کھوئی عزتِ نفس کی بازیفتگی ایک جنگ... ہزاروں خواتین کو راہ دکھانے والی جہد کار سنیتا کرشنن

جنسی غلامی کے خلاف جنگ کے لئے پدم شری ایورڈ سے نوازی گئیں

0

راستے ہمیشہ صاف ستھرے، پھولوں سے بھرے نہیں ہوتے کبھی کسی کے حصے میں کانٹوں بھری راہ بھی آتی ہے اور کبھی کسی کو کھردرے اور پتھروں سے بھرے راستے بھی طئے کرنے پڑتے ہیں۔ شاید شاعر نے اسی لئے کہا ہے -

انہی پتھروں پر چل کر اگر آ سکو تو آؤ

میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے ۔۔۔

اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ ہم اپنی قسمت کے کانٹوں کو کسی اور کی راہ میں بوتے چلے جائیں۔ ڈاکٹر سنیتا کرشنن یہی کچھ سوچ کر لوگوں کے راستے کے کانٹے نکالنے میں لگ گئیں، حالانکہ اس مصائب سے بھرے سفر میں دوسروں کے حصوں کی کانٹوں کی چبھن بھی انہیں جھیلنی پڑی۔ وہ گزشتہ تقریبا دو دہائی سے حیدرآباد میں کام کر رہی ہیں۔ آج ساری دنیا میں عصمت ریزی اور جسم فروشی کا شکار ہوئی عورتوں کے لیے کام کر رہے اداروں کے لئے وہ تحریک قج ترغیب کی مثال بن کر کھڑی ہیں۔ سنیتا کرشنن کو ان کی خدمات کے لئے صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی نے  پدم شری جیسے باوقار ایوارڈ سے نوازا ہے۔ 

ڈاکٹر سنیتا کرشنن  صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی سے پدم شری ایوارڈ حاصل کرتے ہوئے
ڈاکٹر سنیتا کرشنن  صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی سے پدم شری ایوارڈ حاصل کرتے ہوئے

ان کا یہاں تک کا صفر آسان نہیں رہا۔ مشکلوں اور مصیبتوں کا لمبا سلسلہ ان کا پیچھا کرتا رہا۔ انسانی حقوق کی یہ جنگ انکی پیدائش سے ہی شروع ہو گئی تھی.

ان کا خاندان کیرالہ کے پالككڈ سے تعلق رکھتا ہے، پیدائش بینگلور میں ہوئی اور پلی بڑھی حیدرآباد، بیںگلور اور بھوٹان میں۔ والد انڈین جیولوجکل سروے سیکشن میں اہلکار تھے۔ ایک عام سا نیم متوسط خاندان، جہاں چھوٹے موٹے کاموں کے لئے تو بچوں کی تعریف ہو سکتی ہے، لیکن روایات کے برخلاف کوئی بڑا باہمت کام کرنے پر تعریف کے بجائے بیگانگی ہی ملتی ہے۔ اپنے کب منہ موڑ لیتے ہیں، پتہ ہی نہیں چلتا۔ ایسے گھر میں انسانی اسمگلنگ جیسے سنگین بین الاقوامی مسئلے پر جنگ کا پرچم اٹھانے والی بیٹی کی پیدائش غیرمعمولی سا واقعہ تھا۔

سنیتا كرشنن کی شخصیت میں کئی خوبيا ہیں۔ سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ جدوجہد کے حوصلے کے مادے کے ساتھ پیدا ہوئی ہیں۔ چاہے کوئی بھی رکاوٹ ہو، انہوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔ 15 ہزار سے زیادہ لڑکیوں کو اس ذلت بھری زندگی سے نجات دلانے کا کام کیا، جو کسی آگ کے سفر سے کم نہیں تھی۔ آج ہم انہی کی کے ساتھ حاضر ہوئے ہیں۔

زندگی کی کٹھن دگر پیدائش سے ہی شروع ہو گئی تھی۔پیدائش سے اس طرح معذور تھی کہ ایک پاؤں ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے چلنے کی ممانعت تھی اور ایک جگہ بیٹھنا ان کی فطرت میں شامل نہیں تھا، آج بھی نہیں ہے۔ قسمت بھلے پر تھی، پیدا ہونے کے تیسرے دن ہی دادی نے دیکھ لیا تھا کہ لڑکی کا پاؤں ٹیڑھا ہے اور اسی دن سے علاج شروع ہوا۔ زندگی کے ان تکلیفدہ لمحوں کا ذکر کرتے ہوئے سنتا بتاتی ہیں،'ڈھائی تین سال کی عمرمیں جب مجھے کچھ کچھ سمجھ آنے لگی تھی، تب میں نے دیکھا کہ میرے پاؤں میں پلاسٹر لگا ہوا تھا۔ ٹھیک ہونے میں کئی سال لگ گئے۔ اس کے لئے بہت سرجريا سہنی پڑیں۔'

سنتا جب آہستہ آہستہ چلنے لگی تھیں۔ والد نے ایک تختی دلائی تھی۔ اسی تختی پر وہ بہت کچھ لکھتی تھی۔ بڑی بہن دو سال بڑی تھی اور چھوٹی کوبہن دو سال چھوٹی۔ بھائی بعد میں پیدا ہوا۔ مجھے گھر کے قریب ہی ایک كرش میں داخل کروایا گیا تھا۔ اسکول میں جو بھی پڑھتی، چھوٹی بہن کو اسی تختی پر لکھ کر پڑھانا ان کی ذمہ داری تھی۔ بچوں کو پڑھانے کا شوق یہیں سے شروع ہوا۔ چھوٹی بہن کے ساتھ ساتھ انہونے دوسرے ہم عمر بچوں کو بھی متن پڑھانا شروع کیا۔

عام بچوں کی طرح نہیں کھیلنا، دوڑنا، ضد کرنا، رونا، سنتا کوبالکل پسند نہیں رہا۔ ان کا موڑ دیکھ کر ہی گھر کے لوگ ہر چیز بن مانگے ہی حاضر کر دیتے۔ شاید یہی وجه ہے کہ بڑی بڑی باتیں کرنا، ہر کسی کو مشورہ دینا ان کی عادت میں شامل ہو گیا۔ 12 سال کی عمرمیں وشاكھاپٹٹم میں رہنے کے دوران اسکول سے گھر آتے ہوئے انہونے دیکھا کہ محلے کے بچے اسکول نہیں جاتے تھے۔ سنتا نے پاس ہی ایک کمرے میں انکو پڑھانا شروع کیا۔ وہاں ایک اسکول شروع کیا۔ یہ اطلاع اپنے اسکول تک پہنچ گئی تو اسکول کے پرنسپل نے سب کے سامنے اس ان کی تعریف کی اورانعام بھی دیا۔

وہ اپنی عمر کے بچوں کے ساتھ پڑھتی تو تھی، ان سے مختلف تھیں۔ ہم عمر بچوں کے ساتھ کھیلتی نہیں تھی، لیکن ان کے لئے کام کرنا، انہیں پڑھانا اچھا لگتا۔ ان كمذوريا تھی،لکین اسی کو سنتا نے اپنی طاقت بنانا شروع کیا۔ 15 سال کی عمر میں انہوں نے اپنی داخلی خصوصیات کو جن لیا تھا۔ حالات کو پہچاننے لگی تھی۔

