صاف ستھرے ہندوستان کے لئے 'بنچ آف فولس' کی انوکھی پہل

0

'بنچ آف فولس' میں 100 سے زیادہ لوگ شامل
نکڑڈرامہ کے ذریعہ لوگوں کو کرتے ہیں بیدار
نومبر 2014 سے ہر اتوارکو کرتے ہیں صفائی

'بنچ آف فولس' کا یوں تو اردو میں مطلب ہوتا ہے 'احمقوں کی ٹولی'۔۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس نام کا ایک گروپ ہمارے آس پاس کی گندگی کو صاف کرتا ہے' ان سوئے ہوئے لوگوں کو جگاتا ہے جن کے لئے آپ کے گھر اور آفس کے آس پاس کی گندگی کا انبار جمع ہونا ایک عام بات ہے - 'بنچ آف فولس' ایک ایسی تنظیم ہے جس میں ہر طبقہ کے لوگ شامل ہیں ۔ اس میں بچے' بزرگ' خواتین'نوجوان اور تمام عمرکے لوگ شرکت کرتے ہیں ۔ وزیر اعظم نریدر مودی کی صفائی مہم سے متاثر یہ گروپ چھتیس گڑھ کے دارالحکومت رائے پور میں گزشتہ ایک سال سے خدمات انجام دے رہا ہے۔ 'بنچ آف فولس' گزشتہ سال 2 نومبر کو سات دوستوں نے مل کر قائم کیا تھا۔

اس تنظیم میں آج 100 سے زیادہ لوگ شامل ہو گئے ہیں ۔ خاص بات یہ ہے کہ اس تنظیم میں خواتین کی بھی اچھی خاصی تعداد موجود ہے ۔ 'بنچ آف فولس' کے بانیوں میں سے ایک ستیش بھووالکا کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنی اس مہم کا یہ نام اس لئے رکھا کہ کوئی ہمیں اس کام کے لئے بے وقوف کہے' اس سے پہلے ہی ہم نے اپنے کو بے وقوف کہلانا شروع کر دیا۔

ستیش کا ٹور اینڈ ٹریول کا کاروبار ہے' بہت سے لوگ ان کی کمپنی کے ذریعہ بیرونی ممالک گھومنے پھرنے جاتے تھے اور لوٹ کر جب وہ لوگو ں سے ان کے سفر کے تجربات ' تاثرات اور مشاہدات کی تفصیل حاصل کرتے ہیں تو زیادہ تر لوگوں کا یہی کہنا ہوتا تھا کہ فلاں ملک میں اتنی صفائی ہے لیکن ہمارے ملک میں ایسا نہیں ہے۔ یہ بات ستیش کو کافی گراں گزرتی تھی ۔ وہیں دوسری طرف ان کے گھر اور آفس کے آس پاس بھی کافی گندگی رہتی تھی اور صفائی کا کوئی نظام نہیں تھا ۔ تب انہوں نے اس مسئلہ سے نمٹنے کا فیصلہ کیا ۔ یہ کام کس طرح کرنا ہے ان کو پتہ نہیں تھا۔

گزشتہ سال وزیر اعظم نریندر مودی نے 2 اکتوبر کو ملک بھر میں صفائی مہم کا آغازکیا' اس وقت ستیش کو بھی محسوس ہوا کہ یہ وقت صحیح ہے کہ صفائی کے کام کا آغاز کیا جانا چاہئے۔ ستیش کا کہنا ہے کہ "وزیراعظم مودی نے جب یہ مہم شروع کی تو ہم لوگوں نے سوچا کہ جب ملک کا وزیر اعظم جھاڑو اٹھا سکتا ہے تو ہمیں ایسا کرنے میں شرم کیوں محسوس ہونی چاہئے" ۔ اس کے بعد ستیش نے صاف صفائی کے موضوع پرکئی طرح کی معلومات جمع کرتے ہوئے ایک پاور پوائنٹ پریزنٹیشن تیار کیا ۔ ایک دن ستیش نے اپنے دوستوں کو اپنے گھر بلایا اور حفظان صحت پر اپنا یہ پاور پوائنٹ پرزینٹیشن پیش کیا ۔ جس کودیکھ کران کے دوست کافی متاثر ہوئے اور وہاں موجود تمام 7 لوگوں نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اس کام کا آغاز خود کریں گے۔

