’سولر دیدی‘ جیسی خواتین کچھ بھی کر سکتی ہیں...

0

شوہر کی موت کے بعد گھر سے نکالا قدم ...

کانپور کے پاس درجنوں گاؤوں میں ’سولر ‘سے متعلق چیزیں ’ریپئير ‘کرتی ہیں’ سولر دیدی‘ ...

اپنے بچّوں کی اچھی پرورش کے لئے بن گئیں’ سولر میکینک‘ ...


دنیا میں مشکلات اور پریشانیوں کے دور سے گزرنے والے انسانوں کی تعدادبہت زیادہ ہوتی ہے ۔ بہت سے لوگ ایسےبھی ہوتے ہیں جنہیں دو وقت کا کھانا بھی نصیب نہیں ہوتا۔ ایسے حالات میں کچھ لوگ آگے قدم بڑھاتے ہیں، خود کو تیار کرتے ہیں اور بہتر زندگی کے لئے جی توڑ محنت کرنے لگتے ہیں ۔ اسی لئے تو کہتے ہیں کہ کامیابی انہیں کے قدم چومتی ہے جو پانی میں لکیر كھينچنےکی ہمّت اور حوصلہ رکھتے ہیں ۔ کانپور کے قریبی گاؤں میں ایک بیوہ خاتون ’ گڑیا‘ نے کچھ ایسا ہی کر دکھایا ہے ۔ جی ہاں نام تو ان کا ’گڑیا‘ ہی تھا جو شاید بچپن میں ماں باپ نے پیار، دُلار میں رکھا تھا۔ لیکن آج کانپور کے درجنوں گاؤوں میں یہی گڑیا گاؤں والوں کے لئے ’سولر دیدی‘ بن چکی ہیں ۔ سننے میں عجیب سا لگتا ہے نا! لیکن یہ حقیقت ہے، ’ سولر دیدی‘ بننے کے لئے’ گڑیا ‘نے کافی جدوجہد کی ۔ جدوجہد بھی اس شعبےمیں جس میں ہمیشہ مردوں کا غلبہ رہا ہے ۔’ سولر دیدی‘ نے اپنی سچی لگن اور محنت کی بدولت ’سولر ‘میکینک کامرتبہ حاصل کیا ہے۔

آئیے اب آپ کو روشناس کراتے ہیں’ سولر دیدی ‘کی حقیقت سے، آج کی ’سولر دیدی ‘یعنی کل کی ’گڑیا راٹھور‘ کانپور کے ’ودھانو‘ علاقے کے ’هڑها ‘گاؤں کی رہنے والی تھیں ۔ ان کی ’فتح پور‘ میں شادی ہوئی ۔ حالانکہ شادی کے بعد بھی صورت حال بہت اچھی تھی، ایسا نہیں کہا جا سکتا ۔ کہتے ہیں مصیبت اکثر چاروں طرف سےایک ساتھ آتی ہے ۔ آج سے چار سال قبل’گڑیا‘ کے شوہر کی موت ہو گئی ۔ شوہر کی موت کے بعد اپنے دو بچّوں کے ساتھ’ گڑیا ‘کا سسرال میں رہنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ اسی دوران’ گڑیا‘ نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بچّوں کی اچھی پرورش سسرال میں رہ کر نہیں کر پائیں گی۔ ایسے میں ایک ہی راستہ تھا ،میکے کا ۔’ گڑیا‘ اپنے بچّوں کو لے کر میکے آ گئیں ۔ میکے آکر انہوں نے ایک اور فیصلہ کیا ... اور یہ فیصلہ تھا خود کفیل بننے کا ۔ بچّوں کی بہتر پرورش کے لئے’ گڑیا‘ نے گھر سے باہر قدم نکالا اور ایک سماجی تنظیم’شرمِک بھارتی‘سے وابستہ ہو گئیں۔ یہ ادارہ مرکزی حکومت کے’ ٹیری ‘منصوبہ کے تحت گاؤں دیہات میں ’سولر‘ لائٹ کا پروگرام چلاتا تھا۔

’یور اسٹوری‘ کو گڑیا نے اپنے ابتدائی دنوں کے بارے میں بتايا ...