تکلیف دہ واقعہ

پھر ان کی زندگی میں ایک بہت ہی تکلیف دہ واقعہ ہوا۔ ایک ایسی لڑکی جسے لوگ سرارهتے، حوصلہ افزائی کرتے اور اس کی کہی ہوئی بات پر سچ ہونے کی مہر بھی لگاتے۔ ان کے کام کی تعریف کرتے ہوئے نہیں تھکتے۔ایسی لڑکی کے ساتھ ایک گاؤں میں دلت لڑکیوں کے لئے کام کرنے کے دوران اچانک وہ واقعہ پیش آیا، جس نے ان کی زندگی بدل کر رکھ دی ۔ رات کے گھپ اندھیرے میں کچھ لوگوں نے سنتا کوعصمت ریزی کا شکار بنایا۔ آج سنتا اس واقعہ یاد کرنا نہیں چاہتیں، لیکن اسی ایک واقعہ کی وجہ سے انہوں نے اپنی زندگی کی منزل کا پتہ پایا۔ دوسروں کے لئے کام کرنے کا جوش تو پہلے سے تھا، لیکن نہ سمجھ تھی اورنہ ڈپلومیسی کا پتہ تھا۔ دلت لڑکیوں میں روایتی خیالات سے بیداری لانے کی کوشش کرنے پاداش میں سماج کے ٹھیکیداروں نے انہیں شکار بنایا۔ اس واقعہ کے بعد مقامی پنچایت نے ملزمان کے خلاف کارروائی کرنے کی بات تو دور، الٹی سنتا کو ہی اس کے لئے ذمہ دار قرار دیا۔ اس واقعہ کے بعد ان کے قریب ترین رشتہ داروں کو وہ تمام بٹن غلط لگنے لگا ، جن کے لئے وہ پہلے تعریف کرتے نہیں تھکتے تھے۔

سنیتا کے والدین نے خاموشی اختیار کر لی۔ نہ ہی وہ ان کی مخالفت کرتے اور نہ ہی یہ حمایت۔ وہ زندگی کی سب سے کٹھن گھڑی تھی۔ انہونے ظلم سہا، لیکن مایوسی کو جگہ نہیں دی۔ اس واقعہ کے اثرات کئی سالوں تک دل ودماغ پرچھائے رہے۔ آج اس واقعہ کو 25 سال گزر گئے ہیں۔ وہ سوچتی ہیں کہ وہ سب نیتی کا کھیل تھا، جوان کی زندگی کا راستہ ہموار کر رہا تھا۔ زندگی میں بعد کے واقعات کا تعلق اس واقعہ سے منسلک رہا۔ اس واقعہ کے بعد لوگوں نے سنتا کا رویہ دیکھا تو ان کی ہمدردی بھی جاتی رہی، کیونکہ وہ سنیتا میں متاثرہ ہونے کی خصوصیات نہیں دیکھ پا رہے تھے۔

سنیتا 15 سال کی عمر تک کئی واقعات سے گزر چکی تھی۔ ایک معذور لڑکی، دلتوں کے لئے کام کرنا، جنسی طور پر ہراساں کا شکار ہونا۔ ۔ ان ساری باتوں سے انھیں معاشرے کی صورت حال کا اندازہ ہو گیا تھا۔ انہی حالات نے انھیں اپنی طرح متاثرہ لڑکیوں کے لئے کام کرنے کی تحریک ملی۔ سنتا کہتی ہیں،'لگتا تھا میرے اندر ایک آگ جل رہی تھی۔ ان لوگوں کی حالت مجھ سے چھپی نہیں تھی، جن کے ساتھ گینگ ریپ ہوتا ہے، جو پریشان کی جاتی ہیں، جو جنسی زیادتیوں کا شکار ہوتی ہے، ان کے بارے میں بھی میں مسلسل سوچتی رہی۔ بڑا مشکل وقت تھا میرے لئے۔ دن میں تو میں سب کے سامنے یہ احساس دلاتی تھی کہ میں ہاری نہیں ہوں۔ میں ٹھیک ہوں، مجھے ہمدردی نہیں چاہئے، لیکن رات کی تنہائی میں تو میں عورت تھی۔ نیند نہیں آتی تھی۔ ان دنوں میرے لئے دن اور رات میں کافی فرق تھا۔ میرے والدین بھی خاموش ہی رہتے تھے۔ میرے لئے ان 9 برسوں کا وقت جیسے طویل خاموشی کا دور تھا۔'

