آپ2016 کے لئے کتنی توانائی اور پیداواری طاقت کے ساتھ تیار ہیں ؟

0

جی ہاں !!! یہ ایک ایسا سوال ہے، جو ہمیشہ ہمارے دل دماغ پر سوار رہتا ہے۔ میری عمر کی بہت سی خواتین کی طرح اکثر جب بھی میری دادی میرے پاس آتی ہیں وہ بلند آواز میں لوگوں کو سنا کر ایک ہی سوال بار بار پوچھتی ہیں، خاندان بڑھانے یا بچے کے بارے میں کیا پلاننگ کر رہی ہو؟

وہ کہتی ہیں، اب میڈیکل میں بہت ساری معلومات دستیاب ہیں ۔ ظاہر ہے مجھے غصہ آتا ہے۔ میں ان سے اس بات پر خوب لڑتی ہوں، جس میں جنسی ضرورتیں، شادی اور اسی طرح کی ساری چیزیں بار بار آتی ہیں۔ لیکن آخر کار جنگ کا اختتام پر دادی اپنی جیت کا احساس دلاتے ہوئے ایک جملہ کستی ہیں-اگر تم بچے پیدا نہیں کر سکتیں تو شرمانے کی بات نہیں ہے۔ آج بہت سارے ایسے کلینک ہیں جو ان مسائل کو حل کرتے ہیں۔

میں جواباً بتانے کی کوشش کرتی ہوں کہ میں شرما نہیں رہی۔ میں اپنی زندگی سے خوش ہوں اور میں صحت مند ہوں۔ ایسے میں وہ ایک محتاط نگاہ میرے اوپر ڈالتی ہیں۔ یہ مکمل واقعہ بار بار دہرایا جاتا ہے جب ہم پھر سے ملتے ہیں۔ میرا کوئی ہمخِیال خاندان میں نہیں ملتا۔ یہی سوال میرے خاندان کے لئے اہم اورموضوع بحث بنتا ہے۔

لیکن میں نہ تو آپ سے اپنے خاندان کے بارے میں اور نہ ہی اپنی قوت مادری کے بارے میں بات کرنے جا رہی ہوں۔ آج میں آپ سے اس معاملے پر بات نہ کر اسی سے ملتے جلتے زندگی کی وسعت سے منسلک ایک دوسرے اہم پہلو پر بات کرنا چاہتی ہوں۔ جو ہماری ہی زندگی کے ایک ایسے نقطہ نظر سے جڑا ہے جس میں ہم خود کو جاننے، سمجھنے کا موقع دیتے ہیں۔ خود کو تلاش کرتے ہیں اور اپنے اندر پوشیدہ نئی نئی چیزوں کو پیدا کر سکتے ہیں۔

آپ میں سے بہت سے قاری یہ جانتے ہیں کہ 2015 یور اسٹوری کے لئے کافی کامیاب سال رہا۔ ہمیں اس سال سب سے زیادہ فنڈنگ ملی۔ ہم نے 23 ہزار سے زیادہ حقیقی کہانیاں لکھیں۔ ہمارا سفر 2015 میں کافی تیزی سے آگے بڑھا۔ ہم نے 12 ہندوستانی زبانوں میں اپنی وسعت کی۔ ہماری ٹیم بڑھ کر 65 لوگوں کی ہو گئی۔ ہم نے بہت سے نئے پروڈکٹس کا آغاز کیا، نئے کام شروع کئے اور کئی سرکاری محکموں کے ساتھ مل کر کام شروع کیا۔ یہ ایک سال میں ہماری بہت بڑی کامیابی رہی۔ مجھے لگا کہ میری کئی سال کی سخت محنت نے اس سال بہت اچھے نتائج دیے۔

لیکن ان سب کے بعد بھی مجھے کہیں نہ کہیں تنہائی کا حساس ہےاور ایسا لگ رہا تھا جیسے میں کچھ 'مس' کر رہی ہوں۔ فنڈ ریز کرنا ایک بہت ہی محنت بھرا کام ہوتا ہے۔ جہاں میں ایک طرف کامیابی کی نئی نئی سيڑھياں چڑھ رہی تھی، وہیں میں نے دیکھا کہ اس دوران میرے کئی رشتوں میں تبدیلی آ رہی تھی اور لوگوں کا میرےتیئں رویہ بھی بدل رہا تھا۔ یہ تمام چیزیں مجھے بہت عجیب احساس کرا رہی تھیں کہ کیا میں اس مشکل مقابلہ کے ماحول میں فٹ بیٹھتی ہوں؟

آگے بڑھنے کی چاہ اور کچھ چھوٹ نہ ہو جائے کی فکر نے مجھے 2015 میں بہت فعال رکھا۔ میں نے تقریبا 64 تقاریب میں تقریر کی، جو کہ زیادہ تر ہفتہ اور اتوار کو ہوا کرتی تھیں۔ تقریبا 6 ہزار لوگوں سے میں ذاتی طور پر ملی۔ 6 ہزار کے قریب ہی لوگوں کو میں نے میل پر جواب دیا۔ لیکن اس کے باوجود بہت سے فون کے میں جواب نہیں دے سکی۔ بعض کے میل کا بھی جواب نہیں دے پائی اور یہ سب چیزیں میرے لئے بہت تکلیف کا باعث بنتی ہیں۔

