آن لائن ہو کر بھی ضرورت مندوں کی پہنچ میں رہنا چاہتے ہیں 170 سال پرانے منّالال دواساز

1844 میں وجيےورگی خاندان میں دواسازی کی شروعات ہوئی تھی۔ اس خاندان کی چار نسلیں اس میں گزر گئیں۔

0

آج دنیا جسے فارماسوٹكلس کے نام سے جانتی ہے، کبھی ہندوستان سے لے کر یونان تک اسے دواسازی کے نام سے جانا جاتا تھا۔ بیماریوں کے علاج کے لئے ادویات گھول کر پلانا اور کھلانے کے کام کے لئے دواسازی کا یہ کام شروع ہوا اور آج بھی ہندوستان میں کچھ لوگ اس پیشے کو پوری شدت کے ساتھ جی رہے ہیں۔ حیدرآباد کے منالال دواساز بھی انہی میں سے ایک ہیں، جن کی نئی نسل نے اس کو توسیع کرنے کے نئے رنگ ڈھنگ اپنايے ہیں۔ اب منالال دواساز آن لائن خدمات بھی دستیاب کرا رہی ہیں۔ یہ ایک ایسے دواساز ہیں جنہوں نے آیوروید اور یونانی دونوں قسم کی ادویات کو اپنے گاہکوں تک پہنچانے کے لئے 170 سال کی تاریخ بنائی ہے۔ اس ڈیڑھ صدی سے زیادہ وقت میں منالال دواساز کی چار نسلوں نے لاکھوں لوگوں تک رسائی کی ہے۔

حیدرآباد کے بنجارہ ہلز میں منالال دواساز کی جدید طرز کی دکان لوگوں کو اپنی طرف راغب کر رہی ہے۔ یہاں نہ صرف دوائیں بلکہ خشک فروٹ اور ونسپتيا بھی خاص توجہ کا مرکز ہیں۔ منالال دواساز کی چوتھی نسل کی وکاس وجیےورگی اور دیپک وجیےورگی سے یور اسٹوری نے دواساز اور دواسازی کے نئے دور کے بارے میں کئی ساری باتیں کی۔

1844 میں وجيےورگی خاندان میں دواسازی کی شروعات ہوئی تھی۔ اس خاندان کی چار نسلیں اس میں گزر گئیں۔ کیا وجه تھی کہ کوئی اسے چھوڑ کر نہیں گیا؟

دیپک وجيےورگی نے بتایا کہ دواسازی ان کے لئے صرف روپیہ کمانے کا مقصد نہیں ہے، بلکہ یہ بامقصد اور تسلی بخش زندگی جینے کے لئے ایک خدمت بھی ہے۔ ہر روز لوگ یہاں آتے ہیں اور اس کام کو جاری رکھنے کی ترغیب دے جاتے ہیں۔ اس کے پیچھے خدمت خلق بھی ایک وجہ ہے۔

دنیا میں آج بھی کئی ساری بیماریاں ہیں، جس کا درست علاج موجود نہیں ہے۔ دنیا کے اعلی درجے کی طریقے بھی جب ہاتھ اٹھا لیتے ہیں تو مقامی دواسازی اسے تھام لیتی ہے۔ بواسیر بھی ایک ایسا مسئلہ ہے، جس کا علاج آسان نہیں ہے۔ منالال دواساز کی خاندانی دوا کی تقسیم روایتی ڈھنگ سے چلی آ رہی ہے۔

وکاس وجيےورگی بتاتے ہیں،

- بواسیر کی دوا ہم مفت دیتے ہیں۔ سماج کی خدمت کا اطمینان بھی بنا رہتا ہے۔ لوگوں کا اعتماد اور یقین جس طرح سے بنا ہے، ہم دواساز کے طور پر اس بات کی بھی کوشش کر رہے ہیں کہ گاہکوں کواصلی چیزیں ملیں۔

منالال... نام کے پیچھے بھی ایک دلچسپ کہانی ہے۔ 170 سال پہلے لكشمی نارائن اور سیتارام وجيےورگی نے لكشمی نارائن اینڈ سیتارام کمپنی قائم کی تھی۔ بعد میں لكشمينارائن وجيےورگی کے بیٹے بال کشن وجيےورگی نے اسے سنبھالا۔ انہیں لوگ اکثر پیار سے منالال کہہ کر پکارتے تھے۔ یہی پیایرا سا نام بعد میں یونانی اور آیور وید دواسازی کے میدان میں ایک بڑا نام بن گیا اور آج حیدرآباد ہی نہیں، بلکہ آس پاس کے علاقوں میں لوگ منالال دواساز کو اچھی طرح جانتے ہیں۔

وکاس اپنے باپ دادا کے بارے میں بتاتے ہیں کہ بالكشن وجیےورگيی کے بعد ان کے والد بھگوانداس وجيےورگی نے کاروبار سنبھالا اور آج آکاش، دیپک اور وکاس وجيےورگی اسے سنبھال رہے ہیں۔ منالال دواساز کی سب سے بڑی دکان حیدرآباد کے افضل گنج میں ہے جبکہ انہوں نے اس کی توسیع کرتے ہوئے بنجارہ ہلز اور راجیندرنگر میں دو دکانیں اور کھول لی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک فارمیسی بھی شروع کی گئی ہے۔

