راجستھان کے دیہاتوں میں تعلیم کی مشعل جلا رہے ہیں فرمان علی

0

دہلی چھوڑ الور میں دیہی نوجوانوں کی مدد کے لئے آئے فرمان

طالب علموں کو مختلف امتحانات کی کوچنگ دینے کے علاوہ سماجی کاموں میں مشغول

شہداء کے بچوں اور بیواؤں کو مفت کوچنگ اور معذور طالب علموں کو فیس میں 40 فیصد چھوٹ دیتے ہیں فرمان

کہتے ہیں کہ کسی غریب کو پیسے دیکراس کی ضرورت کچھ حد تک ہی مٹائی جا سکتی ہے، لیکن اگر آپ کسی ناخواندہ کو تعلیم دے دیں تو اس کی آنے والی نسلوں کا مستقبل سنوار سکتے ہیں۔ تعلیم اس خوشبو کی طرح ہوتی ہے جو ہمیشہ پھیلتی ہے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کا سبب بنتی ہے اور انہی باتوں کو سمجھتے ہوئے بچّوں تعلیم فراہم کرنے اور معاشرے کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کے مشن میں لگے ہیں الور واقع 'راجستھان انسٹی ٹیوٹ' کے بانی ڈاکٹر فرمان علی۔

کیسے آیا خیال

فرمان علی نے دہلی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ہندی میں ایم اے کیا اور اس کے بعد جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی۔ پھر وہ موتی لال نہرو کالج (دہلی یونیورسٹی) میں مدرس ہو گئے۔ کچھ وقت فرمان علی نے راجستھان یونیورسٹی میں بھی پڑھایا۔ فرمان اپنے کام سے خوش تو تھے لیکن ان کے دل میں طالب علموں کے لئے زمینی سطح پر کام کرنے کی خواہش تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ اپنے آبائی شہر الور کے لئے کچھ کریں۔ الور راجستھان کا ایک پسماندہ علاقہ ہے۔ جہاں طالب علموں کو صحیح رہنمائی نہیں مل رہی تھی اور یہاں کے ہونہار طالب علم بھی چھوٹا موٹا کام کر کے اپنی زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ فرمان نے سوچا کہ کیوں نہ وہ الور میں ایک ایسا انسٹی ٹیوٹ کھولیں جہاں وہ طالباء کو مختلف مقابلوں کے لئے تیار کریں اور ان کا مستقبل سنوارے۔ یہی سوچ کر فرمان نے اپنی نوکری چھوڑ دی اور سن 2009 میں راجستھان انسٹی ٹیوٹ قائم کی۔ اپنے اس خواب کو پورا کرنے میں انہیں اپنے خاندان بالخصوص اپنے والد صاحب کا مکمل تعاون ملا، جنہوں نے ہر قدم پر ان کی رہنمائی کی اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔

اسٹارٹپ

فرمان بتاتے ہیں کہ الور میں اعلی تعلیم حاصل کرنے والے افراد کی تعداد کم ہی ہے۔ اور جنہوں نےاعلی تعلیم حاصل کی ہے وہ شہروں میں رہ کر ہی اپنا کیریئر بنانا پسند کرتے ہیں۔ اس سے اس علاقے کی صورت حال جوں-کی-توں رہتی ہے۔ لیکن فرمان نے ٹھان لیا تھا کہ وہ یہاں کے نوجوانوں کے لئے کچھ کریں گے اور انہوں نے اپنا مشن شروع کیا۔ شروع شروع میں فرمان کے پاس صرف 2 طالب علم تھے جنہیں فرمان نے پڑھانا شروع کیا۔ فرمان کی لگن اور جذبہ ہی تھا کہ آہستہ آہستہ علاقے میں ان کا نام پھیلنے لگا اور دور دور سے بچے ان کے انسٹی ٹیوٹ میں پڑھنے آنے لگے۔

اب ہیں 3500 بچے

آج فرمان کے راجستھان انسٹی ٹیوٹ میں تقریبا 3500 بچے مختلف مقابلوں کے لئے کوچنگ لے رہے ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ میں 20 ٹیچرس ہیں اور 32 نان ٹیچنگ اسٹاف ہے۔ یہاں سے تربیت یافتہ طالباء مختلف مقابلوں میں کامیاب بھی ہو رہے ہیں اور اپنا اور اپنے خاندان کا نام روشن کر رہے ہیں۔ راجستھان میں تعلیم گریڑ کی مختلف امتحانات کے لئے، اسکول استاد کے عہدے کے لئے، راجستھان انتظامی سروس اور راجستھان پولیس محکمہ کے مختلف عہدوں کے لئے فرمان علی طالب علموں کو تربیت دیتے ہیں۔

