اسكال کی عالمی کانفرنس کے لئے حیدرآباد کا انتخاب

0

اسكال کی عالمی کانفرنس حیدرآباد میں ہوگی

83 ممالک سے آئیں گے 3000 نمائندے

سیاحت کی صنعت میں اہم کردار ادا کرنے والے سیاحتی مینیجرس کی بین الاقوامی تنظیم اسكال کی آئندہ عالمی کانگریس کے لئے حیدرآباد کو منتخب کیا گیا ہے۔ یہ کانگریس اکتوبر 2017 میں حیدرآباد میں ہوگی۔ اس میں 83 ممالک کے 3000 سے زائد نمائندے شرکت کریں گے۔

تیلگانا کے سیاحتی وزیر چندولال اور سیاحت کارپوریشن کے چیئرمین پیرورم راملو نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ اسكال حیدرآباد شاخ کی یہ بڑی کامیابی ہے کہ اسكال کانگریس حیدرآباد میں منانے کے لئے تنظیم کو منانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس ادارے کا اجلاس حال ہی میں اسپین میں منعقد ہوا، جہاں آئندہ عالمی کانگریس کے لئے جب ووٹنگ ہوئی ا تو 136 ووٹ حیدرآباد کے حق میں تھے اور 39 مت بینکاک کے حق میں۔ اس طرح اسكال حیدرآباد چیپٹر کو بڑی کامیابی ملی۔

وزیر چندولال نے کہا کہ تلنگانہ حکومت اس کانفرنس کے انعقاد میں مکمل تعاون کرے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے اس کے منتظمین کو اس کے لئے مبارک بھی باد دی۔

پیرورم راملو نے کہا کہ بینکاک کے مقابلے میں حیدرآباد کا انتخاب اس اجلاس کے لئے بہت اہم ہے اور اس سے حیدرآباد کو عالمی سطح پر شناخت ملے گی اور دنیا بھر کے سیاحوں کے سامنے حیدرآباد، تلنگانہ اور ہندوستان کی خصوصیات کو رکھا جا سکے گا۔

اسكال حیدرآباد چیپٹر کے صدر وجئے موہن راج نے کہا کہ آئندہ عالمی کانفرنس کے لئے حیدرآباد کو منتخب ہونے کے لئے انہوں نے شروع سے ہی مہم چلا رکھی تھی اور جب حیدرآباد کا نام لیا گیا تو دنیا کے کئی ممالک نے بینکاک کی جگہ حیدرآباد کے نام پر ووٹ کیا۔ اسكال کا شروعات 1934 میں کی گی تھی۔ اس کا ہیڈکوارٹراسپین میں ہے۔ فی الحال 89 ممالک میں اس کے 16 ہزار سے زایدہ ارکان ہیں۔ حیدرآباد میں اس کے لئے ایچ آئی سی سی کے علاوہ کئی بڑی ہوٹلوں کو مرکز بنایا جائے گا۔ کانفرنس سے حیدرآباد کو سیاحت کے شعبے میں بڑا فائدہ ہو گا۔

وضاحت: تصاویر مختلف زرائع سے حاصل کی گئیں ہیں۔ کسی کو اعتراض ہو تو ہٹا دی جائیں گی۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem