ایک پودھا روز تاحیات۔۔۔ آنے والی نسلوں کو بچانے کے لئے شجرکاری

0

ہندی کے مشہور شاعر دشنت کمار نے کیا خوب کہا ہے

کون کہتا ہے کہ آسماں میں سراخ نہیں ہو سکتا

ایک پتھر تو طبیعت سے اچھالو یارو!

انسان پیدائش سے لے کر موت تک درختوں سے حاصل ہونے والی آكسيجن کے سہارے زندہ رہتا ہے، لیکن زندگی کی نعمت عطا کرنے والے ان درختوں کو اگانے میں وہ کسی طرح کی دلچسپی نہیں دکھاتا۔ ہماری زندگی درختوں کے پر منحصر ہے۔ درختوں کے بغیر ہم انسان کی زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتے، لیکن پھر بھی ہم میں سے زیادہ تر لوگ ان کے تحفظ کے تئیں بالکل لاتعلق بنے رہتے ہیں۔ غازیا آباد کے رُچِن مہرا کا خیال بھی یہی ہے۔

الیكٹرانكس اینڈ کمیونیکیشن کے میں انجینئر رُچِن کو فطرت اور ماحولیات سے بڑی محبت ہے۔ ماحولیات کی حفاظت کے لئے اپنے مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے ماحولیات کی حفاظت کے لئے فروری 2015 سے ایک مہم '' ایک پودھا روز تاحیات '' کا آغاز کیا ہے، جس میں انہوں نے تاعمر روزانہ ایک پودھا اگانے کا عہد لیا ہے۔ اب تک اپنی اس مہم کے تحت رُچِن 300شجر اُگا چکے ہیں۔ تمام پودھوں کی پوری دیکھ بھال بھی کر رہے ہیں۔ تاہم مہم کے آغاز میں وہ بالکل اکیلے تھے، لیکن ماحولیاتی تحفظ کے تئیں ان کا جذبہ دیکھ کر اب بہت سے مقامی لوگ بھی ان کا ساتھ دینے کے لئے آگے آئے ہیں اور ان کی اس مہم میں شریک بن رہے ہیں۔

اس مہم کے بارے میں بتاتے ہوئے رُچِن کہتے ہیں، '' سب سے پہلے تو میں دہلی این سی آر کے علاقے میں مسلسل بڑھتی ہوئی آلودگی کی سطح کو لے کر کافی فکر مند تھا۔ میرا خیال ہے کہ اگر ہمارے چاروں طرف آج یہ حالت ہے تو آنے والی نسلوں کو سانس لینے کے لئے صاف ستھری ہوا بھی میسر نہیں ہوگی۔ سانس لینے کے لئے صاف ہوا یعنی اكسيجن سب سے بڑی ضرورت ہے اور اس کے لئے درخت لگانے کے علاوہ ہمارے سامنے اور کوئی راستہ نہیں ہے۔''

\وہ مزید کہتے ہیں، '' ہم پیدا ہونے سے لے کر مرنے تک کسی نہ کسی طور میں درختوں سے حاصل ہونے والی لکڑی استعمال کرتے ہیں۔ چاہے ہمارے گھر میں روزانہ استعمال ہونے والا فرنیچر ہو پھر دیگر مصنوعات۔ سب میں درختوں سے حاصل ہونے والی لکڑی ہی استعمال ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ہندو مذہب میں تو شخص کو مرنے کے بعد بھی جنازہ کے لئے لکڑی کی ہی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم اپنی کی ضروریات کی تکمیل کے لئے درختوں کا استعمال توکئے جا رہے ہیں، لیکن ہم میں سے کوئی بھی انہیں لگانے کی طرف توجہ نہیں دے رہا ہے۔ ''

رُچِن کو پرندوں اور جانوروں سے بھی بڑی محبت ہے۔ ان کے مطاب ق گزشتہ کئی سالوں سے اس علاقے میں سنائی دینے والی پرندوں کی چهچهاہٹ کی آواز سنائی دینی بند ہو گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں، ''پرندوں کو اپنی زندگی برقرار رکھنے کے لئے درختوں کی بہت کی ضرورت ہے۔ اگر درخت ہی نہیں رہیں گے تو وہ اپنے گھونسلے کہاں بنائیں گے۔ اور اگر ان کے پاس رہنے کے لئے کوئی جگہ ہی نہیں ہوگی تو وہ رہیں گے کہاں۔ اس کے علاوہ بندر، گلہری وغیرہ جیسے چھوٹے چھوٹے جانور تو اس علاقے میں غایب ہی ہو گئے ہیں۔ '' اپنی انہی خدشات کا جواب تلاش کرنے کے دوران رُچِن نے پودھے لگانے کی شروعات کی۔

