لائف اسکل ٹریننگ اور تجرباتی تعلیم کے لئے کام کر رہی ہے شویتا، انوكرتی اور امرتا كی'اپنی شالا'

شویتا، انوكرتی اور امرتا ن اپنی شالا کی بنیاد رکھی۔ تعلیمی ترقی اور لائف اسکلز ٹریننگ کے کے درمیان دوری کو کم کرنے کے لئے 'اپنی شالا' پہترین کام کر رہی ہے۔ یہاں کہانی سنائیں، رول کھیلیں اور مختلف طرح کے کھیل کے ذریعے لائف اسکل کی ٹرنینگ دی جا رہی ہے۔

0

'نیلسن منڈیلا نے کہا تھا - 'تعلیم ہی ایک ایسا ہتھیار ہے، جس سے دنیا میں مثبت تبدیلی آ سکتا ہے'، لیکن کیا ان کی کہی یہ بات صرف اكادمك تعلیم تک محدود ہے؟ ایک بچہ زندگی جینے کا فن اور تجربے سے حاصل تعلیم کہاں سے سیکھتا ہے؟ کسی بھی بچے کے لئے تعلیم کے علاوہ دوسرے اسکلز بھی تبدیلی لانے کے لئے اتنے ہی ضروری ہیں، جتنی کی تعلیم۔ بہت دکھ کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں لائف اسکلز ٹریننگ کے موضوع پر وئی سنجیدگی سے نہیں سوچتا۔جب بات غریب اور نچلے طبقے کی آتی ہے تو یہ چیزیں ان میں بہت کم پائی جاتی ہیں۔

اكادمك ترقی اورلائف اسکلز ٹریننگ کے بڑھتے گیپ کو کم کرنے کے لئے تین سہیلیوں نے ایک ایسا قدم اٹھایا، جو اس سمت میں لوگوں کی توجہ مبضول سے کرنےمیں کامیاب کوشش کہی جا سکتی ہے۔ شویتا، انوكرتی اور امرتا نے مل کر 'اپنی شالا' کی بنیاد رکھی۔ بچوں میں سماجی اور جذباتی ترقی کے لئے اپنی شالا غریب بچوں کی مدد کرتی ہے۔

جہاں اسکول ریاضی، سائنس، تاریخ اور زبان علم پر زور دیتے ہیں وہیں وہ زندگی اسکل ٹریننگ اور تجرباتی تعلیم جیسے اہم فریق کو نظر انداز کر دیتے ہیں. آج کے بچوں کے لئے ضروری ہے کہ ان کا سماجی ترقی ہو. وہ رویے موثر بنیں. ان کے اندر کسی مسئلے کو حل کرنے کی صلاحیت ہو اور ساتھ ہی فیصلہ لینے کی صلاحیت بھی ہو. یہ چیزیں صرف کتابی علم سے حاصل نہیں کی جا سکتیں۔

شویتا، انكرت اور امرتا نے اپنے انتھک کوشش سے اس تبدیلی کی سب بنیادیں رکھی. شویتا نے تھوڑا وقت بچوں کو پڑھایا ہے۔ اس دوران ایک واقعہ نے ان کے سوچنے کا نظریہ ہی بدل دیا۔ جب وہ 'ايچ ون ٹيچ' میں پڑھا رہی تھیں ، تب وہاں ایک بچہ آتا تھا جوکہ بہت اگریسو تھا. اس کے کوئی دوست نہیں تھے اور اس کی سوچ بھی بہت منفی تھی۔ اس کے بارے میں جب شویتا نے جاننا چاہا کہ آخر اس کی ان حرکتوں کے پیچھے اصل وجہ کیا ہے تو شویتا کو پتہ چلا کہ اس بچے کا باپ بہت شراب پیتا ہے اور بچے کو گالیاں دیتا ہے۔ اس کے علاوہ بچہ اسکول کے بعد کام بھی کرتا ہے. اس واقعہ نے انہیں سوچنے پر مجبور کیا کہ بھلے ہی وہ بچہ وہی تعلیم لے رہا ہے، جو باقی طالب علم حاصل کررہے ہیں، لیکن اس کے اندر لائف اسکلز کی کمی ہے۔ اس کے بعد شویتا نے طے کیا کہ وہ اس سمت میں کچھ نہ کچھ کام کریں گی۔ جہاں وہ اس قسم کے بچوں کی مدد کر سکیں۔ اس کے بعد انہوں نے ایک تنظیم 'پہل' جوائن کی۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنی آگے کی تعلیم بھی جاری رکھی اور ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنس سے تعلیم حاصل کرنے لگیں۔ کچھ وقت بعد ہی انہوں نے ایم اے سوشل اینتھرپرینيورشپ میں بھی داخل لیا۔

