آپ کو خوبرو بنانے والی کمپنی .... Beawel کو انڈیا کی Zomato++ بننا مقصود

خوبرو بننا اور دِکھنا کون نہیں چاہتا  ۔۔۔ ہیلت کیئر سے جُڑی اور یو اے ای میں قائم کمپنی کے ہندوستان میں داخلے کی کہانی

0

کھانا و کھلانا ، سفر کرنا اور سنورنا و سنوارنا .... یہ تین چیزوں سے احمد رِضوی کو سب سے زیادہ دلچسپی رہی ہے۔ چونکہ Zomato نے فوڈ سیکٹر میں بازی مار لی تھی، اور ٹراویل پورٹلز کی کچھ قلت نہیں، اس لئے انھوں نے Beawel کی شروعات کا فیصلہ کیا، جسے دُبئی سے باہر دیکھیں تو ’گرومِنگ سرویسز کے لئے Zomato++ کہہ سکتے ہیں۔

لکھنو میں پیدائش اور وہیں پروان چڑھنے والے احمد کے لئے یہ تب کی بات ہے جب وہ 9 سال کے رہے ہوں گے کہ وہ یونہی چلتے پھرتے Sinclair ZX Spectrum سے کھیل رہے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اُن کی دلچسپی ویڈیو ایڈیٹنگ اور میکانیکی آلات سے ہوئی۔ احمد اپنے والد اور دادا کی طرح ڈاکٹر بننا چاہا۔ تاہم، وہ لکھنو یونیورسٹی سے کامرس کی بیچلرز ڈگری اور پھر 1999ءمیں اِندور کے دیوی اَہلِیا کالج سے ایم بی اے کی تکمیل کی۔ اس کے بعد انھوں نے مختلف اداروں جیسے Patni Computers، HCL Tech، اور Accenture Management Consulting کے لئے کام کیا۔ 13 سالہ سرویس کے بعد احمد نے سجانے و سنوارنے کے شعبے میں خود کے اسٹارٹپ کے آغاز کا فیصلہ کیا، اور اُن کے ساتھ 41 سالہ آنند چڈھا شامل ہوئے، جو اُن کے مینجمنٹ کورس والے بیاچ کے ساتھی رہے۔

جاوید حبیب، احمد رضوی، آنند چڈھا
جاوید حبیب، احمد رضوی، آنند چڈھا

آنند نے اپنی ایم بی اے ڈگری سے قبل الیکٹرانکس انجینئرنگ میں بیچلرس کی تکمیل تھی۔ اپنے صنعتی شعبہ میں 17 سالہ تجربہ کے حامل آنند نے آئی ٹی کی آرگنائزیشنس کیلئے کام کرتے ہوئے مڈل ایسٹ (مشرقِ وسطیٰ) میں زائد از ایک دہا گزارا۔ موجودہ طور پر وہ Beawel کے CEO اور احمد COO ہیں۔ ’بیویل‘ کی شروعات کا فیصلہ کرنے کے تعلق سے احمد کا کہنا ہے:

ہم نے ’بیویل‘ کے تعلق سے نومبر 2013ءمیں سوچنا شروع تھا، جب ہمیں اندازہ ہوا کہ Zomato کسی کنزیومر کیلئے کس قدر مفید ثابت ہوا ہے۔ احمد نے ابتدائی دنوں سے ہی اپنا حصہ ادا کیا اور سیکھا کہ وہ اپنے CXO آلات کے ذریعے کس طرح کام کرسکتے ہیں۔ میں نے تاڑ لیا کہ کسی شخص کو میری طرح جو چیز خوشی دے سکتی ہے وہ غذا، سفر کرنا اور خوبرو سجے سنورے لوگوں کے ساتھ مشغول ہونا۔ اُس وقت تک فوڈ سے متعلق خدمات کو Zomato نے سنبھال لیا تھا، ٹراویل کا معاملہ TripAdvisor (اور متعدد دیگر) نے اپنے ذمہ لے لیا؛ اب اچھے دکھائی دینے کا شعبہ رہ گیا تھا اور یہ کام ہنوز سیلوز میں ہورہا تھا۔ تب ہی مجھے نوجوانوں کیلئے Zomato++ قائم کرنے کا خیال آیا اور پھر پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھا۔

’ بیویل ‘ کی باضابطہ شروعات سیلون، اسپا، فٹنس سے لے کر میڈی کلینک تک ہر قسم کی گرومنگ سرویسیس اور دیگر خدمات کیلئے کی گئی۔ بیویل کو پروان چڑھانے میں احمد کو جو ایک بڑا چیلنج درپیش ہوا، وہ مناسب طور پر توثیق و تصدیق کا حصول رہا اور یہ بھی دیکھنا کہ آیا واقعی یہ ایسی ضرورت ہے جس کے لوگ متلاشی ہیں۔ اس کو سمجھنے کے لئے انھوں نے کنزیومر سروے کیا اور مثبت نتائج پائے۔ ایک اور چیلنج اُس مقام کا انتخاب رہا کہ اسے کہاں سے شروع کیا جائے۔

” دُبئی ہمارے لئے PoC کے طور پر ایک فطری انتخاب ہوا کیوں کہ وہاں آنند نے قدم جما رکھے تھے۔ یہ مقام ایسے جغرافیائی پہلو کا حامل ہے جہاں اعلیٰ کنزیومرازم، اچھا نسلی امتزاج، اور سیلون و رسٹورنٹ کے درمیان بہترین تناسب پایا جاتا ہے۔ ڈاٹا کلکشن، اور فری زون میں کمپنی کے قیام سے متعلق چیلنجس بھی رہے مگر کوئی بھی اِتنا بڑا نہیں کہ تنا¶ کا باعث بن جائے۔“

کسی مرچنٹ کو اپنے سے جوڑنے سے قبل کمپنی ڈاٹا حاصل کرتی ہے اور پس منظر کی مکمل جانچ کی جاتی ہے۔ جیسے ہی شمولیت ہوجائے، وہ مرچنٹ کو اس پلیٹ فام پر اپنے آفر کو پیش کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہوجاتی ہے۔ کنزیومر کو مختلف سرویسیس کے درمیان تقابل ، اور سوجھ بوجھ کے ساتھ اپنے علاقہ کے اندرون تلاش کے کام کا موقع رہتا ہے۔ وہ دیگر لوگوں کے تاثرات سُن سکتے ہیں؛ ریٹنگس، سرویسیس، اور قیمتوں کے بارے میں وہاں پہنچنے سے قبل جانکاری حاصل کرسکتے ہیں۔

اس کے علاوہ کسٹمرز آن لائن ہی مختلف معاملتیں کرسکتے ہیں، آفرز پاسکتے ہیں اور اَپائنٹمنٹس طے کرسکتے ہیں۔ یہ سب کرتے ہوئے وہ Basic تا Platinum ( 5 مراحل ) یوزر تک آگے بڑھ سکتے ہیں، اور rewards پاسکتے ہیں، جو اِس ویب سائٹ پر credits کے طور پر استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ اس سرویس کو wellness کے لئے Zomato کہنا کافی موزوں ہے۔ آمدنی کے تعلق سے بات کرتے ہوئے احمد کا کہنا ہے کہ

” ریونیو ماڈل کافی دیانت دارانہ ہے اور زیادہ تر gain-share پر منحصر ہے۔ ہم تب ہی رقمی فائدہ کا حصول پسند کرتے ہیں جب ہم کچھ واضح فرق پیدا کرتے ہیں۔ انڈیا میں مارکیٹ کی جسامت بڑی حد تک حجم پر مبنی ہے ( KPMG 2015 رپورٹ کے مطابق 41,000 کروڑ روپئے )، جب کہ یو اے ای (متحدہ عرب اَمارات ) قدر پر مبنی ہے ( Euromonitor 2015 کی رپورٹ کو دیکھیں تو نگہداشت ِ جِلد والے پراڈکٹس پر زائد از 0.5 بلین ڈالر ، مرد لوگوں کی گرومنگ پر 200 ملین ڈالر سے زیادہ خرچ کئے گئے، اور spa انڈسٹری کی قدر 10 بلین ڈالر سے بڑھ کر ہے)۔ انڈیا اور یو اے ای دونوں جگہوں پر ہمارے کام کا انداز مختلف ہے۔ یو اے ای میں ہمارا عمل مرچنٹ سے بہت مخصوص ہے، جب کہ ہندوستان میں ہم کنزیومر سے مخصوص نیز کے اے ایم (Key Account Management) نوعیت کا رویہ رکھیں گے۔

بڑھتی آمدنی کے ساتھ ساتھ مارکیٹ بڑھ رہی ہے۔ اس کمپنی نے حال میں انڈیا میں داخلہ لیا اور دہلی میں دفاتر قائم کئے۔ وہ مستقبل میں ہندوستان میں تیزی سے وسعت کا منصوبہ رکھتے ہیں اور یو اے ای میں ختم 2018ءتک 10 ملین ڈالر کی سیلز کا نشانہ طے کررہے ہیں۔ اُن کی ترقی کی حکمت ِ عملی جغرافیائی مقامات کا اضافہ کرنا اور بتدریج آگے بڑھنا ہے۔ یہ کمپنی آئندہ پانچ برسوں میں زائد از 10 ملکوں میں موجودگی کا مقصد رکھتی ہے۔

انڈیا میں بیوٹی اور ویلنیس پلیٹ فام کے لئے مارکیٹ گرما رہی ہے جہاں ویلنیس سے متعلق زیادہ تر ادارے معمول کی سرویسیس ہیں جیسے UrbanClap اور HouseJoy ۔ چند انفرادی عناصر جیسے Bulbul بھی ہیں، جو طلب پر بیوٹی سرویسیس فراہم کرتے ہیں۔ ManageMySpa نے حال میں Accel Partners سے 6 ملین ڈالر اکٹھا کئے، جو بیوٹی سرویسیس مارکیٹ کی ترقی اور اس کی توثیق کا اشارہ ہے۔

ویب سائٹ : https://www.beawel.com/

................................................................

یور راسٹوری کا ’فیس بک‘ صفحہ دیکھئے : Facebook

یہ بھی پڑھئے :

ایک پیسے کے انعام سے مولانا آزاد چیئر تک کا سفر  ۔۔۔  اُردو پروفیسر نسیم الدین فریس کی کہانی

تین خواتین نوکری چھوڑ کر حیدرآباد کے شیخ پیٹ میں چلا رہی ہیں این جی او

................................................................

قلمکار : اَدتیہ بھوشن دویویدی .... مترجم : عرفان جابری .... Translator: Irfan Jabri .... Writer: Aditya Bhushan Dwivedi