ہر روز صبح دس بجے ایک پیڑ لگاتے ہیں یوگیش گنورے

یہ سچ ہے، کہ یہ زمین کچھ عرصہ بعد کھل کر سانس لینے کے قابل بھی نہیں بچے گی۔ اس سے پہلے اس زمین کی ہریالی ختم ہو جائے، پرندے بے گھر ہو جائیں اور دھول کی ایک موٹی سی پرت ہمارے پھیپھڑوں میں سما جائے گی، اگرآپ سوچتے ہیں کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے تو پھر یہ کہانی پڑھئے۔

0


انسان ہر دن نئے ایجاد کر رہا ہے، گاڑیاں بنا رہا ہے، مشینیں بنا رہا ہے، چاند تک اپنا پرچم لہرا آیا ہے اور وہاں بھی زندگی گزارنے کے بارے میں سوچ رہا ہے، لیکن ایک بات ہے جسے ہم برباد ہونے کی حد تک پہنچا چکے ہیں اور وہ ہے ہماری زمین۔ وہی زمین جس پر ہماری فلک بوس عمارتیں کھڑی ہیں، مشینیں دوڑ رہی ہیں اور ہمارے خواب پنکھ پھیلائے اپنی اپنی منزلوں کا انتظار کر رہے ہیں، کہ کب قطار چھوٹی ہو اور جھٹ سے ہم بھی کود پڑیں۔

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اس زمین کو کس طرح محفوظ رکھا جا سکتا ہے؟ سب اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہیں۔ گھر خرچ سے لے کر گھر کی ای ایم آئ ادا کرنے میں زندگی کا ایک ایک دن اپنی رفتار سے گزرتا جا رہا، لیکن کیا ہوگا جب ساری ای ایم آئی چکا دینے کے بعد یہ زمین رہنےکےقابل ہی نہیں بچے گی۔ کیا کرے گا انسان ان مکانوں، ان ٹرینوں، ان زمینوں کا جن کے ساتھ وہ ایک دم گھوٹو ہوا میں سانس لے رہا ہوگا۔ اگر سب کچھ ایسے ہی چلتا رہا تو یہ زمین کچھ وقت بعد کھل کر سانس لینے کے قابل بھی نہیں بچے گی۔ اس سے پہلے کی سب کچھ ختم ہو جائے، ہر انسان کو یوگیش گنورے بننا ہوگا۔ فطرت کے ساتھ ہو رہے کھلواڑ میں امید کی ایک کرن ہیں جبل پور کے یوگیش گنورے، جنہوں نے اس زمین کو بچانے کے لئے اپنی پوری زندگی سپرد کر دی ہے۔ ایک سر سبز دنیا کا خواب اپنی آنکھوں میں بسائے گنورے بارہ سالوں سے ہر روز ایک نیا پودا صبح دس بجے لگاتے ہیں۔ ائيے جانتے ہیں یوگیش گنورے کے اس خواب کے بارے میں، جو اپنی آنکھوں سے وہ پوری دنیا کے لئے تلاش کر رہے ہیں۔

پودھے لگانے کے پروگرام کے دوران یوگیش گنورے اور 'قدم' ادارے کے ارکان
پودھے لگانے کے پروگرام کے دوران یوگیش گنورے اور 'قدم' ادارے کے ارکان

انسان نے زمین کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ جہاں ذہن میں آتا ہے کوڑا کچرا ڈال دیا جاتا ہے۔ جدھر دل کرتا ہے دیواروں اور زمینوں کو گندی کرکے انسان آگے بڑھ جاتا ہے۔ ندیاں سوکھ رہی ہیں، جھیلوں پر مٹی ڈال کر عمارتیں کھڑی کی جا رہی ہیں، جانواورپرندے بے گھر ہو رہے ہیں، درختوں کو بے تحاشہ کاٹا جا رہا ہے۔