یہاں شویتا کی ملاقات امرتا اور انوكرتی سے ہوئی. وہ کافی اچھی دوست بن گئیں. انوكرتی ہمیشہ سے ایک کاروباری بننا چاہتی تھیں۔ وہیں امرتا نفسیاتی مشاورت کرتی تھیں۔ تینوں کو پتہ تھا کہ وہ کچھ نیا کرنا چاہتے ہیں۔ جس کا تعالق بچوں اورتدریس سےہو۔ تینوں سہیلیوں کی سوچ اور ارادہ ایکساں تھا اس لئے تینوں نے ساتھ کام کرنا شروع کر دیا۔ طے کیا کہ وہ لوگ بچوں کو لائف اسکل کی ٹریننگ دیں گے۔

ہدف طے ہو چکا تھا، لیکن راستہ آسان نہیں تھا۔ اب ان کے لئے سب سے زیادہ ضروری تھا کہ وہ مختلف اسکولوں کو لائف اسکل کی ٹریننگ کے لئے قائل کریں۔ تاکہ وہ ان اسکولوں میں جا کر بچوں کو ٹریننگ دیں سکیں۔ یہ لوگ کافی اسکولوں میں گئے، لیکن مایوسی ہی ہاتھ لگی. پھر انہوں نے طے کیا کہ کیوں نہ اس کام میں این جی او کی مدد لی جائے، جوکہ بچوں کے لئے پہلے سے کام کر رہے ہیں۔ ان این جی او کا مختلف اسکولوں سے ٹايپ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے بچوں تک پہنچنے میں آسانی ہوگی. پھر تینوں نے مل کر مختلف این جی اوز میں بات کی اور انہیں کامیابی بھی ملی. لیکن اب بھی انہیں بہت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا جیسے - سرکاری اجازت لینا. اس کے علاوہ بھی چھوٹی موٹی دقتیں بنی ہی ہوئیں تھیں۔

جہاں ایک طرف انہیں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا وہیں ایک اچھی خبر یہ رہی کہ انہیں فنڈنگ میں ڈيويےس کا تعاون مل گیا۔ اب ان کو صرف آگے بڑھ کر خدمات دینی تھیں۔ فنڈ کی فکر سے اب یہ آزاد ہو چکے تھے۔

یہ لوگ بچوں کے اندر تجرباتی ٹریننگ کے لئے بہت سی چیزیں کراتے ہیں جیسے کہانی سنانا، روپلے اور مختلف طرح کے کھیل. اب یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اپنی شالا جس طرح کی کوشش کر رہی ہے اس سمت میں وسیع کام ہو۔ بھارت کے ہر اسکول میں تجرباتی اور لائف اسکل ٹریننگ کو ترجیح ملے۔ اگلے سال اپنی شالا کا ہدف 11 سو بچوں کو تربیت دینا ہے۔ اس کے علاوہ یہ لوگ ٹیچرس کو بھی اپنے ساتھ جوڈنا چاہتے ہیں تاکہ یہ کام اور رفتار پکڑ سکے۔

تحریر -سندھو کشیپ

ترجمہ -ایف ایم سلیم

Related Stories