بینائی سے محروم پھربھی کامیاب...دنیا کا پہلا 'بلائنڈ ٹریڑر'

0

انسان کی زندگی میں مصیبت کسی بھی شکل میں کبھی بھی آ سکتی ہے۔ کئی بار تو اتنی بڑی مصیبت آن پڑتی ہےکہ جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ بہت سے لوگ ان مصیبتوں سے اتنے پریشان اور مایوس ہو جاتے ہیں کہ ان کی زندگی سے جوش، امید، ایمان جیسے جذبات غائب ہو جاتے ہیں، لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ اگر انسان کے حوصلے بلند ہو اور اس کی قوتِ ارادی مضبوط ہو تو بڑی سے بڑی مشکل بھی چھوٹی لگنے لگتی ہے۔

ممبئی کے آشیش گوئل ایک ایسے ہی شخص کا نام ہے جس نے بلند حوصلوں اور مضبوط قوۃ ارادی سے ایسی ہی ایک ناقابل تصور اور بڑی مصیبت کو شکست دی۔

آشیش نے اپنی زندگی میں بڑے بڑے حسین اور رنگین خواب دیکھے تھے۔ انھیں اس کا یقین بھی تھا کہ وہ اپنی قابلیت کے بل پر اپنے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کر ہی لینگے، لیکن زندگی میں ایک ایسی بڑی مصیبت آئی جس کا تصور وہ اپنے برے سے برے خواب میں بھی نہیں کر سکتے تھے۔ 9 سال کی عمر میں ان کی آنکھوں سے روشنی کم ہونے لگی۔ روشنی مسلسل کم ہوتی گئی۔ 22 سال کی عمر میں ۔آشیش مکمل طور نابینا ہو گئے، لیکن انہوں نے ہار نہیں مانی اور آگے بڑھتے رہےتعلیم حاصل کرتے رہے۔ نابیناپن کو اپںی ترقی میں رکاوٹ بننے نہیں دیا۔ آج ان کی یہی کامیابی لوگوں کے لیے بڑی مثال ہے- لوگ ان کی زندگی سے ترغیب حاصل کرتے ہیں۔

آشیش گوئل ممبئی میں پیدا ہوئے۔ خوشحال خاندان اور تعلیم یافتہ والدین کے گھر میں پیدائش کے وقت آشیش عام بچوں کی طرح تھے۔ بچپن میں ان کی دلچسپی تعلیم میں کم اور کھیل کود میں زیادہ تھی۔ کھیلنا انھیں اتنا پسند تھا کہ محض پانچ سال کی عمر میں تیرنا، سائیکل چلانا، نشانہ لگانا اور گھوڑے کے سواری کرنا سیکھ لیا تھا۔ آشیش کو کرکٹ میں بھی کافی دلچسپی تھی۔ ان کا دل کرتا کہ وہ سارا دن کرکٹ کے میدان میں ہی گزاریں۔ ٹینس کا چیمپئن کھلاڑی بننا ان کا خواب تھا۔

زندگی میں جب خواب سجنے لگتے ہیں تو مصیبتیں بھی گھات لگاۓ بیٹھی رہتی ہیں۔ آشیش 9 سال کے ہوئے تو اچانک سب کچھ تبدیل ہونے لگا۔ سب کچھ معمول کے برخلاف ہونے لگا۔ ڈاکٹروں نے آشیش کی طبی جانچ کے بعد والدین کو بتایا کہ آشیش کو آنکھوں کی ایک ایسی بیماری ہو گئی ہے، جس سے آہستہ آہستہ ان کی آنکھوں کی بینائی چلی جائے گی۔ اور ہوا بھی ایسے ہی۔ آہستہ آہستہ۔ آشیش کی آنکھوں کی روشنی کم ہوتی گئی۔ ٹینس کورٹ پر اب اسے دوسرے پالے کی گیند نظر نہیں آتی تھی۔ کتابوں کی لکیریں بھی دھندلی ہونے لگی۔ آہستہ آہستہ قریب کھڑے اپنے والدین بھی ٹھیک سے نظرنہیں آنے لگے۔ اچانک سب کچھ بدل گیا۔ ایک باصلاحیت اور ذہین بچے کی نظراچانک ہی کمزور ہو گئی۔ آنکھوں پر موٹے موٹے چشموں کے باوجود اسے بہت ہی کم دکھائی دیتا تھا۔ نظر کمزور ہونے کی وجہ سے آشیش کو میدان سے دور ہونا پڑا۔ کھیلنا کودنا مکمل طور پر بند ہو گیا۔

اچانک ہی آشیش سب بچوں سے تھلگ پڑ گیا۔ اس کے تمام دوست عام بچوں کی طرح کام کاج، پڑھائی لکھائی اور کھیل کود کر رہے تھے۔ لیکن آشیش اکثر چلتے چلتے ٹھوکرکھاکرگرجاتا، سب کچھ دھندلےپن میں کھو گیا۔ خواب بھی تاریکی میں کھو گئے۔ چیمپئن بننا تو دور، میدان پر جانا بھی مشکل ہو گیا۔

پھر بھی انہوں نے ماں باپ کی مدد اور ان کی محنت کی وجہ سے تعلیم جاری رکھی ۔

بڑی محنت سے اسکول کی تعلیم مکمل کرآشیش جب کالج پہنچے تو ان کے لئے راستے اور بھی کٹھن ہو گئے۔ تمام دوست اور ساتھی اپنے مستقبل اور کیریئر کے تئین بڑے بڑے منصوبے بنا رہے تھے۔ کوئی بڑا کھلاڑی بننا چاہتا تو کوئی انجینئر۔ بہتوں نے ڈاکٹر بننے کے ارادے سے تعلیم آگے بڑھائی۔

مسلسل کمزور ہوتی بینائی آشیش کی پریشانیاں بڑھا رہی تھی۔ بینائی کم ہونے کی وجہ سے وہ نہ کھلاڑی بن سکتے تھے اور نہ ہی انجینئر یا پھر ڈاکٹر۔ ان کے لئے مستقبل اور بھی مشکلات سے بھرا ہوا نظر آ رہا تھا۔

نوجوانوں میں دوسرے دوست جہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ موج مستی کر رہے تھے، آشیش اکیلا پڑ گئے تھے۔ نئے سماجی ماحول میں تنہا ہوکر ذہنی تکلیف کا احساس انہیں ستانے لگا تھا۔ وہ اکثر 'خدا' سے یہ سوال پوچھنے لگتے کہ آخر ان کے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟

اسی حالت میں روحانی گرو بالاجی تانبے کی باتوں نے آشیش میں ایک نئی امید جگائی۔ انہوں نے ۔آشیش سے کہا کہ مسئلہ کوصرف مسئلہ کی طرح مت دیکھو، مسئلہ کا حل نکالنے کی کوشش کرو۔ کوشش ہی سے کامیابی ملے گی۔ روحانی گرو نے ۔آشیش سے یہ بھی کہا کہ اس کی صرف ایک ہی حس نے کام کرنا بند کر دیا ہے اور جسم کے باقی سارے اعضاء بالکل ٹھیک ہیں۔ اس کی وجہ سے اسے اپنے باقی سارے اعضاء کا استعمال کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے نہ کہ مایوسی میں رہتے ہو ئے۔

روحانی گرو کی ان باتوں سے متاثر ہوکرآشیش نے نئی توقعات، نئےارادے اور نئے جوش و خروش کے ساتھ کام کرنا شروع کیا۔

آشیش نے بینائی کے جاتے رہنے پر افسوس کرنے کی بجائے زندگی میں کچھ بڑی کامیابی حاصل کرنے کی ٹھان لی۔ نئے خواب سجآئے اور انہیں شرمیدہ تعبیرکرنے کے لئے محنت کرنا شروع کیا۔ ان کے والدین کے علاوہ ایک اور بہن نے تعلیم میں مدد کی۔ یہ بہن آگے چل کر ڈرمٹولجسٹ بنیں۔ بزنس، اكونمكس اور مینجمنٹ کی تعلیم میں ۔آشیش کی مدد کرتے کرتے یہ بہن بھی ان موضوعات کی ماہربن گئی۔

آشیش کی دوسری بہن گریما بھی اسی بیماری کا شکار تھی، جس نےآشیش کی آنکھوں کی روشنی چھینی تھی۔ گریما نے بھی اپنے گھروالوں کی مدد سے تعلیم جاری رکھی اور آگے چل کر صحافی بن گئیں۔ گریما اب آیورویدک ڈاکٹر ہیں اور ان دنوں روحانی گرو بالاجی تانبے کے ادارے میں کام کر رہی ہیں۔

آشیش کی محنت اور لگن کا ہی نتیجہ تھا کہ اس نے ممبئی کے نرسی مونجی انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سٹڈیز کی اپنی کلاس میں سیکنڈ رینک حاصل کیا۔ان کو اس شاندار کارکردگی کے لئے ڈن اینڈ بریڈسٹريٹ بیسٹ اسٹوڈنٹ ایوارڈ دیا گیا۔ نرسی مونجی انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سٹڈیز میں جگہ کا تعین کرنے کے دوران ایک کارپوریٹ ادارے کے حکام نے آشیش کو سرکاری نوکری ڈھونڈنے کی صلاح دی تھی۔ ان افسران کا کہنا تھا کہ صرف حکومت ہی ملازمتوں میں معذور لوگوں کے لئے تحفظ مہیا کرتی ہے۔ چونکہ آشیش کو اپنے روحانی گرو کی باتیں یاد تھیں وہ مایوس نہیں ہوا اور اپنے کام کو آگے بڑھایا۔ انھیں اپنی قابلیت پر ورلڈ بینک میں ملازمت مل گئی۔

اس کام نے آشیش کو مکمل طور پر مطمئن نہیں کیا۔ وہ زندگی میں اور بھی بڑی کامیابی حاصل کرنے کے خواب دیکھنے لگا۔ ۔آشیش نے ملازمت چھوڑ دی اور اعلی تعلیم کے لئے امریکہ کے وارٹن اسکول آف بزنس میں داخل لیا۔

دنیا بھر میں مشہور اس تعلیمی ادارے سےآشیش نے ایم بی اے کی تعلیم حاصل کی۔ وارٹن اسکول آف بزنس میں داخلہ حاصل کرنا آسان بات نہیں ہے۔ اچھے سے اچھے اور بڑے ہی زہین طالب علم بھی اس ادارے میں داخلہ حاصل کرنے سے چوک جاتے ہیں۔

ایم بی اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد آشیش کو دنیا کے سب سے زیادہ مشہور بینکنگ ادارے جے پی مورگن کے لندن آفس میں ملازمت مل گئی۔

آشیش جے پی مورگن میں کام کرتے ہوئے دنیا کا پہلا نابینا تاجر بن گئے۔

یہ ایک بڑی کامیابی تھی۔ اس کی وجہ سےآشیش کا نام دنیا بھر میں پہلے نابینا تاجر کو طور پر مشہور ہو گیا۔

آکھوں کی بینائی سے محروم آشیش نے اپنی ترقی کے راستے میں آڑے آنے نہیں دیا۔ اپنی قابلیت اور بزنس ٹیکنیکس سے سب کو متاثر کیا۔ اپنے باس کو بھی کبھی مایوس ہونے نہیں دیا۔

2010 میں آشیش کو معذور افراد کو با اختیار بنانے کے لئے قومی ایوارڈ بھی ملا۔ اس وقت کی صدرجمہوریہ پرتیبھا پاٹل کی طرف سے آشیش کو ایک تقریب میں یہ ایوارڈ دیا گیا۔ آشیش کو کئی اداروں نے بھی احترام اور انعامات دیئے۔

ان کے بارے میں ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ وہ اندھوں کے لئے بنائی جانے والی چھڑی کا بہت اچھے طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔ اور تو اور ان کی بہن گریما تو چھڑی کا استعمال ہی نہیں کرتیں۔ کئی بار بہت سے لوگوں کو شک ہوتا ہے کہ گریما واقعی نابینا ہیں یا نہیں۔

آشیش اور گریما دونوں ان دنوں معذور لوگوں کو ان کی طاقت کا احساس دلانے کے لئے اپنی اور ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ دونوں کا کہنا ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں اتنی ترقی ہو گئی ہے کہ معذور افراد کو اب پہلے جتنی تکلیفیں نہیں ہوتیں۔

اس بات پر لوگوں کو حیرت ہو سکتی ہے کہ نابینا ہونے کے باوجود آشیش سکرین ریڈنگ سافٹ ویئرکی مدد سے کمپیوٹر پر اپنے ای میل پڑھتے ہیں۔ ساری رپورٹوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔ دوسروں کے پریزنٹیشنز سمجھ جاتے ہیں۔ اور تو اور اربوں روپے کے ٹرانزیكشنس کی معلومات رکھتے ہیں۔

فرصت کے وقت میں آشیش دوسرے نابینا لوگوں کے ساتھ کرکٹ کھیلتے ہیں اور ٹینگو بھی بجاتے ہیں۔ اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ وہ کلب جاکر پارٹی بھی کرتے ہیں- جسمانی مزوری کو کامیابی میں بدلے والے اس تاجر کا صفر جاری ہے-