تکلیف سے راحت پہنچانے کا جذبہ ... ڈاکٹر بھاگیہ شری کی سجوک تھریپی

0

شوہر لیفٹننٹ کرنل پی ایس نائک کی پوری  حمایت

فوجیوں کی بیویوں کو سکھائی جا رہی ہے  تھریپی

ناقابل برداشت جسمانی اور ذہنی تکالیف سے راحت آسانی سے نہیں ملتی، راحت دینے کے نام پر آج بہت سے لوگ متاثرین کی جیب خالی کر رہے ہیں۔ ان حالات میں کسی شخص کا صرف راحت پہنچانے کے مقصد سے کام کرنا کم ہی سنا جاتا ہے۔ ڈاکٹر بھاگیہشری کا کام دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف سجوک تھراپی کے سہارے لوگوں کو علاج کرا رہی ہیں، بلکہ خواہشمند لوگوں کو اس کے بارے میں سکھا بھی رہی ہیں۔ وہ ایک فوجی افسر کی بیوی ہیں۔ ان کا مقصد ہے کہ فوجیوں کی بیویوں کے لیے یہ تھریپی سكھائیں تاکہ جب فوجیوں کو دور دراز کے علاقوں میں کام کرنا پڑے تو چھوٹی موٹی جسمانی تکلیف سے راحت حاصل کرنے کے لئے سو جوک کا سہارا لیا جا سکے۔

ڈاکٹر بھاگیہ شری کو حال ہی میں مرکزی آرمی وائفس ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے ایک ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ کئی ایوارڈ انہیں ملے ہیں، لیکن ان کے مطابق، مریض کے چہرے پر تکلیف سے راحت حاصل کرنے کے بعد کی مسکراہٹ ہی سہی انعام ہے۔ ڈاکٹر بھاگیہ شری ان دنوں گولكونڈا ارٹلری سینٹر میں رہ رہی ہیں، جہاں ان کے شوہر لیفٹیننٹ کرنل پی ایس نائک برسرِ خدمت ہیں۔

در اصل سجوک سے ان کا رشتہ اروناچل کے دور دراز کے گاؤں میں رہنے کے دوران ہوا۔ اس کے بارے وہ بتاتی ہیں، ''میری بیٹی قبض کا شکار تھی۔ ایک دن میں نے بھپیندر کور چڈھا کا لیکچر سنا کہ سو جوک تھراپی سے کافی بيمريوں کا علاج کیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ شروع میں مجھے یقین نہیں ہوا، لیکن جب اسے اپنی بیٹی پر آزمایا تو طویل عرصے سے چلا آرہا مسئلہ حل ہوا۔ اسی دن میں نے فیصلہ کیا کہ اسے کیوں نہ سیکھا جائے۔ دلچسپی بڑھتی گئی اور پھر میں نے اسی میں ٹرنٹی یونیورسٹی سے متبادل میڈیسن کے طور پر سجوک میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔''

ڈاکٹر بھاگیہ اب تک 500 سے زیادہ لوگوں کے پیچیدہ جسمانی اور ذہنی مسائل کا علاج کر چکی ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر ان کا مقصد لوگوں کو چھوٹی چھوٹی آسان ترکیبیں سکھانا ہے تاکہ سر درد، جوڑوں کا درد، اعصاب کی شکایت ایلرجی، جیسے مسائل سے لوگ راحت حاصل کریں۔

اروناچل پردیش اور ناگالینڈ میں رہنے کے دوران اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ دور دور تک ہسپتال نہیں تھے۔ وہاں کے لوگ کئی بار جھاڑ پھونک کر بیماریوں کو لمبا کرتے تھے۔ کسی بھی قسم کی ایمرجنسی پر بھی 250 کلومیٹر کا سفر کرنا پڑتا۔ ایسی صورت میں انهوں نے فوج اور مقامی ضلع انتظامیہ کی اجازت سے ایک سجوک کلینک شروع کیا، جس سے کافی فائدہ پہنچا۔ بعد میں جب وہ حیدرآباد آئے تو یہاں بھی لوگوں کو اس متبادل علاج کے طریقہ کار سے فائدہ پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ وہ کہتی ہیں، ''سنگین مسئلہ ہونے پر ہسپتال جانا ضروری ہے، لیکن وہاں جانے تک تو درد سے کچھ راحت ملے اس کے لئے سو جوک تھراپی کافی فائدہ بخش ہے۔ اس کے بہت سے کامیاب تجربے اور مثالیں میرے پاس ہیں۔''

ڈاکٹر بھاگیہ کو اپنے شوہر لیفٹننٹ کرنل پی ایس نائک کی نہ صرف حمایت حاصل ہے، بلکہ وہ سو جوک کو سپرچول هيليگ کے تعاون کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ خاندانی، اقتصادی مسائل اور امتحان اور کام کو لے کر کشیدگی کی وجہ سے لوگوں میں خودکشی کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسی صورت میں سپرچول هيليگ کافی کام آتی ہے۔ یہ ایک طرح سے شخص کو اندر سے سمجھنے کی کوشش بھی ہوتا ہے۔

حالیہ دنوں میں ڈاکٹر بھاگیہ شری شہر کے کچھ اولڑ ایج ہوم تک بھی پہنچی ہیں، جہاں وہ ضعیف لوگوں کو چھوٹی چھوٹی بیماریوں سے خود علاج کے طور طریقے سکھا رہی ہے۔ اس طرح سے وہ فوجیوں کی بیگموں اور ضعیف لوگوں علاوہ ان غریب بستیوں تک پہنچنا چاہتی ہیں، جہاں لوگوں کو آسانی سے دوسری طبی نظام سہولتیں دستیاب نہیں ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ اس علاج کے طریقہ کار میں کسی قسم کی کھانے یا پینے کی دوائیوں استعمال نہیں کیا جاتا، جسمانی طور پر معذور بچوں کو خود کے تعاون کے لئے حوصلہ افزائی کرنے کے لئے بھی یہ علاج کے طریقہ کار کافی فائدوہ بخش ثابت ہوا ہے۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem