کئی بار گر کر اٹھنے اور چھا جانے کا نام ہے راجو بھوپتی، 7 اسٹار نوکری چھوڑ شروع کی 'ہیلوكری'

0

کروڑوں کی نوکری چھوڑ کر کاروباری بنے راجو بھوپتی ... پہلی نوکری کی تنخواہ تھی محض ایک ہزار روپے مہینہ .. پندرہ سال آئی ٹی میں مختلف عہدوں پر کی نوکری ۔۔۔ 3 کروڑ کی سالانہ تنخواہ چھوڑ کر شروع کی "ہیلوكری"...."ہیلوكری" ہے دنیا کی پہلی انڈین فاسٹ فڈ ہوم ڈلیوری چین کمپنی ... "ہیلوكری" کو بنانا چاہتے ہیں "میک ڈونلڈز" جیسا گلوبل برانڈ

ان کی زندگی میں اتنے اتار چڑھاؤ ہیں کہ سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ ناكامياں بھی ہیں، کچھ چھوٹی تو کچھ بڑی۔ بڑی اتنی کہ بہت سارے سنہرے خواب ایک پل میں چکناچور ہو گئے۔ لیکن، ناکامیوں سے سبق بھی ملے۔ ایک سیکھ یہ بھی ملی کہ ناکامی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ کوشش ناكامياب ہوئی ہے، اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ کوشش اب کامیاب نہیں ہو پائی ہے۔ ناکامیوں نے کتنی ہی بار ان کا دروازہ کھٹکھٹایا اور کئی بار زندگی میں داخل بھی ہوئیں، لیکن جدوجہد اور کبھی نہ ہارنے کا اٹوٹ جزبہ دل ودماغ میں کچھ اس طرح بھرا تھا کہ کوششیں جاری رہی۔ مسلسل کوششوں کی وجہ سے ہی ناكامياں ہار کر لوٹ گئیں۔ محنت رنگ لائی، جدو جہد کام آئی۔ دکھ سکھ سے بھری زندگی ایک منفرد کہانی بن گئی۔

ان کا نام راجو بھوپتی ہے، جو کبھی ڈاکٹر بننا چاہتے تھے، بن بھی جاتے، لیکن اگر بنتے تو شاید فوڈ-انڈسٹری کو ایک نیا اور حوصلوں سے بھرپور کاروباری نہیں ملتا۔ راجو بھوپتی کی زندگی میں جتنی بڑی كاميابيا ہیں، اتنے ہی حیرت انگیز پل بھی ہیں۔ مشکلوں سے بھرے پل انہیں ٹھوک بجا کر دیکھتے ہیں، اور پوچھتے ہیں کہ کیا تم اس امتحان میں پاس ہو جاؤ گے اور وہ کچھ ایسا فیصلہ لیتے ہیں کہ کامیابی ان کے قدم چومتی ہے۔

ایپلیب جیسی بڑی کارپوریٹ کمپنی کے اسسٹنٹ وائس پریسیڈنٹ اور سی ایس سی کی اي ٹي ایس ڈلیوری سروسیز کے چیف کے طور پر کام کرنے والے راجو بھوپتی نے اپنی زندگی کا اصلی سفر 1000 روپے کی نوکری سے شروع کیا تھا۔ اس وقت انہیں پتہ نہیں تھا کہ ایک دن ان کی سالانہ تنخواہ 3 کروڑ روپے ہو جائے گی۔ لیب اسسٹنٹ سے شروع ہوا سفر کمپنی میں ملازمین کے سب سے اعلیٰ مقام پر پہنچا۔ زمین سے آسمان پر پہنچنے کی اس کہانی میں ایک بڑا دلچسپ موڑ یہ ہے کہ راجو بھوپتی نے اتنی بڑی نوکری کو بھی ایک دن اس لئے ٹھکرا دیا کیونکہ انہیں کاروباری بننے کا اپنا بہت پرانا خواب پورا کرنا تھا۔ 15 سال کے بعد ملازمت سے ان کا دماغ اٹھ گیا اور انہوں نے اپنا انٹرپرائز قائم کیا۔ آج وہ ملک و بیرون ملک میں 'ہیلو کری' کے بانی کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

راجو بھوپتی کی زندگی سفر آسان نہیں رہا ہے۔ انہیں جد و جہد اور مایوسیوں کے ایک طویل دور سے گزرنا پڑا۔ ان کی کہانی شروع ہوتی ہے، آندھرا پردیش کے املاپورم سے۔ ان کے والد نرسمہا راجو هوميوپیتھي ڈاکٹر تھے۔ اس سے زیادہ وہ سماجی کارکن تھے اور روحانیت سے لگاؤ رکھنے والے بھی۔ لوگوں کا مفت علاج کرتے تھے۔ اس ماحول میں پلے بڑھے بچے راجو بھوپتی کے ذہن میں بھی باپ کی طرح ہی ڈاکٹر بننے کا خیال آیا۔

راجو بھوپتی ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں،

"والد صاحب پاپولر ڈاکٹر تھے۔ روحانی شخصیت تھے۔ لوگوں سے پیسہ نہیں لیتے تھے۔ ہزاروں مریضوں کا علاج انہوں نے کیا ہوگا۔ میرے گھر میں ہمیشہ میلہ لگا ہوتا۔ روزانہ اتنے لوگ والد صاحب کے ارد گرد ہوتے کہ والد تک میرا پہنچنا بھی مشکل تھا۔ وہ مسلسل مختلف سرگرمیوں میں فعال رہتے۔ مجھے بھی لگا کہ انہیں کی طرح بننا چاہئے۔ ان کی وراثت کو اپنانا چاہئے۔ اگرچہ ان کی طرح روحانی خیالات میں اپنے اندر بالکل نہیں لا پاتا تھا، لیکن دماغ میں وہ ساری چیزیں تھیں۔ میں نے بھی ڈاکٹر بننے کا ارادہ کیا اور انٹر میں بائی پی سی سے تعلیم لینے کے لئے کالج میں داخلہ لیا۔ تب تک میری کہانی ٹھیک چل رہی تھی، لیکن سائنس کی پڑھائی مشکل تھی میں نہ پڑھ سکتا تھا نہ توجہ دے سکتا تھا۔ میں خود نہیں جانتا تھا کہ میں کیا کر سکتا ہوں۔ "

بھوپتی نے میڈیکل کالج میں داخلے کے لیے ضروری امتحان "ایمسیٹ" لکھا، لیکن رینک اتنا نہیں آیا کہ انہیں ایم بی بی ایس کورس میں داخلہ مل سکے۔ اسے اپنی پہلی بڑی ناکامی قرار دیتے ہوئے راجو بھوپتی نے کہا،

"جب میرا داخلہ بائی پی سی کورس میں کیا گیا تبھی مجھے سمجھ میں آ گیا کہ کورس بہت مشکل ہے۔ میں نہ پڑھ لکھ پاتا نہ ہی کسی پر اپنی توجہ مرکوز کر پاتا۔ ساتویں تک تو میں پڑھائی لکھائی میں ٹھیک تھا۔ اچھے نمبر بھی لائے۔ لیکن بعد میں کس طرح تبدیلی آئی مجھے پتہ ہی نہیں چلا۔ دماغ بہت ہی غیر مستحکم ہو گیا تھا۔ آگے پیچھے کرتے کرتے میں نے کسی طرح امتحان لکھے۔ رینک میرا پانچ پوائنٹس میں تھا جبکہ میڈیکل کالج میں سیٹ کے دو پوائنٹس والا رینک ضروری تھا۔ "

ایمسیٹ امتحان میں بھوپتی کی ناکامی سے پورا خاندان سکتے میں آ گیا۔ تمام حیران اور پریشان تھے۔ ایم بی بی ایس میں داخلہ ملنا ناممکن تھا، لیکن ڈینٹل اور هوميوپیتھی کے متبادل کھلے تھے۔ گھر والوں اور بہی خواہوں نے راجو بھوپتی کو بھی هوميوپیتھی ڈاکٹر ہی بنوانے پر زور دیا۔ راجو بھوپتی کے لئے اچھا کالج ڈھونڈنے کا عمل شروع ہو گیا۔ لمبی چوڑی تلاش کے بعد گھر والوں کو لگا کہ بھوپتی کے لئے کرناٹک کے ہبلی کا ہومیوپیتھی کالج ہی سب سے بہترین رہے گا۔ ہبلی کے کالج میں راجو بھوپتی کی سیٹ بھی پکی ہو گئی۔ فیس بھرنے کی طرف داخلہ لینے کا وقت بھی آ گیا۔ بھوپتی راجو کالج پہنچے اور فیس بھرنے ہی والے تھے کہ ایک غیر یقینی اور ناقابل یقین واقعہ پیش آیا۔ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے راجو بھوپتی بتاتے ہیں،

"ہبلی میں سب کچھ اچھا تھا۔ کالج کا ماحول دیکھ کر میں پرانے دن بھولنے لگا تھا۔ مجھے لگا کہ میں نئی دنیا کا سفر شروع کرنے والا ہوں۔ میں خوبصورت خواب دیکھنے لگا - کس طرح میں لڑکیوں کے ساتھ وہاں گھوموںگا-پھروگا، کس طرح موج مستی کروں گا۔ کس طرح نئے دوست بناؤں گا۔ میرا اپنا الگ کمرہ ۔ اپنے گھر خاندان سے دور مکمل آزادی ہوگی۔ "

"میں اپنے چچا کے ساتھ فیس بھرنے کے لئے ہبلی گیا تھا۔ فیس بھرنے کے بعد گوا جانے کا پروگرام تھا، لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ میرے چچا کے دماغ میں کیا چل رہا تھا، پتہ نہیں۔ کالج کے گیٹ کے سامنے ایک پی سی او ایس ٹی ڈی بوتھ تھا۔ چچا نے کہا کہ تم فیس كاونٹر کی لائن میں کھڑے رہو، میں فون کرکے آتا ہوں۔ میں کچھ مختلف موڈ میں تھا۔ خواب میں کھو گیا تھا۔ کچھ دیربعد چچا واپس آئے اور چہرے پر سنجیدہ جزبے کے ساتھ کہا، ہمیں واپس جانا چاہئے۔ تمہارے والد کچھ اورمتبادل کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ لوکل کالج میں ہی داخلہ مل جائے گا۔ میں نے اپنے چچا سے کہا کہ میں یہاں سے نہیں جاؤں گا جب مجھ سے کہا کہ مجھے لوٹنا ہی ہوگا میرے خواب چکنا چور ہو گئے۔ ایک پل میں خوبصورت دنیا ختم ہو گئی۔ میں نے چھ سالوں کے لئے جو سکرین پلے بنایا تھا، وہ ہوا میں کہیں اڑ گیا۔ میں بہت دکھی ہوا۔ "

راجو بھوپتی کو ہبلی کے اس واقعہ سے بہت گہرا صدمہ پہنچا۔ ان کے اپنے الفاظ میں، "کئی منٹ تک لائن میں کھڑا رہنے کے بعد میں کاؤنٹر کے بالکل قریب پہنچ گیا تھا۔ چند لمحات میں میں فیس جمع کرنے والا تھا۔ جب میرے چچا نے آ کر مجھے فیس نہ جمع کرنے اور واپس لوٹ چلنے کی بات کہی تو میرا سر چکرا گیا۔ مجھے بڑا صدمہ لگا۔ ایسے لگا کہ میں ایورسٹ کی چوٹی پر پہنچنے ہی والا تھا کہ کسی نے مجھے ایسا دھکا دیا کہ میں براہ راست نیچے زمین پر آ گرا۔ "

ایسے کئی واقعات نئے نئے عجب-غضب موڑ لینے کے لئے راجو بھوپتی کا انتظار کر رہے تھے۔ تکلیفوں اور مخالف حالات سے انہیں فوری طور پر چھٹکارا ملنے والا نہیں تھا۔ ہبلی سے مایوس اور نا امید واپس لوٹنے کے بعد انہیں پتہ چلا کہ گڈی واڈا کے میڈیکل کالج میں انہیں داخلہ مل سکتا ہے۔ بھوپتی راجو این سی سی کیڈٹ تھے۔ انہیں بتایا گیا کہ میڈیسن میں این سی سی کوٹے سے داخلہ ملنے کا امکان بن رہا ہے۔ وہاں ویٹنگ لسٹ میں ان کا پہلا نمبر تھا۔ بھوپتی راجو کے ذہن میں نئی امیدیں جاگنے لگیں۔ وہ نئے خواب دیکھنے لگے۔ لیکن اتفاق دیکھئے کہ جس دن ان کا انٹرویو تھا، اسی دن حکومت نے ایک حکم جاری کر این سی سی کوٹہ کم کر دیا۔ پھر وہ دروازہ بی بند ہو گیا۔ اچانک پھر سب کچھ اجڑ گیا - خواب، امیدیں، سب۔

بھوپتی راجو پھر واپس وہی پرانے کالج جاکر اپنے دوستوں کو اپنا منہ دکھانا نہیں چاہتے تھے۔ اس لئے مقامی کالج میں کسی بھی کورس میں داخلہ نہیں لیا۔ انہوں نے پھر سے ایمسیٹ لکھا، اس کے لئے دوسرے شہر جا کر تربیت حاصل کی، لیکن اس بار رینک 5 عدد سے بڑھ کر 6 عدد میں چلا گیا۔ ایک بار پھر مایوسی۔

اس کے بعد انہوں نے سوچا کہ وہ اپنے شہر واپس نہیں جائیں گے۔ ڈاکٹر بننے کے تمام خواب چکنا چور ہو چکے تھے۔ ڈاکٹر بننے کے امکانات ختم ہوتے ہی ان کے پاس زیادہ متبادل نہیں تھے۔ بی ایس سی کرنا ہی ان کے سامنے موجود سب سے بہترین آپشن تھا۔ انہوں نے آندھرا پردیش کے كاكناڈا کے ایک ڈگری کالج میں داخلہ لیا۔ ان لمحوں کو یاد کرتے ہوئے راجو کہتے ہیں،

"آج نہیں کہہ سکتا کہ میں ڈاکٹر ہوتا تو کیسا ہوتا، لیکن مجھے لگتا ہے کہ دماغ سے ہی میں ڈاکٹر نہیں ہوں۔ اگر میں ڈاکٹر بن بھی جاتا تو ڈذاسٹرس ڈاکٹر ہوتا۔ مجھے ہمیشہ لگا کہ میں کچھ اور ہی چیز کے لئے بنا ہوں ۔ بچپن سے ہی دل میری فطرت اور رجحان الگ تھے۔ شاید ایک کاروباری ذہن میں چھپا بیٹھا تھا، لیکن مجھے خود کو پتہ نہیں تھا۔ "

کہتے ہیں کبھی کبھی زندگی کو اس کے اپنے راستے پر چھوڑ دینا چاہئے۔ راجو بھوپتی نے بھی ایسا ہی کیا۔ انہوں نے ڈگری کے بعد ارگینك کیمسٹری میں پی جی کرنے کا فیصلہ لیا۔ حالانکہ انہیں پتہ تھا کہ ڈگری کے تینوں سالوں میں انہیں کیمسٹری میں مسلسل تین سال 35 نمبر ہی ملے تھے۔ بھوپال کے ایک کالج سے راجو بھوپتی نے ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کر لی۔

اس کے بعد پھر ان کی زندگی نے نئی راہ پکڑی۔ راجو بتاتے ہیں،

"کبھی کبھی حالات جدھر لے جانا چاہتے ہیں، ادھر جانا چاہئے۔ میرے بڑے بھائی آئی ٹی کے شعبے میں تھے۔ ان کے مشورہ پر میں نے ایک ماہ آئی ٹی کی ٹریننگ لی۔ حالانکہ وہ موضوع بھی میرے بس کا نہیں تھا، لیکن میں نے پروگرامنگ سیکھ لی۔ انہی دنوں امریکہ سے آئے میرے ایک پڑوسی نے ایک کمپنی شروع کی تھی۔ پڑوسی نے مجھ سے ایک دن یہ پوچھا کہ کیا تم میری کمپنی میں کام کرو گے؟ یہ میرے لئے کام کا پہلی تجویز تھی۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کوئی اس طرح سے نوکری پیشکش کرے گا۔ "

راجو نے بتایا کہ بھائی مشورہ لے کر انہوں نے نوکری کرنے کی تجویز مان لی۔ انہیں لگا کہ شاید نوکری کے بہانے ہی سہی خوشی لوٹ آئیں گی۔ کمائی بھی ہوگی۔ آمدنی ملنے سے گھر والوں کو بھی اطمینان ہوگا۔

"پڑوسی نے مجھے اپنی کمپنی میں لیب اسسٹنٹ کے طور پر مقرر کیا۔ کمپنی کے مالک نے بتایا کہ میری تنخواہ 1000 روپے ہوگی۔ مجھے پھر صدمہ پہنچا۔ ان دنوں میں 5000 روپے تو اپنی موٹر سائیکل کے لئے پٹرول پر خرچ کر رہا تھا۔ میں جانتا تھا کہ ایک مزدور کو بھی اس سے زیادہ روپے ملتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ کیا میں انتا نااہل ہوں؟ لیکن، میرے پاس کوئی متبادل نہیں تھا اور میں نے وہ نوکری خاموشی سے قبول کر لی۔ میں نے شرم کے مارے اپنے ماں باپ کو بھی اس کی معلومات نہیں دی۔ مگر پہلے مہینے کی تنخواہ پاکر مجھے تعجب ہوا، مالک نے مجھے 1500 روپے دیتے ہوئے کہا کہ تم نے ہماری توقعات سے زیادہ کام کیا ہے اس لئے میں تمہیں مقررہ رقم سے زیادہ دے رہا ہوں۔ "

جذبات سے مغلوب آواز میں بھوپتی راجو نے کہا، "میرے لئے وہ پہلا آدمی تھا جس نے میرے کام کو سراہا تھا۔ مجھ میں اعتماد پیدا ہوا کہ میں بھی کچھ کر سکتا ہوں۔ میرے لئے وہ دن بہت یادگار ہے۔"

پہلے ہی مہینے ملی تعریف سے بھوپتی راجو کا دل اعتماد سے بھر گیا۔ انہوں نے وہاں چھ ماہ تک خوب دل لگا کر کام کیا۔ اسی درمیان ان کے سامنے کئی نئے لوگ کمپنی میں آئے، ان نئے ملازمین کو 9 ہزار اور دس ہزار کی تنخواہ پر لیا گیا۔ راجو کو تب بھی 1500 روپے ہی مل رہے تھے۔ انہیں حیرت اس بات پر ہوئی کہ پوسٹگریجویٹ ہوکر بھی انہیں 1500 اور ان کے بعد آنے والے صرف گریجویٹ ملازمین کو 10 ہزار کیوں دیے جا رہے ہیں؟

راجو سوچتے کہ آخر ان نوجوانوں کے پاس کیا ہے؟ صرف ان کے پاس بی ٹیک کی ڈگری ہے، کیا یہ ڈگری اتنی اہم ہے؟ کیا ہندوستان ایسی جگہ ہے، جہاں صرف ڈاکٹر اور انجینئرز کو ہی اچھی نوکریاں ملیں گی؟ جو درميا میں ہیں ان کا کیا ہوگا؟ ان کے لئے کیا بینک اور سرکاری دفاتر میں کلرک کی ہی جابس ہوں گی؟

بھوپتی راجو کو یہ قبول نہیں تھا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ایک سال میں ان کے برابر ہو جائیں گے۔ انہوں نے اسے چیلنج کی طرح لیا۔ وہ ایک سال میں ہی اپنے مشن میں کامیاب بھی ہو گئے، بھوپتی راجو نئے ملازمین سے آگے نکل گئے۔ وہ جہدکاری کا پہلا احساس تھا جو ان کے دل میں جاگا تھا۔ محنت رنگ لائی تھی۔ حوصلے پھر سے بلند ہوئے تھے۔

بھوپتی راجو کہتے ہیں کہ نان ٹیکنیکل بیک گراؤنڈ کے لوگوں کو کم ہی اہمیت دی جاتی ہے۔ مان لیا جاتا ہے کہ آئی آئی ایم اور آئی آئی ٹی سے آئے لوگ ہی بہترین کام کر سکتے ہیں۔ بغیر سوچے کہ وہ کیا کام کریں گے انہیں اچھے عہدوں پر مقرر کیا جاتا ہے۔ جبکہ اچھی قابلیت والے دوسرے بیک گراؤنڈ کے لوگوں کو اس نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔

بھوپتی راجو 2001 میں ایپلیب جیسی کمپنی میں مقرر ہوئے تھے۔ اپنی قابلیت اور محنت سے کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتے گئے۔ دس سال میں انہوں نے منیجر سے پرنسپل کنسلٹینٹ اور اسسٹینٹ وائس پریسیڈنٹ تک کا سفر مکمل کیا۔ پھر ایک دن ایپلیب کی سی ایس سی کمپنی میں ہی وائس پریسیڈنٹ بنائے گئے۔ اس سفر میں ان کے لئے ہر لمحہ مشکل رہا۔ بالخصوص دو ایسے واقعات ان کی زندگی میں ہوئے، جسے وہ کبھی نہیں بھولتے۔ ایک بار وہ امریکہ میں نہیں رہنا چاہتے تھے، اس لیے واپس لوٹ آئے اور دوسری بار جب وہاں بسنا چاہتے تھے، تب حالات نے انہیں واپس ہندوستان آنے پر مجبور کیا۔ راجو بتاتے ہیں، "چھ سات سال کام کے بعد میں کمپنی کی جانب سے امریکہ چلا گیا۔ وہاں پہنچنے کے بعد مجھے لگا کہ یہ جگہ میرے لئے نہیں ہے۔ میں نے واپس جانے کی ٹھانی، لیکن کمپنی کو مجھ پر کافی امیدیں تھیں۔ سی ای او نے کہا کہ آپ کو اگر واپس جانا ہے تو کمپنی میں آپ کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ میں امریکہ میں تھا۔ بیوی حاملہ تھی۔ میرے پاس زیادہ پیسے بھی نہیں تھے۔ میں فیصلہ کر چکا تھا کہ ہندوستان لوٹنا ہی ہے۔ مجھے کسی حال واپس جانا ہے، میں جذباتی طور پر فیصلہ کر چکا تھا۔ دوسرے دن میں کمپنی چھوڑنے کے لئے گیا تو سی ای او نے مجھے سمجھایا کہ تمہاری کی بیوی حاملہ ہے، تمہارے پاس اتنے پیسے بھی نہیں ہیں کہ ان حالات میں اپنے کو ایڈجسٹ کر سکو دو ماہ اور کام کرو پھر چلے جانا وه میرے لئے ہمت اور حوصلے کی بات تھی۔ میرے لئے بڑی مدد تھی۔ کمپنی نے نئے طریقے سے میری مدد کی تھی اور میری بھی ذمہ داری تھی کہ کمپنی کے لئے کچھ کروں۔ کمپنی نہیں چھوڈی۔ واپس یہاں آ کر بھی کام کرتا رہا۔ میں پانچ چھ سال کے بعد پھر امریکہ گیا۔ اس بار حالات کچھ یوں بنے کہ میں وہاں رہ جاؤں۔ ماں کے انتقال پر جب میں حیدرآباد آیا تو دیکھا کہ سارے رشتہ دار امریکہ میں منتقل ہو چکے ہیں۔ تو بھلا میں کیوں یہاں رہوں، مجھے بھی امریکہ میں ہی رہنا چاہئے۔ برطانیہ گیا، كینڈا گیا، لیکن وہاں بسنے کا خیال نہیں آیا۔ امریکہ میں 500 لوگوں کو مینج کر رہا تھا۔ میں امریکہ میں ایک جھیل کے سامنے ایک تصوراتی، بہترین بنگلہ بھی لے لیا تھا۔ نئے بنگلے میں رہنے کے لئے سارے انتظام تقریباً پورے ہو گئے تھے۔ سوفے اور سامان ٹھیک کرکے میں گھر میں لگائی گئی ٹی وی چیک کرنے کے لئے ریموٹ دبا ہی رہا تھا کہ سی ای او کا فون آیا۔ وہ مجھے پھر ہندوستان بلا رہے تھے۔ میں نے انہیں امریکہ میں رہنے کی بات کہی، لیکن انہوں نے جو پیشکش دی اسے میں انکار نہیں کر سکا۔ وہ گلوبل پوزیشن تھی۔ جہاں میں 500 لوگوں کو مینج کر رہا تھا، اب 5000 لوگوں کا سربراہ بننا تھا۔ 15 دن میں پیكپ کرکے واپس بھارت چلا آیا۔ "

راجو بھوپتی نے ان 12 سالوں میں 14 بار گھر بدلا تھا، لیکن اس بار ایک بڑی کامیابی کے لئے، بڑا کام تھا۔ 7 اسٹار نوکری تھی۔ کبھی پیچھے کی بنچ پر بیٹھنے والے لڑکے کے لئے اب بات کرنے کے لئے ہزارہا لوگ تھے۔ ایک بڑی پوزیشن تھی، جس پر سارے لوگ فخر کرتے ہوں، لیکن منزل یہ بھی نہیں تھی۔ ان کے دماغ میں ایک نئی ہلچل شروع ہوئی ۔۔۔ کیا یہ سب صحیح ہے میرے لئے؟ اس کے بعد کیا ہوگا؟ کیا اس کے بعد بھی کچھ ہے؟ اس میدان میں میں جس مقام پر ہوں اس سے آگے کچھ نہیں ہے۔ میں نے سوچا کہ میں جو کچھ کر سکتا تھا وہ اس فیلڈ میں کر چکا ہوں۔ بہت ہو چکا ہے۔ آئی ٹی میں مجھے اب نہیں رہنا ہے۔ میں نے نوکری چھوڑی اور پھر موسیقی کا شوق پورا کرنے میں لگ گیا۔ اپنا ایک البم نکالا۔ لیکن، جیسے فلموں میں ہوتا ہے، اسی طرح کی کہانی میری بھی تھی۔ کروڑوں کی نوکری چھوڑی تو پھر سڑک پر آگیا۔

ان دنوں دل میں ہوتی اتھل پتھل کو سانجھا کرتے ہوئے بھوپتی راجو نے بتایا، 

"15 سال تک میں نے بہت اچھا کام کیا تھا، لیکن میں کون ہوں مجھے پتہ نہیں تھا۔ اتنی بڑی نوکری چھوڑنا آسان نہیں تھا، لیکن اب مجھے کوئی روکنے والا نہیں تھا۔ بیوی مجھے ہر طور پر سمجھتی تھی۔ ملازمت چھوڑنے کا مجھے ایک بار بھی افسوس نہیں تھا۔ کیا کرنا ہے، مجھے پتہ نہیں تھا۔ میں نے اپنے والد نرسمہا راجو پر کتاب لکھنی شروع کی۔ دو ماہ میں کام مکمل ہوا۔ میں نے بہت کم وقت ان کے ساتھ گزارا تھا، لیکن ان کے زندہ رہتے میں جتنا نہیں جان پایا اس سے بہت زیادہ میں ان کے مرنے کے بعد انہیں جان پایا۔ وہ ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں تک پہنچے تھے۔ ان کی لکھی کتابیں میں نے پڑھيں، انہیں نئے سرے سے سمجھا۔ واقعی ان کی شخصیت جادوئی تھی۔ وہ روحانی رہنما تھے۔ "

راجو بھوپتی نے اس کے بعد کسی اور کمپنی میں ملازمت کرنے کا ارادہ نہیں کیا۔ لیکن، ایک خیر خواہ کی گزارش پر کنسلٹنسی قبول کی۔ اس کے بعد راجو بھوپتی نے اپنے انتہائی قریبی رشتہ دار سندیپ کے ساتھ مل کر فڈ بزنس میں قدم رکھا۔ ان کے مطابق، ابتدائی طور پر یہ کاروبار آسان لگا۔ اڈلی 5 روپے میں بنتی ہے اور 50 روپے میں بکتی ہے۔ یعنی براہ راست 45 روپے کا منافع۔ اسی طرح سے منافع کمانے کے مقصد نے ہم نے فڈ بزنس شروع کیا۔ اس میں بھی کچھ بالکل نیا کرنے کا مقصد ٹیک اوے چین شروع کی۔ پھر ہوم ڈلیوری کے میدان میں کاروبار کھڑا کیا۔ جس کے بارے میں وہ دعوی کرتے ہیں کہ یہ دنیا کی پہلی انڈین فاسٹ فڈ ہوم ڈلیوری چین ہے۔ اس اسٹارٹپ کے آغاز کے کچھ ہی مہینوں میں فنڈنگ شروع ہوئی اور کاروبار آگے بڑھتا گیا۔ اب وہ دنیا بھر میں پھیل کر عالمی ہونا چاہتے ہیں۔

کیا وہ خود کھانا پکانا جانتے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں راجو نے کہا، "میں آملیٹ بنانا بھی نہیں جانتا تھا، لیکن میں بڑے فیصلے کیلئے 7 اسٹار نوکری چھوڑ کر آیا تھا، ایک چھوٹا سے گیراج میں ہی کاروبار شروع کیا۔ صفر سے حیدرآباد میں شروع ہوئی کمپنی کچھ ہی دنوں میں پہلے حیدرآباد اور بعد میں جنوبی ہندوستان میں نمبر 1 ہو گئی۔ اب ہم گلوبل کمپنی بننے کی راہ میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ بھارتی برانڈ کو گلوبل بنانے کا مقصد شروع سے ہی ہے۔ طویل سفر ہے۔ یہ فلم نہیں تجارت ہے ۔ کافی وقت لگے گا۔ ایک دو دن میں بلین روپے بنانے نہیں ہیں۔

اس کاروبار میں چیلنجوں کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ یہاں ہر لمحہ، ہر پل چیلنج ہے۔ 8000 اور 9000 روپے پانے والے کی ترسیل بوائزکا کام کیسا ہوگا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ وہ کبھی بھی آپ کا ساتھ چھوڑ سکتے ہیں۔ گاہکوں کی بات کریں تو کب کون کس کھانے کی تعریف کرے گا، اور کس کھانے کو گالیاں گا نہیں معلوم۔ پہاڑ بھی ہیں اور وادياں بھی۔ اس لئے تجارت کو صحیح سمت دینے اور صارفین کی ذہنیت کو سمجھنے کے لئے ٹکنالوجی كپنيوں کی مدد لی جا رہی ہے۔

راجو بھوپتی کے مطابق، نوکری کرنا سب سے آسان کام ہے۔ کمپنی کے بارے میں کوئی اور فکر کر رہا ہوتا ہے۔ ملازم کے لئے بہت کچھ پہلے سے طے ہوتا ہے۔ کام کرنے کا وقت، چھٹی کے دن، تنخواہ تمام طے ہوتے ہیں۔ ملازم بھی انہی طے چیزوں کے مطابق اپنی زندگی کی پلاننگ کرتے ہیں۔ جو کچھ ہونے والا ہے، پہلے سے پتہ ہوتا ہے، لیکن کچھ کو کام میں سکھ ہے تو کچھ کو کاروباری بننے میں۔ کسی کو کسی دوسرے کی کمپنی کے لئے کام کرنا پسند ہے تو کوئی اپنی اپنی کمپنی میں ہی کام کرنا پسند کرتا ہے۔ کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جو بالکل مختلف، دنیا میں کچھ منفرد کرنا چاہتے ہیں۔"

