مظلوم خواتین میں بیداری کی مہم میں سرگرم اوڑیشا کی پرگیا پرمیتا

 کام سے متاثر ہوکر امریکہ نے کیا مطالعہ کے لئے دورے پر مدعو

0

خدمت خلق کے لئے سب سے ضروری کچھ ہے تو وہ ہے جذبہ اور جنون۔ کئی لوگ زندگی میں کچھ ایسے کاموں کا انتخاب کرتے ہیں، جو نہ صرف جوکھم بھرے ہوتے ہیں، اس کے لئے کبھی کبھی گھروالوں کی ناراضگی بھی مول لینی پڑتی ہے، لیکن سماجی  کاموں سے انہیں خوشی ملتی ہے، سکون پہنچتا ہے۔ بھونیوشور کی نوجوان جہدکار پرگیا پرمیتا بستیا کی زندگی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ گزشتہ دونوں امریکی کونسلیٹ میں ان سے ملاقات ہوئی۔ امریکہ نے ان کا انتخاب خواتین پر ہونے والے مظالم کے خلاف جدوجہد کے کاموں کے مطالعہ کے لئے کیا تھا۔ پرگیا پرمیتا اور حیدرآباد کی سلطانہ بیگم کا انتخاب اس دورے کے لئے کیا گیا تھا۔ اب وہ اپنا دورہ مکمل کر واپس آ چکی ہیں۔

پرگیا کی زندگی کافی جدو جہد سے بھری رہی ہے۔ پولیو سے متاثر ہونے کے باوجودانہوں نے ہار نہیں مانی اور دنیا کے ایسے افراد کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ لے گھر سے نکلیں جو مظالم اور حالات کا شکار ہوکر غلط راستوں پر نکل جاتے ہیں۔

اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں وہ بتاتی ہیں،

'' ہم لوگ پانچ بہن اور ایک بھائی ہیں۔ میں سب سے چھوٹی ہوں۔ میں جب تین سال کی تھی، میرا سدھا پیر پولیو سے متاثر ہو گیا تھا۔ ماں کہتی تھی کہ اس وقت میں ایک ماہ تک بستر سے اٹھ بھی نہیں پائی تھی۔ نیرتار نامی ایک ادارے نے میرے علاج کے لئے مدد کی۔ الٹپوٹ میں جہاں یہ ادارہ کام کرتا ہے، وہاں پر میں نے داخلہ لیا۔ کچھ دن بعد میں نے دھیرے دھیرے چلنا شروع کیا ۔ پولیوکے علاج کی وجہ سے میں اسکول بھی نہیں جا پائی، جب ذرا چلنے لگی تو سیدھا تیسری کلاس سے داخلہ لیا اور پڑھنا شروع کیا۔

پرگیا کے لئے اس وقت چلنا بڑاتکلیف دہ تھا۔ وہ مصنوعی پیر کے سہارے چلتی تھی۔ ایک تو معزور اور دوسرے عمر کچھ ذیادہ، پرگیا کو جماعت میں دوسرے بچے چڑھانے لگتے۔ پہلے سال وہ بہت پریشان رہتی۔ چڑھائے جانے کے ڈر سے کئی کئی دن تک اسکول نہیں جا پاتی۔ لیکن ماں کی نصیحت کام آئی کہ تعلیم کے بغیر دنیا میں کوئی کامیابی ممکن نہیں ہے۔ پرگیا بتاتی ہیں،

اسكول میں مجھے چڑھاتے تھے، اس لئے میں تیسری کلاس کے بعد بھی اسكول ٹھیک سے نہیں جا پائی، لیکن ماں کی نصیحت کےبعد چوتھی کلاس سے میں نے مستقل اسکول جانا شورو کیا۔ ماں ہمیشہ کہتیں کہ تجھے بہت زیادہ پڑھنا ہے۔ اور تو تعلیم حاصل کریگی تو سب ٹھیک ہو جائےگا۔ گھر میں بھی سب مجھے بہت اہمیت دیتے تھے۔ کیونکہ میں بیمار رہتی تھی۔ اس کے باجود مختلف سرگرمیوں میں حصہ لینے کا بڑا شوخ تھا۔ مضامین لکھنا، گانے کے مقابلہ میں حصہ لینا مجھے بہت پسند تھا۔ میں نے کبھی نہیں سوچا کہ میں معذور ہوں۔

پرگیا نے روندرا یونورسٹی سے معاشیات میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ یہاں تک پہنچنا ان کے لئےآسان نہیں تھا۔ گھر میں چھ لوگ تھے۔ والد اکیلے کام کرتے تھے۔ کچھ دن کے بعد والد ریٹائر ہوئے یہ آمدنی بھی کم ہو گئی۔ پرگیا نے ٹیوشن پڑھانا شروع کیا۔ پہلی جماعت سے لے کر ساتویں کلاس تک بچوں کو صبح دو گھنٹے اور شام دو گھنٹے پڈھايا کرتی تھی۔ اوڑیشا کے جگت سنگھپور ضلع میں طوفان آگیا تھا۔ اس طوفان میں پرگیا کا سارا گھر برباد ہو گیا تھا۔ پھر ان کا بھائی بھی حادثہ کا شکار ہو گیا اور اس کی تعلیم بھی ادھوری رہ گئی۔ گھر کی مالی حالت بہت خراب ہوتی گئی۔ وہ بتاتی ہیں،

تعلیم کا آخری سال تھا پتوں کا گھر مکمل بہ گیا۔ دوبارا گھر بنانے کے لئے پیسے نہیں تھے۔ اس وقت میں ہاسٹل میں ہاسٹل میں تھی۔ گھر کی یہ حالت دیکھ کر میں ایک سال ہاسٹل نہیں گئی۔ گھر پر ہی مطالعہ کرنے لگی۔ طوفان کی وجہ سے گھر میں بجلی نہیں تھی. اس بار امتحان میں نمبر بھی پہلے سے کم ہو گئے۔ دراصل مجھے جلدی تعلیم مکمل کر کچھ کام کرنا تھا۔

پرگیا نے گھروالوں کی مدد کے لئے کچھ دن مقامی سطح پر کام کیا، لیکن ان کو این جی او کے ساتھ کام کرنے کی خواہش تھی، جس کی وجہ سے ان کاموں میں دل نہیں لگا۔ اب پرگیا کے لئے نئی جدو جہد کے دن تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ جو لوگ این جی او میں کام کر رہے ہیں وہ بڑے گھروں کے پیسے والے لوگ ہیں، وہ سوچتی کہ کیا وہ یہ سب نہیں کر پائے گی۔ لیکن کہتے ہیں کہ جہاں چاہ ہوتی ہے راہ نکل یہ آتی ہے۔ حالانکہ گھر والوں نے بینک میں ملازمت کے لئے امتحان لکھنے پر زور دیا لیکن وہ ایسا نہیں کر پائی اور اپنے دل کے راستے پر نکل پڑیں۔

پرگیہ پرمیتا ان دنوں نیشنل ایلانس آف ویمن (ناوو) کی اوڈیشا شاخ کی پروگرام اور ٹرینگ افسر ہیں۔ یہ ادارہ ملک بھر میں خواتین کو بااختیار بنانے اور گھریلو اور جنس کی بنا پر تشدد کے خلاف کام کر رہا ہے۔ پرگیہ نے چھتیس گڑھ، آندھرا پردیش اور مغربی بنگال میں بھی کام کیا ہے۔ وہ پنچایت نمائندوں کے فیڈریشن سَوؤرا کی بھی رکن ہیں۔ پرگیہ نے یور اسٹوری کو بتایا کہ وہ کئی بار مشکل حالات سے گزری، لیکن زندگی کی جنگ میں انہوں نے ہارنا نہیں سیکھا تھا۔ ماں کے مسلسل حوصلہ افزائی انہوں سے معاشیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی۔ سرکاری نوکری کے بجائے خواتین کے لئے کام کرنے والے غیر سرکاری ادارے میں کام کرنے کو ترجیح دی۔

 گھر والے اور رشتہ داروں کا خیال تھا کہ ماسٹر ڈگری رکھنے کے بعد این جی او میں کام کرنا عقل مندی کا کام نہیں ہے، لیکن وہ گھر والوں بتائے بغیر ہی اچھاپورم میں صرف 3200 روپے ماهنا پر اپنا کام شروع کیا۔ ایڈز بیداری مہم میں کام کرتے ہوئے انہیں اپنی زندگی کا مقصد نظر آیا۔ وہ جسم فروشی کے خلاف مہم میں ٹرکوں میں بیٹھ کر دور دراز کے جسم فروشی کے اڈوں تک پہنچ جاتی۔ انہوں نے خواتین کی اصل صورت حال کو جاننے اور پھر انہیں بیدار کرنے کی کوشش کی۔ اب وہ خواتین کو تربیت فراہم کر رہی ہیں۔پرگیہ نے 2008 میں اپنے ہی گاؤں کے ایک لڑکے سے شادی کی جو اب پولٹكل سائنس کا استاد ہے اور ان کا ایک چھ سال کا بچہ بھی ہے۔

پرگیہ نے بتایا کہ امریکی دورے سے ان کے کام کو نیا فوکس ملے گا۔ وہاں کئے جا رہے کاموں کا مطالعہ کر وہ یہاں اپنے کام میں بہتری لائیں گی۔

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

FACE BOOK

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

میری توجہ امیر بیوی بننے پر مرکوز ہے... گرافک ڈیزائن کمپنی کی بانی سائفا شبیر کی کہانی

مشکل حالات نے سکھایاجینے کا سبق...ایک آٹو ڈرائیور کے لڑکے انصار شیخ کے آئی اے ایس بننے کی کہانی

ایک خاتون ٹیچر, جنہوں نے نکاح کے دن بھی نہیں لی اسکول سے چھٹی


كہانياں مجھے وراثت میں ملی ہیں. ماں، باپ، چچا، چاچی،خالہ، پھوپھی، نانی دادی، سب کی مختلف کہانیاں تھیں. اسی وراثت کو پاس پڑوس، دوست رشتہ دار، نکڑ، گلی، محلہ، شہر، ملک اور بیرون ملک کے چہروں میں چھپی کہانیوں کے ساتھ ملا کر پیش کر رہا ہوں۔ پسند آئے تو مسکرانا ضرور۔

Related Stories

Stories by F M SALEEM