"کہ ہم پَروں سے نہیں، حوصلوں سے اُڑتے ہیں" پولیو سے متاثرہ ایک شخص نے جیت لی زندگی کی جنگ

0

"کہ ہم پَروں سے نہیں، حوصلوں سے اُڑتے ہیں" ... دہلی کی رہنے والے 21 سالہ تیجسوی شرما کے بارے میں جاننے کے لئے یہ مصرعہ نہایت موزوں لگتا ہے۔ تیجسوی قدیم ہندوستانی یوگا میں مہارت رکھتے ہیں اور وہ بہ آسانی ایسے مشکل یوگا آسن کرلیتے ہیں جنہیں کرنا عام لوگوں کے لئے بھی مشکل ہے۔ ان کے بارے میں سب سے چونکانے والی بات یہ ہے کہ وہ محض 9 مہینے کی عمر میں پولیو کا شکار ہوگئےجس کے بعد انہیں دونوں پیروں سے چلنے پھرنے سے معذور ہوگئے۔ لیکن تیجسوی اور ان کے والدین نے ہار نہیں مانی اور محض ایک برس کی عمر سے انہیں یوگا کی تربیت دینی شروع کردی۔ گزشتہ کئی برسوں میں تیجسوی نے خود کو یوگا کے فن میں اتنی مہارت حاصل کرلی ہے کہ 69 فیصد معذوری کے باوجود وہ مشکل یوگا آسنوں کوبڑی آسانی سے کرلیتے ہیں۔

گزشتہ 28 اکتوبر کو تیجسوی کو 'یونک ورلڈ ریکارڈس' نے موسٹ فلیکسی بل ہنڈی کیپڈ یوگا چیمپئن – 2015' کے اعزاز سے نوازا گیا۔ تیجسوی نے 2011 میں دہلی میں منعقدہ عالمی یوگا مقابلے میں سلور میڈل، 2012 میں ہانگ کانگ میں منعقدہ عالمی مقابلے میں گولڈ میڈل اور 2014 میں چین میں منعقدہ چوتھی عالمی یوگا چیمپئن شپ میں سلور میڈل حاصل کیا ہے۔

حال ہی میں دہلی کی مشہور و معروف جواہر لال یونیورسٹی سے جرمن زبان میں آنرس کی آخری سال کے طالبِ علم جیسوی نے 'یور اسٹوری' سے بات کرتے ہوئے یوگا کے بارے میں تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے بتایا

"میں 9 مہینے کی عمر میں جب کہ ابھی گھنٹوں کے بل چلنا سیکھ ہی رہا تھا کہ پولیو کا شکار ہوگیا۔ میرے والدین مجھے ڈاکٹر کے پاس لے گئے جنہوں نے میرے پیروں پر کھڑے ہونے کے امکانات کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے مجھے دہلی کے کسی اچھے اسپتال میں دکھانے کا مشورہ دیا۔ میرے والد مجھے دہلی کے اے۔آئی۔آئی۔ایم۔ایس یعنی ایمس لے گئے جہاں میرے پیروں کا اپریشن کیا گیا۔"

اپریشن کے بعد تیجسوی کے پیروں میں خون کی گردش جاری رکھنے کے لئے ان کے والد نے انہیں محض ایک سال کی عمر میں یوگا کی تربیت دلوانی شروع کردی۔

جیسے ہی انہوں نے یوگا سیکھنا شروع کیا ، بہت ساری چیزیں ان کے حق میں ہونی شروع ہوگئیں اور نہایت کم عمر میں یوگا کے آسنوں کی مشق کرنے کی وجہ سے ان کے جسم میں لچک پیدا ہوتی چلی گئی۔ تیجسوی بتاتے ہیں کہ محض 5 برس کی عمر تک آتے آتے وہ روزانہ 60 تا 70 آسنوں کی مشق کرتے تھے۔

وہ کہتے ہیں

"5 سال کا ہوجانے کے بعد میرے چاچاجی مجھے تعلیم دلانے کے لئے دہلی لے آئے ۔ انہوں نے میرا داخلہ نوئیڈا سیکٹر 82 میں واقع مہرشی دیا مندر میں کروادیا۔ اس اسکول میں داخلہ لینے کے بعد میں یوگا میں مزید ماہر ہونے میں کامیاب رہا ۔ اس کے علاوہ میں یہاں دھیان لگانا بھی سیکھا۔"

یوں تیجسوی اسکول میں داخلہ لینے کے بعد خود کو یوگا میں مزید مہارت حاصل کرنے میں کامیاب رہے اور ساتھ ہی اپنی تعلیم بھی جاری رکھے رہے۔

یوں تو تیجسوی یوگا کی وجہ سے اپنی اسکول میں کافی مقبول تھے لیکن ان کے کئی ساتھ ان کی معذوری کی وجہ سے ان پر لگاتار طنزیہ جملے کسا کرتے تھے۔ اسی دوران ان کے اسکول میں ایک انٹر اسکول یوگا مقابلہ منعقد ہوا۔ تیجسوی بتاتے ہیں

"میں پہلے سے ہی اپنا مذاق اُڑانے والے دوسرے بچوں کو دکھانا چاہتا تھا کہ میں کیا کرسکتا ہوں۔ میں نے اپنے پی۔ٹٰی۔آئی پروین شرما سے تحریک پاکر اس مقابلے میں حصہ لیا اور اپنے یوگا آسنوں کے بل بوتے پر اس مقابلے میں اول مقام حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔"

