شکم کی آگ لئے پھر رہی ہے شہر بہ شہر۔۔ ہجرت کو روکنے کی ایک کوشش کا نام ہے 'فائیو اسپلیش'

اُدے پور سے 80 کلومیٹر دور ایک گاؤں کے رہنے والے لکھن جوشی نے دیہاتی نوجوانوں کی گاؤں سے شہر ہجرت کو روکنے کے لئے اُٹھایا قدم۔۔

0

لکھن جوشی بنیادی طور پر راجستھان کے شہر اُدے پور سے 80 کلومیٹر دور ایک گاؤں کے رہنے والے ہیں۔ بارھویں پاس کرنے کے بعد وہ مالی طور خود کفیل ہونے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے ایک ٹیم مینیجر کے طور پر کام کرنا شروع کیا اور فی الحال وہ دوسرے اور تیسرے درجے کے شہروں کےنوجوانوں کو حصولِ روزگار میں مدد کرنے والی اُدے پور میں قائم ایک آئی ٹی کمپنی 'فائیو اسپلیش" میں ملازمت کرنے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کرتے ہیں۔ لکھن اس کمپنی سے جُڑنے والے پانچویں ملازم تھے۔

اس کمپنی کے ساتھ جُڑنے والے پہلے ملازم ترون اَودِچ نے کچھ وقت کے لئے اس کمپنی سے الگ ہوکر کچھ نامی گرامی کمپنیوں کے ساتھ کام کیا لیکن انہیں وہاں جاکر بھی فائیوا سپلیش میں کام کرنے کے زمینی ماحول کی کمی محسوس ہوئی ۔ آج وہ دوبارہ اس کمپنی کا حصہ ہیں اور اینڈ۔ ٹو۔ اینڈ سالوشنس کا کام سنبھالتے ہیں۔

فائیو اسپلیش نامی یہ کمپنی وی ٹی یو سے الکٹرانکس کے شعبے میں ڈگری حاصل کرنے والے کپل شرما نے 2009 میں قائم کی تھی۔ نئے جغرافیائی علاقوں اور ہرے بھرے علاقوں کا سفر کرنے کے لئے بے قرار رہنے والے بہت سے انجئیروں کے بر خلاف کپل ہمیشہ ہی اپنے شہر اُدے پور واپس آکر وہاں کچھ کام کرنا چاہتے تھے۔ اُدے پور میں ان معاونت کے نام پر ان کے ساتھ صرف ایک لڑکی تھی جو اس لئے ان کے ساتھ کام کرنا چاہتی تھی کیونکہ ان کا خاندان اس لڑکی کی تعلیمی کفالت کر رہا تھا۔

کمپنی کی شروعات :

"اس لڑکی کو ہمدردی کے طور پر پیسہ درکار نہیں تھا۔ وہ بدلے میں کچھ کرنا چاہتی تھی۔ بس، اسی وقت ہمیں اس بات کا احساس ہوا کہ اُمنگوں سے پُر لیکن وسائل سے عاری نوجوانوں کے پاس کچھ ہو یا نہ ہو، ان کے پاس عزتِ نفس کا مضبوط جذبہ ضرور ہے۔ اس احساس نے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ ہم ایک خاندان کے طور پر کیا کرسکتے ہیں۔ "

کپل مزید کہتے ہیں، "2008 میں بی۔پی۔او سیکٹر میں کام کرنے والے ایک دوست سے چائے پر گفتگو کے دوران یہ خیال میرے ذہن میں آیا۔ اس دوست نے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے مجھے سمجھایا کہ کس طرح اس میں لوگوں اور خصوصاً نوجوانوں کے لئے بہت امکانات ہیں۔ تو ہم نے سوچا کہ اُدے پور میں ایسا کیوں نہیں ہوسکتا؟"

دونوں کے لئے فائدے کا سودا :

دوسرے اور تیسرے درجے کے شہر زرِ مبادلہ کی آگ میں جل رہے تھے ۔ معیارِ زندگی کی شرح جس رفتار سے بڑھ رہی تھی ، اس لحاظ سے اچھی ملازمتوں کی بہت کمی تھی۔ روزگار کے بہتر مواقع کی تلاش میں ان شہروں کے با صلاحیت نوجوان بڑے شہروں کا رُخ کر تے ہیں۔ ایسے میں کچھ نوجوان تو کامیابی حاصل کرپاتے ہیں لیکن ان میں سے اکثر کے ہاتھ مایوسی لگتی ہیں۔

چھوٹے اور متوسط درجے کے شہروں کے معاملے میں سب سے زیادہ اہمیت کی چیز پر بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں۔ "اس طرح دراصل ہم کسی بھی مسئلے کا حل تلاش کرنے کی سمت قدم نہیں بڑھارہے ہیں۔ اس کے بجائے ہم دیہی علاقوں کے علاوہ دوسرے اور تیسرے درجے کے شہروں میں رہنے والی 60 تا 65 فی صد آبادی میں پوشیدہ صلاحیتوں کو سامنے لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان لوگوں کے اندر ایسی قوتِ فہم و ادراک اور سیکھنے کی اہلیت ہے کہ اگر حقیقی کوششیں کی جائیں تو وہ کرشمہ کرسکتے ہیں۔ اس عمل کے نتیجے میں ہمارا ملک بڑے شہروں کی طرف ہجرت کے بڑے مسئلے سے دوچار ہے کیونکہ زیادہ تر ملازمتیں ملک کے 15 سے 20 بڑے شہروں تک محدود ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ اگر ہم دیہی علاقوں پر توجہ مرکوز کریں توہم درپیش مسائل کا حل تلاش کرسکتے ہیں اور ان گاؤوں کے نوجوان ہر روز چھوٹے اور متوسط درجے کے شہروں کے نوجوانوں کے شانہ بہ شانہ کام کرسکتے ہیں۔ حقیقت میں ہمارے ساتھ جُڑے 30 فیصد لوگوں کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے جن میں کئی تو ہمارے مقامِ کار کے آس پاس کرائے سے کمرے لے کر رہتے ہیں۔"

کپل کہتے ہیں کہ ایک روزگار دہندہ کی حیثیت سے وہ ہمیشہ ضرورت مند لوگوں کو ملازمت پر رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں، " ہم اصل میں دیہی پس منظر رکھنے والے ان لوگوں کو ملازمت دیتے ہین جنہیں اپنی تعلیم کی تکمیل کے لئے مالی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ صبح اور دن کے وقت کام کرنے کے علاوہ رات میں بھی کام کرتے ہیں او رساتھ ہی ساتھ اپنی تعلیم بھی مکمل کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم بیواؤں، اکیلی ماؤں اور گھر میں اکلوتی کمانے والی لڑکیوں کو ملازمت فراہم کرنے کے ذریعے خواتیں کو بااختیار بنانے پر زور دیتے ہیں۔ اسی کے ساتھ ہم ان معذور لوگوں کو بھی کام کرنے کا موقع دیتے ہیں جو اپنی معذوری کے باوجود اپنے بل بوتے پر اپنی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔"

نوجوانوں کو پیشہ ورانہ تربیت دینا :

فائیو اسپلیش سے جُڑنے سے قبل امید وار کو پانچ کسوٹیوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ کپل کہتے ہیں، "سب سے پہلے ہم آواز کے معیار اور تعلیمی خواندگی کی جانچ کرتے ہیں اور اگر وہ شخص ہمارے معیار پر پورا اُتر تا ہے تو ہم اسے اپنے ساتھ جوڑ لیتے ہیں اور اس کی قابلیت کے مطابق اسے تربیت دیتے ہیں۔ ہم نے کچھ وائس اور نان وائس ماڈیول تیار کر رکھے ہیں جس کے ذریعے ہم پہلے انہیں عام تربیت دیتے ہیں اور پھر خصوصی پروگرام یا سرگرمی کے لئے انہیں تربیت دی جاتی ہے۔"