طویل خاموشی جب ٹوٹی تو زندگی نے کروٹ بدلی۔ جو چنگاری دل اور دماغ کے کسی کونے میں دبی تھی، وہ شعلہ بننے کے لئے تیار تھی۔ سنیتا نے خواتین کی تحریکوں میں حصہ لینا شروع کیا۔ بںگلورمیں منعقد مس ورلڈ مقابلہ کی مخالف تحریک میں شامل ہوئیں۔ یہ وہی دور تھا جب وہ سوچنے لگی تھیں کہ عصمت فروشی کیوں، کیا عورت صرف لطف حاصل کرنے کی کوئی چیزہے۔وہ بتاتی ہیں،

`مس ورلڈ مقابلہ کے دوران دنیا بھر سے بڑی تعداد میں لڑکیوں کو لایا جانا کسی سے پوشیدہ نہیں تھا۔ میں نے دیکھا کہ بینگلور کو ایک منڈی میں تبدیل کیا جا رہا تھا۔ کئی لڑکیاں لائی جا رہی تھیں۔ اوپر سے خوبصورتی کے مقابلہ کا ڈھونگ تھا اور دوسير طرف دلال چاندی کاٹ رہے تھے۔ ان دنوں عصمت فروشی کے خلاف میں نے کئی محازوں پر اپنی بات رکھی تھی۔ یہ کوئی بہت بڑا کام نہیں تھا۔ کچھ اداروں نے مجھے اپنے ساتھ کام کرنے کے لئے کہا اور میں تیار ہو گئی۔ تحریک کے دوران اچانک ہمیں گرفتار کر لیا گیا۔ بعد میں مجھے اندازہ ہوا کہ یہ سب سازش کا حصہ تھا، تاکہ میں انعقاد کے دوران جیل میں رکھی جاؤں۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ نام نہاد تنظیموں میں سے کسی نے میری رہائی یا ضمانت کے لئے دلچسپی نہیں دکھائی۔ گھر والے تو گھبرا گئے تھے۔ والد کو پولیس نے یہ کہہ کر ڈرا دیا تھا کہ میرے سامان میں منشیات نکلے ہیں۔ سیدھی سی بات یہ تھی کہ تحریک اس وقت کے چیف منسٹر کے خلاف تھی اور مجھے جیل ہو گئی۔ دو ماہ تک جیل میں رہنا پڑا۔ یہاں میں نے بہت کچھ سیکھا۔ ایک ہی لباس پر میں نے ساٹھ دن گزار دیے۔ رات میں کوئی کپڑا لپیٹ کے کپڑے دھو دیتی اور صبح وہی پہنتی۔ 400 خواتین جیل میں تھیں۔ پورے دن ملاقاتوں کے لئے لوگ آتے۔ کسی کا نام نہیں پکارا جاتا۔ بلکہ سب کی شناخت پولیس سٹیشنوں کے نام پر تھی۔ میرے لئے اس دوران کوئی نہیں آیا۔ دوسری نظر سے دیکھوں تو میرے لئے جیل کے دن کسی خوبصورت تجربے کی طرح تھے۔ مجھے محسوس ہوتا کہ سماج نے مجھے الگ رکھا۔ نہ اپنایا۔ میں سوچتی ہوں کہ آج میرے جدوجہد کے دوران جو سوالات کھڑے ہوتے ہیں، اس کے جوابات جیل کے اس زندگی میں مل گئے تھے۔ '

سنیتا جب جیل سے نکلیں تو پولیس نے حالات کچھ ایسے بنائے کہ انھیں بیںگلور چھوڑنے کے لئے مجبور ہو جانا پڑا۔ وہ حیدرآباد چلی آئیں۔ انہی دنوں حیدرآباد کےچادر گھاٹ کے پاس موسانگر، کمل نگر میں برا در ورگيس بستی کے لوگوں کے لئے کام سماجی خدمات کاکام کر رہے تھے۔ ان کے ساتھ کام کرنا شروع کیا۔ کئی ہفتوں تک ایک چھوٹے سے شیڈ کو اپنا آشیانہ بنایا۔

