نابینا افراد کی زندگی کو روشن کرنے کی کوشش 'میڈ ان ڈارک'

ہندوستان میں آج تقریباً 15 ملین لوگ ضعف بصارت اور 52 ملین آنکھ کی بیماری سے متاثر ہیں ... میڈ ان ڈارک نابینا افراد کو زیورات بنانے کی ٹریننگ دے رہا ہے ...

0

کیا آپ جانتے ہیں دنیا کے ہر تین میں سے ایک نابینا شخص ہندوستان سے تعلق رکھتا ہے؟ یہ افسوسناک اعداد و شمار ہیں جو کافی تشویشناک بھی۔ اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میں آج تقریبا 15 ملین لوگ ضعف بصارت اور 52 ملین لوگ نےآنکھوں کی بیماری سے متاثر ہیں اور سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ ان میں سے بھی 80 فیصد وہ لوگ ہیں جو وقت پر علاج نہ ہونے کی وجہ سے آنکھوں کی بیماریوں کی زد میں آ جاتے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان میں آج بھی آنکھ کے مریضوں کے لئے صحیح تعداد میں ہسپتال اور کلینک دستیاب نہیں ہیں۔ جہاں وقت رہتے مریضوں کا اچھا علاج ہو سکے۔ اس کے علاوہ سوشل اویئرنیس کی بھی کمی ہے جس کی وجہ سے مریضوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔

سب سے زیادہ غریب لوگ آنکھوں کی بیماریوں میں مبتلا ہیں کیونکہ ان کے پاس علاج کروانے کے لئے پیسہ نہیں ہوتا، عدم معلومات میں وہ علاج ہی نہیں کرواتے۔ ایسے میں ایک غریب شخص کا ضعف بصارت کا شکار ہونا یا کسی قسم کی آنکھ کی بیماری سے متاثر ہونا اس کے خاندان کے لئے کافی دقت کا سبب بن جاتا ہے۔ کیونکہ نابینا ہونے کی وجہ سے اسے آسانی سے کہیں نوکری نہیں مل پاتی۔ جس وجہ سے وہ پیسہ نہیں کما پاتا اور اس کے مالی حالات بہت خراب ہو جاتے ہیں۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزائن اور رائل کالج آف آرٹس کے طالب علموں نے مل کر بینائی کے مریضوں کی مدد کرنے کے مقصد سے ایک چھوٹی سی کوشش کی۔ انہوں نے 'میڈ ان ڈارک ' نام سے ایک پروجیکٹ کی شروعات کی۔ اس پروجیکٹ کی طرف سے وہ غریب لوگوں کو زیورات بنانے کے لئے حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ان کے بنائے ہوئےزیورات کو مارکیٹ میں فروخت کر کے ان کی زندگی کو خوشحال بنانے کی کوشش رہ رہے ہیں۔ اس کارروائی میں نابینا افراد سونگھ كر سنگتراشی کرتے ہیں اس کے لئے باقاعدہ یہ لوگ اندھے کو تربیت کرتے ہیں.

احمد آباد میں کچھ دوستوں نے جوکہ الگ الگ کالج سے تھے انہوں نے سوچا کیوں نہ وہ نابینا افراد کی صلاحیت کا صحیح استعمال کر انہیں کوئی روزگار دیں، جس سے ان کی زندگی تھوڑا آسان ہو جائے۔ اس کے بعد ڈیزائننگ ٹیم نے ایک منفرد قسم کے آرٹ پر کام کرنا شروع کیا۔ ہر جواہر کے الگ مہک ہوتی ہے اور انہوں نے جواہرات کو رنگ کی مہک کے بارے میں نابینا افراد کو سمجھانا شروع کیا اور ٹریننگ دی۔ اس کے بعد ان زیورات پر قدرتی نیچرل اروما کا استعمال کیا گیا تاکہ زیورات زیادہ پر کشش لگیں۔

بہت جلد ہی سب اس کام میں ماہر ہو گئے۔ اتنا کہ اب وہ چھو کر ہی نگینے کے بارے میں جان لیتے۔ کام شروع ہوا اور آہستہ آہستہ مصنوعات کی مانگ بھی بڑھنے لگی ساتھ ہی ان نابینا ڈیزائنرز کی آمدنی بھی بڑھنے لگی۔ یہ کوشش ضعف بصارت کا شکار افراد کے لیے ان کے ہنر کو تسلیم کرنے کا ایک موقع فراہم کررہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہیں خود کفیل بھی بنایا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی معاشرے میں بھی یہ پیغام دینے کی کوشش ہے کہ ہنر صرف بینائی کا محتاج نہیں ہوتا۔ میڈ ان ڈارک کئی نابینا افراد کے لئے بنے اداروں کے ساتھ پارٹنر شپ کر چکا ہے۔ ساتھ ہی یہ اندھ کنیا اسکول سے بھی جڑ چکا ہے۔

میڈ ان ڈارک اب اپنی سپلائی چین کو درست کرنے میں مصروف ہے تاکہ اچھے خوردہ فروشوں سے جڑ کر ایک نیا انٹرپرائز نظام تیار کیا جا سکے۔ ہندوستان میں روایتی زیورات کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں میڈ ان ڈارک کی مصنوعات کو لوگ خوب پسند کر رہے ہیں۔ میڈ ان ڈارک نے سن 2011 میں کور 77 ڈزائن ایوارڈ بھی جیتے ہیں۔

آج میڈ ان ڈارک ایک برانڈ بن چکا ہے۔ کمپنی کے تین بنیادی مقصد ہیں۔ پہلا- وہ اندھے کو باقاعدہ آمدنی کا ایک ذریعہ دے سکیں۔ دوسرا- معاشرے میں اندھے کے لئے ایک خاص جگہ بنا پائیں تاکہ کوئی انہیں مہربانی کی نظر سے نہ دیکھیں بلکہ ان صلاحیت کی وجہ سے انہیں شناخت ملے۔ تیسرا - کمپنی عوام کو ضعف بصارت کا شکارافراد کے مسائل سے آگاہ کرا سکے تاکہ لوگوں کے ذہن میں بھی ان کا تعاون کرنے کا احساس پیدا ہو۔

Related Stories