اس کے علاوہ فائیو اسپلیش وزارت برائے دیہی بہبود سے منسلک غیر سرکاری تنظیموں اور دیگر اداروں کی مدد سے بھی ہم لوگوں کو اپنے ساتھ جوڑتے ہیں۔ کپل کا ماننا ہے کہ اب تک انہیں لوگوں سے بے حد شاندار ردِ عمل موصول ہوا ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں، "ہمیں اس اصول کو سمجھنا ہوگا کہ ان شہروں کے نوجوان ایسی جگہوں پر کام کرنا پسند کرتے ہیں جہاں انہیں گھر جیسا ماحول ملے۔ ان کے لئے ایک اچھا ماحول ہی ہم سے جوڑے رکھنے کا بنیادی محرک ہے۔ اس کے علاوہ یہاں کام چھوڑکر جانے کی شرح بھی بہت کم ہے۔"

انتظام اور آمدنی :

فائیو اسپلیش نیسکام کی ایک معاون کمپنی ہے جو اُدے پور، جودھپور اور اجمیر میں قائم ہے اور یہ ڈاٹا انٹری خدمات، او سی آر مکسڈ ڈجٹلائزیشن، دستاویزات سے متعلق خدمات ، دستاویزات کی اسکیننگ، ڈاٹا مائننگ، چالان سے متعلق خدمات ، دعووں اور رعایات سے متعلق خدمات، بیک آفس سپورٹ، ای میل اور چیٹ سپورٹ، اِن باؤنڈ اور آؤٹ باؤنڈ سپورٹ خدمات جیسے بہت کے کاموں کو سنبھالتی ہے۔ ان کی خدمات ای۔کامرس، مواصلات، ریئل ایسٹیٹ، خوردہ فروشی، بی ایف ایس آئی سمیت دیگر کئی شعبوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔

فائیو اسپلیش ایک نجی کمپنی ہے جس میں پوری طرح سے صرف شرما خاندان کا ہی سرمایہ لگا ہے۔ کپل کا کہنا ہے کہ وہ دیگر شہروں میں اپنی کمپنی کو وسیع کرنے اور سرمایہ جُٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں،" ہم تین شہروں سے بڑھ کر 15 شہروں اور 3 ہزار خاندانوں تک رسائی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ہمارا ہدف جنوبی ہند، شمال مشرق اور کشمیر میں اپنی گرفت جمانا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہم آنے والے تین تا چار برسوں میں اپنے ہدف کو حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گے۔ "

اپنی بات ختم کرتے ہوئے کپل کہتے ہیں، " ہم خود کو صرف کاروبار کی شکل میں نہیں بلکہ ایک حوصلہ افزاء گروہ کی شکل میں مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ ہم اسے ایک ایسے نظرئے کا روپ دینا چاہتے ہیں جسے ہندوستان کے کم از کم 500 شہروں میں اُبھرتے ہوئے اور امنگوں بھرے کاروبار کے طور پر دوہرایا جائے۔ اگر ایسا ہوجا تا ہے تو ملک کو ایک بڑے مسئلے کا حل مل جائے گا۔ ہم اکیلے ہی 500 مقامات پر دفاتر کا قیام اور خدمات کی پیش کشی کا کام نہیں کرسکتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے امکانی معاونین ہماری اسی نفسیات کو اپنائیں اور وہ اس سچائی کو پہچان لیں کہ ان کا کام بھی چھوٹے یا متوسط درجے کے شہروں میں اسی نوعیت یا اس سے بھی بہتر طریقے سے پورا کیا جاسکتا ہے اور دوری یا صلاحیت اب کوئی بڑی پریشانی نہیں ہے۔"