'آر۔ ٹی۔ آئی' ٹی اسٹال' ، یہاں ہے ہر مسئلے کا حل

0



جس شخص کی وجہ سے سینکڑوں دیہاتیوں نے حکومت کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور ان جانکاریوں کی بدولت لوگوں نے حکومت سے ملنے والی سہولتیں اور اپنا حق حاصل کیا، اس شخص کی پہچان محض ایک چائے کی دوکان ہے۔ اتر پردیش کے ضلع کانپور کے چوبے پور گاؤں میں چائے کی دوکان ہی اس شخص کا دفتر بھی ہے جہاں بیٹھ کر لوگ گرما گرم چائے کی چسکیوں کے ساتھ اپنی پریشانیوں کا حل بھی تلاش کرتے ہیں۔ گزشتہ پانچ برسوں سے 27 سالہ کرشن مراری یادو جس چائے کی دوکان پر بیٹھ کر یہ کام کرتے ہیں وہ دوکان دوسری دوکانوں سے الگ نہیں ہے۔ تین کچی دیواروں اور گھانس پھونس کی چھت کے نیچے وہ اب تک سینکڑوں بار قانونِ حقِ معلومات یعنی آر۔ٹی۔ آئی کا استعمال کرکے عوام کی فلاح کے کام میں جُٹے ہوئے ہیں۔


جمہوریت کی جڑیں مضبوط کرنے میں آر۔ٹی۔آئی کی جتنی تعریف کی جائے، اتنا کم ہے۔ اس کی وجہ سے لال فیتہ شاہی دور کرنے اور افسرشاہی کے ٹال مٹول رویے کو دور کرنے میں مدد ملتی ضرور ہے لیکن یہ تصویر کا صرف ایک پہلو ہے۔ اس کا دوسرا پہلو بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ 2 1 اکتوبر 2005 سے نافذ ہونے والے قانونِ حقِ معلومات کے بارے میں آج بھی دور دراز کے علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو زیادہ علم نہیں ہے۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ اپنے گاؤں کی سڑک ہو یا اسپتال یا پھر راشن کی دوکان میں آنے والے سامان کی جانکاری، یہ سب آر۔ٹی۔آئی کے ذریعے حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس بات کو جب تقریبا پانچ سال قبل کانپور کے رہنے والے کرشن مراری یادو نے جانا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ایسے لوگوں کو اس کی جانکاری بہم پہنچائیں گے جو اس کی معلومات نہیں رکھتے۔


27 سالہ کرشن مراری یادو سوشیالوجی میں ایم ۔ اے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب وہ انٹر کی تعلیم حاصل کر رہے تھے تب وہ اسکول کی جانب سے کئی مرتبہ غریب بچوں کو پڑھانے اور انہیں بیدار کرنے کا کام کرتے تھے لیکن تعلیم مکمل کرنے کے بعد تقریباً دو سال تک انہوں نے ملازمت کی لیکن اس کام میں ان کا دل نہیں لگا۔ کرشن مراری یادو کے مطابق

"ایک دن میں نے دیکھا کہ ایک سرکاری دفتر کے باہر 6-5 لوگ مل کر وہاں آنے والے لوگوں کو قانونِ حقِ معلومات کی جانکاری بہم پہنچا رہے ہیں۔ وہ ان لوگوں سے کہہ رہے تھے کہ اگر ان کا کام کسی وجہ سے سرکاری محکمے میں رُکا ہوا ہو تو آر۔ٹی۔آئی کے تحت عرضی کردیں۔ جس کے بعد لوگوں کا کام بغیر کسی کو پیسے دئے ہورہا تھا۔ اس بات سے میں کافی متاثر ہوا۔"

تب کرشن مراری کو محسوس ہوا کہ آر۔ٹی۔آئی تو ایک اوزار ہے ۔ اگر لوگ اس کا صحیح استعمال کریں تو ملک کی نصف آبادی کے مسائل ختم ہوجائیں گے جو برسوں سے اپنے مسائل کے پیشِ نظر سرکاری محکموں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ تب انہوں نے آر۔ٹی۔آئی کے بارے میں گہرا مطالعہ کیا تاکہ وہ اس قانون کو اچھی طرح سے سمجھ سکیں۔ اس کے بعد وہ 2011 میں پوری طرح اس مہم سے وابستہ ہوگئے۔


کانپور شہر میں ہی انہوں نے کئی لوگوں کے لئے آر۔ٹی۔آئی کے تحت عرضیاں کرکے ان کی مدد کی۔ دھیرے دھیرے اپنے کام کو لے کر وہ شہر میں مشہور ہوگئے۔ جب ان کے کام کی شہرت اخباروں میں ہونے لگی تو ان کے خاندان والے ان سے ناراض ہوگئے کیوں کہ وہ چاہتے تھے کہ کرشن مراری یادو سماجی خدمات چھوڑ کر ملازمت پر توجہ دیں۔ لیکن ان باتوں کا کرشن مراری پر کوئی اثر نہیں ہوا اور ایک دن وہ اپنے خاندان سے دور چوبے پور گاؤں میں جاکر رہنے لگے۔۔ کیونکہ ان کا ماننا ہے،