حالانکہ چند سال تک آیور ویدک کی مقبولیت کم ہو گئی تھی، لیکن آج پھر سے ايوروید کی شہرت لگا تار بڑھتی جا رہی ہے۔ ايوروید کا استعمال بہت ہو رہا ہے اور ملٹی نیشنل کمپنیاں آيوروید سے جڑ رہی ہیں۔ منالال دواساز اس مقابلے کے دور میں اپنے آپ کو بنائے رکھنے اور اسے آگے بڑھانے کے لئے کیا چیلنج محسوس کر رہے ہیں؟

اس سوال کے جواب میں وکاس وجيےورگی بتاتے ہیں،

- اب ہم اپڈیٹ ہو رہے ہیں۔ ہم نے اپنے برانڈ کی دواوں پر بار كوڑ لگانا شروع کیا ہے۔ آن لائن کاروبار شروع کیا ہے۔ جیسے جیسے ٹیکنالوجی بڑھتی جا رہی ہے ہم اسے استعمال کر رہے ہیں۔ بڑی کمپنیوں کی توسیع وسیع سطح پر ہوتی ہے، ان کا کلائنٹ سے براہ راست رشتہ ممکن نہیں ہو پاتا۔ ہم کسٹمر کے بھروسے کے ساتھ بنے رہتے ہیں۔ نسلوں سے لوگ ہمارے پاس آ رہے ہیں۔ کبھی کوئی اپنے دادا کے ساتھ یہاں آتا تھا، تو آج وہی شخص اپنے پوتے کو لے کر آ رہا ہے۔ آپس میں ہمارا تعلق گہرا ہے۔

وجيےورگی بتاتے ہیں کہ آج بھی اس پیشے میں ڈاکٹر کی پرسكرپشن کا چلن کم ہی ہے۔ لوگ دواساز کی دکان پر روایتی طور طریقوں سے دوائیں لیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ سب سے بڑا چیلنج آج اصلی چیزیں حاصل کرنے کی ہیں۔ جڑی بوٹیاں کئی نئی جگہوں پر اگائی جا رہی ہیں، لیکن اس میں معیار کی کمی ہے۔ وہ بتاتے ہیں،

- جڑی بوٹیاں جس مٹی میں پیدا ہو کر اپنے اندر تمام خصوصیات سموتی ہے، اس کی پیداوار وہیں پر ہوانی چاہئے، لیکن لوگ آج اسے کہیں بھی اگا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہےکہ اس میں ذیادہ اثر نہیں ہو رہا ہے ۔ ہم ایسا نہیں کرتے، چاہے وہ دوائیاں دور سے کیوں نہ لانی پڑے یا زیادہ خرچ ہی کیوں نہ کرنا پڑے، ہم وہ جڑی بوٹیاں وہیں سے لاتے ہیں۔ اس سے لوگوں کو فائدہ بھی ہوتا ہے اور بھروسہ بھی بنا رہتا ہے۔

وکاس کہتے ہیں کہ جب انہوں نے فارمیسی شروع کی ہے تو اس کے لئے ان کے بھائی آکاش نے اس تحقیق کے لئے ڈپلوما کیا اور آج وہ نئے طریقوں اور پرانے طریقوں کے تعاون سے کام کر رہے ہیں۔

منالال دواساز آج بھی مانتے ہیں کہ اشتہارات سے ادویات کی قیمت بڑھ جاتی ہے اور پھر وہ غریبوں اور ضرورت مندوں کی پہنچ میں نہیں رہتی۔ وہ بتاتے ہیں،

ہم اپنا سارا کاروبار بغیر اشتہارات کے ہی کرتے ہیں۔ اس طرح کم قیمت برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ بین الاقوامی کمپنیاں ایسا نہیں کر سکتی۔ ان کے مقصد مختلف ہیں۔ ہمارے پاس جو کسٹمر آتا ہے، وہ دوائی اپنی رسائی میں پاکر خوش ہوتا ہے۔ یہ درست ہے کہ ہمیں توسیع کرنا ہے، نئی نئی جگہوں پر جانا ہے۔ بھارت میں تو ہیں، بھارت کے باہر بھی پہنچنا ہے۔ ابھی امیزان سے بھی لنک ہو گیا ہے۔ آہستہ آہستہ کام آگے بڑھے گا۔

- وکاس کو امید ہے کہ نئی نسل اپنے کاروبار کو آگے بڑھانے کے لئے نئے طریقے اپنائےگی۔ ٹیکنالوجی کا استعمال کریں گے۔ اعلی درجے کی ٹیکنیک استعمال کریں گے ہیں۔ آن لائن کاروبار سے کافی فرق پڑھا ہے۔ اس سے لوگوں کا اندھن اور وقت دونوں کی بچت کی جا سکے گی۔


کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

FACE BOOK

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں...

’اسٹوری والاز‘ کے امین حق ...کہانیاں ہوتی ہیں حکمت کی باتیں، دل بہلانا تو ہے ایک بہانہ

جیسے پریوں کی کہانی ہو... 'اسٹاگرام'

صدف آپا نے بچائی حاملہ راجکماری اور اس کے بچے کی جان