اندازہ ہوگیا وہ پابند ڈسپلین ہیں ۔ایک جاننے والے نے بتا یا کہ جب رنجیت سنگھ ڈیوٹی پر ہوتے ہیں تو کوئی بھی شخص سگنل توڑنے سے پہلے دو وقت سوچتا ہے۔ان برسوں میں رنجیت سنگھ کی شہرت دور دور تک پہنچ گئی۔سوشیل میڈیا پر آنے کے بعد وہ اب لوگوں میں گھرے رہتے ہیں۔ نوجوان اپنے کیرئیر اور محبت کے معاملہ میں ان کی رائے حاصل کرتے ہیں ۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہے کہ ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی پر وہ انہیں برا بھلا بھی کہتے ہیں ۔ وہ رشوت لیتے ہیں وغیرہ ۔دوسری طرف رنجیت سنگھ کا کہنا ہے اگر آپ کسی پولیس اہلکار کو رشوت خور کہتے ہیں تب ان لوگوں کے بارے میں کیا کہا جائے جو جرمانہ ادا کرنے سے بچنے کے لئے رشوت دیتے ہیں ۔ایسے لوگوں کے بارے میں رنجیت سنگھ کا کہنا ہے کہ ’’اپنا دیا اس نے لیا ‘‘۔ وہ ایسے لوگوں کو پڑھے لکھے گنوار کہتے ہیں جنہوں نے کئی ڈگریاں حاصل کیں لیکن ان کا یہ رویہ ہے ۔رنجیت سنگھ ان لوگوں کے ساتھ ویسے ہی نمٹنا جانتے ہیں جس طرح وہ ان کے ساتھ پیش آتے ہیں ۔اگر لوگ ان کی توہین کرتے ہیں تو وہ بھی ان کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرتے ہیں ۔رنجیت سنگھ کا کہنا ہے کہ ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ ان کے اسی رویہ کی وجہ سے انہیں عزت ملی ہے ۔اگر ان کی قسمت اچھی نہ ہوتی تو یہ سب کچھ ممکن نہ ہوتا ۔

2008میں ایک کار نے رنجیت سنگھ کو اس وقت ٹکر دے دی جب وہ ایک ٹریفک کراسنگ پر ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔رنجیت سنگھ نے اس کار ڈرائیور کی غلطی کو معاف کرتے ہوئے بتا یا کہ اس حادثہ کے وقت تیز بارش ہورہی تھی اور کار کا ڈرائیور انہیں دیکھ نہیں پا یا ۔اس حادثہ کے بعدو ہ تین ماہ تک بستر پر رہے اور بعد میں ان کا دفتری کام پر تبادلہ کردیا گیا جہاں وہ فائلوں کو آگے بڑھا نے اور میموز کی خانہ پری کررہے تھے ۔ رنجیت سنگھ کا کہنا ہے کہ وہ ان کی زندگی کا سب سے خراب وقت تھا اور وہ اس سے بہت ناخوش تھے ۔رنجیت سنگھ کا دل ہمیشہ ٹریفک جنکشن پرہوتا ۔ ان کا کہنا ہے کہ جو چیز انہیں زندگی سے چاہئے تھی وہ انہیں روڈ پر مل گئی تھی ۔وہ ٹریفک جنکشن کو ’کرم بھومی‘ تصور کرتے ہیں جہاں وہ اپنے سننے والوں کے سامنے رقص کرسکتے ہیں اور ایک ایکٹر ہونے کا ان کا خواب سچ ہوتا ہے ۔

 رنجیت سنگھ کا کہنا ہے کہ زندگی میں چند ہی لوگوں کو وہ کرنے کا موقع حاصل ہوتا ہے جو وہ چاہتے ہیں ۔ اس حادثہ کے بعد رنجیت سنگھ بھی اپنے کام سے خوشی حاصل کرنے سے محروم ہوگئے تھے ۔تقریباً2010کی ابتداء میں محکمہ پولیس کی جانب سے شہر میں ٹریفک کی صورتحال کے ابتر ہونے کا جب جائزہ لیا جارہا تھا اس وقت ایک سینئر آفیسر نے رنجیت سنگھ کی ماضی میں ٹریفک کو کنٹرول کرنے کی کامیابیوں کو یاد کیا اور رنجیت سنگھ کو دوبارہ فیلڈ ورک کی ذمہ دار سونپی گئی۔ اگرچہ ان کے انگوٹھے ابھی زخمی تھے لیکن یہ رنجیت سنگھ کے لئے انتہائی خوشی کی بات تھی ۔روڈ پر دوبارہ ڈیوٹی انجام دینے کے فیصلہ سے انہیں کوئی افسوس نہیں تھا ۔جہاں وہ ڈیوٹی انجام دے رہے تھے اتفاق سے یہ وہی سڑک تھی جہاں سے وہ 18سال کی عمر میں گھر سے بھاگ کھڑے ہوئے تھے ۔ان کے والد پولیس کانسٹیبل تھے جو اکثر انہیں مارا کرتے تھے ۔ دن بھر کی سخت محنت کے بعد جب وہ گھر آتے (بعض اوقات حالت نشہ میں ہوتے) تو یہ نہیں دیکھتے کہ رنجیت امتحان میں ناکام ہوئے ہیں یا انہوں نے کوئی شرارت کی ہے کیونکہ وہ خاندان کے نا پسندیدہ فرد تھے اور اپنے والد کو کبھی خوش نہیں کرسکے تھے ۔

رنجیت سنگھ ہمیشہ اپنے والد کی طرح بننا چاہتے تھے تاکہ ان کے والد اس پر فخر کرسکیں ۔ تین بھائیوں میں رنجیت سنگھ سب سے بڑے تھے ۔ان پر اپنے چھوٹے بھائیوں کو کامیابی کا راستہ دکھا نے کی ذمہ داری تھی لیکن وہ ایسے کرنے میں بری طرح ناکام رہے تھے ۔رنجیت سنگھ جب 12ویں جماعت کا سالانہ امتحان کامیاب نہیں کرسکے تب انہیں اندازہ ہوگیا کہ اس کو اب چھوڑدینا چاہئے ۔ اس فیصلہ کے بعد وہ جھبواسے اپنی خالہ کے گھر اندور چلے آئے ۔ اپنے والد کو کسی دن خوش کرنے کے عزم و جذبہ کے ساتھ رنجیت سنگھ ٹریفک پولیس محکمہ سے وابستہ ہوگئے۔

رنجیت سنگھ نے بتا یا کہ وہ اچھے اتھلیٹ تھے اور بعد میں بہترین کیڈیٹ بن گئے ۔آج اپنے والد کی آنکھوں میں ان کے لئے فخر اورخوشی کو دیکھ کر رنجیت سنگھ کو کافی سکون حاصل ہوتا ہے ۔شائد یہ رنجیت سنگھ کی خود کو متحرک رکھنے کی مہم تھی جس نے ان کے جوش وجذبہ کو ہمیشہ برقرار رکھا۔ ورنہ سخت موسمی حالات میں روزآنہ 8تا 10گھنٹے کھڑے رہنا ‘ سیٹی بجانا اور سخت دباؤ میں بے ہنگم ٹریفک پر کنٹرول کرنے کی ذمہ داری کسی کے بھی جذبات کو ختم کرسکتی ہے ۔مہینہ کے آخر میں معمولی سا تنخواہ کا چیک شائد آخری قرابت دار ہوتاہے۔ کم از کم پانچ سال کی سرویس رکھنے والے ٹریفک پولیس اہلکار کو ماہانہ16تا 20ہزار کے درمیان تنخواہ ملتی ہے۔

رنجیت سنگھ کا کہنا ہے کہ جب وہ گھر واپس ہوتے ہیں تو چند گھنٹوں تک کسی سے بات چیت نہیں کرتے بس ان کی نظرین بستر پر ہوتی ہیں ۔ وہ اپنی صحت کی برقراری کا خاص خیال رکھتے ہیں لیکن بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ طاقت بھی کم ہوتی جاتی ہے ۔اس وقت رنجیت سنگھ 37سال کے ہیں اور جب کوئی محکمہ میں بھرتی کے لئے ان سے دریافت کرتا کہ کیا اور کیسے کیا جائے ؟تب رنجیت سنگھ انہیں بتاتے ہیں کہ یہ سب توانائی اور طاقت ہی ہے ۔ انرجی ڈرنکس برانڈز کی تشہرکے لئے بعض پروڈکشن ہاوزیز رنجیت سنگھ سے رجوع بھی ہوئے۔ تب رنجیت سنگھ نے کہا کہ ’’مرواو گے کیا ؟انہیں تو نوکری سے برطرف کردیا جائے گا ۔

رنجیت سنگھ اپنے دن کی شروعات صبح 5:30بجے یوگا اور جم کے ایک سیشن سے کرتے ہیں ۔جس کے بعد وہ ناشتہ کرتے ہیں جو دو کیلے یا ایک سیب پر مشتمل ہوتا ہے ۔اگرچہ وہ شادی شدہ اور دو بچوں کے باپ ہیں لیکن اپنی نجی زندگی کے بارے میں بات چیت کرنا انہیں پسند نہیں ہے ۔محبت اور زندگی میں انہیں بہت دکھ ملے ہیں ۔محبت میں ناکامی کے سوال پررنجیت سنگھ نے کہا کہ وہ اب ملک کی خدمت کے لئے خود کو وقف کرچکے ہیں ۔ ساتھیوں کی حسد جلن کے باوجود وہ اپنے محکمہ میں بھرتی ہونے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ ان میں سے کم از کم چارایسے ہیں جو ٹریفک کوکنٹرول کرنے کے لئے رنجیت سنگھ کی نقل کرتے ہیں ۔رنجیت سنگھ نے بتا یا کہ ان کی زندگی میں ایک ایسا موڑ بھی آیا جب ایک ضعیف اورغریب تھیلہ(چھگڑا) والے کو وہ روز دیکھتے ہیں اور اس کا سامان اٹھانے میں اس کی مدد بھی کیاکرتے ہیں ۔وہ ضعیف شخص ایک دن رنجیت سنگھ کے پاس آیا اور یہ کہتے ہوئے دس روپئے کا نوٹ انہیں دیا کہ وہ دس روپئے مندر کے لئے عطیہ دینا چاہتا ہے۔رنجیت سنگھ نے بتا یا کہ وہ پرانی نوٹ آج بھی ان کے پاس ہے جو اس شخص کی یاد دلاتی ہے ۔

انہوں نے بتا یا کہ اسی طرح ایک کراسنگ پر ہر شام 4:30بجے ایک نابینا خاتون آتی ہے اور ان کا نام لیکر انہیں پکارتی ہے ۔ وہ یہ جانتی ہے کہ رنجیت سنگھ سڑک پار کرانے میں اس کی مدد کرے گا۔انہوں نے بتا یا کہ جب وہ ڈیوٹی پر نہیں ہوتے ہیں تو وہاں تعینات ملازم سے اس خاتون کی مدد کرنے کے لئے کہتے ہیں ۔وہ سماجی خدمت کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں اور انہوں نے سڑک حادثات کا شکار تقریباً 50سے زیادہ افراد کو دواخانہ پہنچایا ۔رنجیت سنگھ کے موبائیل فون کی لگاتار بجنے والی گھنٹی نے ہماری بات چیت میں خلل پیدا کردیا ۔ اپنے ہاتھوں پر بند ھے ہوئے بیانڈز کو نکالتے ہوئے رنجیت سنگھ نے بتا یا کہ یہ ان کے کوچ ہیں اور وہ اب پی ایس سی امتحان کی تیاری کررہے ہیں ۔انہو ں نے بتا یا کہ یہ ان کا حقیقی رنگ ہے ۔ جب وہ نہاتے ہیں تو پورا کالا پانی بہتا ہے ۔ انہوں نے کچھ داغ بھی دکھائے اور کہا کہ وہ بھی ہماری طرح انسان ہیں لیکن دوسرے ہی لمحہ رنجیت سنگھ نے یہ بھی بتا یا کہ ہاتھ پر وہ جو بیانڈ باندھے رکھتے ہیں وہ ان کے ایک رشتہ دار کے ہیں جو کارگل کی لڑائی میں شہید ہوگئے۔انہیں چار گولیاں لگی تھیں جس سے ظاہر ہے کہ وہ لڑتے ہوئے شہید ہوئے تھے۔رنجیت سنگھ نے اپنی بھابی سے وہ پٹے مانگ لئے تھے۔جب کبھی وہ مایوس ہوتے ہیں تو یہ بیانڈ انہیں ان کی زندگی کے مقصد کو یاد دلاتے ہیں جو ملک کی خدمت کرنا ہے ۔رنجیت سنگھ نے پھر یہ شعر پڑھا۔ ؂اس عطر سے کپڑوں کو مہکانا بڑی بات نہیں ۔ مزہ تو تب ہے جب میرے کردار سے خوشبو آئے۔

اس میں حیرت کی بات نہیں کہ رنجیت سنگھ دل سے شاعر بھی ہیں اور اسی طرح ہر موقع کے لئے ان کے پاس موزوں شعر ہوتے ہیں ۔ ہماری طویل بات چیت کے باعث رنجیت سنگھ شائد آج کی ان کی کلاسیس میں شریک نہیں ہوسکے اور 12گھنٹے کا طویل دن گذارنے کے بعد تھکے ماندے وہ سیدھے گھر چلے گئے ہونگے ۔کل نئی توانائی اور نئے انداز کے ڈانس کے ساتھ وہ واپس آئیں گے اور بے ہنگم ٹریفک اور سڑک پر ہونے والی تلخی کوٹھنڈا کریں گے ۔

قلمکار: دیپتی نائر

مترجم : اکبر خاں