اس کے بعد تیجسوی کو پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا پڑا اور ان کا انتخاب پہلی ضلعی ٹیم میں ہوا اور پھر وہ علاقائی سطح پر ہونے والے مقابلوں میں حصہ لینے لگے۔ تیجسوی مزید کہتےہیں،"یوگا کے تمام مقابلوں میں شرکاء کی کوئی جماعت بندی نہیں ہوتی اس لئے مجھے عام شرکاء سے ہی مقابلہ کرنا پڑا۔ حالانکہ یہ بات میرے حق میں رہی کیوںکہ اسی وجہ سے مجھے عام لوگوں سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے اور مجھے خود کو مزید بہتر کرنے کے لئے حوصلہ ملتا ہے۔"

کچھ مقابل جیتنے کے بعد انہیں محسوس ہوا کہ اب انہیں اپنے اس فن کو مظاہروں میں تبدیل کرنا چاہئے۔2010 میں انہوں نے پہلی مرتبہ قومی سطح کے کسی مقابلے میں حصہ لیا اور ا س میں انہوں نے آرٹسٹک یوگا کا مظاہرہ کیا۔ وہ کہتے ہیں،"دراصل آرٹسٹک یوگا میں ہر شریک کو محض 5۔1 منٹ میں اپنے بہترین آسن دکھانے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان آسنوں کا مظاہرہ موسیقی کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے ہوئے کرنا ہوتا ہے۔ میں نے پہلی دفعہ اتنی بڑی سطح پر کسی مقابلے میں حصہ لیا اور کانسے کا تمغہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔"

ایک مرتبہ یہ تمغہ حاصل کرنے کے بعد تیجسوی کو محسوس ہوا کہ اب انہیں اس آرٹسٹک یوگا کو اپنی آئندہ زندگی کے لئے اپنا لینا چاہیے اور انہوں نے اس میں اپنا سب کچھ جھونک دینے کا فیصلہ کرلیا۔ وہ کہتے ہیں،"اب مجھے لگنے لگا تھا کہ مجھ میں کچھ خاص ہے اور میں نے یہ طے کرلیا کہ اب اسے کریئر کے طور پر اپنالینا چاہئے۔"

اس کے بعد تیجسوی نے کچھ مشہور ٹی۔وی شوز میں اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا اور وہ 'انٹرٹینمنٹ کے لئے کچھ بھی کرےگا' اور ' انڈیا ہیز گاٹ ٹیلنٹ' جیسے مشہور ٹی۔وی شوز میں اپنا مظاہرہ دکھانے میں کامیاب رہے۔ دونوں ہی شوز میں ان کے مظاہرے کو ججس اور ناظرین نے کافی سراہا اور انہیں کافی شہرت ملی۔ اتنے برسوں تک مختلف یوگا آسنوں کی مشق کرنے کی وجہ سے ان کے لئے مشکل سے مشکل آسن بھی بچوں کا کھیل جیسا ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے خود اپنے کئی آسن ایجاد کئے ہیں جو کسی عام شخص کے لئے نہ صرف بہت مشکل ہیں بلکہ کچھ آسنوں کر کرنا ان کے لئے تقریباً ناممکن ہے۔

اس کےبعد انہوں نے 2011 میں دہلی کے تال کٹورا اسٹیڈیم میں منعقدہ عالمی یوگا مقابلے میں حصہ لیا اور آرٹسٹک یوگا میں سونے کا تمغہ حاصل کیا۔ اس کے بعد انہوں نے 2012 میں ہانگ کانگ میں منعقدہ عالمی یوگا چیمپئن شپ میں سلور میڈل حاصل کیا۔ اس کے بعد ستمبر 2014 میں انہوں نے چین کے شنگھائی میں منعقدہ عالمی یوگا مقابلے میں حصہ لیا اور چھٹا مقام حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ آخر کار انہوں نے یہاں بھی اپنی صلاحیت کا لوہا منوالیا اور سلور میڈل حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

یوگا کے آسن کرنے کے دوران ان کے جسمانی لچکیلے پن کی وجہ سے انہوں نے 28 اکتوبر کو 'یونک ورلڈ ریکارڈس ' کی جانب سے تیجسوی کو 'موسٹ فلیکسیبل ہینڈی کیپڈ یوگا چیمپئن – 2015' کے خطاب سے نوازا گیا ہے۔ آخر میں تیجسوی کہتے ہیں،

"اگر ہم اپنی صلاحیت کو پہچان جائیں اور منفی رجحان کو مثبت رجحان میں تبدیل کرلیں تو انسان کے لئے کسی بھی منزل کا حصول نا ممکن نہیں ہے۔ میں تو سب لوگوں کو یہی رائے دیتا ہوں کہ یوگا کرو اور صحت مند رہو۔"

بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام روشن کرنے والے تیجسوی کو صرف اس بات کا رنج ہے کہ حکومت نے یوگا کو کھیل کا درجہ تو دے دیا ہے لیکن ابھی تک اس میں معذورین کے لئے علیحدہ درجہ نہیں بنایا گیا جس کی وجہ سے ان جیسے بہت سے معذورین ان مقابلوں میں حصہ لینے کے لئے آگے نہیں آتے۔

تحریر : نشانت گویل

مترجم : خان حسنین عاقبؔ