تعلیم کو آسان اور دِلچسپ بناتا ہے ’پرورش دی میوزیم اسکول‘

0

10 برسوں سے جاری ہے ’پرورش، دی میوزیم اسکول‘ ...

میوزیم کے ذریعے دی جاتی ہے کتابی تعلیم ...

غریب بچّوں کوپڑھایا جاتا ہے بالکل مُفت ...


میوزیم وہ جگہ ہوتی ہے جہاں کسی ملک کے فنِ ثقافت اور تاریخ کو گہرائی سے جانا جا سکتا ہے، اسے دیکھا اور سمجھا جا سکتا ہے، لیکن کیا کبھی کسی نے سوچا تھاکہ میوزیم کا استعمال تعلیم دینےکے لئے بھی ہو سکتا ہے؟ بھوپال میں رہنے والی ’شِبانی گھوش‘ نے اپنے شہر کے مختلف میوزیم کو نہ صرف تعلیم سے منسلک کیا بلکہ ان کے ذریعے وہ ہزاروں بچّوں کا مستقبل سنوار چکی ہیں ۔ آج ’شِبانی گھوش ’پرورش، دی میوزیم اسکول‘ کے ذریعے غریب اور ’سلم ایریا‘ میں رہنے والوں بچّوں کو بہتر تعلیم دینے کا کام کر رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی اِس اسکول میں پڑھ چکے بچّے آج انجینئرنگ اور دوسرے شعبوں میں شہرت کما رہے ہیں۔

’شِبانی گھوش‘ جب بی ایڈ کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں تو اس وقت انہوں نے دیکھا کہ جس نظام ِتعلیم سے وہ علم و فن کی تربیت حاصل کر رہی ہیں وہ کافی اچھا ہے لیکن اس کا استعمال زیادہ تراسکولوں میں نہیں ہوتا۔ تب انہوں نے سوچا بی ایڈ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اگر وہ کسی اسکول میں پڑھانے کا کام کریں گی تو وہ یہ علم دوسرے بچّوں تک نہیں پہنچا پائیں گی اور وہ اسی طریقۂ کار میں بندھ كر رہ جائیں گی جس طریقے سے بچّوں کو اب تک پڑھایا جاتا ہے ۔ اِس لئے انہوں نے سوچا کہ وہ ایسے بچّوں کو تعلیم دینے کا کام کریں گی جو معیاری تعلیم سے دُور ہیں۔ اسکول شروع کرنے سے پہلے’شِبانی‘ مُلک کے مختلف شہروں میں گئیں ۔ انہوں نے’ پانڈچیری‘ کے’ اروِند آشرم‘ اور دوسرے اسکولوں کے نظامِ تعلیم کو سمجھا۔ تب انہیں خیال آیا کہ کیوں نہ بھوپال میں موجود میوزیم کو تعلیم کا ذریعہ بنائیں ۔

اپنا اسکول شروع کرنے سے پہلے ’شِبانی‘ نے بھوپال کی مختلف بستیوں میں سروے کیا۔ یہاں پر انہوں نے دیکھا کہ اِن بستیوں میں رہنے والے بہت سے بچّے اسکول نہیں جاتے ۔ اس کی بجائے وہ دوسروں کے گھروں میں کام کرتے تھے یا محنت مزدوری کرتے تھے، کیونکہ دراصل وہ اپنے خاندان کااقتصادی بوجھ تھوڑا بہت کم کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ سروے کے دوران انہوں نے کئی بچّوں سے بات کی اور اُن سے کہا کہ وہ اُن کو بستی سے باہر کسی اچھی جگہ تعلیم دیں گی تاکہ مستقبل میں وہ کچھ بن سکیں۔ اِس کے لئے کچھ بچّے تیار تو ہو گئے لیکن اِن بچّوں کو ایک تشویش بھی تھی کہ کہیں اُن کا روزگار نہ بند ہو جائے ۔ اس کے لئے ’شِبانی‘ نے انہیں یقین دلایا کہ ایسا نہیں ہوگا، اور جو بچّےکام کرنا چاہتے ہیں وہ اپنے کام کے ساتھ ساتھ پڑھائی بھی کر سکیں گے۔ اس کا کافی مثبت اثر پڑا اور شروعات میں ہی 40 بچّے اُن سے پڑھنے کے لئے تیار ہو گئے ۔’شِبانی‘ نے بچّوں کو پڑھانے کے لئے شام 3 بجے سے 5 بجے تک کا وقت طئے کیا ۔ ساتھ ہی بھوپال کے 5 میوزیم کے ساتھ اتحاد اور معاہدہ کیا۔ ان میوزیم میں’ ریجنل سائنس سینٹر، مانو سنگراہلیہ ، اسٹیٹ میوزیم، نیشنل ہسٹری میوزیم اور قبائلی میوزیم‘ شامل تھے۔

اس طرح ستمبر 2005 سے ’پرورش، دی میوزیم اسکول‘ کی شروعات ہوئی۔

’ يوراسٹوري‘ کو’’شِبانی‘ بتاتی ہیں کہ ’’شروعات میں ہم نے ایک بس کرائے پر لی، جو مختلف بستیوں میں جاکر بچّوں کو جمع کرتی اور انہیں میوزیم لانے لے جانے کا کام کرتی ۔ اِس دوران بچّوں کو میوزیم میں گھومنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا تھا، جس کے بعد بچّوں کے ذہنوں میں جو سوال اٹھتے تھے ان کا وہیں جواب دیا جاتا تھا۔‘‘ ’شِبانی‘ کا کہنا ہے کہ ’’ ہم چاہتے تھے کہ سوال بچّوں کی طرف سے کئے جائیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟کیسے ہوتا ہے؟ اِس دوران ہم نے تعلیم سے متعلق کوئی بات نہیں کی اور صرف ان سوالات کے جواب دیئے۔‘‘