"ملک کی نصف سے زیادہ آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے اور جب شہروں میں ہی لوگوں کو قانونِ حقِ معلومات کے بارے میں صحیح معلومات نہیں ہیں تو ناخواندگی اور عدم معلومات کی وجہ سے گاؤوں کے ناخواندہ لوگوں اس کی جانکاری کیسے ہوسکتی ہے؟"

کرشن مراری یادو نے لوگوں کو آر۔ٹی۔آئی کی جانکاری دینے سے قبل 25-20 گاؤوں میں سروے کرکے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ان کے مسائل کیا ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے پیدل سفر یعنی پد یاترا اور پمفلٹ تقسیم کرواکر وہاں کے لوگوں میں بیداری پیدا کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے گاؤں والوں سے کہا کہ اگر ان کا کسی طرح کا سرکاری کام ہو نہیں پارہا ہو تو وہ اس کام کو کروانے میں ان کی مدد کریں گے۔


اس کے بعد تو مراری کے پاس شکایتوں کا انبار لگ گیا۔ کافی لوگوں نے انہیں بتایا کہ بہت کوششوں کے بعد بھی ان کا راشن کارڈ نہیں بن پایا ہے، کچھ لوگوں نے انہیں زمین کا معاوضہ نہ ملنے کی بات بتائی۔ ایک شخص نے انہیں بتایا کہ اس کے بھائی کی 2002 میں ایک سڑک حادثے میں موت کا معاوضہ بھی اسے نہیں مل پایا ہے۔ جس کے بعد انہوں نے ان سب مسائل کو دور کرنے کے لئے آر۔ٹی۔آئی کے تحت عرضی ڈالی تو لوگوں کے رُکے ہوئے کام ہونے لگے۔ اب کرشن مراری کے پاس جگہ کا مسئلہ تھا۔ یعنی ایسی جگہ جہاں وہ لوگوں سے مل کر ان کے مسائل جان سکیں اور انہیں آر۔ٹی۔آئی عرضی کے بارے میں معلومات دے سکیں۔ اس کام میں ان کی مدد کی تاتیا گنج گاؤں میں چائے کی دوکان چلانے والے مولچند نے۔ وہ بتاتے ہیں،

"میں اور میرے ساتھی اسی دوکان میں چائے پیتے تھے۔ ساتھ ہی ہم اپنے کام کے بارے میں یہیں بیٹھ کر بات چیت کرتے تھے۔ ایسے میں مولچند بھی اس کام میں دلچسپی دکھانے لگے۔ جس کے بعد انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ میں ان کی دوکان میں ہی اپنا دفتر شروع کردوں۔"


اس طرح کرشن مراری نے 2013 میں 'آر۔ٹی۔آئی ٹی اسٹال' کے نام سے اس جگہ اپنا دفتر کھول لیا۔ اس کےبعد لوگ آس پاس کے گاؤوں سے ہی نہیں بلکہ جھانسی، ہمیر پور، گھاٹم پور، باندہ، رسول آباد وغیرہ سے بھی ان کے پاس آنے لگے۔ وہ کہتے ہیں،

"آر۔ٹی۔آئی کے ذریعےاب تک میں تقریباً 500 لوگوں کی مدد کرچکا ہوں۔ اس کے علاوہ میں نے خود 300-250 آر۔ٹی۔آئی کی عرضیاں کی ہیں۔ ساتھ ہی میں نے آر۔ٹی۔آئی عرضیاں کرنے کے لئے ایسے بہت سے لوگوں کی بھی مدد کی ہے جو محض فون کے ذریعے مجھ سے رابطہ کرتے ہیں۔"

چوبے پور کے لوگوں کو جن مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے وہ ملک کے گاؤوں میں رہنے والے لوگوں کے مسائل کی محض ایک مثال ہے۔زمین کے تنازعات، سرکاری قرض کی اسکیمیں، پینشن، سڑک کی تعمیر اور مقامی اسکولوں کے لئے فنڈ جیسے مسائل کی تعداد کافی زیادہ ہے۔


 اپنی معاشی دشواریوں کے بارے میں کرشن مراری کا کہنا ہے کہ وہ کچھ رسائل و جرائد اور کچھ ویب پورٹلس کے لئے لکھ کر تھوڑا بہت روپیہ کمالیتے ہیں۔ اس کے باوجود کئی مرتبہ ان کے پاس آر۔ٹی۔آئی عرضی ڈالنے کے لئے پیسے نہیں ہوتے تب وہ دوستوں سے قرض لے کر آر۔ٹی۔آئی ڈالتے ہیں۔ اب کا منصوبہ ایک ایسی موبائل وین بنانے کا ہے جو دور دراز کے علاقوں میں جاکر لوگوں کو آر۔ٹی۔آئی سے جُڑی جانکاریاں بہم پہنچاسکے۔

........................

تحریر : گیتا بِشٹ.........................مترجم: خان حسنین عاقبؔ

.......................................

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

FACE BOOK

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں.

ایک ماں کو اپنی بیٹی پر بیٹوں سے زیادہ فخر، ’مایا‘ ' نے بدل دی ’ 'پرینکا‘ ' کی زندگی

اردو یوراسٹوری ڈاٹ کوم