'من کی بات ' نے بدل دی ان تینوں کی قسمت ملازمت کرنے کے بجائے اب دوسروں کو ملازمت فراہم کر رہے ہیں

0

بنارس میں کر رہے ہیں آن لائن سبزی کا کاروبار

چند دنوں کے قلیل عرصے میں شہر میں سرخیوں میں آگئے

لاکھوں میں پہنچا سبزیوں کا کاروبار

دوسرے نوجوانوں کے روزگار فراہم کر رہے ہیں

ایم سی اے،جیسی ڈگری لینے کے بعد ہر نوجوان کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے مشہور اور نامور بین الاقوامی کمپنیوں میں ملازمت حاصل ہو۔ موٹی تنخواہ ہو، عیش و آرام بھری زندگی حاصل ہو۔ لیکن بنارس کے تین نوجوان شائد ایسا نہیں سوچتے۔ انہوں نے ٹیکنیکل کورس کرنے کے بد خود اپنا ذاتی کاروبار شروع کرنے کی فیصلہ کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے اپنی زندگی کی تصویر بدل ڈالی۔ آج وہ خود ملازمت نہیں کرتے بلکہ دوسروں کو ملازمت فراہم کرتے ہیں۔ ایسے ہی تین نوجوان ہیں آسوتوش گپتا، امیت چوبے اور راکیش کمار۔

کیسے ملی تحریک:

بنارس کی گلیوں میں آج ان تینوں نوجوانوں کے نام کا شہرہ ہے۔ ہر روز یہ نوجوان گھر گھر میں اپنا تسلط بناتے جارہے ہیں۔ ان کی پہنچ ہر گھر کے کچن تک ہوگئی ہے۔ صرف شہر ہی نہیں بلکہ گاؤں کے کسانوں کی زبان پر بھی ان کا نام چڑھ چکا ہے۔ جی ہاں، وزیرِ اعظم کے خیالات سے متاثر بنارس شہر کے یہ نوجوان اسٹارٹپ ہیں۔ بنارس جیسے شہر میں ان نوجوانوں نے آن لائن سبزی بیچنے کا کام شروع کرکے مارکٹنگ کا رجحان ہی بدل دیا ہے۔

پورے ملک میں آن لائن مارکٹنگ کا کاروبار تیزی سے اپنے پاؤں پسار رہا ہے۔ بھاگم بھاگ بھری زندگی میں اب لوگ دوکانوں پر اپنا وقت برباد کرنے کے بجائے آن لائن سامان خریدنے میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔ صرف میٹرو شہروں میں ہی نہیں بلکہ چھوٹے شہروں کے لوگ بھی دھڑلے سے آن لائن مرکٹنگ کر رہے ہیں۔ لوگوں کے اسی رجحان کو سمجھا ہے بنارس کے ان نوجوانوں نے اور آن لائن سبزی بیچنے کا کام شروع کردیا۔ 23 سالہ نوجوان تاجر امیت چوبے نے یور اسٹوری کو بتایا،

"کچھ مہینوں قبل میں نے ریڈیو پر وزیرِ اعظم نریندر مودی کے من کی بات پروگرام کو سنا۔ اس پروگرام میں انہوں نے نوجوانوں کے سامنے اپنے خیالات رکھے جس میں انہوں نے اسٹارٹپ انڈیا کا ذکر کیا۔ اسی پروگرام کے بعد میرے دماغ میں کچھ الگ کر دکھانے کا خیال پیدا ہوا۔"