’’پہلے میَں ’شرمِک بھارتی‘ ادارے میں شامل ہوئی، پھر’سولر‘لائٹس لگانے کے پروگرام سے منسلک ہو گئی ۔آج میَں ’سولر‘لائٹ سے متعلق ہر کام کر لیتی ہوں۔ پہلے میَں سوچتی تھی کہ اِس کام میں ایسا کیا ہےکہ یہ کام صرف مرد ہی کرتے ہیں؟ جبکہ آج خواتین بھی کسی کام میں مردو ں سے کم نہیں ہیں ۔ پھر میَں نے سوچا کوئی کام اگر مرد کر سکتا ہے تو عورت بھی کر سکتی ہے۔ بس اِسی دُھن میں یہ’سولر‘ لائٹس کا کام شروع کر دیا۔‘‘

’گڑیا ‘نے گاؤں گاؤں جا کر’سولر لائٹ، سولر چولہے، سولر پنکھے لگانے کا کام شروع کر دیا ۔ چار سال سے مسلسل انتھک محنت کا نتیجہ ہے کہ گاؤں دیہات کے لوگوں نے’ گڑیا ‘کو’ سولر دیدی ‘کے نام سے پکارنا شروع کر دیا۔’ گڑیا ‘کہتی ہیں :

’’پہلے جب لوگ مجھے’ سولر دیدی‘ کہتے تھے تو عجیب سا لگتا تھا لیکن آہستہ آہستہ یہ نام مجھے اچھا لگنے لگا۔‘‘

’سولر دیدی‘ نہ صرف لگن اورتندہی سے کام کرتی ہیں بلکہ کام بھی بہت اچھے ڈھنگ سے کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ’ودھانو‘علاقے کے گاؤں’ بن پورہ ، كٹھارا، اُجیارا، تیواری پور‘ جیسے درجنوں گاؤوں میں ’سولر میکینک‘ کے معاملے میں صرف اور صرف ’سولر دیدی ‘کا نام چلتا ہے ۔

گاؤں کی ایک رہائشی بھارتی کا کہنا ہے-

’’گاؤں میں ’سولر لائٹ خراب ہو، پنکھا خراب ہو یاکچھ اور، ہم صرف ’سولر دیدی‘ کو فون لگاتے ہیں، سولر دیدی اپنے بیگ میں پینچ کس، پلاس،’ سولر ‘ اوزار اورآلات لئے اپنی’ اسکوٹی‘ پر دوڑی چلی آتی ہیں ۔‘‘

کہتے ہیں وقت ہر انسان کو موقع فراہم کرتا ہے، نئی راہ دکھاتا ہے ۔ اگر انسان اُس اشارے کو سمجھ لیتا ہے تو اس کے حالات کا مثبت رُخ میں بدلناطئے ہے ۔’سولر دیدی‘ یعنی کل کی’گڑیا‘ نے اپنی پریشان حال زندگی کو نئی سمت دی اورایک خوشحال زندگی کا نیا دور شروع ہوا۔ کامیابی کی اِس راہ میں محنت تو ہے، لیکن خود کفیل ہونے کا سکون و اطمینان بھی ہے ۔ یہی سکون و اطمینان آج ’ سولر دیدی‘ کا سرمایہ ہے ۔ وہ کہتی ہیں :

’’ایک وقت تو مجھے ایسا محسوس ہوا تھا کہ زندگی میں اب کیا ہوگا ؟لیکن ہر مشکل سے نکلنے کا راستہ ہوتا ہے ۔ بس ضروری ہے اس مشکل سے نکلنے کا حوصلہ ۔آج میَں جو کر رہی ہوں اس سے مجھے سکون ملتا ہے ۔‘‘

گاؤں کے ایک باشندے’ کلّو‘ کا کہنا ہے :

’’سولر دیدی کو ہم گاؤں والے جب بھی فون کرتے ہیں، وہ فوراً ہی اپنا بیگ لے کر آجاتی ہیں ۔ گھر میں ’سولر ‘سے متعلق ہر مسئلے کا ایک ہی حل ہے، اور وہ ہیں سولر دیدی ۔‘‘

اپنے بل بوتے پر ایک تنہا خاتون کا اس طرح درجن بھر گاؤوں میں کام کرنا کسی پہاڑ پر چڑھنے سے کم نہیں ہے ۔ شہروں میں چاہے جتنی سہولیات ہوں، پھر بھی آپ نےکہیں نہیں دیکھا ہوگا کہ کوئی عورت گھر گھر جا کر بجلی یا ’سولر‘ سے متعلق مسائل کوحل کرتی ہو۔

گڑیا عرف ’سولر دیدی‘ کی ہمّت اور حوصلہ صرف قابلِ تعریف ہی نہیں بلکہ قابلِ تقلید ہے ۔’ یور اسٹوری‘ کے جملہ اراکین’ سولر دیدی ‘کی محنت اور لگن کو سلام کرتے ہیں۔

قلمکار : وِجئے پرتاپ سنگھ

مترجم : انور مِرزا

Writer : Vijay Pratap Singh

Translation by : Anwar Mirza