ستیش کے تمام دوست تاجر پیشہ تھے' لہذا سب نے فیصلہ لیا کہ دیوالی کے بعد آنے والے پہلے اتوار کو وہ اپنی اس مہم کو شروع کریں گے۔ دیوالی کے بعد 2 نومبر کو پہلا اتوار تھا ۔ اس سے پہلے ان تمام دوستوں نے طے کیا کہ وہ کالی ماتا مندر کے پاس صفائی کریں گے ' کیونکہ دیوالی کی وجہ سے مندر میں کافی تعداد میں پھول چڑھائے گئے تھے۔ اس وجہ سے وہاں پر گندگی پھیل گئی تھی ۔ وہیں بلدیہ کے زیادہ تر ملازم رخصت پرتھے۔ ایسے میں شہر کے زیادہ تر علاقوں میں صفائی نہیں ہو پائی تھی ۔ لہٰذا لوگوں نے وہاں کی صفائی کی اور ادھر ادھر بکھرے پڑے فضلہ کو صاف کیا ۔ ستیش کا کہنا ہے کہ "مندر کے اطراف و اکناف صفائی کرنے کے بعد ہم دوستوں کو کافی اچھا محسوس ہوا۔ اس کے بعد ہم نے فیصلہ کیاکہ ہم اس کام کو آگے بھی جاری رکھیں گے ۔ "اتنا ہی نہیں اس کام کے لئے مندر کے قریب رہائش پزیر لوگوں نے ستیش اور ان کے دوستوں کی خوب تعریف کی ۔

اس طرح یہ سات دوست مل کر تین چار ماہ تک اس مہم میں اکیلے ہی لگے رہے۔ کچھ دنوں بعد انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعہ لوگوں تک اپنی بات پہنچانے کی کوشش کی ۔ اس کا کافی اثر ہوا اور لوگ ان کی مہم میں شامل ہوتے چلے گئے ۔ آج ان کی ٹیم سے 100 افراد وابستہ ہو گئے ہیں ۔ ان میں 18 سال سے لے کر 60 سال کی عمرتک کے لوگ شامل ہیں ۔ ان میں کافی بڑی تعداد خواتین کی بھی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ان کی ٹیم میں مختلف پروفیشن سے وابستہ لوگ مثلاًڈاکٹر' انجینئر طالب علم اور تاجرین بھی شامل ہیں ۔ ستیش نے بتایا:'' عام لوگوں نے شروع میں ہم پراعتماد نہیں کیا' کیونکہ زیادہ تر لوگوں کا خیال تھا کہ ہم زیادہ دن تک اس کام کو جاری نہیں رکھ سکیں گے ۔ آخرکار ہم نے ایسے لوگوں کو غلط ثابت کیا اور گزشتہ ایک سال کے دوران ہم ہر اتوار کو شہر کے مختلف حصوں کی صفائی کرتے ہیں''۔

' 'بنچ آف فولس' کی اپنی ویب سائٹ بھی ہے اس کے علاوہ فیس بک اور سوشل میڈیا کے دوسرے ذرائع استعمال کرتے ہوئے یہ عوام کو پہلے ہی سے بتاتے ہیں کہ آنے والے اتوار کو وہ کہاں پر صفائی کریں گے اور اس جگہ کی تصویر بھی اپلوڑ کرتے ہیں ۔ اتوار کو صفائی کے بعد ٹیم کے ارکان پھر اس جگہ کی تصویر سوشل میڈیا میں ڈالتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پتہ چل سکے کہ کچھ گھنٹوں میں کسی جگہ کی شکل اور صورت کس طرح تبدیل کی جا سکتی ہے۔ اب تک یہ گروپ بہت ڈمپنگ گراؤنڈ کو کار پارکنگ' موٹر سائیکل پارکنگ اور کھیل گراؤنڈ میں بدل چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاحال رائے پور کی 61 جگہوں کو مکمل طور پر صاف کیا جا چکا ہے ۔ اس ٹیم کے ارکان نہ موسم کی پرواہ کرتے ہیں اور نہ کسی تہوارکی' ہراتوار کو بس صفائی مہم میں مصروف ہو جاتے ہیں ۔

