چار سوروپے تنخواہ پر کام کرنے والے کے پاس اب 250 کروڑ روپے کا آئی پی او

0

مہاراشٹر کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے شروع ہوا كوِک هيل کا سفر

ہندوستان میں 33 شاخیں اور 80 ممالک میں کسٹمر

8 فروری 2016 کو کیپٹل مارکیٹ میں رکھا قدم لچ کیا آئی پی او

مہاتما گاندھی نے کہا تھا اگر دنیا میں تبدیلی لانا ہے تو ہمیں خود اس کا زریعہ بننا پڑےگا۔ گاندھی جی کے اسی خیال کو عملی شکل دی ہے کیلاش صاحب راؤ کاٹ کر اور سنجے صاحب راؤ کاٹ کر نے، جو كوك هيل ٹیکنالوجی کے بانی ہیں۔ آپ كمفرٹ زون سے باہر آکر کچھ اچھا کام کرنے کی کوشش اور سوچ نے انہیں کاروباری بنایا۔

8 فروری 2016 کو انہوں نے کیپٹل مارکیٹ میں قدم رکھا ہے اور ان کا آئی پی او لانچ ہوا۔ كوك هيل ٹیکنالوجی دو پرائس بینڈ میں اپنا آئی پی او نکال رہی ہے۔ پہلا 311 اور دوسرا 321 روپے کا۔ اور کل ایشو 250 کروڑ روپے کا ہے۔ BSE اور NSE فہرست میں ان کا اسٹاک شامل کیا گیا۔ سنجے صاحب راؤ کاٹ کر کہتے ہیں،

سكويا کیپٹل کے پاس 10 فیصد حصہ داری ہے۔ آئی پی او کی لانچنگ کے بعد یہ حصہ گھٹ کر 6 فیصد رہ گیا ہے۔

کم از کم بولی 45 ایکوئٹی شيئَرس کی لگی۔ سنجے بتاتے ہیں کہ پیسے کا 50 فیصد حصہ (110 کروڑ) مارکیٹنگ میں خرچ کیا جائے گا اور 16 سے 17 فیصد حصہ (40 کروڑ روپے) ٹیکنالوجی کو بڑھانے میں خرچ کئے جائیں گے۔ جس میں لیب وغیرہ بھی شامل ہوں گے۔ جبکہ 27 کروڑ روپے ہندوستان اور بیرون ملک میں آفس خریدنے کے لئے خرچ کئے جائیں گے۔ اب کمپنی کے آراینڈ ڈی ڈپارٹمنٹ میں تقریبا 120 لوگوں کی ایک اچھی ٹیم ہے۔ كوك هيل ہندوستان کا پہلا سافٹ ویئر پروڈکٹ بننے جا رہا ہے جو کیپٹل مارکیٹ میں داخل ہو رہا ہے۔

كوك هيل کا سفر مہاراشٹر کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے شروع ہوا اور آج ہندوستان ہی نہیں دنیا بھر میں لوگ ان کی کمپنی کو ان کے بہترین پروڈکٹ کی وجہ سے جانتے ہیں۔ رحمت پور میں پیدا ہوئے کیلاش نے پیسہ کمانے کے لئے پہلی ملازمت ریڈیو اور کیلکیولیٹر کی دکان میں کی جہاں انہیں صرف 400 روپے ماہانہ ملتے تھے۔ اس کے کچھ دیر بعد ہی انہوں نے اپنی ایک ہارڈ ویئر رپیئر دکان کھول لی جس سے ان کی کمائی بہترین ہونے لگی۔ اس سے ان کی زندگی کی سطح بھی بڑھنے لگی۔ اس وقت کمپیوٹر مارکیٹ تیزی سے ابھر رہا تھا۔ کچھ وقت بعد ہی انہوں نے نیو انڈیا انشورنس سے اینول بحالی کانٹریکٹ لے لیا۔ کیلاش کے بھائی سنجے اس وقت اپنی ایم سی ایس کی تعلیم حاصل کر رہے تھے، انہوں نے دیکھا کہ ان کے پاس زیادہ تر ایسے کمپیوٹر رپیئرنگ کے لئے آ رہے ہیں، جس میں وائرس کے مسئلے کے چلتے خرابی پیدا ہو رہی تھی۔ اس کے بعد دونوں بھائیوں نے کافی سوچ بچار کے بعد کمپیوٹر سیکورٹی سافٹ ویئر کمپنی بنانے کی سوچی۔ اس دوران سنجے نے مكلینجلو کو ختم کرنے کے لئے کچھ ٹولز بنائے۔ وہیں کیلاش نے ان ٹولز کو مفت میں اپنے گاہکوں کو دینا شروع کر دیا۔ جب لوگوں نے انہیں استعمال کیا تو انہیں یہ کافی مفید لگا، تب سنجے اور کیلاش نے ان ٹولز کی مدد سے سن 1995 میں پہلا اینٹی وائرس بنایا۔ کیلاش نے مارکیٹنگ کا کام سنبھالا تو وہیں سنجے پروڈكٹ میں نئی نئی ریسرچ کر رہے تھے اور اسے اور بہتر بنانے کی سمت میں لگے تھے۔ تاکہ لوگ مطمئن ہوں اور وہ اپنے حریف سے کافی آگے پہنچ جائے۔ اس وقت 7-8 بڑی کمپنیاں اینٹی وائرس پروڈکٹس بنا رہیں تھی۔ ایسے میں كوك هيل کے لئے مارکیٹ میں بنے رہنا آسان نہیں تھا، لیکن وہ خوب محنت کرتے رہے۔ انہوں نے اپنے پروڈکٹ کو کافی محنت کے ساتھ ڈیزائن کیا کافی باریک چیزوں پر توجہ دی گئی۔

5 سال كوك هيل پونے میں کام کر رہی تھی، لیکن اس دوران کمپنی کو بہت زیادہ کامیابی نہیں ملی اور دونوں بھائیوں کے لئے پونے میں آفس مینٹین کرنا مشکل ہو گیا۔ اقتصادی تنگی کی وجہ سے سن 1999 میں انہیں آفس بند کرنا پڑا۔ اس کے بعد کچھ دوستوں نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ اپنے پروڈكٹ کی مارکیٹنگ اور بہتر کریں تاکہ لوگوں کو ان کے پروڈکٹ کے امتیازات وخصوصیات کا پتہ چل سکے۔ اس کے بعد کیلاش نے ٹائمز آف انڈیا میں ایک نصف صفحے کا اشتہار دیا اور اپنی توجہ اپنے پروڈکٹ کی مارکیٹنگ پر لگا دی۔ سن 2002 میں انہوں نے ابھیجیت جوروركر کو اپنے ساتھ شامل کیا۔ وپ اب کمپنی کے ایگزیکٹیو ڈائيركٹر اور ایس ويپی آف سیلز ہیں۔ سن 2003 میں كوك هيل نے ناسک میں اپنی پہلی شاخ کھولی اور باقی ہارڈ ویئر وینڈرس کو اپناےسافٹ ویئر کی فروخت کے لئے قائل کیا۔

سنجے بتاتے ہیں کہ سن 2002 سے لے کر سن 2010 تک كوك هيل پونے سے لے کر کئی بڑے شہروں تک پہنچا اور آج ہندوستان میں 33 برانچ ہیں اور 80 ممالک میں ان کے گاہک ہیں۔ سن 2010 میں کمپنی کو سكويا کیپٹل سے تقریباً 60 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ملی۔ اس فنڈ سے کمپنی نے ہندوستان میں تمل ناڈو اور بیرون ملک جاپان، امریکہ، افریقہ اور یو اے ای میں اپنے آفس کھولے۔ سن 2011 سے كوك هيل نے انٹرپرائز کسٹمر کو ذہن میں رکھ کر سافٹ ویئر ڈیولپ کرنا شروع کیا۔ گزشتہ سال کمپنی نے كوك هيل گیجیٹس سكيورینس بھی لانچ کیا، جو اینڈرائڈ فون کے لئے ڈیولپ کیا گیا ہے اور موبائل اور ٹیبلٹ کو بچاتا ہے۔ لانچنگ کے محض 5 ماہ کے دوران ہی کمپنی کی اس پروڈکٹ سے ڑھائی کروڑ روپے کی کمائی ہوئی۔ آج کمپنی کمپیوٹر اور موبائل ہر کسی چیز کی سیکورٹی دے رہی ہے۔

مصنفہ-اپراجتا چودھری

مترجم-زلیخا نظیر