دھاراوی مارکٹ ڈاٹ کام نے دنیا کی سب سے بڑی سلم بستی کی صلاحتیوں اور فنکاری کو کیسے کیا اجاگر

0

دنیا کی سب سے بڑی سلم بستی دھاراوی کا نام سنتے ہی گنجان آباد بستی پر پیچ گندی تنگ و تاریک گلیاں ہجوم سے بھرے بے ہنگم فٹ پاتھی بازار بے انتہا شور شربے کا تصور ذہن میں آجاتا ہے ۔ہالی وڈ ہو یا بالی ووڈ دونوں ہی جگہ کسی فلم کا مرکزی کردار اسی دھاراوی سے نکل کر نئے خوابوں کے ساتھ ایک نئی دنیا بناتا نظر آتا ہے ۔جو یہاں سے عظیم الشان کارنامے انجام دینے کے لئے نکل جاتا ہے ۔اگر آپ اگر یہاں کچھ نہیں دیکھتے تو وہ ہے غیررسمی فروغ پذیر معیشت ۔کہا جاتا ہے کہ اس سلم بستی کے چھوٹے چھوٹے گھروں سے بننے والی اشیا ملک کو تخمینا پانچ سو ملین ڈالر کا کاروبار دیتی ہیں ۔ان تنگ گلیوں کے اندھیروں گھروں میں ہزاروں گھریلو صنعتیں کام کرتی ہیں جہاں سے لوگ چھوٹے پیمانے کی صنعت و حرفت سے جڑے ہیں مثلا چمڑے کی مصنوعات ۔ٹکسٹائیلز ۔اور مٹی کے برتن اور یہاں تیار ہونے والی بیشتر اشیا اتنی میعاری شاندار اور نفیس ہوتی ہیں کہ انہیں دنیا بھر میں اکسپورٹ کیا جاتا ہے ۔

صحافی اور سماجی کارکن میگھا گپتا نے سلم بستیوں میں رہنے والے لوگوں کی زندگی اور ان کے کام کے انداز پر ریسرچ کرنے کے مقصد سے یہاں پہنچیں تو انہیں اس بات کا اندازہ ہوا کہ یہاں کیسے ایک بڑی معیشت بہت خاموشی سے ملک کی ترقی میں اپنا اہم رول ادا کررہی ہے ۔گدشتہ چھ مہینوں سے اپنی اس تحقیقی کے مقصد سے میگھا گپتا روزانہ اٹھارہ گھنٹے اس سلم بستی میں گذارتی ہیں ۔وہ یہاں کی زندگی کو بہت قریب سے دیکھنا چاہتی ہیں ۔مقامی مینوفیکچرنگ یونٹس کے علاوہ وہ اس سلم کے لوگوں کے لائیف اسٹائیل کو بھی پوری گہرائی سے جاننا چاہتی ہیں ۔وہ کہتی ہیں ” میں حیران ہوں کہ اس بستی میں کیسے ایک بڑی مارکٹ پنپ رہی ہے ۔اور میرے لئے یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ یہاںکے لوگ صنعت و حرفت کو زندہ رکھنے اور آمدنی کا ایک بہترین ذریعہ بنانے میں اپنا بھر پور کردار نبھارہے ہیں ۔“

ایک گنجان آباد سلم بستی میں صنعت و حرفت کی اسی سرگرمی نے میگھا گپتا کو اس بات پر توجہ دینے کے لئے مجبور کیا کہ ان فنکاروں کے لئے کچھ کیا جائے جو دنیا کو اتنے بہترین اور نفیس اشیا فراہم کرتے ہیں ۔انہیں یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ مڈل مین کی بدولت محض معمولی سے رد و بدل اور بڑی کمپنیوں کے ٹیگ لگانے کے بعد کوڑیوں کے مول خریدی گئی یہ نفیس اور اعلی میعاری اشیا ء انتہائی مہنگے داموں فروحت کی جاتی ہیں ۔ان کی مدد کا سب سے بہترین طریقہ میگھا گپتا کو یہی نظر آیا کہ ان فنکاروں اور دستکاروں کو مڈل مین کے چنگل سے نکال کر براہ راست مارکٹ سے جوڑ دیا جائے تاکہ انہیں اپنی محنت اور اپنی اشیا کا مناسب معاوضہ مل جائے ۔اور مارکٹ میں خریداروں سے براہ راست رابطہ بھی ہوجائے ۔خریدار اور دستکار کے بیچ ایک پلیٹ مہیا کرنے کے مقصد سے میگھا گپتا نے دھاراوی مارکٹ ڈاٹ کام شروع کیا ۔میگھا کہتی ہیں کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعہ دھاراوی کی چھوٹی صنعتوں سے جڑے ان لوگوں کو اپنی اشیا کی اچھی اور مناسب قیمت مل سکتی تھی اور مارکٹ کے ایک برے حصے تک انہیں با اسانی رسائی بھی حاصل ہوجاتی ۔انہوںنے کہا کہ اپنے جوتے بیگ اور لیدر سے بنی دیگر اشیا کے ساتھ ساتھ مٹی کے بنے برتن کے عالمی مارکٹ میں بڑے خریدار تھے ۔

مارکٹ سبھی کے لئے ۔

میگھا کہتی ہیں کہ یہاں اس چھوٹی صنعت سے جڑے بیشتر لوگ اپنی انتہائی خلیل آمدنی کے باعث لیپ ٹاپ کے اہل تو نہیں ہوسکتے تھے البتہ ان میں سے بیشتر کے پاس اسمارٹ فون ضرور ہوتے ہیں ۔دھاراوی کے ٹریڈرس اور تاجرین وہاٹس ایپ کے ذریعہ اپنی اشیا ءکے بارے میں فوٹو اور دیگر تفصیلات فراہم کرنے اور انہیں شئیر کرنے میں خاصے مانوس اور کمفرٹیبل تھے ۔لہذا انہوںنے فیصلہ کیا کہ ایک ای کامرس پلیٹ فارم کی مدد سے ایک ایسا موبائیل ایپ ڈیولپ کیا جائے جو یہاں کے لوگوں کے لئے اپنی اشیا ءکی تفصیلات فراہم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم کا کردار ادا کرے ۔اسی مقصد کے تحت اگست سن دو ہزار چودہ میں پانچ لاکھ کے ایک خلیل سرمائے کی مدد سے Dharaviu.Market.com لانچ کیا گیا ۔اس ایپ کے باوجود بزنس کو ابھی بہت فروغ نہیں ملا ہے ۔تاہم میگھا اس کو ایک نئی جہت دینے کے لئے فنڈنگ کے دیگر ذرائیع پر بھی توجہ دینے لگی ہیں ۔

اسٹور میں کیا ہے ۔؟

یقینا یہ ایک ایسا سوال ہے جسے ہر کوئی جاننا چاہے گا اور خریدار تو سب سے پہلے۔۔ دھاراوی مارکٹ ڈاٹ کام پر بہت ہی وسیع رینج کی اشیا ء بشمول لیدر پروڈکٹس جیسے بیگ ۔ بٹوے ۔بیلٹس اور دیگر کارپوریٹ تحفے بھی برائے فروخت ہیں ۔دھاراوی مارکٹ نے ممبئی میں اپنا آوٹ لیٹ بھی بنایا ہوا ہے ۔اور یہ آوٹ لیٹ ان آربٹ مال ملاڈ میں ہے ۔آج دھاراوی مارکٹ ڈاٹ کام کے پاس دو سو اسی رجسٹرڈ فنکار اور دستکار ہیں جو اپنی دو سو سے زیادہ اشیا دنیا بھر میں فراہم کرتے ہیں ۔ٓارڈر دنیا کے کسی بھی شہر سے آئے دس دن کے اندر پروڈکٹ کو وہاں تک پہنچانے کی پوری ضمانت دیتا ہے دھاراوی مارکٹ ڈاٹ کام ۔میگھا نے اب کارپوریٹ کلائنٹس سے ہول سیل آرڈرس کی جانب توجہ دینی شروع کردی ہے اس کے لئے انہوںنے lupin ۔ٰVentvetcase.com ۔IE Singapore ۔Zee World اور پارم کیپٹل سے رابطے شروع کردئے ہیں ۔

ویب سائیٹ اور سوشیل میڈیا ۔

فی الحال ان کی ٹیم میں پانچ لوگ ہیں جو ان کی ویب سائیٹ کی نگرانی کرتے ہیں ۔آرڈرس لیتے ہیں اور اکاونٹ بھی دیکھتے ہیں ۔میگھا ایک hyah ڈاٹ کام ڈومین رجسٹر کرنا چاہتی ہیں جو بولنے میں آسان اور عام فہم ہو ۔میگھا کا کہنا ہے کہ ایک مارکٹ کی جگہ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ چاہتی ہیں کہ ان کا ویب سائیٹ ایک سماجی مرکز بھی بنے جہاں دھاراوی کے لوگوں کی زندگی کے بارے میں تفصیلات فراہم کریں اور بتائیں کہ دنیا کے اس سب سے بڑے سلم کے لوگوں کی زندگی کن مشکلات سے دوچار ہے ۔میگھا کہتی ہیں میں اپنی اس ویب سائیٹ کے ذریعہ سلم کے لوگوں کے حوالے سے دنیا والوں کے اندر پائی جارہی غلط فہمیوں کو بھی دور کرنا چاہتی ہوں ۔ان کا کہنا تھا کہ سلم میں رہنے والے لوگ نہ تو مجرم ہوتے ہیں اور نہ ہی بھکاری ان کی بھی زندگی ہوتی ہے ان کے اندر بھی صلاحیتں ہوتی ہیں انکے بھی خواب ہوتے ہیں امنگیں ہوتی ہیں اور وہ بھی پر عزم ہوتے ہیں ۔یادرہے کہ Dharavimarket.com کو حال ہی میں منتھن ڈیجیٹل انو ویشن ایوارڈ 2015 سے نوازا گیا ہے ۔

دھاما ۔

دھاراوی مارکٹ ڈاٹ کام کی کامیابی سے حوصلہ پاکر میگھا نے ایک نئے برانڈ دھاما کو لانچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔یہ برانڈ اگلے چھ مہینے میں ویب سائیٹ پر آجائیگا ۔دھاما دھاراوی کے سوٹ کیس کا کام کریگا اور دھاراوی مارکٹ کی خاص اشیا دھاما کے تحت مارکٹ میں لائی جائینگی ۔دھاما دھاراوی کی کچھ خاص اشیا کو مارکٹ میں لائے گا جس میں اعلی اور نفیس چمڑے کی اشیاءکے علاوہ کاٹن اور جوٹ کی مختلف ڈیزائینرس کے ملبوسات بھی مارکٹ میں لائے جائینگے ۔اس کے علاوہ دھاما بہترین کوالٹی کی ایکو فرینڈلی اور نان لیدر اشیاءبھی مارکٹ میں لانے کا منصوبہ رکھتا ہے ۔میگھا نے وعدہ کیا ہے کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعہ دستکاروں کو اپنی صلاحیتوں کو مزید ٓاگے لے جانے کا موقع فراہم کریگا ۔انہوںنے کہا کہ ان تمام اشیا ء کے میعار پر سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا اور کہا کہ قیمتیں بھی نہایت واجبی ہونگیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مصنفہ ۔شریکا نائیر ۔    مترجم ۔سجادالحسنین ۔

۔۔

اس طرح کی کچھ اور دلچسپ کہانیاں پرھنے کے لئے ہمارے فیس بک پیج پر جائیں ۔اور فیس بک پر کلک کریں۔

سيتاپھل بیچنے والی ان پڑھ قبائلی خواتین نے بنائی کروڑوں مالیت کی کمپنی

بہاد رہندوستانی خواتین کی تربیت گاہ چنئی آفسرس ٹریننگ اکیڈمی

تعلیم ادھوری چھوڑنے والے نوجوانوں کو موٹر میکینک اور الیکٹریشن بنا رہا ہےسی آئی ٹی حیدرآباد