1996 کی بات ہے، پرانے شہر کا ریڈ لائٹ ایریا سمجھی جانے والی محبوب کی مہندی اجڑ گئی تھی۔ اس علاقے سے طوائفوں کو ہٹانے کا فیصلہ اچانک لیا گیا تھا۔ حکومت کے پاس عصمت فروشی میں ملوث عورتوں کو وہاں سے ہٹانے کے علاوہ کوئی اور منصوبہ نہیں تھا۔ ان کی بحالی کے بارے میں کچھ نہیں سوچا گیا تھا۔ انہیں گرفتار کرکے جیل میں رکھا گیا تھا۔ 400 سے 500 عورتیں، انہیں معلوم نہیں تھا کہ ان کا کیا ہوگا۔ گرفتار کرنے والو کو بھی شاید پتہ نہیں تھا۔ ان میں سے تقریبا 20 عورتوں نے خود کشی کر لی تھی۔ کئی دن تک ان لاشوں کو بھی کوئی لینے نہیں آیا۔ ان کی تدفین کون کرے گا، اس کے بارے میں بھی كسی کو دلچسپی نہیں تھی۔ مردہ خانے کے پاس خاتون نامی ایک عورت سے سنیتا ملاقا ۔

جب اوجڑی ہوئی عورتوں کو اپنے پیروں پر خدا کرنے کی بات آئی تو وہ فوری طور پر تیار ہو گئی۔ جب کچھ اور عورتوں سے رابطہ کیا تو ان کابھی یہی کہنا تھا کہ ہماری تو زندگی گذر گئی، ہمارے بچوں کے لئے کچھ کیجئے۔

۔ میں نے بردار جوذ کے سامنے مہندی سے اجڑی خواتین کی قابل رحم حالت کا ذکر کرتے ہوئے ان کے لئے کچھ کرنے کی تجویز پیش کی۔

مہدی کے پاس ہی ایک کمرے میں کچھ عورتیں رکی ہوئی تھیں۔ ان کے مکان لوٹ لئے گئے تھے اور سامان بھی جلا دیا گیا تھا۔ ان ہوں نے اپنے عورتوں نے زیورات اتار کر دیئے اور کہا کہ اسے بیچ کر بچوں کے لئے اسکول شروع کیجئے اور اس طرح متاثرہ خواتین کے بچوں کے لئے انہیں کے تعاون سے پہلا اسکول اسی کمرے میں شروع ہوا۔ یہی 'پرجولا' کی بنیاد تھی۔

برادر جوز کا ماننا تھا کہ ان عورتوں کے لئے کچھ کرنا ہے تو یہ کرو کہ انہیں کسی کا محتاج نہ بناؤ۔اسی بات پر عمل کرتے ہوئے متاثرہ خواتین کو خود مکتفی بنانے کی مہیم شروع ہوئی، جو15000 خواتین کی زندگی سنورنے تک پہنچی۔

سنیتا کے لئے یہ راستہ بھی آسان نہیں تھا۔ جب عصمت فروشی کے دلدل سے خواتین کو چھڑانے ان کے اڈوں پر چھاپے مارنے کا سلسلہ شروع ہوا تو یہ کام دلالوں کو اچھا نہیں لگا۔ بروکروں نے مجھے اپنا دشمن جان کر کئی بار حملہ کیا۔ ایک بارتوحملے میں کان پر گہرا زخم آیا۔ کان کی سرجری کرنی پڑی۔ سنیتا نے بغیر رکے چلتے رہنے کی حکمت عملی اپنائی۔ حملوں کو ایوارڈ جانا۔ ایک بار تو چارمینار کے دفتر میں ہی ایک نوجوان آیا اور سيڈھیوں پر گرا تو ایسیڈ کی بوتل اسی پر گری۔

سنیتا نے ان عورتوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لئے ایک ورکشاپ بنایا اور ایک ہوم کی تعمیر کی۔ آج جہاں سیکڑوں بلکہ ہزاروں خواتین یھاں اپنی زندگی پھر سے شروع کر رہے ہیں۔

...................................................

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

FACE BOOK

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

اردو یور اسٹوری ڈاٹ کوم


پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem