کشمیر کے جاوید پارسا کا 'کاٹھی جنکشن'... اندھیرے میں روشنی کی کرن

0

وادیئ کشمیر میں جب گذشتہ سال کے ستمبر میں تباہ کن سیلاب آیا تو اہلیان وادی کی تمام امیدیں دم توڑ گئی تھیں۔ کیونکہ ریاستی حکومت کے مطابق سیلاب کے باعث کشمیر کو ایک لاکھ کروڑ روپے سے زائد کے نقصان سے دوچار ہونا پڑا تھا، تین لاکھ سے زائد رہائشی مکانات، تجارتی اداروں اور دیگر ڈھانچوں کو شدید نقصان پہنچا تھا اور سب سے بڑھ کر 280 سے زائد قیمتی انسانی جانیں اس سیلاب کی نظر ہوئی تھیں۔ اس ناگہانی آفت سے سب سے زیادہ متاثر تاجر برادری ہوئی تھی جو کئی مہینوں تک اپنے کاروبار کو پھر سے شروع کرنے کی ہمت نہیں جٹا پارہی تھی۔ تاہم شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کے رہنے والے باہمت وحوصلہ مند نوجوان جاوید اقبال پارسا کا اقدام اندھیرے میں روشنی کی کرن بن کر ابھرا۔ اس نوجوان نے سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ سری نگر میں اپنی نوعیت کا پہلا فوڈ آؤٹ لیٹ کھول کر انتہائی مایوسی اور ناامیدی کی کیفیت میں مبتلا نوجوانوں اور کاروباری اشخاص کے اندر ایک نئی امید کی کرن پیدا کردی۔

یور سٹوری کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے جاوید پارسا نے بتایا کہ وادی میں تباہی آنے سے ایک ہفتہ پہلے اُن کا فوڈ آؤٹ لیٹ افتتاح کیلئے بالکل تیار تھا لیکن جب 7 ستمبر کو تباہ کن سیلاب آیا تو ہزاروں لوگوں کی طرح اُن کی امیدیں بھی دم توڑ گئی تھیں۔ '' تاہم میں نے ہمت جٹاکر سیلاب کے 53 روز بعد اپنے آؤٹ لیٹ کا افتتاح انجام دیا۔ میرا فوڈ آؤٹ لیٹ وادی میں سیلاب کے بعد کھلنے والا پہلا کاروباری یونٹ تھا۔''

جاوید پارسا اپنے فوڈ آؤٹ لیٹ 'کاٹھی جنکشن' اور اس کا انتخاب کرنے کے بارے میں کہتے ہیں 'کاٹھی جنکشن دہرادون کی کمپنی ہے جہاں میں نے اپنی زندگی کا ایک اچھا خاصا حصہ گذارا۔ میں کاٹھی رولز کا بے حد شوقین تھا۔ جب میں نے کشمیر میں اپنا کاروبار شروع کرنے کے بارے میں سوچنا شروع کیا تو یہ پہلی کمپنی تھی جو میرے ذہن میں آگئی۔ میں نے کمپنی سے براہ راست رجوع کیا اور کمپنی کا آوٹ لیٹ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی'۔ کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق کاٹھی جنکشن کے ملک کے 23 شہروں میں 53 فوڈ آؤٹ لیٹس ہیں اور اس نے 2015 کے آخر تک ایک سو آؤلیٹ کھولنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ کشمیر میں جاوید پارسا کی جانب سے کاٹھی جنکشن کا آؤٹ لیٹ کھولنے کی بدولت کمپنی اپنی ویب سائٹ پر فخر کے ساتھ کہتی ہے کہ یہ شمالی ہندوستان کے کشمیر سے لیکر جنوبی ہندوستان کے کرناٹک تک اپنی موجودگی رکھتی ہے۔ کمپنی اپنی ویب سائٹ پر کہتی ہے کہ اس کے آؤٹ لیٹس پر روزانہ کی بنیاد پر 5 ہزار کاٹھی رولز اور 2 ہزار شورما فروخت ہوتے ہیں۔

تاہم جاوید پارسا نے اپنے مینو کو کاٹھی رولز اور شورما تک ہی محدود نہیں رکھا ہے بلکہ انہوں نے اپنے گاہکوں کیلئے لذیزحیدرآبادی دم کی بریانی، مختلف اقسام کے شیکز اور دیگر ضیافتیں دستیاب رکھی ہیں۔ جاوید کے فوڈ آؤٹ لیٹ پر سات نوجوان ملازم کرتے ہیں جن میں سے دو غیر ریاستی ہیں جو کمپنی کی طرف سے لذیز کھانا بنانے کی تربیت حاصل کرچکے ہیں۔ جاوید کہتے ہیں کہ اُن کا فوڈ آؤٹ لیٹ توقع سے زیادہ کامیاب ثابت ہوا اور ہر روز گاہکوں کی غیرمعمولی تعداد اُن کی آؤٹ لیٹ پر امڈ آتی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ میرے آؤٹ لیٹ پر گاہکوں کی زبردست بھیڑ لگے رہنے کی سب سے بڑی وجہ کھانے پینے کی چیزوں کا سستی قیمتوں پر دستیاب ہونا ہے۔ مینو میں شامل بیشتر چیزیں کی قیمت ایک سو سے کم ہے۔ جاوید کو خوش قسمتی سے اپنے آؤٹ لیٹ کیلئے سری نگر کے کامیاب ترین شاپنگ کمپلیکس 'سارا سٹی سنٹر' میں جگہ ملی ہے۔ تاہم اُن کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ کاٹھی جنکشن آنے کیلئے ہی اس شاپنگ کمپلیکس کا رخ کرتے ہیں۔ جاوید نے کہا کہ 'اگر یہ آؤٹ لیٹ کامیاب ثابت نہیں ہوتا تو ہم اس کی پہلی سالگرہ بڑی دھوم دھام سے نہیں مناتے'۔ کاٹھی جنکشن کی 31 اکتوبر کو منائی گئی پہلی سالگرہ سے متعلق خاص بات یہ ہے کہ اُس موقع پر اس فوڈ آؤٹ لیٹ میں ہی اپنی نوعیت کا پہلا عوامی کتاب بینک کھولا گیا جس کیلئے وادی کشمیر اور ملک کی مختلف ریاستوں میں مقیم طالب علموں، صحافیوں، ماہرین تعلیم اور سماجی کارکنوں نے کتابیں عطیہ کردیں۔ ایک ایسے وقت جب انٹرنیٹ کی وجہ سے لوگوں میں کتب بینی کا رجحان بہت ہی کم ہوگیا ہے، جاوید نے ایک انوکھا قدم اٹھاکر اپنے فوڈ آؤٹ لیٹ میں عوامی کتاب بینک کھولا جہاں سے کوئی بھی شخص ممبر شپ حاصل کرکے کتابیں گھر پڑھنے کیلئے لے جاسکتا ہے۔

شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں 1988 میں جنم لینے والے جاوید پارسا نے اپنی ابتدائی تعلیم سرکاری اسکولوں سے حاصل کی ہے۔ اتفاق سے 1988 وہ سال ہے جب وادی کشمیر میں مسلح شورش شروع ہوئی تھی۔ اُن کے والدین نے انہیں 2008 میں دہرادون بھیجا جہاں انہوں نے معروف نجی یونیورسٹی لولی پروفیشنل یونیورسٹی سے ڈیزائنگ میں انڈرگریجویٹ کورس کیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 2008 اور 2011 میں وادی کشمیر میں بڑے پیمانے پر عوامی ایجی ٹیشن چلی تھی جس کے نتیجے میں وادی میں تمام تر سرگرمیاں کم از کم پانچ ماہ تک مفلوج رہی تھیں۔ لولی پروفیشنل یونیورسٹی سے انڈرگریجویٹ کورس پاس کرنے کے بعد جاوید پارسا نے حیدرآباد میں قائم ملک کی واحد اردو یونیورسٹی 'مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی' میں ماسٹر آف بزنس ایڈمنسٹریشن (ایم بی اے) میں داخلہ لیاجہاں وہ خوش قسمتی سے یونیورسٹی کی اولین سٹوڈنٹ یونین کے سکریٹری چن لئے گئے۔ ایم بی اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد جاوید نے حیدرآباد میں ہی معروف بین الاقوامی الیکٹرانک کامرس کمپنی ایمیزون میں ایف بی اے اسپیشلسٹ کی حیثیت سے نوکری اختیار کرلی جس سے انہوں نے 2014 کے اوائل میں خیرآباد کہا اور کشمیر واپس لوٹ کر کاٹھی جنکشن کا آؤٹ لیٹ حاصل کرنے کی کوشش شروع کیں۔

یہ پوچھے جانے پر کہ اپنا کاروبار شروع کرنے کا خیال آپ کے ذہن میں کب آیا تو جاوید پارسا نے جواب میں کہا 'اپنا کاروبار شروع کرنے کا خیال میرا ذہن میں اُس وقت آیا جب میں ایم بی اے کی ڈگری حاصل کررہا تھا۔ میرا ذہن بالکل تیار ہوگیا تھا کہ آگے جاکے کچھ اپنا کرنا ہوگا جس سے نہ صرف مجھے بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی روزگار مل سکے۔ اور یہ کاروبار شروع کرنے کے باعث مجھے وہ سب عملی طور پر لاگو کرنے کا موقع فراہم ہوا جو کچھ میں نے ایم بی اے کے دوران سیکھا تھا'۔ جاوید نے مزید کہا کہ 'میں زندگی بھر ملازمت نہیں کرنا چاہتا تھا۔ لیکن میں اپنے کاروبار کو کھڑا کرنے کیلئے درکار پیسوں کا انتظام کرنے کیلئے کچھ وقت تک ملازمت اختیار کرنے کیلئے مجبور تھا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ میں اپنا کاروبار کھڑا کرنے کیلئے حکومت ، بینک یا کسی دوسرے ادارے سے مالی مدد کا خواہاں نہیں تھا'۔

جاوید کا کہنا ہے کہ انہیں کاٹھی جنکشن کمپنی کو کشمیر میں آؤٹ لیٹ کیلئے خاصی محنت کرنا پڑی۔ 'کمپنی کو کشمیر میں آوٹ لیٹ کیلئے قائل کرنا بہت مشکل تھا کیونکہ جب آپ باہر جائیں گے اور انہیں کہیں گے کہ جی میں آپ کی کمپنی کا کشمیر میں آؤٹ لیٹ چلانا چاہتا ہوں۔ تو آپ سے پہلا سوال یہی کیا جائے گا کہ کیا آپ اسے وہاں چلا سکیں گے۔ مجھے ایسے ہی سوالات سے گذرنا پڑا۔ مجھ سے کہا گیا کہ آپ کے وہاں میں ہڑتال معمول کی بات ہے اور ہماری کمپنی کے آؤٹ لیٹ کیلئے ماہانہ فروخت کا ہدف یہ ہے، کیا آپ اس ہدف کو حاصل کرپائیں گے؟ ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کمپنی کی ساکھ کو مدنظر رکھتے ہوئے آؤٹ لیٹ کھلنے کے بعد بند نہیں ہوجانا چاہیے کیونکہ یہ کمپنی کیلئے شکست تصور کی جائے گی۔ اُن کے اِن خدشات لیکر مجھے انہیں قائل کرنا پڑا تھا۔ میں نے اُن کو بتایا کہ آپ کی بالکل درست ہے۔ بے شک ہمارے پاس 30 میں سے صرف 20 ہی دن کام کے ہوتے ہیں لیکن میں آپ کو اِن ہی 20 دنوں میں ایک مہینے کا کام کرکے دوں گا'۔

جاوید کھل کر اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ کاروبار شروع کرنے سے قبل اُن کے ذہن میں یہ خدشات سر اٹھانے لگے تھے کہ آیا اُن کا کاروبار کامیاب ثابت ہوگا یا نہیں۔ تاہم ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں اُن کی زندگی کا ایک اصول ہے کہ وہ ہر کام شروع کرتے وقت اللہ تعالیٰ پر توکل اور اپنے آپ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ 'اپنا کاروبار شروع کرتے وقت میرے ذہن میں بے شک خدشات تھے کیونکہ یہ ایک شورش زدہ خطہ ہے جو بہت ہی غیر یقینی کیفیت سے دوچار ہے۔ باہر سے کسی نئی چیز کو یہاں متعارف کرانانہ صرف انتہائی مشکل کام ہے بلکہ ایک بڑا خطرہ مول لینے کے مترادف ہے۔ میں نے بہت محنت کی۔ اُس ڈر اور خطرے کو میں نے نکال باہر پھینکا۔ میری زندگی کا ایک اصول ہے۔ وہ یہ ہے کہ اپنے فیصلوں سے ڈرنا نہیں ہے۔ جو بھی کرنا ہے اللہ تعالیٰ پر توکل اور اپنی محنت پر بھروسہ کرکے کرنا ہے۔ اور یہی میں اپنی عمر بھر کرتا آیا ہوں'۔

اپنی کاروباری زندگی سے بے حد مطمئن جاوید پارسا جن کا فوڈ آؤٹ لیٹ اپنے ایک سال کے دوران کشمیر میں ہونے والے کئی تقاریب کا فوڈ پاٹنر رہنے کا شرف حاصل کرچکا ہے، کو حال ہی میں اپنی کارکردگی اور فوڈ آؤٹ لیٹ کی کامیابی کی بناء پر ایک غیرسرکاری تنظیم جموں وکشمیر انوویٹرس فورم کی جانب سے 'جے کے یوتھ آئکون ایوارڈ برائے سال 2015' سے نوازا گیا۔ جاوید پارسا کو فوٹوگرافی اور مشہور شخصیات، دوستوں اور اپنے اساتذہ کے ساتھ سیلفی بنوانے کا زبردست چسکہ ہے۔ وہ اس کی وضاحت کچھ اس طرح کرتے ہیں 'گذشتہ ایک سال کے دوران جن شخصیات نے کاٹھی جنکشن آکر ہمیں خدمت کا موقع دیا، اُن میں سے بیشتر شخصیات کے ساتھ میں نے سیلفی بنائی۔ دراصل میں اپنے کاروبار کو فروغ دینے کیلئے مشہور لوگوں کے ساتھ سیلفی بناتا ہوں'۔ جاوید پارسا جو سماجی رابطوں کی ویب سائٹس خاص طور پر فیس بک پر زبردست فین فالوئنگ کے مالک ہیں، کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے کاروبار کو فروغ دینے کیلئے فیس بک کا بھرپور اور موثر استعمال کیا۔ وہ گاہکوں کو اپنے آؤٹ لیٹ کی طرف راغب کرنے کے زبردست فن جانتا ہے جس کیلئے وہ خاص موقعوں مثال کے طور پر یوم اطفال کے موقع پر بچوں کیلئے خصوصی رعایت کا اعلان بذریعہ فیس بک کرتا ہے۔

جاوید اپنے آپ کو خوش قسمت محسوس کرتے ہیں کہ انہیں زندگی بھر خاص طور پر کاروبار شروع کرتے وقت اپنی فیملی کا بھرپور تعاون حاصل رہا۔ 'میری فیملی کا تعاون ہمیشہ میرے ساتھ رہا ۔ میں نے اُن کی مرضی کے برخلاف کالج چھوڑے، وقت ضائع کیاتاہم اس کے باوجود وہ آج مجھ پر فخر کرتے ہیں۔ جاوید نے ہنستے ہنستے کہا کہ آج میری فیملی معلوم ہے کہ بیٹے کی زندگی ضائع نہیں ہوئی، اگر وہ کاٹھی رولز ہی فروخت کرتا ہے مگر عزت کے ساتھ'۔ جاوید اس بات کو لیکر بھی اپنے آپ کو خوش قسمتی محسوس کررہے ہیں کہ آج کاروباری زندگی میں داخل ہونے کی چاہ رکھنے والے نوجوان تحریک و ترغیب حاصل کرنے کیلئے اُن سے رجوع ہوتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے 'بہت سے نوجوان ایسے ہیں جنہوں نے اپنے دلوں میں میری طرح کاروباری زندگی میں داخل ہونے کے خواب بسائے ہیں۔ وہ اپنے والدین کو قائل کرنے کیلئے میری مثال پیش کرتے ہیں۔ اپنے والدین کو قائل کرانے کیلئے میرے پاس لاتے ہیں۔ میں اُن کے والدین کو قائل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہوں۔ بدقسمتی کے ساتھ یہ کہنا پڑرہا ہے کہ کشمیر میں لوگوں کے اندر یہ ذہنیت پائی جاتی ہے کہ صرف سرکاری نوکریوں میں ہی مستقبل محفوظ ہے اور کاروبار کامیاب ثابت ہوگا یا نہیں اس کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔ میں یہاں پر پیسے کمانے اور شہرت بنانے سے بڑھ نوجوانوں کو کچھ کرنے کی تحریک و ترغیب دیتا ہوں۔ میں اس کو اپنی اصلی کامیابی سمجھتا ہوں'۔

وادی کشمیر جہاں ہر ایک پڑھا لکھا نوجوان اپنے مستقبل کو صرف سرکاری نوکری میں ہی محفوظ دیکھتا ہے وہیں جاوید کی سوچ بالکل الگ ہے۔ 'مجھے بہت پہلے سرکاری نوکری مل چکی ہوتی۔لیکن تب میں مزید تعلیم حاصل کرنے کی چاہ رکھتا تھا۔ حقیقت بیان کروں تو میں کبھی بھی سرکاری نوکری کا پرستار اور خواہش مند نہیں رہا ہوں۔ اور نہ میں کبھی براہ راست یا بالواسطہ طور پر سرکاری کا حصہ بننا چاہتا ہوں۔ اور میرے کاروبار کا بھی سرکار کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں نے کسی بھی سرکاری ادارے سے قرضہ یا مالی مدد حاصل نہیں کی ہے'۔ جاوید نے کہا کہ وہ اپنے کاروبار میں توسیع کا ارادہ رکھتے ہیں اور مستقبل قریب میں وادی میں کاٹھی جنکشن کا ایک اور آؤٹ لیٹ کھولیں گے۔

۔ قلمکار۔۔۔ ظہور اکبر