خود کی سوچ، اپنا مقصد اور مستقبل کے چیلنجوں کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کے جواب میں بھوپتی راجو نے کہا، "ہیلو کری کو سرحدوں کے پار لے جانا میرا خواب ہے۔ حالانکہ چند سال میں کچھ ناکامیوں کا سامنا بھی ہوا ہے۔ بینگلور میں بڑی امید کے ساتھ 6 آؤٹ لیٹ شروع کیے۔ 4 ناکام ہوئے۔ بغیر شرمائے ہم نے کچھ بند کر دیے۔ کیوں ناکام ہوئے اس کا پتہ چلایا۔ مجھے لگا کہ اپنی پوری قابلیت کا استعمال کرنا چاہئے اور قابلیت کی صحیح شناخت بھی کی جانی چاہئے جب آپ دو کلومیٹر نہیں چل سکتے تو میراتھن میں نہیں جانا چاہئے۔ گزشتہ سال دسمبر میں پھر سے ہم زيرو پر آ گئے تھے۔ کئی کمپنیاں نیچے جا رہی تھیں۔ آرڈر تو مل رہے تھے، لیکن اصلی بزنس نہیں ہو رہا تھا۔ حالات کے مطابق بہتر بنانے کی شروعات ہوئی اور ہم پھر واپس اچھی پوزیشن میں آ گئے۔ "

بھوپتی راجو اپنی کامیابی کے راز کو ایک خاص لفظ دیتے ہیں ..فوکس ... وہ کہتے ہیں، ہدف حاصل کرنا ہے تو ہر کام مکمل توجہ لگا کر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک دو ماہ کام کرکے ناکامی کو قبول نہیں کرنا چاہئے۔ پورے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنا ضروری ہے۔ راجو ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں،

"میں تیلگو میڈیم کا تھا، نوکری کے ابتدائی دنوں میں لوگوں کے ساتھ انگریزی كمينیو كیٹ نہیں کر سکتا تھا۔ اسی دوران دو امریکی آئے تھے۔ مجھے ان کو کمپنی کے بارے میں بتانا تھا، لیکن بہت کوشش کے باوجود میں انہیں اپنی بات نہیں سمجھا سکا۔ مجھے بہت شرمندگی ہوئی۔ وہ لوگ میری باتیں نہیں سمجھ پائے۔ میں نے اپنی کمزوری کو محسوس کیا، اس وقت میں نے انگریزی میں بات چیت کرنے کی کوئی تیاری نہیں کی تھی۔ پھر چھ ماہ میں میں نے اپنے کو تیار کیا اور کمپنی میں اپنی اہمیت ظاہر کی۔ آگے چل کر میں نے تین ہزار سے زیادہ لوگوں کے سامنے انگریزی میں تقریر کی اور تمام نے میری تعریف کی۔"

راجو بھوپتی بے باک ہو کر کہتے ہیں کہ زندگی کے سفر میں فیصلہ لینا ہی صحیح ہے۔ چاہے وہ صحیح ہو یا غلط ہو۔ فیصلہ لینے اور ان کے مطابق کام کرنے کے بعد نتائج کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ انہیں زندگی میں صرف ڈر لفظ سے ڈر لگتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ کرنا ہے، نڈرتا کے ساتھ کرنا چاہئے۔ ہار بھی ہو تو زندگی پھر شروع کی جا سکتی ہے۔ نوجوانوں کو ان کا مشورہ ہے -

"وقت بیکار مت کرو۔ 35 سال کی عمر سے پہلے ہی خطرے اٹھاؤ، جو کرنا ہے کرو۔ اس کے بعد تجربہ کام آتا ہے۔ صرف روپے بنانے کی منصوبہ بندی نہیں ہونی چاہئے، بلکہ کچھ کر گزرنے کا احساس ہونا چاہئے۔"

....................................

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

FACE BOOK

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

ہندوستانی خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتان متالی راج کی زندگی کا دلچسپ سفر

ایم بی بی ایس کی تعلیم درمیان میں چھوڑ ماحولیات کے ڈاکٹر بنے جہدکار پرشوتم ریڈی

ایک سائٹ انجینئر سے ایل اینڈ ٹی میٹرو ریل حیدرآباد کے چیف تک دلچسپ سفر... وی بی گاڈگل

Dr Arvind Yadav is Managing Editor (Indian Languages) in YourStory. He is a prolific writer and television editor. He is an avid traveler and also a crusader for freedom of press. In last 19 years he has travelled across India and covered important political and social activities. From 1999 to 2014 he has covered all assembly and Parliamentary elections in South India. Apart from double Masters Degree he did his doctorate in Modern Hindi criticism. He is also armed with PG Diploma in Media Laws and Psychological Counseling . Dr Yadav has work experience from AajTak/Headlines Today, IBN 7 to TV9 news network. He was instrumental in establishing India’s first end to end HD news channel – Sakshi TV.

Related Stories