جو لوگ اپنے ہاتھ سے پودھے نہیں لگاتے، اس میں پانی نہیں دیتے اور بڑے ہوتے ہوئے اسے اپنی آنکھوں کے سامنے نہیں دیکھتے۔ ایسے لوگ پیڑ کاٹنے میں لگے ہیں۔یوگیش گنورے مانتے ہیں کہ اگر شخص اپنی زندگی میں صرف ایک پودا بھی اپنے ہاتھ سے لگائے، تو کسی بھی دوسرے درخت کے کٹ کر گر جانے کا درد وہ اندر تک محسوس کر سکے گا اور اپنی اسی سوچ کے تحت انہوں نے 'قدم' ادارے کی بنیاد رکھی۔

قدم ادارے کا آغاز 20 جنوری 1995 کو ہوا۔ ابتدائی دنوں میں اس ادارے کی لڑائی نشے کے خلاف، معاشرے میں مرد اور عورت میں برابر حقوق کی حمایت میں اور ناخواندگی کے خلاف تھی۔ ساتھ ہی اس کا قیام نوجوانوں میں فن اور ثقافت کے تئیں رجحانات پیدا کرنے، انہیں خود مختار بنانے اور ملکر کام کرنے کی اہمیت جتانے کے لئے کی گئی تھی اور ادارے کی انہی کوششوں کو ساتھ یوگیش گنورے نے قدم ادارے کے تحت ہی 17 جولائی 2004 کو "سالگرہ پلانٹیشن کی مہم شروع کی۔ 17 جولائی 2004 سے لے کر آج کی موجودہ تاریخ تک ہر روز ایک پل کی بھی تاخیر نہ ہوتے ہوئے گھڑی میں وقت دیکھ کر قدم ادارے کے بانی یوگیش گنورے صبح  ۱۰بجے ایک پودا لگاتے ہیں۔

ادارے سے وابستہ لوگوں کا خیال ہے کہ آلودگی سے پاک دنیا کا تصور پودوں کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے، کیونکہ پودا دنیا میں امن لانے کا سب سے مضبوط اور صحت مند ذریعہ ہے۔پودالگانے کی اس مہم میں ابھی تک جبل پور میں 1 لاکھ 88 ہزار افراد شامل ہوچکے ہیں اور جبل پور میں روزانہ پودا لگانے کےپروگرام کی توسیع بھوپال، آگرہ، چندرپور، پنچمڑھی، دموہ، بھلائی اور اندور میں ہفتہ وار پروگرام کےطور پرمسلسل جاری ہیں۔ سال 2017 سے یہ مہم ملک کے تمام ریاستوں کے دارالحکومتوں اور اسکول کے بچوں تک پہنچانے کی تیاری کی جا رہی ہے، جسے قدم ادارے کے بانی یوگیش گنورے نے پلانٹ فار پیس کا نام دیا ہے۔ اس مہم کے ذریعے قدم ادارہ پوری دنیا میں امن اور سلامتی کی اپیل کرنا چاہتا ہے۔

یوگیش گنورے اگر کسی وجہ اپنے شہر سے باہر جاتے ہیں تو اپنے ساتھ ایک گملا اور پودھا ساتھ لے کر جاتے ہیں، تاکہ خود سے کئے وعدے کو پورا کر سکیں اور مہم میں کوئی رکاوٹ نہ پڑنے پائے۔

گنورے بس میں ہوں یا ٹرین میں صبح کے 10 بجے ہی پودا گملے میں لگا دیتے ہیں اور موقع ملتے ہی پودے کو زمین کی گود میں سونپ دیا جاتا ہے۔ لوگ اپنی سالگرہ کیک كاٹ كر، پارٹی منا کر کرتے ہیں لیکن قدم ادارے سے جڑے افراد پودا لگا کرمناتے ہیں۔ گنورے کی اس جدوجہد میں ان کی بیوی انجو ان کا بھرپور ساتھ دیتی ہیں۔ ان کی کہانی بھی منفرد ہے۔ یوگیش ان عام لوگوں جیسے نہیں ہیں، جو صرف اپنے لئے جیتے ہیں، بلکہ یوگیش نے دوسروں کے لئے جینے کی قسم کھائی ہے اور زندگی کے ہر سلسلے میں کھرے اترے ہیں۔

یوگیش گنورے سے شادی کے پہلے ہی انجو کو کینسر ہونے کا پتہ چل گیا تھا۔ لیکن اصل زندگی کے ہیرو کا کردار نبھاتے ہوئے گنورے نے ڈر کر اپنے قدموں کو پیچھے نہیں کھینچا بلکہ آگے بڑھ کر انجو کا ہاتھ تھام لیا اور زندگی بھر کا رشتہ ان کے ساتھ قائم کیا۔ انہوں نے اپنی بیوی کا علاج کروایا اور ساتھ ہی محبت اور لگن کے ساتھ انجو کے اندر سے کینسر جیسی بیماری کا خاتمہ کر دیا۔ کچھ وقت بعد ہی ڈاكٹرس نے کہا کہ انجو کو ماں بننے کے عمل میں خطرہ ہو سکتا ہے۔ یہ تکلیفوں کا دوسرا پہاڑ تھا جس کے سامنے انجو اور یوگیش نے گھٹنے نہیں ٹیکے اور ایک صحت مند بچے کا گھر میں استقبال کیا۔ لیکن وقت کچھ اور ہی چاہتا تھا۔ وہ بچہ جو بڑی مشکلوں سے اس دنیا میں آیا تھا، کم عمری میں ہی دنیا سے رخصت ہو گیا۔

بچے کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر چلے جانا دنیا کا سب سے بڑا غم ہوتا ہے، لیکن یوگیش گنورے اس دکھ کی گھڑی میں بھی اپنے وعدے کو نہیں بھولے اور مقررہ وقت پر صبح 10 بجے پودالگانے نکل پڑے۔ اس کے بعد اپنے جگر کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے جنازے کے ساتھ ہو لئے۔ڈاکٹر نے انجو کو دوبارہ حاملہ ہونے سے منع کیا، لیکن گنورے کی اہلیہ نے تمام ہدایتوں کے پیچھے چھوڑتے ہوئے گھر میں ایک بار پھر ننھے قدموں کی آمد کا استقبال کیا۔

یوگیش گنورے اور قدم ادارے کے دیگر ارکان ایک اور اہم مہم کو انجام دیتے ہیں جس کا نام ہے "بيجاروپن مہم"۔ اس مہم کے تحت ادارے کے رکن کئی اسکولوں میں جا کر تقریبا 1 لاکھ بچوں کو ہر سال بیج بانٹتے ہیں اور بچوں کو بیج لگانے کی طریقہ بھی سمجھاتے ہیں۔ بچے بیجوں کو سینچ کر، پلانٹ کے طور پر تیار کرتے ہیں۔

جبل پور اسٹیڈیم میں قدم ادارے کے بيجاروپن مہم کے تحت سال کے آخر میں ہزاروں بچے جمع ہوتے ہیں جہاں ان تمام بچوں کو پودے لگانے کے لئے حوصلہ افزائی کرنے متعدد طرح کے ایوارڈ اور انعامات دیے جاتے ہیں۔ گزشتہ چار سال سے بچوں میں انعامات تقسیم کئے جا رہے ہے، تاکہ بچوں میں سبز بھری زمین کو بچائے رکھنے کی ضد باقی رہے۔ اس ادارے نے اب تک حکومت سے کسی بھی طرح کا تعاون نہیں لیا ہے۔ ادارے کے تمام پروگرام دوستوں اور دیگر افراد کے تعاون سے کئے جاتے ہیں۔ عوامی تعاون سے ہی جبل پور ریلوے اسٹیشن کے باہر 'گولڈ ٹری گارڈ' کے اندر بھی ایک پودا لگایا گیا ہے جو اسٹیشن پر اترنے والے ہر مسافر کے ذہن میں نیا پیغام دیتا ہے۔

25 مارچ 2018 کو اس مہم کے 5000 دن پورے ہو جائیں گے اور ادارہ اس دن ملک کے دارالحکومت دہلی میں پوداروپن کا ایک خوبصورت پروگرام کی تیاری کر رہا ہے کیونکہ اس پروگرام کے ساتھ ہی پوداروپن مہم کا پہلا مرحلہ مکمل ہو جائے گا اور 'پلانٹ فار پیس 'کا پیغام پوری دنیا کو دینے کے لئے یوگیش گنورے اپنے دوستوں کے ساتھ دیگر ممالک کا رخ کریں گے۔

تحریر- رنجنا تریپاٹھی