جس جگہ کی صفائی کرنی ہوتی ہے اس کا انتخاب ہر جمعہ کو کیاجاتا ہے۔ اس کے بعد ہفتہ کو یہ اس جگہ پر جاتے ہیں جہاں پر اتوار کو صفائی کرنی ہوتی ہے 'تاکہ وہاں رہنے والے لوگوں کو بتا سکیں کہ وہ اگلے دن ان کے علاقے کی صفائی کرنے والے ہیں ۔ ساتھ ہی وہاں کے عوام میں صاف صفائی اور حفظان صحت کے بارے میں شعور بیدار کرنے کی غرض سے یہ پمفلٹ تقسیم کرتے ہیں ۔ ستیش کہتے ہیں:"ہم ایسا اس لئے کرتے ہیں تاکہ جو بھی ہمارے مہم سے جڑنا چاہتے ہیں وہ جڑ سکیں ۔ یہ رضاکار صفائی کرنے والی جگہ پر اتوار کی صبح چھ بجے پہنچ جاتے ہیں اور جب تک وہ علاقہ صاف نہیں ہو جاتا تب تک اسی کام میں مصروف رہتے ہیں ۔ کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ جہاں پر صفائی کرنی ہوتی ہے وہاں کوئی کوڑادان نہیں ہوتا ۔ ان حالات میں اس گندگی کو کچھ بیگو میں بھر کر ایسی جگہ پر پھینک دیا جاتا ہے جہاں ان کو کوڑا دان مل جاتا ہے۔ ہر ہفتہ جہاں پر صفائی مہم چلائی جاتی ہے' وہیں پر صفائی کے ساتھ ساتھ ان کی ٹیم کے کچھ ارکان نکڑ ڈرامہ کرتے ہوئے لوگوں کو صفائی کی ترغیب دیتے ہیں ۔ اس ڈرامہ کا ایک خاص موضوع ہوتاہے جس میں انہیں بتایا جاتا ہے کہ خشک ردی کی ٹوکری اور گیلے ردی کی ٹوکری کس طرح الگ الگ رکھی جا سکتی ہے؟ گندگی سے کیا کیا بیماری ہو تی ہے؟ اس گندگی سے کس طرح بچا جا سکتا ہے؟

ستیش کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ ہمارے اس کام پر تنقید بھی کرتے ہیں' لیکن دوسری طرف بہت سے لوگوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ 'بنچ آف فولس' کا رکن بننے کے لئے یہ لوگ کسی طرح کی کوئی فیس نہیں لیتے۔ کوئی بھی شخص کسی بھی وقت ان کی ٹیم میں شامل ہو سکتا ہے۔ 'بنچ آف فولس' کی ایک خاص قسم کی ٹی شرٹ بھی ہوتی ہے اور یہ اسی کو دی جاتی ہے جو بھی نیا رکن مسلسل چار ہفتہ تک ان کے ساتھ وابستہ رہتا ہے۔ ستیش کو اس بات کا افسوس ہے کہ لوگوں میں صفائی کا شعور نہیں ہے ۔ وہ اپنے گھروں کی ردی کی ٹوکری باہر پھینکتے ہیں ۔ وہیں بلدیہ اپنا کام تو کرتی ہے لیکن لوگوں کاتعاون بہت ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی جگہ تو کوڑے دان خالی ہوتے ہیں جبکہ آس پاس کوڑا کرکٹ کا انبارجمع ہو جاتا ہے- لوگ کچرا پھینکنے کوڑے دان تک جانا ہی نہیں چاہتے وہ دور سے ہی کوڑا پھینک دیتے ہیں جوانتائی غلط روش ہے''۔

ویب سائٹ: www.bunchofools.com

قلمکار:بشت ہریش

مترجم: شفیع قادری