کچھ ہی دنوں میں امیت کی یہ ضد ایک جنون کا روپ اختیار کرگئی۔ ایم سی اے کی پڑھائی پوری کرنے کے بعد امیت نے کسی کمپنی میں ملازمت کرنے کے بجائے خود اپنا کاروبار شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ امیت نے اپنے دوست آسوتوش گپتا اور راکیش کے ساتھ گفتگو کی۔ امیت کی طرح بی سی اے اور راکیش پوسٹ گریجویٹ ہیں۔ ان تینوں نے ملازمت کے لئے بھٹکنے کے بجائے خود اپنا کاروبار شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ احمد آباد کی معروف آن لائن سبزی ویب سائٹ 'سبزی سبزی' سے تحریک پاکر انہوں نے بنارس میں بھی ایسا ہی کچھ کرنے کی ٹھانی۔ انہوں نے کہیں سے 70 ہزار روپیوں کا انتظام کیا ، ایک ویب سائٹ تیار کروائی اور آن لائن سبزی بیچنے کا کاروبار شروع کردیا۔ ان نوجوانوں کی ویب سائٹ کا نام ہے 'بنارس سبزی ڈاٹ کام۔ اس ویب سائٹ کے ذریعے یہ تینوں نوجوان گھر گھر سبزی پہنچانے کا کاروبار کر رہے ہین۔ پہلے دن انہیں 15 آرڈرس موصول ہوئے۔ امیت کے کاروبار کرنے کے نایاب نمونے کا فائدہ اب کاشی کے رہنے والوں کو مل رہا ہے۔

کیا ہے بنارسی سبزی ڈاٹ کام:

بنارسی سبزی ڈاٹ کام پر ہر قسم کی سبزی دستیاب ہوتی ہے۔ تمام سبزیوں کی قیمتیں بھی ویب سائٹ پر درج ہوتی ہیں جس کی وجہ سے گاہر کو کسی بھی قسم کی پریشانی نہیں ہوتی۔ ویب سائٹ پر فون نمبر بھی دیا گیا ہے۔ گاہک کو دو گھنٹوں کے اندر ہی اندر سبزی ان کے گھر پہنچادی جاتی ہے۔ ویب سائٹ کے گاہکوں کو وقتاً فوقتاً سیل اور آفر بھی دئے جاتے ہیں۔ 120 روپئے سے زیادہ کی سبزی خریدنے پر کوئی ڈیلیوری چارج نہیں لیا جاتا۔ 20 جنوری سے شروع ہوچکی اس ویب سائٹ کو لوگوں کا اچھا ریسپانس مل رہا ہے۔ عالم یہ ہے کہ اب لگ بھک 450 لوگ اس ویب سائٹ سے جُڑ کر آن لائن سبزی خرید رہے ہیں۔ تینوں کے اس مثلث کی محنت کا اثر ہے کہ چند روپیوں سے شروع ہونے والا ان کا کاروبار اب لاکھوں میں چل رہا ہے۔ اپنے کام کو آسان اور گاہکوں کو سہولیات فراہم کرنے کے لئے امیت اور ان نے دوستوں نے 10 ڈیلیوری بوائے ملازم رکھے ہوئے ہیں جو شہر کے کونے کونے میں لوگوں کے گھروں تک سبزیاں پہچاتے ہیں۔

کیسے کام کرتا ہے بنارسی سبزی ڈاٹ کام:

اپنی ویب سائٹ کے ذریعے امیت اور ان کے دوستوں نے سبزی منڈیوں میں بچولیوں یعنی دلالوں کی چین کو بھی توڑ دیا ہے۔ عام طور پر منڈیوں میں دلالوں اور بڑے بیوپاریوں کا بول بالا ہوتا ہے ۔ یہ دلال کسانوں سے اونے پونے داموں پر سبزیاں خرید کر اونچے داموں پر خوردہ بازار میں بیچتے ہیں۔ اس لمبی چین کی وجہ سے ہماری اور آپ کی تھالی تک پہنچنے والی سبزیوں کے دام آسمان کو چھونے لگتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا اثر کسانوں اور عام انسانوں پر پڑتا ہے۔ کسان کے پاس منڈیوں کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا تو گاہک مجبوری میں مہنگی سبزیاں خرید تا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گاہکوں کو تازہ اور سستی سبزیاں فراہم کرنے کے مقصد کے تحت یہ نوجوان ان کسانوں سے براہِ راست رابطہ کرتے ہیں جو اپنے کھیتوں میں سبزیاں اُگاتے ہیں۔ امیت اور ان کے دوست گاؤں گاؤں جاتے ہیں۔ انہیں اپنی ویب سائٹ کے بارے میں جانکاری دیتے ہیں اور ان کی سبزیاں خریدتے ہیں۔ اس پہل سے جہاں کسانوں کو مناسب قیمت مل جاتی ہے وہیں ویب سائٹ کے گاہکوں کو تازہ اور سستی سبزی مل جاتی ہے۔ امیت کا منصوبہ ہے کہ آئندہ دنوں میں وہ سبزی کی کھیتی کرنے والے کسانوں کو سائنسی طریقے سے واقف کروائیں تاکہ کسان بھی کھیتی کے نئے نئے طریقے سیکھ سکیں۔ امیت اس کے لئے بنارس ہندو یونیورسٹی کے زراعتی سائنسدانوں کی مدد لیں گے۔ آئندہ دنوں میں کسانوں کے لئے تربیتی پروگرام بھی لگایا جائے گا۔ امیت بتاتے ہیں کہ کسانوں کو ٹیکنک کے ساتھ جوڑنا ان کا اصل مقصد ہے ۔

بنارسی سبزی ڈاٹ کام سے اب نوجوانوں کو روزگار سے جُڑنے کا موقع بھی مل رہا ہے۔ لگ بھگ 30 نوجوان اس کمپنی سے وابستہ ہوگر ملازمت حاصل کرچکے ہیں۔ امیت کے مطابق،

"ہمارا مقصد صرف کاروبار کرنا ہی نہیں ہے بلکہ اور بھی ایسے نوجوان ہیں جو ملازمت حاصل کرنے کے لئے در بدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں۔ انہیں روزگار مہیا کروانا ہے۔ کچھ دنوں پہلے وزیرِ اعظم کے مثالی گاؤں جیاپور میں روزگار میلے کے انعقاد میں بڑی کمپنیوں کے ساتھ ہم نے بھی شراکت کی تھی اور 25 نوجوانوں کو اپنی کمپنی میں کام کرنے کے لئے منتخب کیا تھا۔ صرف بے روزگار وں ہی نہیں بلکہ معذور لوگوں کو بھی کمپنی کی جانب سے پورا موقع دیا جارہا ہے۔ "

کمپنی اپنے گاہکوں تک سامان پہنچانے کے لئے صرف معذوروں کے ذریعے بنائے گئی تھیلیاں ہی استعمال کرتی ہے تاکہ ان لوگوں کو بھی روزگار کا موقع مل سکے۔ امیت نے یور اسٹوری کو بتایا کہ ہم معذوروں کو مجبور نہیں بلکہ مضبوط بننے کا احساس دلاتے ہیں۔ خودی وزیرِ اعظم بھی معذوروں کو بڑھاوا دینےکی اپیل کرچکے ہیں۔ ایسے میں ہمارا اخلاقی فرض بنتا ہے کہ ہم ان کا ساتھ دیں۔

یقیناً وزیرِ اعظم کی اس سوچ نے امیت جیسے لاکھوں نوجوانوں سے خوابوں میں رنگ بھرا ہے۔ امیت اور ان کےدوستوں نے آج اس راستے کو چُنا ہے جو آسان نہیں ہے۔ لیکن انہیں یقین ہے کہ یہی راستہ انہیں ایک دن منزل تک پہنچائے گا۔ کاروبار کا یہ طریقہ بنارس میں نہ صرف نیا رجحان بن کر اُبھرا ہے بلکہ کئی بے روزگاروں کے لئے سوغات لے کر بھی آیا ہے۔ امید ہے کہ امیت کی اس کوشش سے مزید کئی نوجوان تحریک پائیں گے اور وزیرِ اعظم کے 'میک ان انڈیا' کے خواب کی تعیبر بنیں گے۔

تحریر: آسوتوش سنگھ

مترجم: خان حسنین عاقبؔ