شہداء کے بچوں اور بیواؤں کو مفت تعلیم

فرمان بتاتے ہیں کہ راجستھان میں کافی لوگ فوج میں ہیں اور ملک کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔ ایسے میں ہم اپنی ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے شہداء کے بچوں کو مفت میں کوچنگ دیتے ہیں۔ ان کے ساتھ ہی بیواؤں کو بھی مفت میں کوچنگ دی جاتی ہے اور جسمانی طور سے معذوروں کی بھی مدد کی جاتی ہے۔

اس کے ساتھ ہی فرمان علی الور میں مختلف ثقافتی پروگراموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور ان کو فروغ دیتے ہیں۔ وہ ان اداروں کو مالی مدد کے ساتھ ساتھ ہر ممکن مدد بھی کرتے ہیں۔ فرمان الور میں ہونے والی رام لیلا کے ممبربھی ہیں ۔ اس کے علاوہ وہ کئی این جی او سے بھی منسلک ہیں اور اسکولی سطح پر طالباء کے لئے کام کرتے ہیں۔

فرمان کو جب بھی وقت ملتا ہے وہ دیہی علاقوں میں جا کر تعلیم کے فروغ کے لئے کام کرتے ہیں وہ وہاں کے طالباء کی رہنمائی کرتے ہیں۔ تعلیم سے متعلق ان کے ہر مسئلہ کو حل کرتے ہیں۔ وہ دیہی علاقے کے لوگوں کو بیدار کرتے ہیں اور انہیں تعلیم کی اہمیت کو بتاتے ہیں۔ اس کام میں وہ گزشتہ کئی برسوں سے لگے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے الور میں ڈاکٹر فرمان علی کا کافی نام ہے اور دور دور سے لوگ ان سے مشورہ لینے آتے ہیں۔ فرمان بتاتے ہیں کہ لوگوں کو تعلیم کے تئیں بیدار کرنا ہی اب ان کی زندگی کا مقصد ہے۔

فرمان کی شریک حیات بھی ان کے کام میں ساتھ دیتی ہیں۔ بیوی ایم اے بی ایڈ ہیں وہ بھی گاؤں کی غریب خواتین کی مدد میں لگی رہتی ہیں۔ چونکہ یہ خواتین زیادہ پڑھی لکھی نہیں ہیں لہذا خواتین صحت سے متعلق دقتیں ہونے پر براہ راست فرمان کے گھر میں ہی آ جاتی ہیں اور فرمان کی بیوی انہیں ہسپتال لے جاتی ہیں اور کئی بار تو وہ ہی ان کا سارا خرچ بھی خود اٹھاتی ہیں۔

جلد ہی فرمان اپنے گاؤں کے ان غریب ضعیف افراد کے لئے بھی کام کرنے کی تیاری کر رہے ہیں جو چھوٹی موٹی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ تاکہ گاؤں کے ان بزرگوں کی صحت سے متعلق مسائل کو حل کیا جا سکے۔

ان سب کاموں کو فرمان خود اپنے طور پر کرتے ہیں انہیں کسی قسم کا کوئی گرانٹ نہیں ملتی اور نہ ہی وہ گرانٹ کے لئے کسی سے کہتے ہیں وہ پنے انسٹی ٹیوٹ سے ہوئی آمدنی سے ہی یہ سارے کام کرتے ہیں اور اپنے کاموں سے وہ کافی مطمئن بھی ہیں۔ صبح 7 بجے سے مسلسل شام 7 بجے تک وہ بچوں کو پڑھاتے ہیں اور اس کے بعد لوگوں کی مدد کے لئے نکل جاتے ہیں اور پھر دیر رات گھر لوٹتے ہیں۔ چھٹی والے دن وہ دیہی علاقوں میں نکل جاتے ہیں اور وہاں کے لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ اپنے کام کے چلتے ہی فرمان کو پورے علاقے میں لوگ جانتے ہیں اور ان کی بہت عزت کرتے ہیں۔

فرمان مانتے ہیں کہ "تعلیم ہی ہر مسئلے کا حل ہے۔ ہندوستان کو اگر سوپرپاور بننا ہے تو یہاں کے گاؤں گاؤں میں تعلیم کی تشہیر ہمیں کرنا ہو گا ۔ یہ کام صرف حکومت کا نہیں ہونا چاہئے ہر شخص کو تعلیم کے فروغ کے لئے آگے آنا چاہئے اور اگر ہم ہندوستان میں تعلیم کو تیزی سے گاؤں گاؤں تک پہنچا پاتے ہیں تو بہت جلد ہی ہندوستان دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں شامل ہو جائے گا۔ "

قلمکار آشوتوش کھنتوال

مترجم : زلیخا نظیر