بین الاقوامی سطح پر آیوروید کو ملی ایک نئی شناخت

0

جب وہ دس سال کی تھیں تو ڈاکٹر اسمتانرم کے پیٹ میں کافی درد رہتاتھا۔جب دردتیز ہونے لگاتو ان کے والدین کو لگاکہ appendiciesہوسکتاہے اور وہ انھیں سرجری کے لئے اسپتال لے جانے پر غورکرنے لگے۔لیکن ان کے والد نے ان کے چچاکو کال کیاجو گاؤں میں رہتے تھے اور وہاں وید تھے۔چچانے ان کے والد کو ہربل علاج بتایا۔گھریلو نسخے سے بیماری کا علاج کیاگیا۔

اس واقعے سے ڈاکٹر نرم کا آیوروید پر اعتماد مزید گہراہوگیا۔وہ کہتی ہیں ، ’’میرے باپ ،دادااور چاچاوید تھے۔بچپن سے میں نے کبھی بھی ایلو پیتھی کی دوائی نہیں لی۔اگر میں بیمارہوتی تو مجھے ’سدرشن گھنوتی ‘ دیاجاتا تھااور ہر اتوارکو ایک چمچ آرنڈی کا تیل پیناپڑتاتھا۔ ‘‘

اس طرح کے بہت سے تجربات اور قدیم سائنس سے نزدیکی کے سبب ڈاکٹر نرم نے آیوروید کا مطالعہ کیا۔لیکن وہ صرف کاروباری نہیں بننا چاہتی تھیں ،اس لئے انھوں نے ayushakti ayurveda pvt. ltd.قائم کیاجو ان کی سائنس اور آیوروید کے تئیں لگاؤ کا نتیجہ ہے۔

آیوروید کی طاقت کا استعمال

ڈاکٹر نرم اپنے شوہر سے آیوروید کی تعلیم کے دوران ملیں اور گریجویشن کے بعد انھوں نے خود ہی کام کرنے کا فیصلہ کیا۔آیوروید پر اچھی گرفت نے بہت سے لوگوں کو جوڑنے میں مدد کی ۔لیکن ڈاکٹر نرم مقامی سطح پر لوگوں سے جڑنا چاہتی تھیں۔ڈاکٹر نرم کہتی ہیں:

’’آیورویدمیں بیماریوں کا علاج کرنے کی لامحدود طاقت ہےاور میں کسی چیز کے ذریعے آیوروید کی خوبیوں کو دنیابھر میں پھیلانا چاہتی تھی۔ ‘‘

کیاآپ جانتے ہیں ،گٹھیا،بانجھ پن،فائی برائڈ اور جلد کے امراض کا آیوروید میں علاج ہے ۔ان دعوؤں کو ثابت کرنے کے لئے نیدرلینڈ سے ڈاکٹر وکٹر منہاوے،ayushakti آئے۔تین سال تک انھوں نے مطالعہ کیااور ayushakti کے بانجھ پن مریضوں کو دیکھا جنھیں PSOD،کم جراثیم کی تعداداورکم حرکت پذیری ،مشاق وضع حمل اور عام بانجھ پن جیسے مختلف مسائل تھے۔انھیں علاج کے سلسلے میں امید افزانتائج ملے۔ان کے نتائج کی بنیاد پر انھوں نے اپنی تھیسس eramus university, netherlandsمیں جمع کیا،جس میں کہاکہ جہاں نارمل علاج سے بانجھ پن پر قابوپانے میں کامیابی کی شرح 15 سے20فیصدہے وہیں ayushakti کے آیوروید علاج سے کامیابی کی شرح 42فیصد یعنی موثر شرح سے دوگناہے۔

ان کا پہلا پلانٹ پال گھر ،مہاراشٹر میں لگا۔پروڈکشن آسان تھا لیکن اسے یورپی اسٹینڈرڈ کے مطابق جانچ کرنا ایک چیلنج تھا۔’’ہم لیب میں جانچ کرکے پیداوارکو یورپ کے distributorکوبھیجتے تھے۔وہ اسے رکھ لیتے تھے لیکن جب ایک سال بعد یورپی لیب میں جانچ ہوتی تو ہمارے پروڈکشن کھرے نہیں اترتے ۔ہندوستانی تجربہ گاہیں غیر معتبر ثابت ہوئیں۔ہمارے پروڈکٹ کی اصلی ہونے پر سوال اٹھایاجارہاتھا۔‘‘ ڈاکٹر نرم یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں۔

ان کی پوری ٹیم اس مسئلے کو حل کرنے میں لگ گئی اور انھوں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین کی مدد سے اس مسئلے کا حل نکالا۔انھوں نے اپنے سارے پروڈکٹس کو جرمنی کی لیب میں جانچ کرنے کا فیصلہ کیا۔وہ کہتی ہیں:

’’ہمبھاری دھات سے پاک ،مکروبین سے سے پاک،جراثیم کش سے پاک پروڈکٹ چاہتے تھے اور پورے ہندوستان میں بھاری دھاتوں کی جانچ کی AAFSمشین نہیں تھی۔یہاں تک کہ بڑی فارما کمپنیوں میں بھی یہ مشین نہیں تھی۔یہ 1993کی بات ہے۔اب ہم نے مشین خریدلی ہے۔لیکن اس وقت یہ ہماراسب سے بڑاچیلنج تھا۔میں نے سیکھا،جہاں چاہ ہوتی ہے وہاں راہ ہوتی ہے۔‘‘

بین الاقوامی تعاون

2005تک ayushakti بغیر کسی تشہیر کے کام کرتاتھا لیکن اس کے باوجود وہ بہت مقبول تھااور 300سے زائد مریضوں کو ٹھیک کردیاتھا۔پھر ان کے دماغ میں فرنچائزی چین کا خیال آیا۔تب سے ayushakti ayurvedaنے ہندوستان میں سات اور جرمنی میں تین کلنک کھولے ہیں۔ان کے بین الاقوامی اتحاد کی ایک دلچسپ کہانی ہے۔ایک اطالوی خاتون وکٹوریہ راسدوریاروحانی علاج کے لئےہندوستان آئی تھیں ۔جب انھوں نے ہندوستان چھوڑنے کا فیصلہ کیاتو انھیں ہیپاٹائٹس اے ہوگیاتھا۔کسی نے انھیں ayushakti اور وہاں 15دن رکنے کے لئے کہا۔ڈاکٹر نرم کہتی ہیں:

’’ہیپاٹائٹس اے بہت تیزی سے پھیلتاہے۔دوتین دنوں میں اس کی علامات نہیں نظر آتی ہیں۔لیکن بلی روبن بہت تیزی سےبڑھتاہے۔ان کی آنکھیں ایک دن کے اندر ہی پیلی ہوگئی تھیں۔ہم انھیں اسپتال واپس نہیں لے جاسکتے تھے،لیکن میں نے انھیں اپنے گھرمیں رکھااور انھیں مخصوص غذائیں ،جڑی بوٹیاں اور آیوروید علاج کیا۔وہ روزانہ اٹلی میں اپنے ڈاکٹروں کے رابطے میں رہتی تھیں۔جب وہ واپس گئیں تو ان ڈاکٹروں نے ان کی جانچ کی اور وہ نتائج سے حیران تھے۔جو چھ مہینے میں نہیں ہوسکتاتھاوہ پندرہ دن میں کیسے ہوگیا۔‘‘

پانچ اطالوی ڈاکٹر ہندوستان میں آیوروید سیکھنے کے لئے آئے اور اس طرح ayushakti نے یورپی مہم شروع کی۔بین الاقوامی توسیع ابھی تک حصہ داری کے ذریعے کی گئی ہے۔آج دنیابھر میں یورپ ،اسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کو ملاکر ان کے 100 اتحادی ہیں۔ڈاکٹر نرم کہتی ہیں کہ وہ ayushakti کلنک برطانیہ اور یورپ میں کھولنے پر غور کررہی ہیں۔

تائید

ڈاکٹر نرم اپنے ابتدائی ایام میں اپنے شوہر کے تعاون کے بارے میں بات کرتے ہوئے جذباتی ہوجاتی ہیں۔وہ کہتی ہیں، ’’انھوں نے نہ صرف کاروبار میں میری مدد کی،بلکہ بچے کے جنم میں تاخیر کے لئے میرے فیصلے کی تائید کی۔‘‘ وہ مانتی ہیں کہ ان کے سسرال والے ،بھراپراکنبہ اور وفادارملازمین ان کی طاقت ہیں۔’’میراکچھ اسٹاف 25سال سے میرے ساتھ ہے اور یہ میراان پر بھروسہ ہی تھاجو ہمیں یہاں تک لے آیا۔‘‘

ASSOCHAMکے مطابق ،2015تک ہندوستانی ہربل صنعت 7,500سے بڑھ کر 15,000ہونے کا امکان ہے۔اورayushakti کا اس میں رول اہم ہے۔ڈاکٹر نرم کہتی ہیں کہ ayushakti گذشتہ 10برسوں سے 30فیصد کی شرح سے بڑھ رہاہے۔وہ بڑی ہی امنگ سے کہتی ہیں :

’’لوگ سمجھنے لگے ہیں کہ قدرتی وسائل کے ذریعے روک تھام اور علاج کے بجائے ایک گولی لینا کوئی حل نہیں ہے۔ہم دھیرے دھیرے یہاں پہنچے ہیں اور اب ہمارے پاس سبھی وسائل ہیں۔میں ہندوستانی کثیر قومی کمپنی(MNC) بناناچاہتی ہوں۔‘‘

قلمکار : بھگونت سنگھ چلوال

مترجم : محمد وصی اللہ حسینی

Writer : Bhagwant Singh Chilawal

Translation by : Mohd.Wasiullah Husaini