بقول رُچِن شجرکاری کی مہم آنے والی نسلوں کو آلودگی کے مسائل سے بچانے کے لئے انہوں نے اکیلے شجرکاری شروع کی، لیکن لوگوں کے درمیان بیداری کی کمی کی وجہ سے انکے لگائے گئے پودھے بہت مختصر مدت میں سوکھ جاتے۔ ایسے میں انہوں نے فیصلہ کیا کہ روزانہ ایک پودھا لگا نے کے بعد مقامی باشندوں کو ان کی نگرانی کے لئے باشعور کریںگے۔ آہستہ آہستہ لوگوں کو ان کا یہ خیال پسند آنے لگا اور اب لوگ خود ہی ان کے ساتھ جڑرہے ہیں۔

رُچِن آگے بتاتے ہیں کہ روزانہ ایک پودھا لگانے کے بعد اسے روزانہ پانی دینا اپنے آپ میں کافی مشکل کام ہے۔ انہوں نے اس مسئلہ کا حل تلاش کرنے کے لئے کتابوں اور انٹرنیٹ کا سہارا لیا اور 'ڈراپ اريگیشن ٹیکنالوجی' کو اپنایا۔ اس ٹیکنالوجی کے بارے میں رُچِن کہتے ہیں، '' اس ٹیکنالوجی میں ہم لوگوں کی طرف سے استعمال کرکے پھینک دی گئی کولڈ ڈرنک کی دو لیٹر کی بوتلوں کا استعمال کرتے ہیں۔ ہم بوتل پیچھے سے کاٹ دیتے ہیں اور پھر اسے بند کرکے اس کے ڑھکن میں ایک سوراخ کر کے اسے پودے کے ساتھ الٹا دفن کرتے ہیں۔ اس طرح بوتل سے بوند بوند پانی رستا ہے جو تقریبا ایک ہفتے تک پلانٹ کے لئے پانی کی فراہمی کر دیتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ہمیں ہفتے میں صرف ایک بار ہی پوھدوں کو پانی دینا پڑتا ہے۔ ''

رُچِن کی یہ مہم آہستہ آہستہ لوگوں کے درمیان خاصی مقبول ہوتی جا رہی ہے اور اب پودھے لگانے کے لئے لوگ انہیں اپنے علاقوں میں مدعو کرنے لگے ہیں۔ اس مہم کے لیے رُچِن کو پودھے غازیا آباد میں واقع محکمہ جنگلات کی مقامی سینٹر سے دستیاب ہو جاتے ہیں۔ رُچِن بتاتے ہیں کہ وہ اسکولوں، پارکوں، سڑکوں کے وسط بنے ڈواڈروں وغیرہ پر شجرکاری کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ایسے مقامات کو تلاش کرتے رہتے ہیں، جہاں آسانی سے پودھا لگایا جا سکے۔ رُچِن بتاتے ہیں، '' ہم اب تک برگد، نیم، rosewood، پلكھن، آنولہ، ارجن، سیمل، عام، بیر وغیرہ کے 300 پودھےلگا چکے ہیں اور مجھے امید ہے کہ میں جب تک زندہ ہوں میں روزانہ کم از کم ایک درخت لگانے کی مہم کو جاری جکھوں گا۔ ہماری کوشش ہے کہ ہم اپنی اس مہم میں اضافہ کے لئے ایسے پودھوں کو منتخب کریں جو آنے والی کئی صدیوں تک زندہ رہیں اور لوگوں کے کام آئیں۔ '' رُچِن کئی بار تو ایک ہی دن میں کچھ جگہوں پر تو مقامی باشندوں کے تعاون سے ایک سے زائد پودھے بھی لگاتے ہیں۔

آپ اس مہم کے علاوہ رُچِن گزشتہ قریب آٹھ سالوں سے جانوروں کے لئے کام کرنے والی تنظیم 'پیپل فار اینيمل' کے بھی فعال رکن ہیں۔ اب تک بہت سے مہیمات کے تحت وہ جنگلی جانوروں کے اسمگلروں کے چنگل سے ایک ہزار سے بھی زائد جانوروں کو آزاد کروا چکے ہیں۔ الیكٹرانكس اینڈ کمیونی کیشن میں انجینئر رُچِن پہلے یچ سی ایل انفوسسٹم اور بھارت الیكٹرانكس جیسی نامور کمپنیوں میں کام کر چکے ہیں، لیکن فطرت کے تئیں جذبہ کے چلتے وہ زیادہ وقت ان اداروں کے ساتھ کام نہیں کر پائے اور کام کو الوداع کہکے پیڑ- پودھوں اور جانوروں کی خدمت میں لگ گئے۔ رُچِن اب اپنی روزی روٹی کے انتظام کے لئے نویں سے لے کر بارہویں تک کے بچوں کو ٹیوشن پڑھاتے ہیں اور باقی وقت اپنے اس جذبہ کو پورا کرتے ہیں۔

رُچِن کہتے ہیں، '' اس مہم کے ذریعے میری کوشش ہے کہ میں عام لوگوں کے درمیان فطرت اور ماحولیات پر شعور جاگ سکوں۔ اس کے علاوہ میری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ سامنے آئیں اور آنے والی نسلوں کا خیال رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ پودھوں کو اگائیں۔ ''