مطلب یہ کہ میں جتنی زیادہ محنت کر رہتی، لوگ مجھ سے اتنے ہی مطمئن ہوتے گئے۔ یا کہیں جتنا زیادہ کام کر رہی تھی اتنا ہی کام مجھ سے چھوٹ بھی رہا تھا۔ ان سب کے درمیان میں اپنے لوگوں سے بھی دور ہو رہی تھی۔ میرے خاندان اور رشتہ داروں کو لگ رہا تھا، جیسے اب میرے پاس ان کے لئے وقت نہیں ہے۔ ایک دن میں بہت پریشان ہو گئی اور رونے لگی۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے۔ ایسے میں میرے سامنے ایک سوال یہ تھا کہ کیا میں اپنی 2015 کی کامیابی پر خوشی مناوں یا پھر میں خود کو اور اپنے کام کو اچھی طرح سانبھالنا سيكھوں؟

نومبر میں میں نے لوگوں سے تھوڑے فاصلے بنانے شروع کئے تاکہ خود کے قریب جا سکوں۔ میں نے خود کو سمجھنے کی کوشش کی۔ اپنے لئے وقت دیا اور جلد ہی مجھے اس بات کا احساس ہونے لگا کہ میرے ذہنی سکون کا یہی ایک علاج ہے کہ میں خود کو وقت دوں۔ اپنے لئے وقت نكالوں۔

مجھے یاد آیا کہ تقریبا 15 سال پہلے جب میں کالج میں تھی، تب میں نے ایک ماہر نفسیات سے ملی تھی، جس نے میری کافی مدد کی تھی۔ اس وقت بھی میں نے کچھ اسی طرح کے حالات اور الجھنوں کا سامنا کر رہی تھی۔ اس وقت انہوں نے مجھے سمجھاتے ہوئے ایک مثال دیی تھی کہ ہندوستان کے شمالی میدانی علاقوں میں بہت اچھی فصل ہوتی ہے کیونکہ یہاں کی مٹی بہت زرخیز ہے۔ اس مٹی میں خوب معدنی اجزاء ہیں، جس کی وجہ سے یہاں بہترین کاشت ہوتی ہے۔ یہاں کے لوگ ایک فصل کاٹنے کے بعد کھیت کو کچھ وقت کے لئے خالی چھوڑ دیتے ہیں، تاکہ زمین کو اپنی زرخیزی صلاحیت واپس مل سکے۔ اس سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اگلی بار آپ کو اور بہتر فصل مل سکے۔ لیکن اس کے برعکس اگر آپ مسلسل کھیتوں میں اناج بوؤ گے تو اس سے کھیتوں کی پیدواری صلاحیت میں کمی آنے لگتی ہے۔ یہی بات انسان کے ساتھ بھی لاگو ہوتی ہے۔ اگر آپ اپنے جذبات اور خود کا خیال رکھیں گے تو آپ خود کو اور بہتر طریقے سے سمجھ سکیں گے۔ ہر بار آپ اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر پائیں گے۔ آپ اپنی پیشہ ورانہ کامیابی اور زندگی کی باقی چیزوں کو بھی بہتر طریقے سے سمجھ پائیں گے۔ اس لئے ضروری ہے کہ خود کو سمجھا جائے۔ خود سے بات کی جائے اور اپنے لئے وقت نکالا جائے۔

اس چیز نے مجھے بہت فائدہ پہنچایا۔ میں نے دسمبر کے مہینے میں اپنے لئے وقت نکالا۔ خود کو سنا، سمجھا اور تسلیم کیا۔ اس بات پر یقین کرنا آسان کام نہیں تھا۔ لیکن آپ کو نہیں لگتا کہ یہ کام کافی آسان بھی ہے؟

ایک بدھ راہب کی لکھی 'دی مرےكل آف مائنڈ فل نیس' نام کی کتاب نے مجھے ان چیزوں کو سمجھنے میں بہت مدد کی۔ میں نے اپنے فون بھی سوئچ آف کر دیے اور میں نے سمجھا کہ اگر میں کسی کا فون نہیں اٹھا پا رہی ہوں یا کسی کو جواب نہیں دے پا رہی ہوں تو اس سے کسی کا بھی کوئی بہت بڑا نقصان نہیں ہو گا۔ میں نے چائے کی پیالی کے ساتھ خود کو وقت دینا شروع کیا۔ اب میں روزانہ کچھ وقت اپنے دو پیارے کتوں کے ساتھ بیٹھ کر خرچ کرتی ہوں۔

یہی سب باتیں میں تمام تاجروں کے ساتھ اشتراک کرنا چاہتی ہوں، جو کہ کامیابی حاصل کرنے اور آگے بڑھنے کی هوڈ میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ درست ہے کہ آپ خوب محنت کرو، دوسروں کی مدد کرو، آگے بڑھو، لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ہمارے پاس تمام کاموں کے لئے وقت ہوتا ہے بس اپنے لئے ہی ہم وقت نہیں نکال پاتے۔ اس سال آپ یہ طے کریں کہ آپ خوب کام کریں گے، اپنے لئے بڑے بڑے مقاصد بھی طے کریں گے، لیکن آپ بھی ضرور وقت نکالیں۔ جو انسان اپنے لئے وقت نہیں نکالتا، وہ آگے چل کر بنجر زمین کی طرح كھردرا ہو جاتا ہے۔


(یہ مضمون یور اسٹوری کی بانی اور سی ای او شردھا شرما نے لکھا ہے۔)