آہستہ آہستہ بچّےجب زیادہ دلچسپی لینے لگے تو میوزیم دکھانے کے ساتھ ساتھ انہیں پڑھانے کا کام شروع کیا اور وہ ان بچّوں کا باقاعدہ اسکولوں میں داخلہ کرانے لگیں ۔ کیونکہ اُس وقت تک ان بچّوں کے والدین کو بھی یہ سمجھ میں آ گیا تھا کہ ان کے بچّے پڑھائی میں دلچسپی لے رہے ہیں، جس کے بعد ’شِبانی‘ اور ان کی ٹیم میوزیم کے ذریعے ان بچّوں کو پڑھانے کا کام کرنے لگی۔

’شِبانی‘ نے اپنے پاس آنے والے بچّوں کو نیشنل اوپن اسکول سے 10 ویں اور 12 ویں کے امتحانات دلائے۔اورآج ان سے تعلیم حاصل کر چکے بہت سے بچّے نہ صرف کالج میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں بلکہ کئی ایک تو انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ ان میں سے کئی بچّے ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنا کاروبار شروع کر دیا ہے ۔’شِباني‘ کا کہنا ہے کہ ان کا بنیادی مقصد تعلیم کے ساتھ ساتھ ان بچّوں کی شخصی، ذہنی اور سماجی تربیت کرنا بھی ہے ۔ اِسی نظریے کے تحت ’شِبانی‘ اور ان کی ٹیم اپنے پاس آنے والے بچّوں کو مختلف طرح کی ’ووکیشنل ٹریننگ‘ دینے کا کام کرنے لگی، تاکہ ان کا پڑھایا ہوا بچّہ نہ صرف تعلیم میں اوّل رہے بلکہ سماجی سطح پر بھی اس کی شخصیت میں نکھار آئے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران 1200 بچّے ان کی نگرانی میں تعلیم حاصل کرکے اپنی زندگی سنوار رہے ہیں۔

فی الحال تقریباً1500 بچّے ان کے یہاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ یہ اسکول ہفتے کے ساتوں دن جاری رہتا ہے ۔ خاص بات یہ ہے کہ تعلیم کا کام کاج وہی لوگ سنبھالتے ہیں جس طبقے سے یہ بچّے آتے ہیں ۔ ’شِبانی‘ کے مطابق’ سلم ایریا‘ میں رہنے والی 10 لڑکیاں جوکہ اب خود پڑھ لکھ گئی ہیں، وہ ان بچّوں کو پڑھانے کی ذمہ داری سنبھالتی ہیں ۔ جبکہ میوزیم کلاس ان کے رضا کار سنبھالتے ہیں ۔

بچّوں کو کتابی علم بہتر طریقے سے سمجھانے کے لئے یہ لوگ میوزیم میں بچوں کو اُسی گیلری میں لے جاتے ہیں جس موضوع کو وہ پڑھ رہے ہوتے ہیں ۔ یہ لوگ کاپی کتاب کے بغیر ،عملی طور پرمتعلقہ چیزوں کو سمجھاتے ہیں ۔ اس طریقے سے بچّے کسی بھی چیز کو بہت جلد اور آسانی سے سمجھنے لگتے ہیں ۔ مثال کے طور پر ’نرمدا ‘ندی کی کیا کہانی ہے؟ یا قبائلیوں کی تاریخ کتنی قدیم ہے؟ یا پھر’کششِ ثقل‘ کے سبب ہر چیز زمین پر گرتی ہے، لیکن دھواں آسمان کی طرف کیوں اُڑتا ہے؟ اس قسم کے تمام سوالات کے جوابات میوزیم میں تعلیم کے دوران بچّوں کو دیئے جاتے ہیں ۔

آج’ پرورش، دی میوزیم اسکول‘ میں پڑھنے والے کئی بچے ٹی وی کے پروگراموں میں اپنے اداکاری کے جوہر دکھا چکے ہیں، ڈانس کے مقابلوں میں حصّہ لے چکے ہیں ۔ اسکول میں عملی سرگرمیاں بچّوں کی دلچسپی اور رجحان کے مطابق ترتیب دی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی اِسی اسکول میں پڑھنے والا’ ارون مہاترے‘ نام کا ایک طالب علم آج انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہا ہے ۔اس کی ماں دوسروں کے گھروں میں کام کاج کرتی ہے جبکہ اس کے والد ایک کمپنی میں چپراسی ہیں ۔

’’شِبانی گھوش‘ کا کہنا ہے کہ

’’ہماری منصوبہ بندی اس کام کو دوسرے شہروں میں بھی پھیلانے کی ہے۔ اس لئے ہمیں تلاش ہے ایسے اداروں کی جو اپنے اپنے شہروں میں بچّوں کی تعلیم کے لئے مختلف میوزیم کو اپنے ساتھ شامل کریں ۔‘‘

قلمکار : ہریش بِشٹ

مترجم : انور مِرزا

Writer : Harish Bisht

Translation by : Anwar Mirza