سامان کے تبادلے کا پلیٹ فارم... ’ پلینیٹ فارگروتھ‘

0

کبھی آپ نے سوچاکہ جس چیز کوہم کئی باراستعمال کرنے کے بعدیوں ہی پھینک دیتے ہیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ کسی دوسرے کے کام آجائے، یاپھر گھر کے کسی گوشے میں رکھا کوئی سامان جوآپ کے لئے بیکار ہوگیا ہو، وہ کسی دوسرے کے لئے کافی اہم ہوخاص بات یہ کہ اگر آپ اپنے اس سامان کو کسی دوسرے شخص کودیں اور وہ آپ کوبدلے میں اپنا کوئی سامان دے جو آپ کے لئے کافی کام کاہو، توکتنا مزہ آجائےایسی حالت میں دونوں کی ضرورت توپوری ہوگی ہی، ساتھ ہی اس عمل میں پیسے کاکوئی لین دین بھی نہیں ہوگا۔

’ پلینیٹ فارگروتھ‘ ایک ایسا ہی پلیٹ فارم ہے جسے شروع کیا ہے ورون چندولانے۔

ورون چندولا کی ابتدائی تعلیم ہلدوانی میں ہوئی ہےاس کے بعد مزید تعلیم کے لئے وہ دہلی آگئےیہاں پر دہلی یونیورسٹی سے انھوں نے گریجویشن کیا اور اس کے بعد ایم بی اے کیاانھیں شروع سے موسیقی، طبلہ اورسماجی خدمت سے بہت لگاؤتھااس دوران وہ ان لوگوں کے لئے کام کرنا چاہتے تھے جو سماج کے اصل دھارے سے پیچھے کہیں چھوٹ گئے ہوں ۔

ورون بتاتے ہیں :

’’ایک دن مجھے اچانک اشیاء تبادلہ نظام کاخیال آیامیں نے سوچاکہ پرانے زمانے میں جب لوگوں کے پاس پیسہ نہیں تھا تب وہ آپس میں اشیاء کا تبادلہ کرکے اپنی ضرورتیں پوری کرتے تھےاس کام کووہ بڑی آسانی سے اوربغیر کسی تنازع کے کیاکرتے تھےپھر ہم کیوں نہیں کرسکتےاسی سوچ کے ساتھ جنوری2015میں ’ پلینیٹ فارگروتھ‘ کومیں نے رجسٹرڈکیا اور نومبر2016سے اس نے کام کرنا شروع کردیا ہے۔ ‘‘

ورون نے یوراسٹوری کوبتایا:

’’آج لوگ اپنی ان اشیاء کو پھینک دیتے ہیں جو ان کے استعمال کی نہیں ہوتیں میں نے سوچاکہ آج جو اشیاء ہمارے کام کی نہیں ہیں وہ دوسرے لوگوں کے کام کی ہوسکتی ہیں کیوں نہ ہم ایک ایساسماجی پلیٹ فارم بنائیں جہاں اشیاء کا تبادلہ ہوسکے۔ ‘‘

تب انھوں نے ایک ایسا پلیٹ فارم بنایا جہاں اشیاء تبادلہ کے ذریعے دوسروں کی مددکی جاسکے اور دوسروں کی بنائی اشیاء کو خریدکرانھیں روز گاردے سکیں ۔

’ پلینیٹ فارگروتھ‘ کے کام کرنے کے طریقے کے بارے میں ورون کاکہنا ہے کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے کوئی بھی شخص اپنا اور دوسرادونوں کا بھلا کرسکتاہےان کاکہنا ہے کہ بازار میں روز نیاسامان آرہا ہےاس لئے لوگ پرانے سامان کو چھوڑ کر نیا سامان لے لیتے ہیں لیکن یہی پرانا سامان کسی دوسرے کے لئے کام کاہوسکتاہےاس پلیٹ فارم پرہم سامانوں کاتبادلہ کرتے ہیں وہ بتاتے ہیں اس کے ذریعے لوگ کتاب،جوتے، بیگ، کپڑے وغیرہ کا تبادلہ نہیں کرسکتے بلکہ اپنی خدمات کا بھی تبادلہ کرسکتے ہیں جیسے کوئی غیرملکی زبان سیکھناچاہتاہے تو وہ ویب سائٹ کے ذریعے اسے دوسرے شخص سے سیکھ سکتا ہےاتنا ہی نہیں وہ کھاناپکانے کی ریسپی یااپنے دوسرے ہنرکو لوگوں کے ساتھ شیئر کرسکتاہے’ پلینیٹ فارگروتھ‘ ایک سماجی پلیٹ فارم ہے جہاں کوئی بھی کہیں سے بھی بیٹھ کر دیہی عورتوں کی تیار کردہ اشیاء اور آرگینک سامان خرید سکتاہے۔ ورون اپنی ویب سائٹ اور فیس بک کے ذریعے لوگوں کو بیدار کرکے ان سے کہتے ہیں کہ وہ غیر ضروری چیزوں کو دوسروں کودے کرمددکریں اس کے علاوہ وہ کئی ہوٹل والوں سے بات کررہے ہیں تاکہ وہ اپنے بچے کھانے کونہ پھینکیں بلکہ ان کے ذریعے وہ اس کھانے کو غریب لوگوں تک پہنچادیں ورون کہتے ہیں :

’’میں لوگوں سے یہ نہیں کہتاکہ آپ اپنا پیٹ کاٹ کر لوگوں کی مدد کریں میں ان سے کہتاہوں کہ جوآپ کے استعمال کی نہیں ہے اسے آپ عطیہ کرکے دوسروں کی مددکریں ۔ ‘‘

ورون بتاتے ہیں کہ ابھی ان کااتراکھنڈسرکارکے ساتھ ایک سمجھوتہ ہواہے جس میں ان کی تنظیم ان اداروں اور راین جی او سے دست کاری کا سامان خریدے گی اور اپنی ویب سائٹ کے ذریعے اس سامان کو ملک وبیرون ملک فروخت کرے گیابھی تک ان کی ویب سائٹ سے روس، برازیل، ترکی، پاکستان، سری لنکا، بنگلہ دیش کے این جی اوجڑ چکے ہیں ۔

ورون اپنی ویلفیئر شاپ کو اپریل میں لانچ کررہے ہیں ۔ انھوں نے بتایاکہ ان کی یہ شاپ فی الحال آن لائن ہی ہےیہ ویب سائٹ عام ویب سائٹ کی طرح نہیں ہے جس میں صرف سامان ہی بیچاجاتاہےوہ بتاتے ہیں کہ ابھی وہ سرکاری افسروں کے ساتھ اتراکھنڈ کے کئی علاقوں میں گئے اور وہاں انھوں نے کی خواتین کتنی محنت سے اپنا سامان بناتی ہیں لیکن بازار میں وہ اسے نہیں بیچ پاتیں ورون کہتے ہیں کہ وہ ویلفیئر شاپ کے ذریعے لوگوں کویہ بھی بتائیں گے کہ کن لوگوں نے اسے کتنی محنت سے تیارکیا ہےتاکہ لوگ ان مصنوعات کو خرید نے کے لئے تیار ہوں ۔

حال ہی میں ورون اور ان کی ٹیم نے ’ہرپیرچپل‘نامی مہم چلائی جس میں ایک ہزار بچوں کو انھوں نے چپلیں پہنائیں اس پروگرام کو یہ اب مزیدتوسیع دیناچاہتے ہیں اس کے لئے ’ریلیکسو‘ کمپنی کے ساتھ ان کی بات چیت حتمی مرحلے میں ہےاس بار ان کاارادہ ملک کے مختلف حصوں میں تقریباً 10ہزارلوگوں کو چپل پہنانے کاہےیہ لوگوں کو بیدار کرتے ہیں کہ وہ اپنے کپڑے سگنل یا جھگیوں میں رہنے والے غریب لوگوں کو عطیہ کردیں اس کے علاوہ یہ غریب اور بھکاریوں کو سمجھاتے ہیں کہ ان کے پاس کام کرنے کے لئے بہت کچھ ہے اور اگر وہ صاف ستھرے کپڑے پہن کرکام مانگنے جائیں گے تو ان کوکام ملنے میں آسانی ہوگی۔

فنڈنگ کے بارے میں ورون کاکہنا ہے کہ ابتدائی سرمایہ کاری20-25لاکھ روپئے کی انھوں نے خود کی ہے۔ چوں کہ زیادہ ترکام اشیاء تبادلہ کاہی ہے اس لئے ابھی بہت زیادہ پیسے کی ضرورت انھیں نہیں پڑی ہےمستقبل میں ان کا منصوبہ اپنے کام کوملک اور بیرون ملک پھیلانے کاہےجس میں سرمایہ کاری کے لئے ان کی بات ریاستی حکومت کے ساتھ ساتھ کئی دوسرے اداروں سے بھی چل رہی ہے’ پلینیٹ فارگروتھ‘ میں چھ لوگ اس کے قیام سے ہی وابستہ ہیں جو اس کے الگ الگ محکموں سے منسلک ہیں ۔ 20لوگوں کوانھوں نے اپنے یہاں کام پررکھا ہے اور تقریباً 200لوگ ان کے ساتھ رضاکارانہ طور سے جڑے ہیں فی الحال ورون اپنے اس کام کو دہلی اور دہرادون سے چلارہی ہیں ۔

ویب سائٹWWW.Planetfergrowth.com:

قلمکار : ہریش

مترجم : محمد وصی اللہ حسینی

Writer : Harish

Translation by : Mohd.Wasiullah Husaini

...........

جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

یہ کہانیاں بھی ضرور پڑھیں۔

ایک پیسے کے انعام سے مولانا آزاد چیئر تک کا سفر

اناؤ ضلع کےسبھی اہم انتظامی عہدوں پر ہیں خواتین